فیڈریشن لاہور میں، کھلاڑی پہاڑوں میں!
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں اگر کسی نوجوان سے پوچھیں کہ کھیل میں آگے بڑھنے کے لیے کیا چاہیے؟ تو وہ کہے گا محنت، ٹیلنٹ، کوچ، گراونڈ اور قسمت۔لیکن اگر یہی سوال کسی پرانے اسپورٹس ایڈمنسٹریٹر سے پوچھ لیا جائے تو جواب کچھ اور ہوگا۔ "بیٹا، پہلے لاہور یا اسلام آباد کا ٹکٹ کٹو۔"کیونکہ پاکستان میں کھیل شاید پورے ملک میں ہوتے ہوں، لیکن کھیلوں کے فیصلے دو شہروں میں ہوتے ہیں۔
حال ہی میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جاری کردہ قومی کھیل فیڈریشنوں کی فہرست دیکھی۔ فہرست پڑھ کر ایسا لگا جیسے ملک میں چار صوبے نہیں بلکہ صرف دو شہر ہیں۔ ایک لاہور۔ دوسرا اسلام آباد۔ باقی صوبے شاید نقشے کے حسن کے لیے رکھے گئے ہیں۔
لاہور میں فیڈریشن ہی فیڈریشن۔اسلام آباد میں بھی فیڈریشن ہی فیڈریشن۔ خیبر پختونخوا میں صرف دو۔ بلوچستان میں ایک۔ یوں لگا جیسے کسی بچے نے پاکستان کا نقشہ بنا کر کہا ہو، "سر! باقی جگہیں بعد میں رنگ دوں گا۔"
ہم نے تو ہمیشہ سنا تھا کہ پاکستان وفاق ہے۔ لیکن کھیلوں کا وفاق شاید گوگل میپ کے مطابق چلتا ہے۔جہاں اچھی سڑک، اچھی کافی اور اچھی میٹنگ روم مل جائے، وہیں فیڈریشن کا دفتر بن جاتا ہے۔ بیچارہ کھلاڑی سوچتا ہوگا کہ میں تو سوات کے پہاڑوں میں ٹریننگ کر رہا ہوں، مگر میرا مستقبل لاہور کے کسی دفتر کی الماری میں رکھا ہوا ہے۔
پاکستان میں کھلاڑی کو میڈل جیتنے سے پہلے فائلوں کا میراتھن دوڑنا پڑتا ہے۔ ایک فارم لاہور۔ دوسرا اسلام آباد۔ تیسرا دوبارہ لاہور۔ چوتھا کسی ایسے دفتر میں جہاں چوکیدار بھی پوچھے، "آپ کس فیڈریشن سے آئے ہیں؟"کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں اصل کھیل دوڑ نہیں بلکہ ڈاک ہے۔
فائلیں کھلاڑیوں سے زیادہ سفر کرتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر فیڈریشن خود کو "قومی" کہتی ہے۔ قومی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ پورے ملک کی نمائندگی۔لیکن اگر دفتر صرف ایک شہر میں ہو، اجلاس ایک شہر میں ہوں، فیصلے ایک شہر میں ہوں اور باقی صوبے صرف دعوت نامے پڑھتے رہیں تو پھر "قومی" کا مطلب تھوڑا دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا نے باکسنگ دی۔ ویٹ لفٹنگ دی۔ اسکواش کے کھلاڑی دیے۔مارشل آرٹس کے چیمپئن دیے۔دوڑنے والے دیے۔پہاڑوں پر دوڑنے والے بھی دیے۔ لیکن دفتر؟صرف دو۔ بلوچستان نے بھی قومی اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی دیے۔ لیکن دفتر؟ایک۔
ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے کہا ہو، "تم کھلاڑی پیدا کرتے رہو، کاغذی کام ہم سنبھال لیں گے۔"پاکستان میں ایک دلچسپ روایت ہے۔دفتر وہیں بنتا ہے جہاں افسر آرام سے چائے پی سکے۔جہاں کھلاڑی آسانی سے پہنچ سکے، وہ شرط کبھی کسی نے رکھی ہی نہیں۔شاید آئندہ کسی فیڈریشن کے آئین میں یہ شق بھی شامل کر دی جائے۔"دفتر ایسی جگہ ہوگا جہاں پارکنگ آسان، بریانی اچھی اور اجلاس کے بعد شاپنگ ممکن ہو۔"
کھلاڑی کا کیا ہے؟وہ تو بس کھیلتا ہے۔اس سے کسی نے پوچھنا کب ہے؟مجھے سب سے زیادہ مزہ اس بات پر آیا کہ بعض فیڈریشنوں کے پاس مکمل دفتر کا پتہ بھی نہیں۔فون نہیں۔ای میل نہیں۔پتہ نہیں۔لیکن فیڈریشن موجود ہے۔پاکستان میں یہ بھی ممکن ہے۔
کبھی کبھی تو لگتا ہے ہماری کچھ فیڈریشنیں "روحانی دفاتر" سے چل رہی ہیں۔ پتہ صرف منتخب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے۔ عام آدمی پوچھ لے تو جواب ملتا ہے، "بھائی، پہلے کسی کو جانتے ہو؟"اگر جواب نہ ہو تو پھر دفتر بھی نہیں ملتا۔اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان کھیلوں سے دور کیوں جا رہے ہیں۔بھائی، کھیل سے نہیں، دفتر سے دور ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ کہتے تھے "تمام راستے روم کو جاتے ہیں۔"پاکستانی کھلاڑی کہتے ہیں "تمام فائلیں لاہور یا اسلام آباد جاتی ہیں۔"اگر گلگت بلتستان کا کوئی نوجوان قومی ٹیم میں آنا چاہے تو پہلے اسے اپنی فٹنس سے زیادہ سفری بجٹ مضبوط کرنا پڑے گا۔
کاغذات جمع کرو۔دستخط کراو¿۔ اجلاس میں آو¿۔ پھر واپس جاو¿۔ پھر دوبارہ بلایا جائے گا۔ اگر خوش قسمت ہوئے تو فائل گم نہیں ہوگی۔ اگر بدقسمت ہوئے تو نئی فائل بناو¿۔ ہمارے کھیلوں میں ایک نیا ایونٹ ہونا چاہیے۔ "فیڈریشن ہنٹنگ چیمپئن شپ۔" پہلا مرحلہ۔ صحیح دفتر تلاش کریں۔دوسرا مرحلہ۔صحیح کمرہ تلاش کریں۔تیسرا مرحلہ۔جس افسر کے پاس فائل ہے، اسے تلاش کریں۔چوتھا مرحلہ۔وہ افسر چھٹی پر نکل آئے۔آپ آو¿ٹ۔
یہ مقابلہ یقیناً اولمپکس میں شامل ہونا چاہیے۔پاکستان گولڈ میڈل جیت سکتا ہے۔ایک اور دلچسپ بات۔ہر فیڈریشن اپنے نام کے ساتھ "پاکستان" ضرور لگاتی ہے۔پاکستان والی بات صرف نام میں ہے۔ پتہ دیکھیں تو ایک شہر۔ فیصلے دیکھیں تو ایک شہر۔انتخابات دیکھیں تو ایک شہر۔اجلاس دیکھیں تو ایک شہر۔
پھر باقی ملک کس چیز کا حصہ ہے؟ واٹس ایپ گروپ کا؟ اصل سوال یہ نہیں کہ دفاتر لاہور اور اسلام آباد میں کیوں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ یہ دفاتر دوسرے صوبوں میں بھی ہوسکتے ہیں؟ کیا کبھی کسی نے یہ تجویز دی کہ ہر پانچ سال بعد ہیڈکوارٹر تبدیل ہوں؟کیا کبھی کسی نے کہا کہ اگر کھلاڑی پورے ملک سے ہیں تو انتظامیہ بھی پورے ملک میں ہونی چاہیے؟یا پھر یہ سوال پوچھنا بھی کھیلوں کے قوانین کے خلاف ہے؟
پاکستان میں اکثر اداروں کا ایک اصول ہے۔ جس شہر میں دفتر ہوتا ہے، ترقی بھی وہیں زیادہ ہوتی ہے۔ جس شہر میں دفتر نہیں ہوتا، وہاں صرف وعدے پہنچتے ہیں۔اگر واقعی ہم کھیلوں کو قومی سطح پر فروغ دینا چاہتے ہیں تو صرف کھلاڑیوں کو نہیں، اداروں کو بھی سفر کرنا ہوگا۔وفاق صرف آئین میں نہیں، دفاتر میں بھی نظر آنا چاہیے۔فیڈریشن کا دفتر صرف ایک عمارت نہیں ہوتا۔وہ طاقت کا مرکز ہوتا ہے۔وہیں فیصلے ہوتے ہیں۔وہیں فنڈز تقسیم ہوتے ہیں۔وہیں پالیسی بنتی ہے۔اور وہیں سے یہ طے ہوتا ہے کہ اگلا کیمپ کہاں لگے گا اور اگلا ٹور کس کو ملے گا۔
اس لیے دفتر کا پتہ محض پتہ نہیں ہوتا۔وہ اختیار کا پتہ بھی ہوتا ہے۔آخر میں پاکستان اسپورٹس بورڈ سے صرف ایک گزارش۔اگلی بار جب قومی کھیل فیڈریشنوں کی فہرست شائع کریں تو ساتھ ایک پاکستان کا نقشہ بھی لگا دیں۔پھر عوام خود دیکھ لیں گے کہ کھیل پورے پاکستان کے ہیں، لیکن ان کا انتظام کہاں بیٹھا ہے۔اور اگر کبھی کسی دن یہ خبر آئے کہ قومی کھیل فیڈریشن کا ہیڈ آفس کوئٹہ، پشاور، سوات، ایبٹ آباد، گلگت یا میرپور منتقل ہو گیا ہے تو یقین مانیے اس دن صرف دفتر نہیں بدلے گا، شاید کھیلوں کی سوچ بھی بدل جائے۔
فی الحال تو صورت حال یہی ہے کہ پاکستان کا کھلاڑی پورے ملک میں دوڑ رہا ہے، مگر اس کی فیڈریشن ابھی بھی دو شہروں کے چکر لگا رہی ہے۔اور شاید اسی لیے ہمارے کھیل آگے کم اور فائلیں زیادہ سفر کرتی ہیں۔
#PakistanSports #PakistanSportsBoard #PSB #SportsGovernance #NationalSportsFederations #SportsAdministration #SportsSatire #ComedyColumn #Humor #SportsPolitics #KhyberPakhtunkhwa #Balochistan #Lahore #Islamabad #SportsDevelopment #Governance #Transparency #Accountability #Opinion #InvestigativeJournalism
|