وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی ہدایت پر: سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی ای کچہری میں عوام کے اٹھائے سنگین سوالات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی ہدایت پر سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی جانب سے ایک ای کچہری منعقد کی گئی، جس میں تقریباً پچاس افراد نے لائیو شرکت کی اور اتنی ہی تعداد میں شہریوں نے لائیو سیشن بھی دیکھا۔متعدد افراد نے مختلف سوالات کئے ای کچہری میں صوبائی کھیلوں کے شعبے کے اعلیٰ حکام، بشمول مشیر کھیل، سیکرٹری سپورٹس محمد آصف، ڈی جی سپورٹس، ڈائریکٹر یوتھ اور ڈائریکٹر ورکس، موجود تھے۔یہ ای کچہری کھیلوں کے شعبے میں انتظامی خامیوں، ملازمین کی کمی، اور انفراسٹرکچر کی خراب حالت کے حوالے سے عوام اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک موقع تھی کہ وہ اپنے سوالات براہِ راست حکام کے سامنے رکھ سکیں۔

شرکاءنے حسن خیل سٹیڈیم کے مسائل پر سوالات اٹھائے، جو 2019 میں سٹیٹ آف دی آرٹ سٹیڈیم کے طور پر بنایا گیا تھا۔ شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا سٹیڈیم ہونے کے باوجود یہاں ملازمین موجود نہیں، جس کی وجہ سے نوجوان کھیلوں کی سرگرمیوں سے محروم ہیں۔ یوتھ اور سپورٹس ڈیپارٹمنٹ میں ملازمین کی پروموشن بھی روک دی گئی ہے، جس سے انتظامی خلاء پیدا ہوا ہے۔

ای کچہری میں بتایا گیا کہ کوہاٹ میں کیئر ٹیکر اور کوچز کی شدید ضرورت ہے۔ ایک شکایت کنندہ نے کہا کہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی انتظامیہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی۔ متعدد درخواستیں آ ر ٹی آئی کے تحت دی گئی ہیں، لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔خاص طور پر ضم اضلاع کی سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے پہلے بتایا تھا کہ بارہ سائیکلیں کوچز کو دی گئی ہیں، لیکن بعد میں دوسرے RTI میں انکاری موقف اختیار کیا کہ "ہمیں معلوم نہیں"۔ اس تضاد نے عوام اور کھلاڑیوں کے اعتماد کو متاثر کیا۔

پاڑہ چنار میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر بات ہوئی۔ ضلع مہمند کے کیپٹن روح اللہ شہید سٹیڈیم میں زمین اور ڈھانچے کی خرابیاں، کمزور گریڈ اور ٹوٹ پھوٹ کے مسائل اٹھائے گئے۔ ڈائریکٹر ورکس سے اس منصوبے کی آڈٹ اور ناقص کام کی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا۔شرکاء نے کہا کہ معذور افراد کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاں شامل کی جائیں اور کے پی گیمز میں کرکٹ کو بھی شامل کیا جائے۔ مزید کہا گیا کہ یوتھ ہاسٹل میں ملازمین کے مسائل پر توجہ دی جائے اور لنڈی کوتل میں فٹ بال گراو¿نڈ کی تعمیر کی ضرورت ہے۔

دیگر اضلاع کے مسائل پربات کی گئی جس میں بنوں میں بیڈمنٹن ہال پر کام روک دیا گیا ہے۔،درہ آدم خیل میں کھیلوں کے لیے مستقل سپورٹس آفیسر تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔امبار میں کھیلنے کے لیے مناسب جگہ یا گراو¿نڈ کی کمی ہے۔کلاس فور ملازمین کو ڈی پی سی میںکو شامل کیا جائے مئی میں ہونے والے نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے لیے تیاری اور نوشہرہ ٹرائلز کے مسائل پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس طرح لکی مروت میں منی سپورٹس کمپلیکس کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے

یہ ای کچہری نہ صرف عوام اور کھلاڑیوں کے مسائل اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی، بلکہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ پر واضح دباو¿ ڈالتی ہے کہ وہ اپنی انتظامی خامیوں، ملازمین کی کمی، اور ناقص انفراسٹرکچر پر فوری اقدامات کرے۔ کھلاڑیوں، معذوروں، اور نوجوانوں کے لیے بہتر سہولتیں فراہم کرنا اب صوبائی حکومت اور ڈائریکٹریٹ کے لیے ایک فوری ترجیح ہونی چاہیے۔

#KPKSports #SportsDirectorate #OpenCourtHearing #YouthDevelopment #KPGames #RightToInformation #SportsInfrastructure #Accountability

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776554 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More