پھٹے ہوئے نیٹ، خاموش حکومت اور مرتا ہوا سپورٹس سسٹم

پشاور سپورٹس کمپلیکس میں خیبرپختونخوا کے ابھرتے ہوئے ٹینس کھلاڑی محمد شعیب کے اعزاز میں منعقدہ تقریب بظاہر ایک خوشی کا موقع تھی۔ ایک نوجوان کھلاڑی جس نے بین الاقوامی سطح پر صوبے اور پاکستان کا نام روشن کیا، اس کی پذیرائی ہونی چاہیے تھی، اس کی کامیابی کو صوبے کے کھیلوں کے مستقبل کی امید کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن تقریب ایک ایسے تلخ آئینے میں بدل گئی جس میں خیبرپختونخوا کے کھیلوں کا بوسیدہ، غیر سنجیدہ اور اندر سے کھوکھلا نظام صاف دکھائی دے رہا تھا۔

سابق صوبائی وزیر کھیل اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سابق صدر سید عاقل شاہ نے اس تقریب میں جو کچھ کہا، وہ محض جذباتی تقریر نہیں تھی۔ وہ دراصل اس پورے نظام پر فردِ جرم تھی جو برسوں سے “ترقی”، “انقلاب” اور “سہولیات” کے دعوے تو کرتا ہے لیکن زمینی حقیقت میں کھلاڑیوں کو پھٹے ہوئے نیٹ، ٹوٹے ہوئے کورٹ، خالی وعدے اور نمائشی تقاریب کے سوا کچھ نہیں دیتا۔عاقل شاہ نے ایک جملہ کہا جو شاید پوری تقریر کا خلاصہ تھا: “یہ نیٹ دیکھ لیں، اس کی حالت دیکھ لیں، کورٹ کا رنگ ہوئے بھی دس سال ہوگئے۔”

یہ صرف ایک نیٹ نہیں تھا۔ یہ خیبرپختونخوا کے سپورٹس سسٹم کی علامت تھا۔ ایک ایسا نظام جہاں کھلاڑی ٹرافیاں جیت کر واپس آتے ہیں لیکن انہیں وہ بنیادی ماحول تک نہیں ملتا جس کے بغیر کھیل زندہ نہیں رہ سکتے۔سوال یہ ہے کہ آخر اربوں روپے کے دعوے کہاں جاتے ہیں؟ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے کھیلوں کے فروغ، گراونڈز کی تعمیر، ٹیلنٹ ہنٹ، یوتھ انگیجمنٹ اور سپورٹس انفراسٹرکچر کے نام پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ پریس ریلیزیں جاری ہوتی ہیں، تصویریں بنتی ہیں، افتتاح ہوتے ہیں، لیکن اگر ایک بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے والے ٹینس کھلاڑی کے کورٹ کا نیٹ پھٹا ہوا ہے تو پھر باقی اضلاع اور دیہی علاقوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

یہاں اصل مسئلہ صرف فنڈز کی کمی نہیں۔ اصل مسئلہ ترجیحات، نیت اور نگرانی کا ہے۔ عاقل شاہ نے سخت الفاظ میں کہا:“تنخواہیں لیتے ہیں، اوپر سے کروڑوں روپے بھی بناتے ہیں۔ اگر ہتک عزت کا دعویٰ کرنا ہے تو بے شک کریں۔” یہ بیان محض غصہ نہیں بلکہ اس عمومی تاثر کی عکاسی کرتا ہے جو خیبرپختونخوا کے کھیلوں کے حلقوں میں برسوں سے موجود ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کھیلوں کے نام پر منصوبے بنتے ہیں، فنڈز آتے ہیں، اخراجات دکھائے جاتے ہیں، مگر کھلاڑی تک فائدہ نہیں پہنچتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کئی سرکاری گراونڈز کی حالت ایسی ہے جیسے انہیں برسوں سے ہاتھ تک نہ لگایا گیا ہو۔

مزید دلچسپ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ جو لوگ نظام چلا رہے ہیں، ان میں سے اکثر کبھی کھیل کے میدان سے جڑے ہی نہیں رہے۔ عاقل شاہ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا “یہاں ایک افسر بیٹھا ہوا تھا، مجھے سپورٹس سکھانا شروع کردیا۔” یہ جملہ دراصل اس بیوروکریٹک ذہنیت کی نشاندہی کرتا ہے جس میں فائلیں کھیلوں سے زیادہ اہم ہوجاتی ہیں۔ ایسے لوگ فیصلے کرتے ہیں جنہیں نہ کھلاڑی کی نفسیات کا علم ہوتا ہے، نہ تربیتی نظام کا، نہ گراونڈ کی ضروریات کا اور نہ ہی اس قربانی کا جو ایک ایتھلیٹ روزانہ دیتا ہے۔

پاکستان میں کھیلوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اسے انتظامی معاملہ سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ کھیل دراصل ایک کلچر ہوتا ہے۔ کلچر صرف عمارتوں سے نہیں بنتا بلکہ وڑن، تسلسل، احتساب اور کھلاڑیوں کی عزت سے بنتا ہے۔محمد شعیب کی مثال ہی لے لیں۔ ایک نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرتا ہے، لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے نہ کوئی بڑا انعام، نہ مستقل سپورٹ، نہ کوئی واضح منصوبہ۔ عاقل شاہ نے درست کہا کہ اگر یہی کھلاڑی پنجاب میں ہوتا تو شاید اسے لاکھوں روپے، اسپانسرشپ اور میڈیا کوریج ملتی۔ یہاں اکثر کھلاڑی اپنی جیب سے کھیلتے ہیں، اپنی محنت سے آگے بڑھتے ہیں اور پھر جب کامیاب ہوجاتے ہیں تو سرکاری تصاویر کا حصہ بن جاتے ہیں۔

یہ رویہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ اس سے نوجوانوں کو واضح پیغام ملتا ہے کہ اس نظام میں محنت کی نہیں بلکہ تعلقات، رسائی اور سیاسی اہمیت کی قدر ہے۔ عاقل شاہ نے ایک اور اہم بات کہی کہ “ٹیلنٹ ہنٹ ہوا ہی نہیں۔” یہ جملہ معمولی نہیں۔ خیبرپختونخوا جیسے صوبے میں، جہاں لاکھوں نوجوان موجود ہیں، اگر منظم ٹیلنٹ ہنٹ سسٹم ہی موجود نہیں تو پھر عالمی معیار کے کھلاڑی کہاں سے آئیں گے؟ چند انفرادی مثالیں پورے نظام کی کامیابی ثابت نہیں کرتیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا صوبے کے ہر ضلع میں فعال کوچنگ سسٹم موجود ہے؟ کیا سرکاری گراونڈز میں جدید سہولیات ہیں؟ کیا کھلاڑیوں کے لیے اسپورٹس سائنس، فزیکل ٹریننگ، نیوٹریشن اور مینٹل سپورٹ موجود ہے؟ کیا کھیلوں کی تنظیموں میں میرٹ ہے؟ کیا فنڈز کے استعمال کا آزاد آڈٹ ہوتا ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب “نہیں” ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کھیلوں کے نام پر زیادہ تر کام نمائشی ہے۔ عاقل شاہ نے نیشنل گیمز کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریبات کو “آنکھیں دھونے کی کوشش” قرار دیا۔ یہ سخت جملہ ضرور ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں اکثر ادارے اصل مسائل حل کرنے کے بجائے تصویری تقاریب پر زور دیتے ہیں۔ کھلاڑی کو مستقل سپورٹ نہیں ملتی، مگر اس کے ساتھ تصویر ضرور بنوائی جاتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات وہ تھی جب انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا کام ہی نہیں۔ اگر واقعی ایسا سوچا جارہا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ڈائریکٹریٹ کا کام کیا ہے؟ صرف دفاتر چلانا؟ فائلیں گھمانا؟ ترقیاتی دعوے کرنا؟ یا پھر سوشل میڈیا پوسٹس جاری کرنا؟ کھیلوں کے ادارے اگر مقابلے نہیں کروائیں گے، ٹیلنٹ تلاش نہیں کریں گے، کھلاڑیوں کو سہولیات نہیں دیں گے، تو پھر ان کے وجود کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ عاقل شاہ کی تقریر میں سیاست بھی تھی، ذاتی غصہ بھی، پرانی یادیں بھی، لیکن ان سب کے درمیان ایک تلخ حقیقت بھی موجود تھی۔ خیبرپختونخوا میں کھیلوں کا نظام شدید بحران کا شکار ہے۔

یہ بحران صرف انفراسٹرکچر کا نہیں بلکہ وڑن کا بحران ہے۔ کھلاڑی اب بھی موجود ہیں۔ ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سسٹم ان کے راستے میں کھڑا ہے، ان کے ساتھ نہیں۔ محمد شعیب جیسے نوجوان اگر اس ماحول میں کامیابی حاصل کررہے ہیں تو یہ ان کی ذاتی محنت کا ثبوت ہے، نہ کہ کسی مضبوط سرکاری نظام کا۔ تقریب کے اختتام پر عاقل شاہ نے کہا “کھلاڑی کی قدر خیبرپختونخوا میں نہیں۔” یہ جملہ شاید تلخ ہو، لیکن موجودہ حالات میں اسے مکمل طور پر غلط کہنا بھی مشکل ہے۔ جب ایک صوبہ اپنے کامیاب کھلاڑی کو بنیادی عزت، سہولت اور سپورٹ نہ دے سکے، جب کورٹ کا نیٹ پھٹا ہوا ہو، جب دس سال سے رنگ نہ ہوا ہو، جب الیکٹرانک اسکور بورڈ تک نہ ہو، تو پھر مسئلہ صرف ایک کورٹ کا نہیں رہتا، وہ پورے نظام کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اور یہی اصل کہانی ہے۔

#PeshawarSportsComplex
#KPSports
#MuhammadShoaib
#AqilShah
#SportsCorruption
#PakistanSports
#KhyberPakhtunkhwa
#SportsInfrastructure
#TalentNeglected
#TennisPakistan
#KPGovernment
#SportsCrisis
#InvestigativeJournalism

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776113 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More