ہجرت کرتا مستقبل

ہجرت کرتا مستقبل

ہجرت کرتا مستقبل
تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان
۔۔۔۔۔
پاکستان آج اپنی تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب سے زیادہ بے چین آوازیں اس کی نوجوان نسل کی ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو آبادی کے اعتبار سے ملک کی اکثریت پر مشتمل ہے، مگر مستقبل کے اعتبار سے خود کو اقلیت سمجھنے لگی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہا کہ نوجوان مایوس ہو کر بیرونِ ملک کیوں جا رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ یہاں رکنے کی وجہ کیوں کھو بیٹھے ہیں۔
اعداد و شمار اس اجتماعی بے یقینی کی گواہی دیتے ہیں۔ مختلف قومی و بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سے بیرونِ ملک جانے والے نوجوانوں اور ہنر مند افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں لاکھوں پاکستانی قانونی طور پر روزگار، تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں، جبکہ غیر قانونی ہجرت کی کوششوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ محض نقل مکانی نہیں، یہ ایک خاموش انخلا ہے، دماغوں کا، صلاحیتوں کا اور خوابوں کا۔
معاشی منظرنامہ اس ہجرت کی سب سے مضبوط وجہ بن کر سامنے آتا ہے۔ جب افراطِ زر مسلسل دو ہندسوں میں رہے، جب نوجوانوں کی تنخواہ اس کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، اور جب ڈگری کے بعد بھی نوکری ایک اتفاق بن جائے، تو مستقبل ایک دھندلے افق کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اعداد بتاتے ہیں کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مجموعی قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو کسی سیاسی بیان سے نہیں، روزمرہ زندگی سے ثابت ہوتی ہے۔
یہ صرف روزگار کا بحران نہیں، اعتماد کا بحران بھی ہے۔ نوجوان اس نظام سے مایوس ہے جہاں میرٹ ایک نعرہ ہے اور سفارش ایک حقیقت۔ جہاں محنت کی قدر کم اور تعلق کی قیمت زیادہ ہے۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ برسوں کی تعلیم کے بعد بھی فیصلہ کسی اور کے ہاتھ میں ہے، تو وہ صرف نوکری نہیں کھوتا، وہ نظام پر یقین کھو دیتا ہے۔ اور جس معاشرے میں یقین مر جائے، وہاں ہجرت ایک فطری ردِعمل بن جاتی ہے۔
تعلیم کا شعبہ بھی اس بے چینی میں حصہ دار ہے۔ ہر سال ہزاروں گریجویٹس یونیورسٹیز سے نکلتے ہیں، مگر عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں ان میں کم نظر آتی ہیں۔ نتیجتاً نوجوان خود کو ایک ایسے اسٹیشن پر کھڑا پاتے ہیں جہاں ٹرینیں تو گزرتی ہیں، مگر ان کے لیے نہیں رکتی۔ چنانچہ وہ اپنا ٹکٹ خود خرید کر کسی اور پلیٹ فارم کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا، یورپ یا خلیجی ممالک کی صورت میں۔
یہاں سیاست بھی خاموش کردار ادا نہیں کرتی۔ مسلسل عدم استحکام، پالیسیوں کا بار بار بدلنا اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی فضا نوجوان ذہن کو مزید منتشر کرتی ہے۔ نوجوان نسل طویل المدت منصوبہ بندی پر یقین رکھتی ہے، مگر جب ریاست خود قلیل المدت فیصلوں میں الجھی ہو تو نوجوان کہاں ٹھہرے؟ وہ ایسے گھر میں رہنا نہیں چاہتا جس کی چھت ہر وقت ہلتی رہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ نوجوان محض دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ وہ عزت، تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی اور ایک باوقار زندگی چاہتے ہیں۔ وہ ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں سوال کرنے کو بغاوت نہ سمجھا جائے اور اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔ جب یہ سب میسر نہ ہو تو پاسپورٹ ایک دستاویز نہیں، نجات کا پروانہ بن جاتا ہے۔
تمثیل کے طور پر اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا نوجوان اس مسافر کی مانند ہے جو اندھیرے میں کھڑا ہے۔ اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ڈر لگتا ہے اور آگے راستہ صاف نظر نہیں آتا۔ ایسے میں جب کہیں دور روشنی دکھائی دے، چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو تو قدم خود بخود اسی سمت اٹھ جاتے ہیں۔ قصور مسافر کا نہیں، روشنی کی تقسیم کا ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی معیشت، سیاست اور سماج کی بنیاد نوجوانوں کے اعتماد پر رکھی۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ نوجوانوں کو روکا نہیں جاتا، اس کے لیے وجہ پیدا کی جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی یہی کرنا ہو گا۔ محض نعروں، تقریروں اور وقتی ریلیف سے نوجوان واپس نہیں آئیں گے۔ انہیں شفاف نظام، مستقل پالیسی، معاشی استحکام اور حقیقی میرٹ درکار ہے۔
یہ ہجرت اگر یونہی جاری رہی تو نقصان صرف افراد کا نہیں ہو گا، ریاست کا ہو گا۔ کیونکہ قومیں سرحدوں سے نہیں، انسانوں سے بنتی ہیں۔ اور جب سب سے متحرک، تعلیم یافتہ اور با صلاحیت طبقہ خاموشی سے رخصت ہونے لگے تو یہ محض سماجی مسئلہ نہیں رہتا، یہ قومی ایمرجنسی بن جاتا ہے۔
سوال اب بھی باقی ہے:
کیا ہم اپنے نوجوانوں کے لیے امید کا چراغ جلائیں گے،
یا انہیں اندھیرے میں راستہ خود تلاش کرنے پر مجبور کرتے رہیں گے؟
تاریخ اس سوال کا جواب ضرور مانگے گی۔۔۔!!
۔۔۔۔۔
(ڈاکٹر طالب علی اعوان)
 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 57 Articles with 107768 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.