“جب کھیل بھی اجازت نامے کے بغیر نہیں کھیلا جا سکتا”
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں کھیل اب کھیل نہیں رہا، یہ ایک مکمل “فائل پروسیسنگ ایونٹ” بن چکا ہے۔ پہلے کھلاڑی رن لیتا تھا، اب فائل دوڑتی ہے۔ پہلے ریفری سیٹی بجاتا تھا، اب ڈائریکٹریٹ کا نوٹیفکیشن بجاتا ہے۔نیا حکم آیا ہے کہ اب ہر کھیلوں کی سرگرمی سے پہلے منظوری لازمی ہے۔ یعنی اگر آپ نے کرکٹ کا میچ کروانا ہے تو پہلے پوچھیں، اگر فٹبال کھیلنا ہے تو پہلے لکھیں، اگر بچے گلی میں بیٹ اٹھا لیں تو بہتر ہے پہلے این او سی لے لیں، ورنہ کہیں یہ “غیر مجاز کھیل” نہ بن جائے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کھیل شروع ہونے سے پہلے تین چیزیں ضروری ہیں پی سی ون،منظوری نامہ، اور ایک دعا کہ کہیں کوئی ایم پی اے اچانک نہ آ جائے اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظام کاغذ پر بہت خوبصورت لگتا ہے۔ جیسے کوئی پالیسی میٹنگ میں چائے کے ساتھ بنایا گیا ہو، جہاں فیلڈ کا پسینہ اور دھول صرف تصور میں ہو۔
ڈی ایس اوز اب ایک عجیب مخمصے میں ہیں۔ ایک طرف ان سے کہا جاتا ہے کہ کھیلوں کو فروغ دو، دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ پہلے ہمیں بتاو کہ تم کھیل کیوں فروغ دینا چاہتے ہو؟یہ وہی صورتحال ہے جیسے کسی بھوکے شخص سے کہا جائے کہ کھانا بھی پکاو اور پہلے اس کی اجازت بھی لو کہ تمہیں بھوک کیوں لگی ہے۔
اب ذرا اصل میدان کی بات کرتے ہیں۔ اضلاع میں کھیلوں کی دنیا کسی یونیورسٹی کے تھیسس کی طرح نہیں چلتی۔ وہاں چیزیں فوری فیصلوں پر چلتی ہیں۔ کبھی کرکٹ گراونڈ چاہیے، کبھی ریفری نہیں مل رہا، کبھی فنڈ آ گیا ہے مگر خرچ کرنے کا وقت نہیں۔ڈی ایس او کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ ایونٹ کروانا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایونٹ کروانے کے دوران کتنے “فون” آئیں گے۔
ایک فون ایم پی اے کا ہوگا:“یہ ٹورنامنٹ میرے علاقے میں ہونا چاہیے” دوسرا فون ایم این اے کا: “افتتاح میں مجھے بلایا گیا یا نہیں؟” تیسرا فون کسی پی آر او کا: “تصویر میں میرا زاویہ ٹھیک ہے یا نہیں؟”اور چوتھا فون ڈپٹی کمشنر کا ،“فنڈز آگئے ہیں مگر ابھی تک خرچ کیوں نہیں ہوئے؟”اب اس ساری صورتحال میں کھیل کہاں رہ جاتا ہے؟ کھیل تو شاید خود بھی سوچ رہا ہوگا کہ میں یہاں غلط وقت پر آگیا ہوں۔
نئے حکم نامے کا اصل مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے “ہر چیز منظور شدہ ہونی چاہیے” اور دوسری طرف زمینی سطح پر کوئی بھی چیز وقت پر منظور نہیں ہوتی۔یعنی اگر آپ نے بچوں کا انڈر 16 ٹورنامنٹ کروانا ہے تو پہلے درخواست دیں،پھر یاد دہانی کروائیں،پھر کسی “بااثر” سے فون کروائیں،پھر شاید کہیں جا کر منظوری ملے اور جب تک منظوری آئے گی، بچے انڈر 16 سے اوور 18 ہو چکے ہوں گے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پالیسی فائل میں رہتی ہے اور کھیل زمین پر ہوتا ہے۔ فائل کہتی ہے “کنٹرول”، زمین کہتی ہے “رفتار”۔ فائل کہتی ہے “چیک لسٹ”، زمین کہتی ہے “حقیقت”۔اور جب یہ دونوں ملتے ہیں تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج نکل رہا ہے: کنفیوڑن، ناراضی اور ایک مستقل بیوروکریٹک دردِ سر۔
اب کھیلوں میں سیاست بھی ایک باقاعدہ کھیل بن چکا ہے۔ مگر یہ وہ کھیل ہے جس کے اصول ہر علاقے میں بدل جاتے ہیں۔ کبھی ایم پی اے کہتا ہے یہ میرا ایونٹ ہے کبھی ایم این اے کہتا ہے یہ میری ترقیاتی اسکیم ہے کبھی کوئی پی آر او کہتا ہے یہ میری میڈیا کوریج ہے اور اصل کھلاڑی کہیں سائیڈ پر کھڑا یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ میرا کھیل کہاں گیا؟
ڈی ایس او آج کل ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو تین سمتوں سے کھینچا جا رہا ہے،،اوپر سے ڈائریکٹریٹ درمیان سے ڈپٹی کمشنر، اور نیچے سے سیاسی دباو،اور اس سب کے درمیان ایک چھوٹا سا لفظ رہ گیا ہے “کھیل” جس کے لیے اصل میں یہ سارا نظام بنایا گیا تھا۔ لیکن اب کھیل ایک “منسلکہ فائل” بن چکا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ منظوری کیوں لازم ہوئی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نظام خود اتنا سست ہے کہ منظوری ایک رکاوٹ بن جاتی ہے، فیلڈ اور ہیڈکوارٹر کے درمیان اعتماد نہیں،اور احتساب کا نظام صرف تصویر تک محدود ہو چکا ہےاگر کوئی افسر صرف تصویر لگا کر کریڈٹ لے رہا ہے تو وہ غلط ہے۔ لیکن اگر پورا نظام صرف کاغذ پر چل رہا ہے تو وہ بھی کم مسئلہ نہیں۔
یہ پورا معاملہ ایک سادہ سوال پر آ کر رک جاتا ہے،کیا کھیل واقعی فروغ پا رہا ہے یا صرف نوٹیفکیشنز میں زندہ ہے؟ اگر جواب فائلوں میں ڈھونڈنا پڑے تو پھر مسئلہ کھیل کا نہیں، نظام کا ہے۔ اور اگر ہر کھیل سے پہلے اجازت لینا لازمی ہو جائے تو پھر شاید اگلا نوٹیفکیشن یہ بھی آئے کہ: “سانس لینے سے پہلے منظوری ضروری ہے، ورنہ غیر قانونی آکسیجن استعمال تصور ہوگی۔”
#KPKSports #SportsGovernance #SportsPolicyPakistan #BureaucraticFailure #PublicSectorReform #SportsAdministration #FieldVsOffice #DistrictSportsOfficers #PakistanSports #PolicyOverreach #AdministrativeBurden #GroundReality #SportsDevelopment #GovernmentSystem #AccountabilityInSports
|