چین میں زرعی جدیدکاری کی کوششیں
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں زرعی جدیدکاری کی کوششیں تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین نے آئندہ پانچ برسوں کے دوران زرعی جدیدکاری کو تیز کرنے کے لیے ایک جامع اور منظم حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار کی صلاحیت، معیار اور مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اصلاحات اور سائنسی و تکنیکی جدت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ملک بھر میں ایسے ماڈل زرعی زون قائم کیے جائیں گے جو جدید زراعت کی عملی مثال بن سکیں اور قومی غذائی تحفظ کے اہداف کو مضبوط بنیاد فراہم کریں۔
سے حال ہی میں جاری کردہ ایک مشترکہ ایکشن پلان کے مطابق ملک 2030 تک زیادہ سے زیادہ 500 زرعی جدیدکاری کے ماڈل زون قائم اور منظور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان زونز کو گہری اصلاحات اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے گا تاکہ زرعی پیداوار میں استعداد کے ساتھ ساتھ معیار اور افادیت کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔
منصوبے کے مطابق یہ ماڈل زون چھ اہم زمروں پر مشتمل ہوں گے، جن میں اناج کی صنعت، لائیو اسٹاک اور مویشی بانی، مضبوط خصوصیات رکھنے والی خصوصی زرعی صنعتیں، اسمارٹ ایگریکلچر، شہری زراعت اور خشک زمینوں پر مبنی زراعت شامل ہیں۔ ان زمروں کی بنیاد پر زونز کی تشکیل کا مقصد مختلف خطوں کی جغرافیائی، موسمی اور صنعتی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ایکشن پلان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان زونز کا قیام زرعی جدیدکاری کے عمل کو تیز کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔ اس کے ذریعے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے لیس زراعت کو فروغ ملے گا بلکہ ماحول دوست اور سبز زرعی طریقوں، پیداوار کے معیار میں بہتری اور زرعی برانڈز کی تشکیل کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ حکام کے مطابق یہ زون جدید زراعت کے تجرباتی مراکز کے طور پر کام کریں گے، جہاں نئی ٹیکنالوجیز، جدید انتظامی ماڈلز اور اختراعی پیداواری طریقوں کو عملی سطح پر آزمایا اور بہتر بنایا جا سکے گا۔
منصوبے میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ یہ ماڈل زون قومی غذائی تحفظ کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔ اناج اور دیگر اہم زرعی مصنوعات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا، زرعی شعبے میں نئی معیاری پیداواری قوتوں کی تشکیل اور جدید زرعی صنعتی و انتظامی نظام کو مضبوط بنانا ان زونز کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔ اس کے ذریعے چین غذائی تحفظ کے طویل المدتی اہداف کو مزید مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایکشن پلان کے مطابق ان ماڈل زونز کے ذریعے ایسے ترقیاتی ماڈلز تشکیل دیے جائیں گے جو نقل کیے جا سکیں اور بڑے پیمانے پر نافذ کیے جا سکیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کامیاب تجربات کو پورے ملک میں پھیلایا جائے اور زرعی جدیدکاری کو مجموعی طور پر آگے بڑھایا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار سے وسائل کے مؤثر استعمال، زرعی پیداوار میں استحکام اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
یہ ایکشن پلان بیجنگ میں منعقدہ سالانہ مرکزی دیہی امور کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں دیہی احیا کو ہمہ جہت انداز میں آگے بڑھانے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان مربوط ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا تھا۔ کانفرنس میں اس بات کو واضح کیا گیا تھا کہ زرعی اور دیہی جدیدکاری چین کی مجموعی ترقیاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے اور اس کے بغیر پائیدار معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
ماہرین کے مطابق زرعی جدیدکاری کے یہ ماڈل زون چین کی زرعی پالیسیوں میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل آلات، ذہین نظام اور سائنسی تحقیق کے ذریعے زرعی شعبے کو زیادہ مؤثر اور مسابقتی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحول کے تحفظ اور وسائل کے پائیدار استعمال کو بھی بنیادی اصول کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زرعی جدیدکاری صرف پیداوار میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد زرعی صنعت کی مجموعی قدر میں اضافہ، دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کسانوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔ ماڈل زونز کے قیام سے زرعی صنعت، تحقیقاتی اداروں اور منڈیوں کے درمیان ربط مضبوط ہوگا، جس سے زرعی مصنوعات کی مسابقت اور برآمدی صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔
وسیع تناظر میں ، چین کا یہ ایکشن پلان زرعی جدیدکاری کی جانب ایک جامع اور منظم قدم کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پانچ سو ماڈل زرعی زونز کے قیام کے ذریعے ملک نہ صرف اپنی غذائی سلامتی کو مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ جدید، ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کی زراعت کو فروغ دے کر دیہی ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاس ہے کہ چین زرعی شعبے کو مستقبل کی معاشی اور سماجی ترقی کا ایک مضبوط ستون بنانے کے لیے سنجیدہ اور طویل المدتی اقدامات کر رہا ہے۔ |
|