تین ہزار سال پرانا مصنوعی انگوٹھا
(Fazal khaliq khan, Mingora Swat)
| ہزاروں سال قبل انسانی ذہانت کی انتہا، جس نے معذور انسان کو چلنے پھرنے میں مدد فراہم کرتے ہوئے جینے کا حوصلہ دیا ۔ |
|
|
انسانی تاریخ محض بادشاہوں، جنگوں اور تہذیبوں کی کہانی نہیں بلکہ یہ انسانی جدت، ضرورت اور بقا کی مسلسل جدوجہد کی داستان بھی ہے۔ بعض اوقات ماضی کی ایک چھوٹی سی چیز ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ انسان صدیوں پہلے بھی وہی سوچ رکھتا تھا جو آج ہم جدید ٹیکنالوجی کے دور میں رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک حیران کن مثال قدیم مصر سے ملنے والا مصنوعی پاؤں کا انگوٹھا ہے جسے آج "Cairo Toe" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ انوکھا اور تاریخی نمونہ مصر کے شہر لکسور کے قریب واقع ایک قدیم قبرستان شیخ عبد القرنة سے دریافت ہوا جو کبھی مصری اشرافیہ کا مدفن رہا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ نے جب اس دریافت کو مزید تحقیق کے لیے کھولا تو یہ محض ایک عام نوادراتی چیز نہیں نکلی بلکہ ایک ایسی ایجاد ثابت ہوئی جس نے انسانی طب اور انجینئرنگ کی تاریخ کو نئی جہت دی۔ یہ مصنوعی انگوٹھا تقریباً تین ہزار سال پرانا ہے، یعنی یہ آٹھویں صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس زمانے میں جب نہ جدید سائنس تھی، نہ میڈیکل آلات، نہ انجینئرنگ کے پیچیدہ اصول، تب بھی انسان نے جسمانی کمی کو پورا کرنے کا ایسا مؤثر حل تلاش کر لیا تھا۔ یہ انگوٹھا ایک عورت کے لیے تیار کیا گیا تھا جس کا اصلی انگوٹھا کسی وجہ سے ضائع ہو چکا تھا۔ قدیم مصر میں لباس اور جوتوں کا انداز کچھ ایسا تھا کہ پاؤں کا انگوٹھا نہ ہونا نہ صرف ظاہری طور پر نمایاں ہوتا تھا بلکہ چلنے پھرنے میں بھی مشکل پیدا کرتا تھا۔ خاص طور پر سینڈل پہننے کے لیے انگوٹھے کی موجودگی ضروری تھی، کیونکہ اس کے بغیر جوتا پاؤں میں ٹھیک طرح سے نہیں ٹھہرتا تھا۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہنر مند کاریگر نے لکڑی اور چمڑے کی مدد سے یہ مصنوعی انگوٹھا تیار کیا۔ اس میں نہ صرف شکل و صورت کا خیال رکھا گیا بلکہ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ یہ پاؤں کے ساتھ مضبوطی سے بندھ سکے۔ اس کے لیے چمڑے کی پٹیاں لگائی گئی تھیں تاکہ پہننے والا اسے روزمرہ زندگی میں آسانی سے استعمال کر سکے۔ مزید حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ماہرین کو اس مصنوعی انگوٹھے پر بار بار مرمت کے آثار ملتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ایک بار بنا کر رکھ نہیں دیا گیا تھا بلکہ اسے باقاعدگی سے استعمال کیا جاتا رہا اور وقتاً فوقتاً اس میں بہتری بھی کی جاتی رہی۔ گویا یہ ایک ابتدائی دور کا "کسٹم میڈ" مصنوعی عضو تھا جو مریض کی ضرورت کے مطابق ڈھالا گیا تھا۔ جدید تحقیق، خاص طور پر 2000 کی دہائی میں ہونے والے تجربات نے اس دریافت کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ سائنسدانوں نے اسی طرز کا ایک مصنوعی انگوٹھا تیار کر کے لوگوں کو پہنایا اور ان کے چلنے کے انداز کا جائزہ لیا۔ نتائج نے ثابت کیا کہ یہ ڈیزائن واقعی کارآمد تھا اور پہننے والے کو توازن اور حرکت میں مدد دیتا تھا۔ اس طرح یہ ثابت ہو گیا کہ قدیم مصری صرف جمالیاتی چیزیں بنانے میں ماہر نہیں تھے بلکہ انہیں انسانی جسم اور اس کی ضروریات کی بھی گہری سمجھ تھی۔ آج یہ نادر تاریخی نمونہ Egyptian Museum قاہرہ میں محفوظ ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاح اور محققین اسے دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ محض ایک قدیم چیز نہیں بلکہ انسانی ذہانت، ہمدردی اور عملی سوچ کی علامت ہے۔ اگر ہم اس دریافت کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔ آج ہم جدید مصنوعی اعضا، بایونک ٹیکنالوجی اور روبوٹک ہاتھوں اور پاؤں کی بات کرتے ہیں، لیکن اس کی بنیاد دراصل ہزاروں سال پہلے رکھ دی گئی تھی۔ انسان ہمیشہ سے اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلنے کی کوشش کرتا آیا ہے، چاہے اس کے پاس وسائل محدود ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ مصنوعی انگوٹھا اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیت وقت اور حالات کی پابند نہیں ہوتی۔ جب ضرورت پیدا ہوتی ہے تو انسان اپنے ماحول اور دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ایسے حل تلاش کر لیتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے حیرت کا باعث بن جاتے ہیں۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ "Cairo Toe" صرف ایک مصنوعی عضو نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا وہ خاموش باب ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ترقی کا سفر آج سے نہیں بلکہ ہزاروں سال پہلے شروع ہو چکا تھا، اور انسان ہمیشہ سے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف رہا ہے۔ |
|