چیئرمین صاحب زندہ باد، مگر اختیار واپس کریں!

پاکستان میں کھیلنے سے زیادہ مزہ کھیلوں کو چلانے میں آتا ہے۔ کھلاڑی میدان میں پسینہ بہاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ دفتر میں کرسی بچانے کے لیے آئین بہاتے ہیں۔پاکستان اسپورٹس بورڈ نے آخرکار وہ بات لکھ دی جو برسوں سے سب جانتے تھے مگر بولتے کم تھے۔ اب اگر کوئی صدر صاحب اپنی دو مدتیں پوری کرلیں تو وہ اگلے دن چیئرمین، پیٹرن اِن چیف، پیٹرن، چیف ایگزیکٹو آفیسر یا کسی اور دلکش نام کے ساتھ واپس نہیں آسکیں گے۔ اگر آ بھی گئے تو صرف اعزازی ہوں گے۔ یعنی کرسی ہوگی، نام ہوگا، تصویر ہوگی، ہار پہنیں گے، تقریر کریں گے، مگر اختیار نہیں ہوگا۔

یہ خبر سن کر یقیناً کئی دفاتر میں خاموشی چھا گئی ہوگی۔کچھ لوگ آئین نہیں، آئین میں راستے تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں مدت ختم ہونا صرف عام آدمی کے لیے ہوتا ہے۔ طاقتور آدمی کی مدت ختم نہیں ہوتی، صرف عہدے کا نام بدل جاتا ہے۔پہلے صدر۔ پھر چیئرمین۔ پھر پیٹرن۔ پھر پیٹرن اِن چیف۔ پھر بانی چیئرمین۔ پھر تاحیات سرپرست۔ پھر "ہمارے بڑے"۔ اور آخر میں وہ مقام آتا ہے جہاں کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اصل فیصلہ کون کر رہا ہے، مگر سب جانتے ہوتے ہیں کہ فون کس کا آتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے گھر میں ابو ریٹائر ہو جائیں مگر ریموٹ، اے ٹی ایم کارڈ اور گاڑی کی چابی پھر بھی انہی کے پاس رہے۔ نام بیٹے کا، اختیار ابو کا۔

پاکستان کی کئی کھیل فیڈریشنوں میں بھی برسوں سے یہی فارمولا چل رہا تھا۔انتخابات ہوتے تھے، نئی کابینہ بنتی تھی، پریس ریلیز جاری ہوتی تھی، تصاویر بھی نئی لگتی تھیں، مگر اگر کوئی اہم فیصلہ ہونا ہوتا تو سب کی نظریں اس شخص کی طرف اٹھتی تھیں جو کاغذوں میں کہیں نہیں ہوتا تھا۔ کاغذ کہتا تھا صدر فلاں ہے۔ دفتر کہتا تھا اصل صدر کوئی اور ہے۔ اب پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کہہ دیا ہے کہ جناب! اب یہ نہیں چلے گا۔اگر آپ چیئرمین ہیں تو صرف چیئرمین ہیں، سپر پریزیڈنٹ نہیں۔

یہ حکم پڑھ کر مجھے پاکستانی شادیوں کا ایک کردار یاد آیا۔ ہر شادی میں ایک انکل ضرور ہوتے ہیں جن کا کوئی عہدہ نہیں ہوتا۔ نہ وہ دلہا کے والد ہوتے ہیں، نہ ماموں، نہ چچا، مگر پورے ہال میں انہی کا حکم چل رہا ہوتا ہے۔ کیٹرنگ والے کو بھی وہی ڈانٹتے ہیں۔ڈی جے کو بھی وہی سمجھاتے ہیں۔فوٹوگرافر کو بھی وہی ہدایات دیتے ہیں۔ اور آخر میں لفافے بھی وہی گنتے ہیں۔اگر آپ پوچھ لیں، "انکل آپ ہیں کون؟"جواب آتا ہے، "بیٹا، میں کچھ نہیں ہوں۔"

بس یہی "کچھ نہیں" سب کچھ ہوتا ہے۔ کھیلوں میں بھی ایسے "کچھ نہیں" برسوں سے بہت کچھ تھے۔ ہمارے ہاں عہدہ چھوڑنا ایسا ہی مشکل ہے جیسے پاکستانی ڈرامے میں ساس کا اصلاح ہونا۔ناممکن تو نہیں، لیکن ریٹنگ گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے بعض عہدیدار کھیلوں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ کرسی چھوڑنے کا سوچ کر ہی ان کی حب الوطنی جاگ جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں "اگر ہم چلے گئے تو کھیل تباہ ہو جائیں گے۔" گویا پوری فیڈریشن ایک شخص کے کندھوں پر کھڑی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔ دنیا میں اچھی تنظیم وہ ہوتی ہے جو افراد سے نہیں، اداروں سے چلتی ہے۔ ہمارے ہاں الٹا حساب ہے۔ ادارہ بعد میں بنتا ہے۔ شخص پہلے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے گرد آئین لکھا جاتا ہے۔ پھر آئین میں ترمیم ہوتی ہے۔ پھر نئی تشریح آتی ہے۔ پھر وکیل آتا ہے۔ پھر عدالت جاتی ہے۔اور آخر میں کھلاڑی سوچتا رہ جاتا ہے کہ ٹریننگ کب ہوگی؟

پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اب صاف لکھ دیا ہے کہ صدر ہی سب سے بڑا انتظامی عہدہ ہوگا۔ یہ پڑھ کر شاید کئی لوگوں نے فوراً آئینہ دیکھا ہوگا کہ اب اگلا نام کیا رکھا جائے؟ شاید "اعزازی سپریم سرپرست"۔ شاید "فاو¿نڈر ایمیریٹس"۔ شاید "چیف گائیڈنس آفیسر"۔ پاکستانی تخلیقی صلاحیت کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ ہم قانون پڑھتے کم اور اس کے درمیان خالی جگہیں زیادہ تلاش کرتے ہیں۔

ایک دوست نے مذاق میں کہا کہ اگلی بار شاید کوئی اپنا عہدہ "سینئر روحانی صدر" رکھ لے۔ اختیار بھی رہے گا اور قانون بھی نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن اس بار پاکستان اسپورٹس بورڈ نے جملہ ہی ایسا لکھ دیا کہ کسی بھی مساوی عہدے کو بھی اختیار نہیں ہوگا۔ یعنی اگر آپ نے اپنا عہدہ "چیف سپریم سپورٹس کمانڈر آف دی یونیورس" بھی رکھ لیا تو بھی اختیار نہیں ملے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ قانون بن گیا۔اصل سوال یہ ہے کہ اس پر عمل کون کرائے گا؟ کیونکہ پاکستان میں قانون بنانا آسان ہے۔ عمل کروانا اولمپک کھیل ہے۔

اگر واقعی نوے دن بعد ہر فیڈریشن اپنا آئین بدل دیتی ہے، سابق طاقتور عہدیدار اعزازی بن جاتے ہیں، فیصلے منتخب لوگ کرتے ہیں، فنڈز شفاف طریقے سے خرچ ہوتے ہیں اور کھلاڑی مرکز میں آجاتے ہیں، تو پھر یہ صرف ایک نوٹیفکیشن نہیں بلکہ کھیلوں کی تاریخ کا اہم موڑ ہوگا۔ لیکن اگر نوے دن بعد بھی صرف عہدے کے بورڈ بدلیں اور اختیارات وہیں رہیں، تو سمجھ لیجیے گا کہ پاکستانی تخلیقی ذہن نے قانون سے ایک بار پھر دوستی کر لی ہے۔ ہمارے ملک میں کرسی سے محبت کا علاج شاید ابھی کسی میڈیکل جرنل میں دریافت نہیں ہوا۔ یہ ایسی بیماری ہے جس میں مریض خود کو بالکل صحت مند سمجھتا ہے۔

علامات صرف دوسروں کو نظر آتی ہیں۔ویسے اگر کبھی "کرسی چھوڑنے کا عالمی کپ" منعقد ہوا تو پاکستان یقیناً فیورٹ ہوگا۔ کیونکہ یہاں لوگ میچ ہار سکتے ہیں، انتخاب ہار سکتے ہیں، اپیل ہار سکتے ہیں، عدالت جا سکتے ہیں، مگر کرسی آسانی سے نہیں ہارتے۔ آخر میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے لیے صرف ایک مشورہ۔ اگلی بار قواعد میں ایک شق اور شامل کر دیجیے۔ "اگر کسی سابق صدر کو ہر فیصلے میں اپنی رائے دینے کی شدید خواہش ہو تو اسے ہفتے میں ایک دن چائے پلا کر پرانی یادیں تازہ کرنے کی اجازت ہوگی، مگر فائل پر دستخط صرف موجودہ صدر ہی کرے گا۔"شاید اسی ایک جملے سے کھیل بھی بچ جائیں اور کرسی سے محبت کرنے والوں کی دل آزاری بھی نہ ہو۔کیونکہ پاکستان میں کرسی چھوڑنا واقعی ایک کھیل ہے۔اور اس کھیل کے سب سے مضبوط کھلاڑی کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔

#PakistanSports #PakistanSportsBoard #PSB #SportsGovernance #SportsReforms #Governance #SportsPolitics #NationalSportsFederations #SportsAdministration #Transparency #Accountability #RuleOfLaw #Leadership #InstitutionalReform #SportsManagement #InvestigativeJournalism #Opinion #Satire #Humor #Pakistan


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1043 Articles with 801693 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More