اکیس ماہ بعد جواب: بیوروکریسی نے عوام کو پھر بتایا کہ سوال پوچھنا کتنا مہنگا ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
سرکاری دفتر میں وقت کی اپنی ایک تعریف ہوتی ہے۔ عام آدمی کے لیے ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک ماہ اہم ہوتا ہے، مگر سرکاری فائل کے لیے یہ سب محض کیلنڈر کے چند خانے ہیں۔ فائل جب تک میز سے میز، دفتر سے دفتر اور دستخط سے دستخط کا سفر مکمل نہ کر لے، وقت کا گزرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔چار سدہ کے کھیلوں سے متعلق ایک RTI درخواست اس سرکاری وقت کی ایک دلچسپ مثال بن کر سامنے آئی ہے۔درخواست 12 نومبر 2024 کو دائر کی گئی تھی۔ مقصد سیدھا سا تھا: ضلع میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی، کتنے ایونٹس ہوئے، کتنی ٹیموں نے حصہ لیا، کتنے کلب رجسٹرڈ ہیں، کتنی آمدن ہوئی اور کوچز کی کتنی آسامیاں موجود ہیں۔
یعنی ایسا سوال نہیں تھا جس کا جواب تلاش کرنے کے لیے کسی خفیہ ادارے کی مدد درکار ہو۔ مگر جواب آنے میں تقریباً 21 ماہ لگ گئے۔ اس دوران ایک پورا مالی سال ختم ہوگیا، دوسرا شروع ہوگیا، اور سوال ابھی سرکاری راستے میں تھا۔ اب جواب آیا ہے تو سرکاری دستاویز کے مطابق مالی سال 2024-25 میں چار سدہ میں مجموعی طور پر 21 کھیلوں کے ایونٹس اور ٹورنامنٹس منعقد کیے گئے۔ کرکٹ، ہاکی، فٹبال، سوئمنگ، بیڈمنٹن، سائیکلنگ، کبڈی، آرچری، کراٹے اور ٹیبل ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کے مقابلے ہوئے، جبکہ کوچنگ اور ٹریننگ کیمپس بھی منعقد کیے گئے۔دستاویز کے مطابق ان سرگرمیوں میں 2747 ٹیموں نے شرکت کی۔
یہ یقیناً ایک بڑی سرگرمی ہے۔ اتنی ٹیمیں، اتنے کھیل اور اتنے ایونٹس۔ اگر یہ اعداد درست ہیں تو چار سدہ میں کھیلوں کا ایک خاصا بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔ پھر اصل عدد آتا ہے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے 66 لاکھ 65 ہزار 799 روپے مختص کیے گئے۔اور خرچ بھی؟ بالکل 66 لاکھ 65 ہزار 799 روپے۔ یعنی حساب کتاب میں ایک عجیب قسم کی کامل ہم آہنگی نظر آتی ہے۔نہ رقم بچی، نہ ایک روپیہ زیادہ خرچ ہوا۔
لیکن یہاں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ یہ رقم خرچ کہاں ہوئی؟ سرکاری جواب اس سوال کا مکمل جواب نہیں دیتا۔ جواب میں مجموعی رقم بتائی گئی ہے، مگر ایونٹ وار، کھیل وار یا مد وار اخراجات کی تفصیل موجود نہیں۔ مثلاً کرکٹ پر کتنے روپے خرچ ہوئے؟ ہاکی پر کتنے؟ فٹبال پر کتنے؟ سوئمنگ پر کتنے؟ کھیلوں کے سامان پر کتنے؟ کوچنگ کیمپس پر کتنے؟ ٹورنامنٹس کے انتظامات پر کتنے؟ان سوالات کا جواب دستاویز میں موجود نہیں۔ یوں تقریباً 21 ماہ کے انتظار کے بعد شہری کو معلوم تو ہوگیا کہ رقم خرچ ہوئی، مگر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کہاں خرچ ہوئی۔
یہ ہماری سرکاری شفافیت کا شاید سب سے دلچسپ پہلو ہے۔ آپ سوال کریں "پیسے کہاں خرچ ہوئے؟" جواب ملتا ہے "پیسے خرچ ہوگئے۔"آپ دوبارہ پوچھیں "کہاں؟" جواب "کھیلوں پر۔" آپ پھر پوچھیں "کس کھیل پر کتنے؟" اور شاید اگلی RTI کا مشورہ مل جائے۔ یہاں طنز کی گنجائش ضرور ہے، لیکن اصل معاملہ طنز سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ RTI کا مقصد صرف معلومات کا ایک عدد حاصل کرنا نہیں بلکہ قابلِ جانچ معلومات حاصل کرنا ہے۔
اگر حکومت کسی کھیلوں کے پروگرام پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے تو شہری کو یہ جاننے کا حق ہے کہ رقم کس مد میں خرچ ہوئی۔ یہی شفافیت ہے، یہی accountability ہے۔ اسی سرکاری جواب میں ایک اور دلچسپ عدد سامنے آیا ہے۔چار سدہ میں 163 کھیلوں کے کلب رجسٹرڈ اور فعال بتائے گئے ہیں۔163 کلب یقیناً ایک قابلِ ذکر تعداد ہے۔ مگر یہاں بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کلبوں کو عملی طور پر کیا سہولیات فراہم کی گئیں؟ کتنے کلبوں کو کھیلوں کا سامان ملا؟ کتنے کلبوں نے سرکاری مقابلوں میں حصہ لیا؟ کتنے کلب مستقل طور پر سرگرم ہیں اور کتنے صرف سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ کھیلوں کا اصل معیار صرف ٹورنامنٹ کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں، کلبوں اور کوچز کے لیے نظام کتنا مضبوط ہے۔اور کوچز کی بات آئی ہے تو سرکاری جواب کے مطابق ضلع چار سدہ میں BPS-16 کے کوچز کی آٹھ منظور شدہ آسامیاں خالی ہیں۔
یہ بھی ایک دلچسپ صورت حال ہے۔ کھیلوں کے 21 ایونٹس۔ 2747 ٹیمیں۔ 163 رجسٹرڈ کلب۔ 66 لاکھ روپے سے زیادہ کا بجٹ۔ اور آٹھ کوچز کی آسامیاں خالی۔ یعنی میدان میں کھلاڑی ہیں، کاغذ پر کلب ہیں، بجٹ بھی ہے، ٹورنامنٹس بھی ہیں، مگر کوچز کی آسامیاں خالی ہیں۔ یہ شاید ہمارے کھیلوں کے نظام کا وہ پہلو ہے جس پر کسی ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب میں بات نہیں ہوتی۔ افتتاحی تقریب میں عموماً کھلاڑی ہوتے ہیں، افسران ہوتے ہیں، تصاویر ہوتی ہیں، تقریریں ہوتی ہیں اور آخر میں ایک خوبصورت پریس ریلیز ہوتی ہے۔
کوچ کی خالی آسامی شاید پریس ریلیز میں اتنی خوبصورت نہیں لگتی۔ اسی لیے وہ اکثر خاموش رہتی ہے۔ سرکاری جواب میں مالی سال 2024-25 کے دوران کھیلوں کی سرگرمیوں سے 4 لاکھ 8 ہزار 150 روپے آمدن بھی ظاہر کی گئی ہے۔ یہ بھی ایک اہم معلومات ہے، لیکن سوال پھر وہی ہے: یہ آمدن کن ذرائع سے حاصل ہوئی؟ فیس، گراو¿نڈ استعمال، ٹکٹ، رجسٹریشن یا کسی اور ذریعے سے؟شفافیت کا حسن یہی ہے کہ ایک عدد دوسرے سوال کو جنم نہ دے بلکہ جواب مکمل کرے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر سرکاری اعداد و شمار سوال ختم کرنے کے بجائے نئے سوال پیدا کرتے ہیں۔ اور پھر سب سے دلچسپ چیز آتی ہے۔ تقریباً 21 ماہ بعد جواب دینے کے بعد سرکاری کارروائی میں یہ درخواست بھی سامنے آتی ہے کہ شکایت کو disposal/closure کے لیے دیکھا جائے۔ یہاں شاید بیوروکریسی کی کامیابی کا اصل معیار سامنے آتا ہے۔ سوال کا مکمل جواب مل گیا یا نہیں؟ یہ ایک سوال ہے۔ فائل بند ہوگئی یا نہیں؟ یہ دوسرا سوال ہے۔ اور ہمارے نظام میں کبھی کبھی دوسرے سوال کی اہمیت پہلے سوال سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
فائل بند ہونی چاہیے شکایت dispose ہونی چاہیے۔ کارروائی مکمل ہونی چاہیے۔ اور اگر شہری کے ذہن میں دو نئے سوال پیدا ہوگئے ہیں تو وہ اگلی RTI دائر کرسکتا ہے۔ یوں نظام بھی چلتا رہتا ہے اور سوال بھی۔ اصل مسئلہ کسی ایک افسر یا ایک دفتر کو نشانہ بنانا نہیں۔ اصل مسئلہ سرکاری جواب دہی کے طریقہ کار کا ہے۔ اگر معلومات دستیاب تھیں تو جواب میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟اگر معلومات دستیاب نہیں تھیں تو تقریباً 21 ماہ بعد فراہم کیے گئے جواب کی بنیاد کیا تھی؟ اگر 66 لاکھ 65 ہزار 799 روپے مکمل خرچ ہوئے تو اس کی مد وار تفصیل کیوں نہیں دی گئی؟
اگر 163 کلب فعال ہیں تو ان کی سرگرمیوں کا ریکارڈ کہاں ہے؟ اور اگر آٹھ کوچز کی منظور شدہ آسامیاں خالی ہیں تو انہیں پ±ر کرنے کا منصوبہ کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف "مجموعی رقم" بتانے سے نہیں ملتا۔ عوامی پیسہ صرف خرچ ہونا کافی نہیں۔ عوامی پیسہ کہاں، کیسے اور کس مقصد کے لیے خرچ ہوا، یہ بھی معلوم ہونا چاہیے۔ کیونکہ کھیلوں کے میدان میں اگر کھلاڑی سے کہا جائے کہ تم نے مقابلہ تو کیا، مگر اسکور نہیں بتائیں گے، تو وہ اسے کھیل نہیں سمجھے گا۔ اسی طرح عوام سے کہا جائے کہ بجٹ خرچ ہوگیا، مگر تفصیل نہیں بتائیں گے، تو اسے شفافیت نہیں کہا جاسکتا۔ شاید یہی اس RTI کی سب سے بڑی کہانی ہے۔
12 نومبر 2024 کو سوال پوچھا گیا۔ تقریباً 21 ماہ بعد جواب آیا۔ جواب میں بتایا گیا کہ 21 ایونٹس ہوئے، 2747 ٹیموں نے حصہ لیا، 66 لاکھ 65 ہزار 799 روپے خرچ ہوئے، 163 کلب فعال ہیں اور آٹھ کوچز کی آسامیاں خالی ہیں۔ مگر جس سوال کی روح میں عوامی پیسے کا حساب تھا، اس کا سب سے اہم حصہ ابھی بھی باقی ہے: 66 لاکھ 65 ہزار 799 روپے آخر خرچ کہاں ہوئے؟ شاید اس سوال کا جواب اگلی RTI میں ملے۔ بس دعا کیجیے، اگلی بار جواب آنے تک ایک اور مالی سال شروع نہ ہو جائے۔
|