سوئٹزرلینڈ کا ریلوے ٹریک پر سولر پینل منصوبہ

جدید دنیا میں زندگی آسان بنانے کیلئے نت نئے تجربے کئے جا رہے ہیں، سوئٹزرلینڈ نے بھی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے ریل کے پٹری کی درمیانی جگہ کو استعمال میں لا کر کارنامہ انجام دیا ہے ۔
فضل خالق خان (مینگورہ سوات)
دنیا اس وقت توانائی کے بحران، ماحولیاتی آلودگی اور زمین کے محدود وسائل جیسے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ان مسائل کے حل کے لیے متبادل اور ماحول دوست راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ایسے ہی ایک انقلابی اقدام کے طور پر سوئٹزرلینڈ نے ریلوے پٹریوں کے درمیان سولر پینلز نصب کر کے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے جو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے بلکہ زمین کے مؤثر استعمال کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔
سوئس اسٹارٹ اپ کمپنی Sun-Ways نے نیوچاتیل (Neuchâtel) میں ایک 100 میٹر لمبے ریلوے ٹریک پر آزمائشی منصوبے کے تحت مخصوص سولر پینلز نصب کیے ہیں۔
یہ پینلز ریلوے لائن کے عین درمیان اس طرح بچھائے گئے ہیں کہ ریل کے پہیوں سے براہِ راست ٹکراؤ نہ ہو، مگر دھوپ کی روشنی بھرپور انداز میں حاصل ہوتی رہے۔
یہ نظام ایک خصوصی "ریل مشین" کے ذریعے ایک کارپٹ کی طرح رول کر کے بچھایا جاتا ہے، جس سے تنصیب اور مرمت کا کام انتہائی آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔
اس سسٹم میں ٹیکنالوجی کی کچھ نمایاں خصوصیات ہیں مثلاً پینلز کی طاقت: ہر سولر پینل 380 سے 385 واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پروجیکٹ کی مجموعی صلاحیت، ابتدائی مرحلے میں 18 کلو واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے، جو سالانہ 16,000 کلو واٹ آور تک توانائی دے سکتا ہے۔ قابلِ ہٹانے اور اس سسٹم کو ضرورت پڑنے پر بآسانی ہٹایا اور دوبارہ نصب کیا جا سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ریل کی ہلچل سے سولر پینلز کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟ یہ سوال سب سے اہم اور تکنیکی ہے! ریل گاڑیوں کی بھاری حرکت اور وائبریشن سے سولر پینلز کو نقصان سے کیسے بچایا جائے گا؟ Sun-Ways نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
1. خصوصی اینٹی وائبریشن فریم یعنی ہر پینل کو ایک خاص ڈیزائن شدہ فریم میں نصب کیا گیا ہے جو ریل گاڑیوں کے گزرنے سے پیدا ہونے والے جھٹکوں اور لرزشوں کو جذب کر لیتا ہے۔ یہ فریم لچکدار مگر مضبوط میٹریل سے تیار کیے گئے ہیں۔
2. شاک پروف سولر گلاس: پینلز میں استعمال ہونے والا گلاس روایتی سولر گلاس سے زیادہ مضبوط اور موٹا ہے، جو درجہ حرارت، دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
3. کم اونچائی پر تنصیب: پینلز کو پٹڑی کی سطح سے نیچے یا اس کے برابر رکھا گیا ہے، تاکہ وہ ریل کی پہیوں یا بریکنگ سسٹم سے براہِ راست متاثر نہ ہوں۔
4. میکانیکی تجربات اور آزمائشیں: تنصیب سے قبل ہر پینل کو وائبریشن، لوڈ اور موسم کے مطابق لیبارٹری میں جانچا جاتا ہے، تاکہ اس کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔.
5. خودکار مانیٹرنگ سسٹم، ہر پینل کی کارکردگی کو ڈیجیٹل سینسرز کے ذریعے مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔ کسی پینل میں معمولی خرابی یا حرکت محسوس ہوتے ہی الرٹ جاری ہو جاتا ہے۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ Sun-Ways نے منصوبے کو تکنیکی لحاظ سے مکمل تحفظ فراہم کرنے کی بھرپور تیاری کی ہے۔
اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں نئی زمین کے بجائے موجودہ زمین کا مؤثر استعمال کیا جا رہا ہے۔روایتی سولر فارم کے لیے زرخیز یا کھلی زمین درکار ہوتی ہے، جب کہ یہاں ریلوے لائن کے بیچ بیچ میں موجود بے کار زمین کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام نہ صرف زمین کی بچت کا ذریعہ ہے بلکہ ماحول دوست توانائی کی جانب ایک کامیاب قدم بھی ہے، جو کاربن اخراج میں بھی کمی لاتا ہے۔
Sun-Ways کے مطابق، اگر پورے سوئس ریلوے نیٹ ورک — جو 5,000 کلومیٹر سے زائد ہے پر یہ نظام نصب کیا جائے، تو سالانہ ایک ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ سوئٹزرلینڈ کی سالانہ بجلی کی طلب کا تقریباً 3 فیصد پورا کرنے کے لیے کافی ہو گا۔ یہ ماڈل دیگر ممالک کے لیے بھی مشعلِ راہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر بھارت، جاپان اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں زمین قیمتی ہے اور توانائی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
اس منصوبے کے حوالے کہا جا سکتا ہے کہ چیلنجز موجود، لیکن ان کا حل بھی ہوسکتا ہے، بارش، برف باری، اور دھول مٹی سے پینلز کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ریل کے دھویں یا تیل کے ذرات صفائی کا مسئلہ بن سکتے ہیں۔مرمت اور دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ عملہ درکار ہو گا۔ لیکن ان تمام چیلنجز کا مقابلہ جدید ٹیکنالوجی، خودکار صفائی، اور اسمارٹ مانیٹرنگ سے ممکن ہے۔
سوئٹزرلینڈ کا یہ منصوبہ دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی کا مطلب زمین کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے موجودہ وسائل کا بہتر استعمال ہے۔ یہ منصوبہ صاف توانائی، کم لاگت، زمین کی بچت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک کامیاب مثال ہے۔ اگر اس ماڈل کو اپنایا جائے تو دنیا کا توانائی بحران نہ صرف حل ہو سکتا ہے بلکہ ماحولیات کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
کیا پاکستان اپنی ریلوے پٹڑیوں کے ساتھ بھی ایسا منصوبہ شروع کر سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو یہ نہ صرف توانائی کا مسئلہ حل کرے گا، بلکہ ماحولیاتی تحفظ، روزگار اور جدیدیت کی نئی راہیں بھی کھول سکتا ہے بس تھوڑی سی ہمت درکار ہوگی ۔۔ 
Fazal khaliq khan
About the Author: Fazal khaliq khan Read More Articles by Fazal khaliq khan: 127 Articles with 80607 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.