احکامات کی روشنی میں اسپورٹس: پروگرام پروقار تھا، کام پھر بھی گم ہو گیا


ایک زمانہ تھا جب ہم کرائم رپورٹرز کی خبریں پڑھ کر ہنسا کرتے تھے۔ خبر کم ہوتی تھی، حاضری زیادہ۔ یوں لگتا تھا جیسے واردات نہیں، کوئی سرکاری پریڈ رپورٹ ہو۔ آئی جی کے احکامات، ڈی آئی جی کی ہدایات، ایس ایس پی کی موجودگی، ڈی ایس پی کی نگرانی، ایس ایچ او کی سربراہی، اے ایس آئی کی معاونت، حوالدار کی مستعدی اور دو کانسٹیبلوں کی قربانی کے بعد آخر میں معلوم ہوتا تھا کہ دو بندے پکڑے گئے ہیں۔ وہ بھی ایسے جنہیں محلے والوں نے پہلے ہی باندھ کر رکھا ہوا تھا، پولیس بس فوٹو کے لیے پہنچی تھی۔

ہم نے سکھ کا سانس لیا کہ شکر ہے، یہ بیماری صرف کرائم رپورٹنگ تک محدود ہے۔ اسپورٹس تو ایک صاف ستھرا میدان ہے۔ یہاں گیند ہوتی ہے، بیٹ ہوتا ہے، ریس ہوتی ہے، میڈل ہوتے ہیں۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ ایک دن یہی بیماری فائلوں کے جوتے پہن کر اسپورٹس میں بھی داخل ہو جائے گی۔ وردی نہیں ہوگی، فائل ہوگی۔ لاٹھی نہیں ہوگی، دستخط ہوں گے۔ گرفت کم ہوگی، ناموں کی گنتی زیادہ ہوگی۔

اب ذرا ایک عام سی اسپورٹس خبر پڑھ لیجیے۔ آغاز کچھ یوں ہوتا ہے “وزیراعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں،وزیر کھیل کی خصوصی ہدایت پر، سیکرٹری اسپورٹس نے فوری اقدامات کرتے ہوئے، ڈی جی اسپورٹس کی نگرانی میں، متعلقہ ڈی ایس او نے یہ کام سرانجام دے دیا۔”

یہاں قاری ایک لمحے کو رک جاتا ہے۔ سانس لیتا ہے۔ اور خود سے سوال کرتا ہے کہ اچھا، ہوا کیا؟ یہ سوال اکثر خبر کے آخری پیراگراف میں کہیں دب کر جواب پاتا ہے، اور وہ بھی ایسے جیسے کسی نے آہستہ سے کہا ہو: “کچھ خاص نہیں۔” اصل وزن تو اوپر سے نیچے تک لکھے گئے ناموں میں ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ نام، اتنی مضبوط خبر۔ جیسے اگر ایک نام بھی رہ گیا تو کام آدھا رہ جائے گا، یا فائل ناراض ہو جائے گی۔

یہاں سوال بہت سادہ ہے۔ اگر سب کچھ احکامات پر ہی ہونا ہے تو پھر ان افسران کو خود فیصلے کے لیے کیوں بٹھایا گیا ہے؟ لاکھوں کی تنخواہیں، مراعات، سرکاری گاڑیاں، ایئر کنڈیشنڈ دفاتر اور ماتحت عملہ آخر کس لیے ہے؟ کیا ان سب کا اصل کام صرف یہ ہے کہ فائل میں یہ ثابت کیا جائے کہ کام کسی ایک نے نہیں کیا؟ اسی سوچ نے اسپورٹس میں ایک نیا فلسفہ جنم دیا ہے۔ اجتماعی کامیابی، انفرادی ذمہ داری صفر۔ اگر ایونٹ کامیاب ہو جائے تو سب شریک۔ تصاویر میں سب مسکراتے ہوئے۔ اگر ایونٹ ناکام ہو جائے تو فائل خاموش، اور نام بولنے سے انکاری۔ جیسے فائل کو بھی میڈیا ٹریننگ دی گئی ہو۔

اور اب اس جملے کی طرف آتے ہیں جو ہر اسپورٹس خبر کی جان ہے، روح ہے، ریڑھ کی ہڈی ہے “پروگرام پروقار ماحول میں منعقد ہوا۔”

برسوں تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ شاید پروقار کوئی شخصیت ہے۔ وقار کا بڑا بھائی ہوگا۔ ایک معزز بزرگ، جو ہر تقریب میں موجود ہوتا ہے مگر نظر کسی کو نہیں آتا۔ بعد میں عقل آئی کہ پروقار کوئی انسان نہیں، ایک جادوئی لفظ ہے۔ ایسا لفظ جو ہر کمی، ہر بدنظمی اور ہر بدانتظامی پر سفید چادر ڈال دیتا ہے۔

کرسیاں ٹوٹی ہوں، کوئی بات نہیں، پروگرام پروقار تھا۔ مائیک کام نہ کر رہا ہو، فکر نہ کریں، ماحول پروقار تھا۔ مہمانِ خصوصی آدھا گھنٹہ لیٹ ہو، کھلاڑی دھوپ میں کھڑے ہوں، پانی نہ ملے، لیکن خبر مطمئن رہتی ہے کیونکہ پروگرام پروقار تھا۔ یہاں سارے پروگرام پروقار ہی ہوتے ہیں۔ چاہے دو بچے کسی خالی گراو¿نڈ میں کھڑے ہوں، یا پانچ افسر اسٹیج پر اور ایک کھلاڑی نیچے۔ پروقار ہونا لازم ہے۔ جیسے بغیر پروقار کے پروگرام قانونی ہی نہیں ہوتا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلاڑی خبر میں آخر میں آتا ہے۔ اور کئی بار تو آتا ہی نہیں۔ اس کا کام کھیلنا ہے، سوال کرنا نہیں۔ سوال تو ہم جیسے ناسمجھ لوگ کرتے ہیں کہ اتنی لمبی تمہیدوں کی ضرورت آخر کس کو ہے؟
ضرورت ان افسران کو ہے جنہیں کام سے زیادہ نام عزیز ہیں۔ضرورت ان صحافیوں کو ہے جنہیں دو لائنوں کی خبر سے الرجی ہے۔ اور ضرورت اس سسٹم کو ہے جو جتنا زیادہ گڑ ڈالتا ہے، اتنی میٹھی خبر بناتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ میٹھا زیادہ ہو جائے تو شوگر ہو جاتی ہے۔ اور اسپورٹس کا شوگر لیول کافی عرصے سے خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

خبریں یوں بنتی ہیں جیسے اولمپکس پاکستان آ گئے ہوں۔ پانچ دن کا ایونٹ، دس دن کی فائل، اور پندرہ دن کی خبر۔ کھلاڑی دو لائنوں میں ختم، افسران دو کالموں میں پورے۔ کہیں لکھا ہوتا ہے “تاریخی اقدام”۔ کہیں “اہم پیش رفت”۔ کہیں “اسپورٹس کے فروغ کے لیے انقلابی قدم”۔ لیکن جب کھلاڑی سے الگ جا کر پوچھو تو وہ بالکل مختلف کہانی سناتا ہے۔
کہتا ہے: “بھائی، جوتے خود خریدے۔ ٹکٹ خود لیا۔ کھانا خود کیا۔ اور آخر میں سرٹیفکیٹ پر نام بھی غلط لکھا ہوا تھا۔”

اصل کھیل تو یہاں ہے۔ یہ لمبی لمبی تمہیدیں دراصل کام چھپانے کا سب سے محفوظ طریقہ ہیں۔ جتنا گڑ ڈالو گے، اتنی خبر میٹھی۔ اور جتنی خبر میٹھی، اتنا قاری بے حس۔ وہ پڑھتا ہے، سر ہلاتا ہے، اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ سوال ختم۔صحافی بھی بیچارہ خوش۔ اسے بھی پتہ ہے کہ دو سطروں کی خبر میں مزہ نہیں۔ جب تک “احکامات کی روشنی” نہ ہو، خبر اندھیرے میں رہتی ہے۔ جب تک “نگرانی” نہ لکھی جائے، لگتا ہے کام بغیر آنکھوں کے ہو گیا۔ اور جب تک “پروقار ماحول” نہ ہو، جیسے تقریب میں کوئی غیر اخلاقی حرکت ہو گئی ہو۔

یوں اسپورٹس رپورٹنگ آہستہ آہستہ کرائم رپورٹنگ کی کزن بن گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں ملزم پکڑے جاتے تھے، یہاں کھلاڑی پکڑے جاتے ہیں۔ وہاں ہتھکڑی لگتی تھی، یہاں سلیکشن کمیٹی۔ وہاں حوالات تھا، یہاں ویٹنگ لسٹ۔ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ذمہ داری کبھی کسی ایک پر نہیں آتی۔ کیونکہ نام سب کے ہوتے ہیں۔ اگر ایونٹ فلاپ ہو جائے تو قصور کس کا؟ سب کا بھی نہیں، کسی کا بھی نہیں۔ یہ اجتماعی بے ذمہ داری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ کام سب نے کیا، اس لیے جواب دہ کوئی نہیں۔ یہ سب صرف اس لیے نہیں کہ افسران کو کریڈٹ چاہیے۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ فائل مضبوط رہے۔ فائل جتنی موٹی، اتنی محفوظ۔ فائل جتنی بھاری، اتنا افسر ہلکا۔

کبھی کبھار تو یوں لگتا ہے کہ اگر کسی دن اسپورٹس ڈائریکٹریٹ نے واقعی کوئی کام خود کر لیا، بغیر احکامات کے، تو شاید سسٹم ہی کریش ہو جائے۔ ذرا تصور کریں، خبر یوں آئے “ڈی ایس او نے خود فیصلہ کیا اور کام کر دیا۔” یہ جملہ پڑھ کر آڈیٹر بے ہوش ہو جائے گا۔ سیکرٹری فائلیں ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔ اور وزیراعلیٰ سوچیں گے کہ ہمیں بتایا کیوں نہیں گیا۔ اسی لیے سب محفوظ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ احکامات کی روشنی۔ ہدایت کی چھاو¿ں۔ نگرانی کی دیوار۔ لیکن اس سب کے بیچ کہیں ایک کھلاڑی کھڑا ہے۔ جو صرف کھیلنا چاہتا ہے۔ اسے نہ احکامات سے دلچسپی ہے، نہ ہدایات سے۔ اسے صرف سہولت چاہیے، میرٹ چاہیے، اور عزت چاہیے۔

مگر وہ خبر میں آخر میں آتا ہے۔ یا اکثر آتا ہی نہیں۔ تو سوال وہی ہے جو شروع میں تھا۔ اتنی لمبی تمہیدوں کی ضرورت آخر کس کو ہے؟ ضرورت ان افسران کو ہے جو کام کم اور نام زیادہ چاہتے ہیں۔ ضرورت ان صحافیوں کو ہے جو خبر لمبی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ضرورت اس سسٹم کو ہے جو میٹھا اتنا بانٹتا ہے کہ آخر میں شوگر سب کو ہو جاتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ خبر مختصر ہو، کام واضح ہو، اور ذمہ داری سیدھی۔ ورنہ کل کو اسپورٹس کی خبر یوں شروع ہوگی: “قدرت کے حکم، وقت کی اجازت، موسم کی سازگاری، فائل کی دستیابی اور پروقار ماحول کی موجودگی میں…” اور آخر میں صرف ایک سطر ہوگی: “کھلاڑی پھر بھی خالی ہاتھ لوٹ آئے۔”

#SportsReporting
#Bureaucracy
#PakistaniSports
#InvestigativeJournalism
#Accountability
#SportsCulture

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 911 Articles with 725884 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More