ایک تیر، دو شکار، اور تین فائلیں: ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا وہ کمال جس نے کوچ کو افسر اور افسر کو کوچ بنا دیا
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
اگر انتظامی کرتب بازی کو بھی کھیل تسلیم کر لیا جائے تو ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ اس وقت بغیر کسی مقابلے کے چیمپئن ہے۔ یہاں رن نہیں بنتے، گول نہیں ہوتے، مگر فائلیں ایسی گھمائی جاتی ہیں کہ اچھے خاصے جادوگر بھی شرما جائیں۔کہانی شروع ہوتی ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی پہلی آن لائن کھلی کچہری سے۔ ایک ایسا فورم جس کا مقصد یہ تھا کہ عام آدمی، خاص طور پر محروم علاقوں کے لوگ، براہِ راست اپنی بات حکومت تک پہنچا سکیں۔ امید کی جا رہی تھی کہ یہ کھلی کچہری نظام میں شفافیت لائے گی، مسائل سامنے آئیں گے اور ان کے حل بھی نظر آئیں گے۔
لیکن ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے اس کھلی کچہری کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا۔ ان کے لیے یہ مسئلہ حل کرنے کا نہیں بلکہ مسئلے کو اس طرح ایڈجسٹ کرنے کا موقع تھا کہ بظاہر سب خوش اور حقیقت میں سب ویسا ہی رہے۔کھلی کچہری میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک ہاکی کھلاڑی نے سادہ مگر سنجیدہ بات کی۔ اس نے بتایا کہ باجوڑ میں سہولیات تو موجود ہیں، گراونڈ ہے، ماحول ہے، مگر ہاکی کا کوچ نہیں۔ سوال بالکل جائز تھا۔ سہولت ہو اور کوچ نہ ہو تو کھیل کیسے آگے بڑھے گا؟یہ وہ لمحہ تھا جہاں نظام کو سیدھا، واضح اور فوری فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ یعنی باجوڑ میں ہاکی کوچ تعینات کیا جاتا۔ فائل سیدھی چلتی، نوٹیفکیشن نکلتا، اور مسئلہ ختم۔مگر سادگی ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی کمزوری نہیں، طاقت ہے۔ یہاں مسئلہ جتنا سیدھا ہو، حل اتنا ہی گھمبیر ہونا چاہیے۔
کھلی کچہری کے بعد اگر کوئی چیز نہیں بدلی تو وہ باجوڑ میں کوچ کی عدم موجودگی ہے۔ معلومات کے مطابق جونئیر کوچ کی سات گریڈ کی آسامیاں پہلے سے موجود تھیں۔ سات۔ ایک نہیں، دو نہیں، پورے سات۔لیکن حیرت انگیز طور پر ان میں سے ایک پر بھی تعیناتی نہیں کی گئی۔ یعنی شکایت سنی گئی، نوٹ کی گئی، شاید سر ہلایا گیا، مگر عمل کے مرحلے پر فائل نے اچانک یو ٹرن لے لیا۔یوں لگتا ہے جیسے آسامیاں صرف اس لیے رکھی گئی ہوں کہ فائلوں میں تعداد اچھی لگے، حقیقت میں کسی کے لیے نہیں۔اب آتے ہیں اس کہانی کے اصل ہیرو پر، جسے ہم “آل راونڈر اہلکار” کہہ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جسے خود ان کے لوگ بھی اندرونی محفلوں میں “ایک تیر سے دو شکار” قرار دے رہے ہیں۔ بلکہ کچھ لوگ کہتے ہیں، “دو نہیں، تین شکار”۔ادارے میں پہلے سے تعینات ایک کوچ کو گریڈ سولہ میں ترقی دے دی گئی۔ ترقی کوئی جرم نہیں، مگر اس کے بعد جو ہوا وہ انتظامی ادب میں شاید نئے باب کا اضافہ ہے۔ موصوف کو ضلع خیبر میں بجٹ اینڈ اکاونٹس آفیسر بنا کر بٹھا دیا گیا۔اب ذرا سانس لے کر سوچئے۔ کوچ، جس کا کام کھلاڑی تیار کرنا ہے، وہ اب بجٹ دیکھے گا، اکاونٹس سنبھالے گا، اور وہ بھی پورے مراعات کے ساتھ۔
تنخواہ؟ بجٹ اینڈ اکاونٹس آفیسر کی۔ مراعات؟ بجٹ اینڈ اکاونٹس آفیسر کی۔ اصل کیڈر؟ کوچ۔ یوں ایک ہی شخص نے بیک وقت دو دنیاوں کا لطف اٹھا لیا۔ادھر سے ادھر، ادھر سے ادھر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر ایک طرف کوچ کو افسر بنا دیا گیا تو دوسری طرف افسر کو بھی بے کار نہیں چھوڑا گیا۔ضلع خیبر میں تعینات بجٹ اینڈ اکاونٹس آفیسر کو باجوڑ بھیج دیا گیا۔ وہاں وہ اپنی اصل تنخواہ تو بطور بجٹ آفیسر لیتا رہے گا، مگر اضافی طور پر اس سے کوچ کا کام بھی لیا جائے گا۔
یعنی: ایک کوچ افسر بن گیا۔ ایک افسر کوچ بن گیا۔اور باجوڑ میں باقاعدہ کوچ پھر بھی نہیں آیا۔ یہ وہ انتظامی مساوات ہے جسے سمجھنے کے لیے شاید ریاضی نہیں، فلسفہ درکار ہے۔کاغذوں میں مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ باجوڑ میں کوچ کیوں نہیں، تو جواب شاید یہ ہوگا کہ “ایڈجسٹمنٹ کر دی گئی ہے”۔مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ باقاعدہ کوچ موجود ہے، نہ کھلاڑیوں کو وہ توجہ مل رہی ہے جس کی انہیں ضرورت ہے۔ کھیل یاد رکھے جاتے ہیں گراونڈ میں، فائلوں میں نہیں۔یہ وہی پرانا نسخہ ہے۔ مسئلہ ختم نہیں کرنا، صرف اس کا شور کم کرنا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام فیصلے کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ مخصوص دباو کے تحت کیے گئے۔ مقصد ایک خاص کوچ کو انتظامی عہدے پر لانا تھا، اور اس مشن میں ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے نئے ڈائریکٹر کو بھی خاصا دباو برداشت کرنا پڑا۔یہاں سوال یہ نہیں کہ دباو تھا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر دباو کے تحت فیصلے ہوں گے تو پھر کھلی کچہری جیسے فورمز کا فائدہ کیا؟کیا کھلی کچہری صرف عوام کو یہ احساس دلانے کے لیے ہے کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے، جبکہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوں؟
اس پورے معاملے میں سب سے دلچسپ کردار وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا ہے۔ ناقدین کے مطابق وزیراعلیٰ کو اس تمام صورتحال میں اصل حقائق سے لاعلم رکھا گیا۔ایک طرف کھلی کچہری کے ذریعے انہیں یہ تاثر دیا گیا کہ شکایت سنی گئی ہے، نوٹس لے لیا گیا ہے، اور کارروائی ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اندرونِ خانہ اپنی مرضی کی تعیناتیاں کر لی گئیں یوں وزیراعلیٰ خوش، فائلیں مطمئن، اور کھلاڑی وہیں کے وہیں۔ کچھ ناقدین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ معاملہ “ماموں بنانے” کی کلاسک مثال ہے، جہاں سب کچھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، قانون کی روح کے خلاف کیا گیا۔
اس ساری کہانی میں کھیل کہیں گم ہو گیا ہے۔ ہاکی کھلاڑی جس نے کھلی کچہری میں بات کی تھی، اس کا مسئلہ آج بھی موجود ہے۔ باجوڑ میں ہاکی کا مستقبل آج بھی سوالیہ نشان ہے۔ ادارے نے کوچ کو بجٹ سکھا دیا، بجٹ آفیسر کو کوچنگ پکڑا دی، مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ کھلاڑی کیا سیکھ رہے ہیں؟ ضم اضلاع سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا یہ واقعہ کوئی الگ کہانی نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے۔ یہاں مسئلے حل نہیں ہوتے، ایڈجسٹ ہوتے ہیں۔ یہاں شفافیت نہیں، تشریح ہوتی ہے۔ یہاں کھیل کم اور انتظامی ایکروبیٹکس زیادہ ہوتی ہیں۔کھلی کچہری ایک اچھا اقدام تھا، مگر جب اس کے بعد بھی نتیجہ یہی نکلے کہ نظام خود کو ہی سہولت دے، تو سوال اٹھتے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ کوچ کہاں گیا۔ سوال یہ ہے کہ نظام کہاں کھڑا ہے۔ اور جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں ملتے، تب تک ضم اضلاع میں کھیل صرف فائلوں میں ترقی کرتا رہے گا، گراونڈ میں نہیں۔
#KPKSports #MergedDistricts #HockeyCoaching #AdministrativeCorruption #GovernanceFailure #Transparency #SportsAccountability #KPNews #InvestigativeFeature
|