ہانگ چو سے دوستی، ثقافت اور کھیل کے فروغ کا توانا پیغام

ہانگ چو سے دوستی، ثقافت اور کھیل کے فروغ کا توانا پیغام
تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ

دنیا بھر میں کھیلوں کو قوموں کے درمیان دوستی، ثقافتی تبادلوں اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ چین نے گزشتہ چند برسوں کے دوران کھیلوں کے میدان میں جس تیزی سے ترقی کی ہے، اس نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ اب فٹ بال، باسکٹ بال اور اولمپک کھیلوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ بھی چین میں تیزی سے مقبولیت حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ خصوصاً صوبہ زی جیانگ کے جدید اور تاریخی شہر ہانگ چو میں منعقدہ بین الاقوامی کرکٹ سرگرمی "ون کرکٹ ، ون ہارٹ فرینڈشپ کرکٹ ٹورنامنٹ" نے اس بات کو مزید واضح کر دیا ہے کہ چین نہ صرف کھیلوں کو فروغ دینا چاہتا ہے بلکہ انہیں بین الاقوامی دوستی اور عوامی روابط کے ایک پل کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔

ہانگ چو میں منعقدہ اس بین الاقوامی کرکٹ سرگرمی میں چین کے مختلف شہروں میں موجود پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں سمیت ، بین الاقوامی کھلاڑیوں، مہمانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ یہ تقریب چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی ہے، جس نے اس ایونٹ کو مزید اہمیت اور خوبصورتی عطا کی ہے۔ تقریب میں شریک مقررین اور کھلاڑیوں نے چین اور پاکستان کے درمیان کھیلوں کے تعاون کو خصوصی طور پر سراہا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اب کھیلوں، خصوصاً کرکٹ، کے میدان میں بھی نئی جہت اختیار کر رہی ہے۔

شرکاء نے اس بات کا اظہار کیا کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو قوموں کو قریب لاتا، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا اور مختلف ثقافتوں کے درمیان روابط کو مضبوط بناتا ہے۔ انہوں نے چین میں کرکٹ کے روشن مستقبل پر بھی اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ جس تیزی سے چین میں کھیلوں کا انفراسٹرکچر اور عوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں کرکٹ بھی یہاں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔

چین میں کرکٹ کے فروغ کی بنیاد دراصل ہانگ چو ایشین گیمز 2022 کے دوران مزید مضبوط ہوئی تھی۔ ان ایشیائی کھیلوں میں پاکستان سمیت 45 ممالک اور علاقوں کے ایتھلیٹس نے شرکت کی جبکہ کرکٹ کو دوبارہ ایشین گیمز کا حصہ بنایا گیا۔ اس سے قبل 2010 کے گوانگ چو ایشین گیمز میں پہلی مرتبہ کرکٹ شامل کیا گیا تھا، تاہم 2018 کے جکارتہ ایشین گیمز میں یہ کھیل شامل نہیں تھا۔ ہانگ چو میں کرکٹ کی واپسی نے جنوبی ایشیا کے کروڑوں شائقین میں خوشی کی نئی لہر دوڑا دی۔

کرکٹ اس وقت فٹ بال کے بعد دنیا کا دوسرا مقبول ترین کھیل تصور کیا جاتا ہے، جس کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد شائقین موجود ہیں۔ جنوبی ایشیا میں یہ کھیل عوامی جذبات کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی جانب سے کرکٹ کو فروغ دینا صرف ایک کھیل کی ترویج نہیں بلکہ ایشیائی عوام کے درمیان ثقافتی روابط اور دوستی کو مستحکم بنانے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔

ہانگ چو میں تعمیر کیا گیا جدید کرکٹ اسٹیڈیم بھی چین کے سنجیدہ اسپورٹس وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ زی جیانگ یونیورسٹی کے کیمپس میں قائم یہ میدان چین کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم قرار دیا جاتا ہے۔ تقریباً 13 ہزار 500 مربع میٹر رقبے پر مشتمل اس میدان میں بین الاقوامی معیار کی پچ، جدید ٹریننگ سہولیات، انڈور جمنازیم، میڈیا سینٹر اور تماشائیوں کے لیے جدید نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کی منفرد تعمیراتی ساخت ایک عقاب سے مشابہ دکھائی دیتی ہے، جو طاقت اور متحرک پن کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چین میں کرکٹ کے فروغ کے امکانات روشن ہیں، کیونکہ نوجوان نسل بین الاقوامی کھیلوں میں تیزی سے دلچسپی لے رہی ہے۔ چین کی جدید اسپورٹس پالیسی، عالمی معیار کے اسٹیڈیمز اور بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک کھیلوں کے میدان میں بھی عالمی سطح پر اپنا کردار مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

چین کھیلوں کو صرف مقابلے کے طور پر نہیں بلکہ دوستی، امن اور ثقافتی تبادلوں کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔ ہانگ چو میں منعقد ہونے والی حالیہ کرکٹ سرگرمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹ مستقبل میں چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان عوامی روابط کا ایک اہم پل بن سکتا ہے۔ چین کی شاندار مہمان نوازی، جدید انفراسٹرکچر اور کھیلوں کے فروغ کے وژن کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ چین میں کرکٹ کا سفر ابھی شروع ہوا ہے، اور آنے والے برسوں میں یہ کھیل یہاں مزید مقبولیت حاصل کر سکتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1149496 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More