دو سو رنز کا وعدہ، سو رنز کی اننگز اور صحافیوں کے چھکوں کی آزادی
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
چودہ اگست صرف پرچم لہرانے، ملی نغمے سننے اور آزادی کے نعرے لگانے کا دن نہیں تھا۔ پشاور سپورٹس کمپلیکس میں آزادی کا ایک ایسا کرکٹ مقابلہ بھی ہوا جس میں رنز سے زیادہ تبصرے، گیندوں سے زیادہ دعوے اور چھکوں سے زیادہ قہقہے نظر آئے۔مقابلہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی ٹیم اور سپورٹس سے وابستہ صحافیوں کے درمیان تھا۔ میدان فٹ بال گراونڈ تھا، کھیل کرکٹ تھا، ماحول عید جیسا اور تبصرے ایسے کہ اگر اس میچ کا الگ سے "کمنٹری کپ" رکھا جاتا تو شاید اصل ٹرافی سے زیادہ اس پر مقابلہ ہوتا۔
اس سارے معاملے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ جس فٹ بال گراونڈ پر کرکٹ کھیلی جارہی تھی، اسی دن فٹ بال کے کھلاڑی اور اتھلیٹکس کے کھلاڑی اپنی معمول کی پریکٹس سے محروم رہے۔ البتہ انہیں ایک رعایت ضرور ملی، وہ میچ دیکھ سکتے تھے۔ یعنی کھیلنے والوں کو میدان ملا اور روزانہ پریکٹس کرنے والوں کو تماشائی بننے کا موقع۔مہمان خصوصی سابق ڈی جی سپورٹس اسفندیار خٹک تھے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ انہیں دونوں ٹیموں سے وابستہ کر کے متعارف کرایا گیا، یوں محسوس ہوا جیسے وہ ایک ہی وقت میں مہمان خصوصی بھی ہیں، اپنی ٹیم کے حوصلہ افزا بھی اور شاید غیر اعلانیہ طور پر دونوں ٹیموں کے مشترکہ اثاثہ بھی۔
کمپیئرنگ کی ذمہ داری جمشید بلوچ نے سنبھالی جبکہ مختلف مواقع پر بعض ملازمین نے بھی ان کی معاونت کی۔ معاونین کی ایک خاص خوبی یہ رہی کہ انہوں نے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے افسران کی تعریف میں ایسی مہارت دکھائی کہ گیند اگر وکٹ سے باہر بھی جارہی ہو تو تعریف سیدھی افسران کے دل تک پہنچ رہی تھی۔کرکٹ شروع ہوئی تو ڈی جی سپورٹس کی ٹیم نے ٹاس جیت لیا۔ بیٹنگ پہلے ان کے حصے میں آئی اور ابتدائی اعلان انتہائی شاندار تھا: **ٹارگٹ دو سو رنز ہے۔**دس اوورز کا میچ تھا اور ہدف دو سو۔
یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستانی کرکٹ کے شائقین کو شاید یاد آیا ہوگا کہ قومی ٹیم بھی کبھی کبھی اسی اعتماد کے ساتھ میچ شروع کرتی ہے۔لیکن میدان میں دعویٰ اور اسکور بورڈ میں حقیقت کے درمیان فاصلہ زیادہ دیر نہیں رہا۔ٹیم میں ایک کھلاڑی ایمپائر کے فرائض بھی انجام دے رہا تھا اور وہ ڈی جی سپورٹس کی ٹیم کا حصہ تھا۔ اسی ٹیم میں ایک کنٹریکٹر نے بطور بیٹسمین بھی حصہ لیا۔ یوں مقابلہ محض صحافی بمقابلہ سپورٹس ڈائریکٹریٹ نہیں رہا بلکہ انتظامی ڈھانچے، کنٹریکٹ، امپائرنگ اور بیٹنگ سب ایک ہی پچ پر اکٹھے ہوگئے۔
صحافیوں کی ٹیم کے کھلاڑیوں کا تعارف ان کے ساتھی کھلاڑی کروا رہے تھے جبکہ ڈی جی سپورٹس نے مہمان خصوصی کے سامنے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کا تعارف ایک انتہائی مختصر مگر یادگار انداز میں کروایا۔"یہ ایک نمبر ہے، یہ دو نمبر ہے، یہ تین نمبر ہے اور یہ چار نمبر ہے۔"چار افسران کا یہ تعارف اتنا مختصر تھا کہ اگر کرکٹ کی بجائے مردم شماری ہورہی ہوتی تو شاید فارم مکمل کرنے کے لیے مزید معلومات درکار ہوتیں۔ تاہم بعد میں کوچز کا باقاعدہ تعارف بھی کروایا گیا، جس سے کم از کم یہ واضح ہوگیا کہ میدان میں صرف "نمبر" نہیں بلکہ باقاعدہ کوچ بھی موجود ہیں۔
بیٹنگ کے دوران ڈی جی سپورٹس اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مزاحیہ انداز میں آوازیں دیتے رہے۔"بیٹنگ تم سے نہیں ہوتی۔" اور پھر وارننگ: "اب باہر نکل آو۔"یہ وہ انداز تھا جس میں کوچنگ، دوستی اور ڈانٹ تینوں ایک ہی گیند میں شامل نظر آئے۔لیکن اصل مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب دو سو رنز کا ہدف دینے والی ٹیم کی بیٹنگ ختم ہوئی۔صحافیوں نے گیند سنبھالی اور سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی پوری ٹیم کو **100 رنز** پر آوٹ کردیا۔ یعنی دو سو کا اعلان ہوا اور سو پر اننگز ختم۔ کرکٹ میں اسے ہدف اور حقیقت کا فرق کہا جاسکتا ہے۔
البتہ ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ نے بیٹنگ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ دفتری معاملات میں ماضی میں وہ جس طرح فائلوں پر "شاٹ" لگاتے رہے ہیں، اس روز انہوں نے بیٹ سے بھی اچھے شاٹس لگائے۔ کم از کم یہ ضرور ثابت ہوا کہ فائل اور گیند دونوں کو درست زاویے سے مارنے کی صلاحیت ایک ہی شخص میں ہوسکتی ہے۔۔صحافیوں کی ٹیم بیٹنگ کے لیے میدان میں اتری تو مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا۔۔ادھر فیلڈنگ کے لیے ڈی جی سپورٹس کی جانب سے تقریباً پندرہ کھلاڑی میدان میں آگئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کرکٹ میں فیلڈرز کی تعداد بھی آئین اور قانون کی طرح مقرر ہوتی ہے۔ چنانچہ اضافی فیلڈرز کی نشاندہی ہوئی اور انہیں میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔
یوں آزادی کے دن میدان میں ایک سبق یہ بھی ملا کہ آزادی اپنی جگہ، لیکن کرکٹ کے قوانین اپنی جگہ۔صحافیوں کی بیٹنگ شروع ہوئی اور پھر چھکوں کا سلسلہ چل نکلا۔ چونکہ اندھیرے کا خدشہ تھا، اس لیے صحافیوں کو تیزی سے کھیل ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ صحافیوں نے شاید اس مشورے کو بھی خبر کی طرح سنجیدگی سے لیا اور چھکے پر چھکے لگا کر مقابلہ جلد ختم کردیا۔نتیجہ آیا تو صحافی فاتح تھے۔اس موقع پر ڈی جی سپورٹس نے بھی مزاحیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ دو سو رنز بنائیں گے، اور دونوں ٹیموں نے ایک ایک سو رنز بنائے ہیں جو کہ دو بنتے ہیںیہ حساب کتاب ایسا تھا جس پر دونوں جانب سے تالیاں بجیں، کیونکہ کرکٹ میں کبھی کبھی اسکور بورڈ سے زیادہ ماحول جیت جاتا ہے۔
صحافیوں کی ٹیم میں بعض کھلاڑی انجریز کا شکار بھی ہوئے۔ کسی کی ٹانگ متاثر ہوئی، کوئی لنگڑاتا نظر آیا، لیکن ایک چیز حیرت انگیز طور پر مکمل طور پر فٹ رہی، وہ تھی زبان۔مائیک ہاتھ میں آیا تو انجری، درد اور لنگڑاہٹ سب پیچھے رہ گئے اور یوم آزادی کے حوالے سے تبصرے پوری روانی سے جاری رہے۔ یوں ثابت ہوا کہ صحافی کے جسم پر چوٹ لگ سکتی ہے، لیکن مائیک ہاتھ میں ہو تو زبان کو آرام دینا شاید صحافتی ضابطے میں شامل نہیں۔میچ کے آخری لمحات میں مشیر کھیل خیبرپختونخوا تاج محمد ترند بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے تاخیر پر وضاحت کی کہ وہ یوتھ کے ایک پروگرام میں گئے ہوئے تھے۔پھر انہوں نے ایک صحافی کی طرف سے کہی گئی بات کا حوالہ دیا کہ اگر ہم میچ ہار بھی گئے تو اخبار میں اپنی جیت کی خبر لگائیں گے۔
یہ بات بظاہر مذاق تھی، لیکن اس میں ماضی کی ایک دلچسپ یاد بھی چھپی تھی۔ کچھ عرصہ قبل سپورٹس سے وابستہ صحافیوں اور سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ملازمین کے درمیان ایک مقابلہ ہوا تھا جس میں سپورٹس سے وابستہ صحافیوں کی ٹیم مبینہ طور پر ہار گئی تھی، مگر اخبارات میں اپنی جیت کی خبر شائع ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔شاید مشیر کھیل اسی واقعے کی طرف اشارہ کررہے تھے۔تاہم اس بار معاملہ مختلف تھا۔اس بار صحافی واقعی جیت گئے۔اور اس بار کم از کم اسکور بورڈ بھی ان کے ساتھ تھا۔
مگر اس پورے میچ کا ایک سنجیدہ پہلو بھی تھا جسے صرف مزاحیہ رنگ میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سپورٹس کمپلیکس میں روزانہ پریکٹس کے لیے آنے والے کھلاڑیوں کو اس دن فٹ بال گراونڈ میں پریکٹس کا موقع نہیں ملا۔ فٹ بال کے کھلاڑی میدان میں داخل نہیں ہوسکے، جبکہ اسی گراونڈ پر کرکٹ میچ جاری رہا۔یعنی جو کھلاڑی سال بھر کھیل کے لیے میدان استعمال کرتے ہیں، وہ ایک دن اپنے ہی میدان میں تماشائی بن گئے۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے مقابلوں کے لیے کیا کوئی متبادل گراونڈ یا وقت مقرر نہیں کیا جاسکتا تھا تاکہ باقاعدہ تربیت متاثر نہ ہو؟اسی دوران گراو¿نڈ کے اردگرد نظر دوڑائی گئی تو ایک اور مسئلہ سامنے آیا۔
تقریباً ایک ارب روپے کی لاگت سے بننے والے فٹ بال گراونڈ اور ٹارٹن ٹریک کا افتتاح ابھی ہونا باقی ہے، لیکن ٹارٹن ٹریک ایک مقام پر اکھڑتا ہوا دکھائی دیا۔ یہاں معاملہ کرکٹ کے چھکے سے زیادہ سنجیدہ ہے۔اگر واقعی ٹارٹن ٹریک کی تعمیر میں صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے انجینئرنگ ونگ کی جانب سے طویل مدت، حتیٰ کہ بیس سال تک گارنٹی کی بات کی گئی تھی تو متعلقہ حکام کو افتتاح سے قبل ہی اس کی حالت کا معائنہ کرنا چاہیے۔کچھ مقامات پر کرسیاں بھی ٹوٹی ہوئی نظر آئیں۔ یہ چھوٹی چیزیں معلوم ہوسکتی ہیں، مگر بڑے منصوبوں کی دیکھ بھال اور معیار کا اندازہ اکثر انہی چھوٹی چیزوں سے ہوتا ہے۔
آخر میں مشیر کھیل تاج محمد ترند نے فاتح ٹیم، یعنی سپورٹس سے وابستہ صحافیوں کو ونر ٹرافی دی جبکہ رنر اپ ٹرافی ڈی جی سپورٹس کی ٹیم کے حوالے کی گئی۔یوں آزادی کے دن کا یہ کرکٹ مقابلہ اختتام پذیر ہوا۔ایک طرف ٹرافی تھی، دوسری طرف تالیاں، درمیان میں سو رنز، دو سو رنز کا وعدہ، پندرہ فیلڈرز کی داستان، ایک کنٹریکٹر کی بیٹنگ، ایک کھلاڑی کی ایمپائرنگ، نمبر ایک سے نمبر چار تک تعارف، اور چھکوں کی ایسی بارش کہ اندھیرا بھی شاید جلدی کرنے پر مجبور ہوگیا۔لیکن اس میچ کا سب سے بڑا اسکور شاید رنز کا نہیں تھا۔سب سے بڑا اسکور یہ سوال تھا کہ اگر ایک سپورٹس گراونڈ میں کرکٹ میچ کے لیے فٹ بال اور اتھلیٹکس کے کھلاڑیوں کی پریکٹس روک دی جائے تو اصل میں اس دن جیت کس کی ہوئی؟صحافیوں کی ٹیم کی ٹرافی تو ہاتھ میں آگئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹارٹن ٹریک کی ٹرافی، یعنی اس کی معیار کی ذمہ داری، آخر کس کے ہاتھ میں رہتی ہے۔
**#IndependenceDay #14August #PeshawarSportsComplex #SportsDirectorate #SportsJournalists #CricketMatch #KhyberPakhtunkhwa #KP #Sports #PakistanSports #Football #Athletics #TartanTrack #SportsJournalism #Peshawar #Pakistan**
|