پان اور گٹکا،ایک معاشرتی المیہ
(MUHAMMAD ALI RAZA, Karachi)
|
پان اور گٹکا،ایک معاشرتی المیہ
تحریر: محمد علی رضا پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی وہ ریاست ہے جس کی بنیاد ہی مذہبی اقدار پر رکھی گئی۔ اسلام کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں صفائی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، حتیٰ کہ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صفائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے، وہ ایمان کے اعلیٰ درجے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ زمینی حقائق اس سنہری اسلامی تعلیم کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی بیشتر گلیاں، سڑکیں اور چوراہے کوڑے کے ڈھیروں سے بھرے پڑے ہیں، اور ان پر پان اور گٹکے کی سرخ پیکوں کے داغ ایسے ثبت ہیں جیسے کسی زخم کا نشان۔ یہ منظر نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ ملک کے حسن پر بھی ایک بد نما دھبہ ہے۔ اعداد و شمار کے محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی پان، گٹکا، ماوا اور نسوار جیسی نشہ آور اشیا کا مسلسل استعمال کرتی ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس لت میں ان پڑھ افراد ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ بھی شامل ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ، سرکاری ملازمین، اور یہاں تک کہ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز تک اس نشے کی گرفت میں ہیں۔ یعنی تعلیمی ڈگری ذہنی شعور کی ضمانت نہیں رہی۔ پان اور گٹکا صرف ایک نشہ نہیں بلکہ ایک ''ثقافتی تبادلے'' کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسے کھانے والا اکثر اپنے دوسرے ساتھی کو ثواب کی نیت سے پیش کرتا ہے۔ دینے والا بھی اسے نیکی سمجھ کر دیتا ہے، اور لینے والا مانگے بغیر چھوڑتا نہیں۔ اگر کسی کے ہاتھ میں ماوا یا گٹکا نظر آجائے تو سمجھیں وہ اسے مانگے بغیر اس کی جان نہیں چھوڑے گا، اور دینے والا بھی بانٹے بغیر سکون محسوس نہیں کرتا۔ یہ وہ سماجی رویّہ ہے جس نے ایک خطرناک عادت کو معاشرتی رسم کا درجہ دے دیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے کئی بار گٹکے اور ماوے کی سپلائی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں، ان کے کارخانوں کو بند کیا، اور سپلائرز کو گرفتار بھی کیا، مگر یہ اقدامات مستقل کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ کچھ دن کاروبار بند رہتا ہے، پھر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے: اس کے پیچھے ایک مضبوط مافیا نیٹ ورک سرگرم ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رشوت دے کر اپنا دھندا جاری رکھتا ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ گٹکا اور پان کھانے والوں میں ایک بڑی تعداد خود قانون نافذ کرنے والوں کی بھی ہے، جس کے باعث اس پر پابندی لگانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پورے منظر نامے کا ایک ہی حل یہ ہے کہ تبدیلی گھر سے شروع ہوتی ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو ابتدائی عمر سے یہ سکھانا ہوگا کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ اگر ہم نے انہیں شعور، صفائی اور اخلاقیات کی تربیت نہ دی تو وہ بھی اسی معاشرتی بہاؤ کا حصہ بن جائیں گے جو ہمیں آج ہر سڑک پر سرخ پیکوں کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ صفائی صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ قومی ضرورت بھی ہے۔ پان اور گٹکے کی پیک سے داغدار سڑکیں اس بات کا اعلان ہیں کہ ہم نے اپنی اقدار کو کتابوں میں تو محفوظ رکھا، مگر کردار میں منتقل نہ کر سکے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی اخلاقی، مذہبی اور شہری ذمہ داری کو پہچانیں، اور پاکستان کے چہرے سے ان دھبوں کو مٹانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کریں،کیونکہ با شعور قومیں ہی صاف اور خوبصورت ملک بناتی ہیں، اور صاف ملک ہی ترقی یافتہ قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔
|
|