پنجاب اکیڈمیاں بنا رہا ہے، خیبرپختونخوا کھلاڑی کھو رہا ہے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پنجاب حکومت کی جانب سے 16 مفت اسپورٹس اکیڈیمز کے قیام کا اعلان بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس اعلان نے ایک بار پھر پاکستان کے مختلف صوبوں کی اسپورٹس پالیسیوں کے فرق کو نمایاں کردیا ہے۔ ایک طرف پنجاب کھیلوں کو ایتھلیٹ سینٹرک ماڈل کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا ہے، دوسری طرف خیبرپختونخوا میں گزشتہ کئی برسوں سے کھیلوں کے نام پر جاری ماڈل پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کتنی عمارتیں بنیں، سوال یہ ہے کہ کتنے کھلاڑی بنے؟ پنجاب کے اعلان میں سب سے اہم بات “فری اکیڈیمز” ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہو، وہاں کھیل اب غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کیلئے تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان اگر روزانہ ٹرانسپورٹ، کٹ، خوراک، انٹری فیس اور ٹریننگ اخراجات برداشت نہیں کرسکتا تو وہ چاہے کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، چند سال بعد سسٹم سے باہر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسپورٹس ڈویلپمنٹ کی بنیاد “رسائی” پر رکھی جاتی ہے، صرف انفراسٹرکچر پر نہیں۔ خیبرپختونخوا میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں صوبے میں کھیلوں کے نام پر بڑے بڑے منصوبے، کمپلیکس، گراؤنڈز، تزئین و آرائش اور تعمیراتی کام ضرور ہوئے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بیشتر کھلاڑی آج بھی اپنے خرچے پر کھیل رہے ہیں۔ کئی کھیلوں کی ایسوسی ایشنز دعویٰ کرتی ہیں کہ انہیں پانچ سال سے گرانٹ اِن ایڈ نہیں ملی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کھیلوں کا پورا نظام آخر چل کیسے رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بیشتر کھیل حکومتی ادارے نہیں بلکہ ایسوسی ایشنز زندہ رکھتی ہیں۔ یہی تنظیمیں ٹورنامنٹس کرواتی ہیں، ٹیمیں تیار کرتی ہیں، ٹیلنٹ تلاش کرتی ہیں اور اکثر اپنے محدود وسائل سے کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی مقابلوں تک پہنچاتی ہیں۔ جب ان اداروں کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو پھر یا کھیل مر جاتے ہیں یا پھر چند مخصوص کھیل اور مخصوص لوگ پورے سسٹم پر قابض ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا میں اسپورٹس کے حوالے سے “تصویری ترقی” زیادہ نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس، افتتاحی تقریبات، مہمان خصوصی، شیلڈز، سرکاری بیانات اور میڈیا فوٹو تو موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے نتیجے میں صوبے کے نوجوانوں کو مستقل تربیت، وظیفہ، کوچنگ یا کیریئر ملا؟ اگر ایک قومی سطح کا ایتھلیٹ قرض لے کر مقابلوں میں حصہ لے رہا ہو تو پھر یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اصل ترجیحات کہاں ہیں۔ ایک قومی ایتھلیٹ کے مطابق، جب اس نے مالی امداد کیلئے درخواست دی تو ایک افسر نے سب کے سامنے اسے صرف اس بات پر بے عزت کیا کہ درخواست “پروپر چینل” سے کیوں نہیں آئی۔ یہ واقعہ معمولی نہیں۔ یہ پورے سرکاری رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے کھیلوں کے نظام میں کھلاڑی اکثر آخری ترجیح بن چکا ہے۔ یہاں فائل کی اہمیت ایتھلیٹ سے زیادہ ہے، دفتری اختیار کھیل سے زیادہ طاقتور ہے، اور بیوروکریسی انسانی مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں قواعد کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کئی کھلاڑی ذہنی طور پر ٹوٹ چکے ہیں۔ ایک فٹبالر کے الفاظ تھے کہ اگر وہ پانچ سال کسی ورکشاپ یا دکان پر شاگردی کرتا تو آج کم از کم کچھ کما رہا ہوتا۔ کھیل نے اسے نہ روزگار دیا، نہ عزت، نہ مستقبل۔ یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہزاروں کھلاڑیوں کی خاموش حقیقت ہے۔ پاکستان میں کھیلوں کو اب بھی اکثر “شوق” سمجھا جاتا ہے، profession نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان چند سال بعد کھیل چھوڑ دیتے ہیں۔ کھیلوں میں مستقل مزاجی تب آتی ہے جب ریاست کھلاڑی کو صرف تالیاں نہیں بلکہ تحفظ دیتی ہے۔ دنیا کے کامیاب اسپورٹس ماڈلز دیکھیں تو وہاں ایتھلیٹ کیلئے اسکالرشپ، میڈیکل سپورٹ، اسپورٹس سائنس، نفسیاتی مدد، کوچنگ اور روزگار کے راستے موجود ہوتے ہیں۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ کئی کھلاڑی اپنی انٹری فیس تک خود ادا کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ایک اور سنگین مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ کئی اضلاع میں پروفیشنل کوچز اور تجربہ کار عملے کو کمزور کیا جا رہا ہے جبکہ غیر تکنیکی بھرتیوں پر زور دیا جاتا ہے۔ اگر کوچنگ سسٹم کمزور ہوگا تو پھر نئی عمارتیں بھی بیکار ثابت ہوں گی۔ کھیل صرف گراؤنڈ سے نہیں بنتے، کھیل کوچنگ، نظم و ضبط، سائنس اور مستقل تربیت سے بنتے ہیں۔ چارسدہ، کوہاٹ اور دیگر اضلاع کی مثالیں اکثر سامنے آتی ہیں جہاں گراؤنڈ تو موجود ہیں مگر سرگرمیاں محدود ہیں۔ کہیں سہولت ہے مگر کوچ نہیں، کہیں بجٹ ہے مگر ایتھلیٹ سپورٹ نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی اور زمینی ضرورت میں واضح disconnect موجود ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے۔ اگر واقعی کھیلوں کی صورتحال اتنی خراب ہے تو صوبائی اور اولمپک سطح کی قیادت کہاں کھڑی ہے؟ کیا ان اداروں کا کردار صرف تقریبات میں شرکت اور تصاویر تک محدود ہوچکا ہے؟ کھیلوں کی قیادت کا اصل کام حکومتوں پر دباؤ ڈالنا، فنڈنگ کا مطالبہ کرنا اور کھلاڑیوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھانا ہوتا ہے۔ خاموشی دراصل موجودہ نظام کی غیر اعلانیہ حمایت بن جاتی ہے۔ پنجاب کا ماڈل ابھی کامیاب ثابت نہیں ہوا، کیونکہ اعلان اور عمل میں فرق ہوتا ہے۔ لیکن کم از کم وہاں گفتگو ایتھلیٹ، اکیڈمی اور رسائی کے گرد گھوم رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں اب بھی زیادہ توجہ تعمیراتی منصوبوں، ٹینڈرز، فنڈ ریلیز اور انتظامی کنٹرول پر نظر آتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا واقعی کھیلوں میں تبدیلی چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر چند بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔ پہلا، تمام کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کیلئے شفاف اور باقاعدہ گرانٹ سسٹم بحال کیا جائے۔ دوسرا، ایتھلیٹس کیلئے وظیفہ، سفری اخراجات اور تربیتی سپورٹ لازمی بنائی جائے۔ تیسرا، کوچنگ سسٹم کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا جائے۔ چوتھا، کھیلوں کے بجٹ کا بڑا حصہ سول ورک کے بجائے ایتھلیٹ ڈویلپمنٹ پر خرچ کیا جائے۔ پانچواں، ہر ضلع میں مفت یا کم لاگت اسپورٹس رسائی یقینی بنائی جائے۔ ورنہ صورتحال یہی رہے گی کہ بلڈنگز بنتی رہیں گی، افتتاح ہوتے رہیں گے، تصاویر آتی رہیں گی، مگر کھلاڑی قرض لے کر کھیلتا رہے گا۔ اور جس معاشرے میں ایتھلیٹ کو عزت، تحفظ اور مستقبل نہ ملے، وہاں کھیل نہیں بلکہ صرف دعوے زندہ رہتے ہیں |