عظیم جمناسٹک غائب کاری: پیرانو پارک کا جمنازیم، جہاں سامان چلا گیا اور فرش رہ گیا
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
اگر جمناسٹک میں کوئی ایسا ایونٹ ہوتا جس میں سامان کے غائب ہونے پر میڈل دیا جاتا، تو مردان کا پیرانو پارک آج عالمی سطح پر پہچانا جاتا۔ یہ وہ واحد جمنازیم ہے جہاں عمارت اپنی جگہ موجود ہے، افتتاحی تختی سلامت ہے، فائلیں مکمل ہیں، مگر اصل چیز یعنی جمناسٹک کا سامان نہ جانے کس کھیل میں مصروف ہے۔یہ کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں کوئی ولن نہیں، کوئی ہیرو نہیں، بس ایک خاموش نظام ہے جو سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتا۔
سال 2018 میں پیرانو پارک کے جمنازیم کا افتتاح بڑے جوش و خروش سے ہوا۔ مردان سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے صوبائی وزیر عاطف خان نے فیتہ کاٹا، تصویریں بنیں، بیانات دیے گئے، اور نوجوانوں کو روشن مستقبل کے خواب دکھائے گئے۔ اس دن ایسا محسوس ہوا جیسے مردان میں جمناسٹک کا نیا دور شروع ہونے جا رہا ہو۔اس وقت جمنازیم میں جدید سامان موجود تھا۔ میٹس، بارز، رنگز، اور وہ تمام چیزیں جو جمناسٹک کو کھیل بناتی ہیں، محض خطرہ نہیں۔ ہر چیز فہرست میں تھی، ہر چیز فائلوں میں درج تھی، اور غالباً ہر چیز کی ادائیگی بھی ہو چکی تھی۔مسئلہ بعد میں شروع ہوا۔سامان، جو واپس آنے کا قائل نہ تھا
کچھ عرصے بعد لوگوں نے نوٹس کیا کہ سامان کم ہو رہا ہے۔ پھر یہ خیال آیا کہ شاید مرمت کے لیے لے جایا گیا ہو۔ پھر سوچا گیا کہ شاید کسی ایونٹ کے لیے عارضی طور پر منتقل ہوا ہو۔ آخرکار یہ حقیقت سامنے آئی کہ سامان عارضی نہیں بلکہ مستقل طور پر غائب ہو چکا ہے۔نہ کوئی نوٹس لگا، نہ کوئی اعلان ہوا، نہ کوئی وضاحت سامنے آئی۔ جمنازیم کھلا رہا، مگر خالی۔یوں لگتا ہے کہ سامان نے سسٹم کو دیکھا، حالات کا جائزہ لیا، اور فیصلہ کیا کہ یہاں رکنا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔فرش، جو اب کوچ بھی ہے
آج کی صورتحال یہ ہے کہ مردان خاص کے قریب بیس کے قریب بچے اسی جمنازیم میں جمناسٹک کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ میٹس ہیں، نہ حفاظتی سامان، نہ آلات۔ صرف ایک چیز مستقل ہے، اور وہ ہے سخت فرش۔یہ فرش اب صرف فرش نہیں رہا۔ یہ کوچ بھی ہے، ٹرینر بھی، اور بعض اوقات سزا بھی۔ بچے اسی پر رول کرتے ہیں، اسی پر جمپ لگاتے ہیں، اور اسی پر گرتے ہیں۔ اگر کوئی چوٹ لگ جائے تو اسے کھیل کا حصہ سمجھ کر برداشت کر لیا جاتا ہے، کیونکہ متبادل موجود نہیں۔جمناسٹک جیسے تکنیکی اور خطرناک کھیل میں یہ صورتحال کسی تجربے سے کم نہیں، مگر یہ تجربہ بچوں پر کیا جا رہا ہے، نظام پر نہیں۔
سامان نہ ہونے کی وجہ سے کوچز اور بچے نت نئی ترکیبیں استعمال کرتے ہیں۔ کچھ حرکات مکمل طور پر ترک کر دی گئی ہیں۔ کچھ کو آدھا سکھایا جاتا ہے۔ حفاظت کے اصول کتابوں میں رہ گئے ہیں، جبکہ عملی میدان میں “دھیان سے کرنا” ہی واحد ہدایت ہے۔یہ خالص خیبرپختونخواہ اسٹائل جمناسٹک ہے، جہاں جذبہ سہولتوں سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اور رسک انتظامیہ سے زیادہ۔اگر کسی بچے کو یہاں جمناسٹک آ جائے، تو سمجھ لیں وہ کہیں بھی سیکھ سکتا ہے۔درخواستیں، جو فائلوں میں آرام کر رہی ہیں
ان بچوں نے شور نہیں مچایا۔ انہوں نے سسٹم کے مطابق کام کیا۔ ریجنل اسپورٹس آفیسر مردان کو درخواست دی۔ صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کو لکھا۔ یاد دہانیاں بھیجیں۔ صبر کا مظاہرہ کیا۔جواب میں انہیں خاموشی ملی۔نہ سامان آیا، نہ کوئی افسر آیا، نہ کوئی کمیٹی بنی۔ لگتا ہے درخواستیں بھی اسی سامان کے راستے پر چل پڑی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ وہ فائلوں میں محفوظ ہیں۔
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ لاکھوں روپے کا سامان آخر گیا کہاں۔ جمناسٹک کا سامان جیب میں ڈال کر نہیں لے جایا جا سکتا۔ اس کے لیے گاڑی چاہیے، اسٹور چاہیے، اور کسی نہ کسی سطح پر اجازت یا لاپرواہی بھی۔مگر آج تک نہ کسی انکوائری کی خبر آئی، نہ کسی ذمہ دار کا نام سامنے آیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سب نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو یاد نہ رکھنا ہی بہترین پالیسی ہے۔یہ کرپشن کی وہ قسم ہے جو شور نہیں مچاتی، بس آہستہ آہستہ سب کچھ ختم کر دیتی ہے۔عمارت، جو سب کچھ دیکھ رہی ہے
پیرانو پارک کا جمنازیم آج بھی کھڑا ہے۔ دیواریں خاموش ہیں، چھت موجود ہے، اور فرش ہر روز بچوں کے حوصلے آزماتا ہے۔ باہر سے دیکھیں تو سب ٹھیک لگتا ہے۔ اندر جائیں تو حقیقت سامنے آتی ہے۔یہ عمارت روز دیکھتی ہے کہ بچے کیسے بغیر سہولت کے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر عمارتیں بول سکتی ہوتیں تو شاید یہ عمارت سب سے پہلے حفاظتی شکایت درج کراتی۔
مردان کھیلوں کے حوالے سے زرخیز علاقہ ہے۔ یہاں سے باصلاحیت کھلاڑی نکلتے رہے ہیں۔ جمناسٹک میں بھی صلاحیت کی کمی نہیں۔ کوچز کا کہنا ہے کہ اگر مناسب سامان ہو تو یہی بچے صوبائی اور قومی سطح تک جا سکتے ہیں۔مگر اس وقت یہ بچے تکنیک سے زیادہ احتیاط سیکھ رہے ہیں۔ خواب دیکھنے سے پہلے زمین کی سختی سمجھ رہے ہیں۔والدین پریشان ہیں، مگر متبادل نہیں۔ نجی سہولیات مہنگی ہیں، اور سرکاری نظام یہی ہے۔اس پورے معاملے میں سب سے حیران کن چیز یہ ہے کہ نظام نے اسے کتنی مہارت سے نظرانداز کیا ہے۔ کوئی پریس ریلیز نہیں، کوئی وضاحت نہیں، کوئی وعدہ نہیں۔
یوں لگتا ہے کہ حکمت عملی یہ ہے کہ اگر زیادہ دیر خاموش رہا جائے تو شاید مسئلہ خود ہی تھک جائے۔مگر مسئلہ تھکتا نہیں، بچے تھکتے ہیں۔مطالبہ، جو بہت سادہ ہے کھلاڑی کسی غیر معمولی چیز کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ نیا جم نہیں مانگ رہے۔ وہ بین الاقوامی معیار نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف وہ سامان مانگ رہے ہیں جو کبھی موجود تھا۔ ساتھ یہ سوال بھی مانگ رہے ہیں کہ وہ سامان کہاں گیا، اور کیوں گیا۔
پیرانو پارک کا جمنازیم ایک مثال ہے کہ افتتاحی تقریبات اور اصل ترجیحات میں کتنا فرق ہو سکتا ہے۔ یہاں کھیل ابھی زندہ ہے، مگر سہولتیں لاپتہ ہیں۔ بچے موجود ہیں، مگر نظام غیر حاضر ہے۔سامان شاید کہیں موجود ہو، مگر جواب کہیں نہیں۔ اور تب تک، پیرانو پارک وہ واحد جگہ رہے گی جہاں جمناسٹک بغیر میٹس، لینڈنگ بغیر حفاظت، اور صبر بغیر حد کے سکھایا جاتا ہے۔
#Mardan #PiranoPark #Gymnastics #MissingEquipment #SportsMismanagement #KPSports #SportsAccountability #YouthInSports #InvestigativeFeature
|