چین کا زیرو ویسٹ شہر
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کا زیرو ویسٹ شہر تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین نے اپنی قومی ترقی کی حکمت عملیوں کو عالمی پائیدار ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک جامع نقطہ نظر اپنایا ہے، جس میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔ ملک میں معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بہتری پر بھی مسلسل توجہ دی جا رہی ہے، جس سے ایک متوازن اور جامع ترقی کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ،عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار شہری ترقی کے تقاضے تیزی سے اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں، ایسے میں فضلہ کے مؤثر انتظام اور وسائل کے دوبارہ استعمال کو جدید شہری حکمرانی کا بنیادی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے زیرو ویسٹ کے تصور کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں کے تناظر میں چین کے مشرقی صوبے زے جیانگ کے دارالحکومت ہانگ چو کو ایک نمایاں اعزاز حاصل ہوا ہے۔
ہانگ چو کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے زیرو ویسٹ سے متعلق مشاورتی بورڈ کے تحت ’’زیرو ویسٹ کی جانب گامزن 20 شہروں‘‘ کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ مشاورتی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ خط میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہانگ چو کی درخواست زیرو ویسٹ کے لیے مضبوط عزم، اور جامع، پائیدار و اختراعی فضلہ نظم و نسق کے حل پیش کرنے کے باعث دیگر شہروں سے نمایاں رہی۔
دو ٹریلین یوان سے زائد سالانہ معاشی پیداوار اور ایک کروڑ چھبیس لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والا ہانگ چو جامع ٹھوس فضلہ نظم و نسق اور وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کر چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران شہر میں پیدا ہونے والے بلدیاتی ٹھوس کچرے کی مجموعی مقدار میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ فی کس یومیہ فضلہ کی مقدار 1.06 کلوگرام سے کم ہو کر 0.99 کلوگرام تک آ گئی۔
ان کامیابیوں کی بنیاد فضلہ کی درجہ بندی اور وسائل کے استعمال میں ’’ڈیجیٹل ذہانت‘‘ کے منظم انضمام پر رکھی گئی ہے۔ ہانگ چو کا اسمارٹ ویسٹ مینجمنٹ پلیٹ فارم شہر بھر میں 7 ہزار 361 کچرا جمع کرنے کے مقامات، 1 ہزار 780 کچرا منتقل کرنے والی گاڑیوں، 9 ویسٹ انسینیریشن پلانٹس اور 11 فوڈ ویسٹ ٹریٹمنٹ سہولیات سے براہِ راست اور حقیقی وقت میں منسلک ہے، جس کے باعث نگرانی، تجزیہ اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مشاورتی بورڈ کے خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہانگ چو کا یہ ماڈل رواں برس 30 مارچ کو منائے جانے والے بین الاقوامی یومِ زیرو ویسٹ کے موقع پر باضابطہ طور پر شائع اور متعارف کرایا جائے گا، جبکہ نیروبی اور نیویارک میں منعقد ہونے والی سرکاری تقریبات کے دوران اسے خصوصی طور پر اجاگر کیا جائے گا۔
ماحولیاتی امور سے وابستہ مقامی حکام کے مطابق یہ اعزاز ہانگ چو کی جانب سے کئی برسوں پر محیط زیرو ویسٹ شہر کی تعمیر کی مسلسل کوششوں اور ڈیجیٹلائزیشن کو سرکلر اکانومی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے تجربات کی عالمی سطح پر توثیق کے مترادف ہے۔
مجموعی طور پر ہانگ چو کا انتخاب اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر حکمرانی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے بڑے شہروں میں فضلہ کے مسئلے سے نمٹنا ممکن ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف چین بلکہ دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ شہروں کے لیے بھی زیرو ویسٹ اور پائیدار شہری ترقی کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر ابھر رہا ہے۔ چین کی ماحول دوست ترقی کا سفر محض ایک پالیسی نہیں، بلکہ ایک قومی عزم ہے جو فطرت اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ یہ راستہ نہ صرف چین کی اپنی سرزمین کو سرسبز و شاداب بنانے کی کوشش ہے، بلکہ عالمی ماحولیاتی تحفظ میں بھی ایک فعال شراکت دار کے طور پر اس کی ذمہ داری کا اظہار ہے۔
آنے والے وقتوں میں، یہ تصور نہ صرف چین کی ترقی کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا، بلکہ دنیا کے سامنے یہ ثابت کرے گا کہ ترقی اور تحفظ ماحول ایک دوسرے کے متضاد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ ہیں۔ یہی وہ پائیدار راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پرامن سیارہ چھوڑنے کی کلید ہے۔ |
|