خیبر پختونخوا اسپورٹس اینڈ یوتھ بجٹ 2026-27: تنخواہوں کی کھپت، محدود ترقیاتی گنجائش اور گورننس کے پرانے سوالات دوبارہ سامنے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبر پختونخوا کے اسپورٹس، کلچر اور یوتھ افیئرز کے لیے مالی سال 2026-27 کا بجٹ فریم ورک ایک بار پھر وہی بنیادی کمزوریاں سامنے لے آیا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے اس شعبے کی پہچان بنتی جا رہی ہیں۔ کاغذ پر مالی نظم و ضبط، سیلنگ سسٹم اور Output Based Budgeting جیسے جدید اصطلاحی فریم ورک موجود ہیں، مگر عملی سطح پر یہ نظام اب بھی زیادہ تر تنخواہوں کی ادائیگی اور انتظامی ڈھانچے کو چلانے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
دستاویز کے مطابق مجموعی بجٹ 931 ملین روپے کے قریب ہے۔ NC21046 کے تحت 876 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں 749 ملین صرف تنخواہوں پر خرچ ہوں گے جبکہ غیر تنخواہ اخراجات صرف 127 ملین روپے تک محدود ہیں۔ اسی طرح MDs کی مد میں 55 ملین میں سے 53 ملین تنخواہوں میں چلے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک واضح اور سخت حقیقت سامنے رکھتے ہیں: اسپورٹس اینڈ یوتھ سیکٹر میں وسائل کا بنیادی مقصد ترقی نہیں بلکہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھنا بن چکا ہے۔
جب کسی محکمے کے کل بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں میں چلا جائے تو ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے گنجائش خود بخود محدود ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ گراو¿نڈز کی اپگریڈیشن ، نئے کھیلوں کے انفراسٹرکچر ،کوچنگ اور ٹیلنٹ ہنٹنگ پروگرامز اور یوتھ انگیجمنٹ سرگرمیاں یا تو کم پیمانے پر ہوتی ہیں یا مکمل طور پر ترجیحات سے باہر رہتی ہیں۔ یہ صورتحال صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک پالیسی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں ادارے کا ڈھانچہ اپنے مقصد پر غالب آ چکا ہے۔
بجٹ دستاویز میں Output Based Budgeting کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر خرچ کا تعلق کسی واضح نتیجے یا آوٹ پٹ سے جوڑا جائے۔ اصولی طور پر یہ ایک جدید اور موثر مالیاتی ماڈل ہے۔مگر یہاں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آوٹ پٹ کی تعریف ہی غیر واضح ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنے کھلاڑی تیار کیے گئے؟، کتنے نوجوان پروگرامز سے فائدہ اٹھا سکے؟ کتنے کھیلوں کے ایونٹس منعقد ہوئے؟ اور ان کا معیار کیا تھا؟ان سوالات کے قابل پیمائش اور شفاف جواب موجود نہیں، جس کی وجہ سے “آو¿ٹ پٹ بیسڈ” ماڈل عملاً ایک روایتی بجٹ سسٹم ہی رہ جاتا ہے۔یہی وہ خلا ہے جو پالیسی کو نتائج سے کاٹ دیتا ہے۔
گائیڈ لائنز میں واضح کیا گیا ہے کہ محکموں کو “فیسکَل کنسٹرینٹس” کے اندر رہنا ہوگا اور سیلنگ سسٹم کے تحت اضافی فنڈز دستیاب نہیں ہوں گے۔ اس کا مقصد مالی نظم و ضبط اور وسائل کی منظم تقسیم ہے۔مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب پہلے ہی ترقیاتی بجٹ کم ہو، تو “ترجیحات کی تبدیلی” کوئی بڑا فرق پیدا نہیں کرتی۔ یہ نظام دراصل محکموں کو مزید محدود دائرے میں رکھتا ہے جہاں وہ نئی سوچ یا بڑے منصوبے شروع کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ محکمے “innovation” کے بجائے “maintenance mode” میں چلے جاتے ہیں۔ اسپورٹس اینڈ یوتھ ڈیپارٹمنٹ کی اصل کمزوری اس کا مالی بجٹ نہیں بلکہ اس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ ہے۔ جب کسی محکمے میں عملہ زیادہ ہو،کارکردگی کی پیمائش غیر واضح ہو، اور وسائل کا بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہو تو وہ ادارہ ایک فعال ترقیاتی یونٹ کے بجائے ایک انتظامی مشینری بن جاتا ہے۔ یہی صورتحال یہاں نظر آتی ہے۔ بجٹ کا بڑا حصہ “existence cost” پر خرچ ہو رہا ہے، نہ کہ “development output” پر۔
اس بجٹ کا سب سے اہم پہلو اس کا نوجوانوں پر اثر ہے۔ اسپورٹس اور یوتھ سیکٹر کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا، ٹیلنٹ کو نکھارنا اور انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر تیار کرنا ہوتا ہے۔مگر جب وسائل کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات میں چلا جائے توگراونڈز کی حالت بہتر نہیں ہوتی، کوچنگ کا معیار محدود رہتا ہے،اور ریجنل سطح پر ٹیلنٹ ہنٹنگ کمزور رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے صوبے میں، جہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، وہاں سسٹم اسے مکمل طور پر نکھارنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
یہ بجٹ ایک اور بڑے مسئلے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے: پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان خلیج۔کاغذ پر سب کچھ موجود ہے، سیلنگز، فریم ورک، آوٹ پٹ بیسڈ سسٹم، فنانشل کنٹرول مگر عملی سطح پرمنصوبے سست روی کا شکار ہیں، نتائج کمزور ہیں،اور عوامی سطح پر اثر محدود ہے یہی وہ “implementation gap” ہے جو پورے نظام کو کمزور کرتا ہے۔
اس بجٹ میں سب سے بڑی کمی ایک واضح اور طویل مدتی وڑن کی ہے۔ ایک مضبوط اسپورٹس سسٹم کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ریجنل اکیڈمیز ہوں، پروفیشنل کوچنگ نیٹ ورک ہو اسکول اور کالج لیول پر مضبوط اسپورٹس سسٹم ہو اور انٹرنیشنل ایکسپوڑر پروگرامز ہوں مگر موجودہ فریم ورک میں یہ سب چیزیں واضح طور پر نظر نہیں آتیں یا ان کی وسعت انتہائی محدود ہے۔یہی وجہ ہے کہ بجٹ ایک “administrative plan” تو ہے مگر “development roadmap” نہیں۔
مجموعی طور پر یہ بجٹ ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جو چل تو رہا ہے مگر آگے نہیں بڑھ رہا۔ وسائل موجود ہیں مگر ان کا اثر محدود ہے۔ ڈھانچہ مضبوط ہے مگر نتائج کمزور ہیں۔یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا اسپورٹس اینڈ یوتھ سیکٹر واقعی نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کر رہا ہے یا صرف ایک انتظامی ڈھانچہ اپنے آپ کو برقرار رکھ رہا ہے؟ جب تک اس سوال کا واضح اور عملی جواب نہیں ملتا، ہر نیا بجٹ صرف ایک مالی دستاویز رہے گا، ترقیاتی منصوبہ نہیں۔ اصل چیلنج بجٹ کا نہیں، نظام کی سمت کا ہے۔ اور جب سمت واضح نہ ہو تو وسائل کا حجم بھی معنی کھو دیتا ہے۔
#KPKBudget2026 #SportsPolicyKP #YouthDevelopment #PublicFinancePakistan #GovernanceCrisis #PakistanNews #BudgetAnalysis #Transparency #Accountability #SportsInfrastructure #PolicyFailure
|