چین کی آٹو انڈسٹری: مضبوط نمو، نئی توانائی اور عالمی برتری
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین کی آٹو انڈسٹری: مضبوط نمو، نئی توانائی اور عالمی برتری تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
سال 2025 چین کی آٹوموبائل صنعت کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ثابت ہوا، جہاں اندرونی و بیرونی دباؤ کے باوجود اس شعبے نے مضبوط لچک اور مسلسل ترقی کا مظاہرہ کیا۔ بڑے پیمانے پر صنعتی آلات کی اپ گریڈیشن اور صارفین کے لیے پرانے سامان کے بدلے نئے سامان کی ترغیبی پالیسیوں کے تسلسل نے آٹو سیکٹر کو نئی توانائی بخشی۔ نتیجتاً پیداوار، فروخت، برآمدات اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں سمیت متعدد کلیدی اشاریے نئی تاریخی بلندیاں عبور کر گئے، جس سے چین کی آٹو انڈسٹری کی مجموعی طاقت اور عالمی مسابقت مزید واضح ہو گئی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2025 میں چین میں گاڑیوں کی سالانہ پیداوار 3 کروڑ 45 لاکھ 31 ہزار یونٹس جبکہ فروخت 3 کروڑ 44 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی۔ یہ بالترتیب گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.4 فیصد اور 9.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ دونوں اشاریوں نے نئی تاریخی بلندیاں قائم کیں، جس کے نتیجے میں چین مسلسل 17ویں سال دنیا کا سب سے بڑا آٹو موبائل پیداواری ملک اور سب سے بڑی منڈی بن گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ کارکردگی نہ صرف گھریلو طلب کے استحکام کا ثبوت ہے بلکہ اس امر کی بھی عکاس ہے کہ چین کی صنعتی بنیاد اور سپلائی چین عالمی سطح پر نمایاں برتری رکھتی ہے۔
ایک اور اہم بات ،سال 2025 میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں چین کی آٹو مارکیٹ کی سب سے بڑی محرک قوت بن کر ابھریں۔ اس دوران نیو انرجی گاڑیوں کی پیداوار 1 کروڑ 66 لاکھ 26 ہزار یونٹس جبکہ فروخت 1 کروڑ 64 لاکھ 90 ہزار یونٹس رہی، جو تقریباً 30 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ نئی توانائی کی گاڑیوں کا حصہ ملک میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں کے مجموعی حجم کا 50 فیصد سے زائد رہا، جو چین میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں توانائی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔
مزید برآں، چین نے مسلسل 11ویں سال نئی توانائی کی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن برقرار رکھی، جس سے اس شعبے میں اس کی قیادت مزید مستحکم ہوئی۔
2025 میں آٹو موبائل برآمدات چین کی صنعت کے لیے ایک اہم ترقیاتی انجن بن کر سامنے آئیں۔ اس سال چین کی گاڑیوں کی برآمدات 70 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جو عالمی منڈی میں چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قبولیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
خصوصی طور پر نیو انرجی گاڑیوں کی برآمدات نے نمایاں کردار ادا کیا، جو 26 لاکھ 15 ہزار یونٹس تک پہنچ گئیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا رہی اور مجموعی برآمدی نمو کی بنیادی وجہ بنی۔
ماہرین کے مطابق، ماحول دوست ٹیکنالوجی، مسابقتی قیمتوں اور مسلسل تکنیکی جدت نے چینی نیو انرجی گاڑیوں کو عالمی صارفین کے لیے ایک پرکشش انتخاب بنا دیا ہے۔
اسی دوران چینی آٹو موبائل برانڈز کی مسابقتی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملکی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں مقامی برانڈز کا حصہ تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.3 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزائن، ٹیکنالوجی، سمارٹ فیچرز اور فروخت کے بعد خدمات میں بہتری نے چینی برانڈز کو صارفین کا اعتماد حاصل کرنے میں مدد دی، جس کے نتیجے میں غیر ملکی برانڈز کے مقابلے میں ان کی مارکیٹ پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔
چائنا ایسوسی ایشن آف آٹوموبائل مینوفیکچررز کے مطابق، 14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021–2025) کے دوران آٹو انڈسٹری نے متعدد اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ایسوسی ایشن کے مطابق، مسلسل تین برسوں سے گاڑیوں کی سالانہ پیداوار اور فروخت 3 کروڑ یونٹس سے زائد رہی، جبکہ صنعت کی مجموعی آپریٹنگ آمدنی 10 ٹریلین یوآن (تقریباً 1.43 ٹریلین امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گئی۔ اسی عرصے میں چین گاڑیوں کی برآمدات کے لحاظ سے بھی دنیا میں سرفہرست مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی آٹو انڈسٹری کی ایک اور نمایاں خصوصیت برقی توانائی اور ذہین و مربوط ٹیکنالوجیز کا تیز رفتار انضمام ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کو مصنوعی ذہانت، خودکار ڈرائیونگ، اور کنیکٹڈ سسٹمز کے ساتھ جوڑنے سے چین نے مستقبل کی آٹو انڈسٹری میں اپنی سبقت کو مزید مضبوط کیا ہے۔یہ رجحان نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافے کا باعث بنا بلکہ صنعت کی مجموعی قدر اور عالمی مسابقت میں بھی نمایاں بہتری لایا۔
مجموعی طور پر، سال 2025 چین کی آٹو انڈسٹری کے لیے ترقی، استحکام اور عالمی برتری کا سال ثابت ہوا۔ نئی توانائی کی گاڑیوں کی تیز رفتار ترقی، برآمدات میں مسلسل اضافہ، مقامی برانڈز کی مضبوط ہوتی حیثیت اور جدید ٹیکنالوجیز کے انضمام نے اس شعبے کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر موجودہ پالیسیوں اور تکنیکی جدت کا یہ تسلسل برقرار رہا تو چین نہ صرف آٹو انڈسٹری میں اپنی عالمی قیادت کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ مستقبل کی اسمارٹ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی سمت بھی متعین کرتا رہے گا۔ |
|