گرانٹ کی بندش کے بعد خیبرپختونخوا میں کھیلوں کی تنظیمیں، نظام، اور طاقت کا نیا توازن

خیبرپختونخوا میں کھیلوں کی تنظیموں کے لیے 2021 ایک ایسا موڑ ثابت ہوا جس نے پورے ڈھانچے کو اندر سے ہلا دیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے گرانٹ اینڈ ایڈ کی مد میں دی جانے والی مالی معاونت، جو پہلے مختلف ایسوسی ایشنز کے لیے باقاعدہ سپورٹ سسٹم کا حصہ تھی، اچانک بند ہو گئی۔ یہ رقوم بعض اوقات پانچ سے دس لاکھ روپے تک ہوتی تھیں، جو مقامی سطح پر ایونٹس، ٹیموں کی تیاری اور کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے بنیادی سہارا سمجھی جاتی تھیں۔فنڈنگ کے اس خاتمے نے بظاہر ایک انتظامی فیصلہ دکھایا، لیکن اس کے اثرات صرف اکاونٹس یا کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہے۔ یہ اثرات براہِ راست میدان، کھلاڑیوں، اور کھیلوں کی سیاست تک پھیل گئے۔

جب سرکاری معاونت رکتی ہے تو بظاہر خلا پیدا ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر اس خلا کو سب یکساں انداز میں محسوس نہیں کرتے۔ خیبرپختونخوا میں بھی یہی ہوا۔ کچھ کھیلوں کی تنظیموں نے اس صورتحال کو ایک نئے موقع کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط کیے اور مختلف مقابلوں اور ایونٹس کے انعقاد کے ذریعے فنڈنگ کے متبادل راستے تلاش کیے۔ یہ وہ ایسوسی ایشنز تھیں جو ادارہ جاتی نظام، رابطوں، اور بیوروکریٹک پروسیس کو بہتر سمجھتی تھیں۔ ان کے لیے فنڈنگ کا بند ہونا مکمل رکاوٹ نہیں بنا بلکہ ایک نئے ماڈل کی طرف منتقلی بن گیا، جہاں ہر ایونٹ، ہر ٹورنامنٹ اور ہر “پروگرام” ایک نئی مالی لائن کی شکل اختیار کرنے لگا۔

اس کے برعکس کئی ایسوسی ایشنز اس نیٹ ورک سے باہر رہیں۔ ان کے پاس نہ مضبوط روابط تھے، نہ انتظامی سپورٹ، اور نہ ہی وہ سسٹم تک رسائی جس کے ذریعے فنڈز تک پہنچا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہی صوبے میں کھیلوں کی تنظیمیں دو واضح کیٹیگریز میں بٹ گئیں: فعال اور بااثر، اور خاموش و غیر موثر۔ یہ صورتحال ایک ایسے نظام کو جنم دیتی ہے جسے سیدھی زبان میں “access-based funding” کہا جا سکتا ہے۔ یعنی فنڈز اصولوں سے زیادہ رسائی اور تعلقات کی بنیاد پر گردش کرتے ہیں۔ کچھ ایسوسی ایشنز باقاعدہ ایونٹس کراتی رہیں اور ان کے لیے فنڈز بھی جاری ہوتے رہے۔ ان کے پروگرامز کاغذی طور پر بھی مکمل دکھائے جاتے ہیں اور ادارہ جاتی سطح پر بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف کئی تنظیمیں صرف نام کی حد تک موجود رہ گئیں۔ ان کے پاس نہ ایونٹس تھے، نہ فنڈنگ، اور نہ ہی وہ پلیٹ فارم جہاں سے وہ خود کو ریگولیٹ کر سکتیں۔ یہ تضاد صرف انتظامی نہیں بلکہ اسپورٹس کلچر کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتا ہے۔ جب مواقع برابر نہ ہوں تو مقابلہ بھی برابر نہیں رہتا۔

کچھ ایسوسی ایشنز نے ایک اور راستہ اپنایا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو دوسرے صوبوں میں مقابلوں کے لیے بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے لیے صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے مالی معاونت حاصل کی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منتخب کھلاڑی کون ہوتے ہیں، ان کے انتخاب کا معیار کیا ہے، اور کیا یہ عمل واقعی میرٹ پر مبنی ہے یا ایک محدود دائرے میں گھومتا ہوا نظام ہے۔ کئی سالوں کے دوران یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ کچھ ایسوسی ایشنز اس پورے عمل کو ایک مستقل مالی ماڈل کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، جہاں “ایونٹ” اور “شرکت” صرف ایک رسمی ڈھانچہ ہے اور اصل اہمیت فنڈنگ کے حصول کو حاصل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں تقریباً چالیس کے قریب کھیلوں کی ایسوسی ایشنز موجود ہیں۔ لیکن عملی طور پر فعال تنظیموں کی تعداد اس سے کہیں کم محسوس ہوتی ہے۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر تنظیمیں موجود ہیں تو میدان میں ان کی موجودگی کہاں ہے؟ کئی ایسوسی ایشنز میں انتظامی تسلسل بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اصولی طور پر اسپورٹس پالیسیز میں باقاعدہ انتخابات اور عہدوں کی گردش لازمی تصور کی جاتی ہے، لیکن زمینی حقیقت مختلف نظر آتی ہے۔ بعض جگہ ایک ہی گروہ یا افراد طویل عرصے سے عہدوں پر قائم ہیں، جس سے اندرونی احتساب کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

کھیلوں کی تنظیموں میں ایک اور پہلو جو وقت کے ساتھ نمایاں ہوا ہے وہ ذاتی تعلقات اور رشتہ داریوں کا اثر ہے۔ یہ مسئلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ اسپورٹس کلچر کی جڑوں سے جڑا ہوا ہے۔ جب فیصلہ سازی محدود حلقوں تک رہ جائے تو میرٹ کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر کھلاڑیوں پر پڑتا ہے، جو انتخاب اور مواقع کے لیے غیر واضح معیاروں کا سامنا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ کھلاڑی مستقل مواقع حاصل کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد صرف تماشائی بن کر رہ جاتی ہے۔

اس پورے نظام میں نگرانی کرنے والے اداروں کا کردار بھی مسلسل زیر بحث ہے۔ اولمپک ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ اداروں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں: تنظیمی طاقت، ووٹنگ بلاکس، یا واقعی کھلاڑیوں کی ترقی؟ یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ جب تک نگرانی کا نظام مضبوط نہ ہو، تب تک کسی بھی اسپورٹس ڈھانچے میں شفافیت برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فنڈنگ بند ہوئی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس بندش کے بعد جو نظام پیدا ہوا، وہ زیادہ شفاف یا اصلاح شدہ نہیں بن سکا۔ بلکہ ایک نیا توازن قائم ہوا، جہاں کچھ تنظیمیں زیادہ طاقتور ہو گئیں اور کچھ مکمل طور پر غیر متعلق ہو گئیں۔

یہ خاموش بحران کھیلوں کے مستقبل پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع کم ہو رہے ہیں، اور کھیل ایک کھلے میدان کے بجائے محدود حلقوں تک سمٹتا جا رہا ہے۔ آخر میں یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا یہ نظام واقعی کھلاڑیوں کے لیے ہے یا صرف ان تنظیموں کے لیے جو نظام کے اندر اپنی جگہ بہتر طریقے سے بنا چکی ہیں؟

#KPSpots #SportsGovernance #SportsFunding #PakistanSports #AthleteDevelopment #SportsCorruption #GrassrootsSports #SportsPolicy #InvestigativeJournalism #KhyberPakhtunkhwa


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1007 Articles with 780443 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More