زوم میٹنگ یا سپورٹس کا آئینہ؟ کھیلوں کے فروغ کی باتیں، خاموش افسران، ناراض ایسوسی ایشنز اور فنڈنگ کے گرد گھومتا نظام
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا حالیہ آن لائن اجلاس محض ایک معمول کی زوم میٹنگ نہیں تھا بلکہ یہ صوبے کے کھیلوں کے نظام کی ایک ایسی تصویر تھی جس میں امید، مسائل، تضادات، خاموشیاں، شکایات اور کچھ تلخ حقائق ایک ساتھ نظر آئے۔ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رشیدہ غزنوی، ڈائریکٹر اکاونٹس شاہ فیصل، ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ نعمت اللہ اور دیگر افسران شریک ہوئے۔ مختلف اضلاع کے ریجنل سپورٹس افسران اور ڈسٹرکٹ سپورٹس افسران نے زوم کے ذریعے شرکت کی، تاہم کئی بااثر اور اہم ڈی ایس اوز اجلاس سے مکمل طور پر غیر حاضر رہے۔
یہ غیر حاضری معمولی بات نہیں۔ جب صوبے کے کھیلوں کے نظام کے ذمہ دار افسران ہی اہم پالیسی اجلاسوں میں شریک نہ ہوں تو پھر نچلی سطح پر جوابدہی کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ڈی جی سپورٹس نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے مختلف کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے لیے 9.6 ملین روپے کی معاونت فراہم کی جبکہ بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کو 62.5 ملین روپے کے وظائف اور سہولیات دی گئیں۔اسی طرح سال 2026 کے لیے نئی سپورٹس پالیسی، انٹر سکول، انٹر کالج اور دیگر کھیلوں کے مقابلوں کی منصوبہ بندی، اینڈومنٹ فنڈ اور نئے پی سی ونز کی تیاری کا ذکر بھی کیا گیا۔یہ اعلانات یقیناً مثبت ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف فنڈز، پالیسی دستاویزات اور اعلانات کھیلوں کے نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں؟
اگر ایسا ہوتا تو خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کا سب سے مضبوط سپورٹس صوبہ بن چکا ہوتا۔ اصل مسئلہ پیسے کی کمی نہیں، نظام کی کمزوری ہے اجلاس میں بار بار یہ شکایت سامنے آئی کہ ٹرائلز میں جانبداری ہوتی ہے، مخصوص افراد کو منتخب کیا جاتا ہے اور کھیلوں میں گروپ بندی بڑھ رہی ہے۔ یہ شکایت نئی نہیں۔ ہر کھیل میں تقریباً یہی صورتحال ہے۔ کہیں متوازی ایسوسی ایشنز موجود ہیں، کہیں عہدوں کی جنگ جاری ہے، کہیں کھلاڑی گروپوں میں تقسیم ہیں اور کہیں ذاتی انا کھیلوں پر غالب آ چکی ہے۔
ڈی جی سپورٹس نے درست نشاندہی کی کہ "منفی سوچ ختم کریں اور بچوں اور کھلاڑیوں کا سوچیں۔"لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف اخلاقی اپیلوں سے ختم ہو جائے گا؟ جو لوگ برسوں سے کھیلوں کو ذاتی اثرورسوخ، سیاسی روابط اور مالی مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، ان کے لیے صرف نصیحتیں کافی نہیں۔ اجلاس کا سب سے دلچسپ اور شاید سب سے حساس لمحہ اس وقت آیا جب ایک ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے انکشاف کیا کہ بعض افراد کمزور کلب مقابلوں کو "رینکنگ ایونٹس" ظاہر کرتے ہیں، بعد میں ایم پی ایز کے ذریعے دباو ڈال کر فنڈز اور رقوم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
یہ ایک معمولی بیان نہیں۔یہ پورے سپورٹس سسٹم پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر واقعی کھیلوں کی رینکنگ، بین الاقوامی نمائندگی یا مالی معاونت کے نام پر سیاسی دباو استعمال ہو رہا ہے تو پھر صرف کھلاڑی نہیں بلکہ پورا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ اس موقع پر ڈی جی سپورٹس نے کہا: "آگے نہ بڑھیں، لوگ ناراض ہو جائیں گے۔" یہ جملہ شاید مزاحیہ انداز میں کہا گیا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کھیلوں کے نظام میں کئی ایسے موضوعات ہیں جن پر لوگ ناراض ہو جاتے ہیں، مگر انہی موضوعات پر بات کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
زوم میٹنگ میں خاموشی کیوں؟اجلاس میں تقریباً 49 افراد شریک تھے، لیکن بات صرف چند لوگوں نے کی۔ بیشتر افسران خاموش رہے۔ ایک آر ایس او کا چہرہ کیمرے پر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایک افسر فون سننے کے لیے اجلاس چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ بعض بااختیار افسران شریک ہی نہیں ہوئے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہوا جب سپورٹس ڈائریکٹریٹ صوبائی کھیلوں کے مستقبل کے لیے تجاویز طلب کر رہا تھا۔سوال یہ ہے کہ اگر ذمہ دار افسران کی دلچسپی ہی اتنی محدود ہے تو پھر نچلی سطح پر کھیلوں کی ترقی کیسے ممکن ہوگی؟
ایسوسی ایشنز کی محدود شرکت بھی ایک پیغام ہے اجلاس میں تقریباً چالیس کے قریب ایسی صوبائی ایسوسی ایشنز موجود نہیں تھیں جنہیں ماضی میں فنڈنگ بھی دی جا چکی ہے۔ یہ غیر حاضری کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔ کیا ان ایسوسی ایشنز کو واقعی دلچسپی نہیں؟ کیا انہیں لگتا ہے کہ ان اجلاسوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا؟ یا پھر ڈائریکٹریٹ اور ایسوسی ایشنز کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہو چکا ہے؟ صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ذوالفقار بٹ نے بالکل درست نکتہ اٹھایا کہ فزیکل میٹنگز زیادہ موثر ہوتی ہیں کیونکہ تمام فریق ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر کھل کر بات کر سکتے ہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے۔ بعض مسائل زوم لنکس سے حل نہیں ہوتے۔ انہیں چائے کے ایک کپ اور ایک ہی میز پر بیٹھ کر حل کرنا پڑتا ہے۔ سائیکلنگ، سوئمنگ، ہینڈ بال اور دیگر کھیلوں کے نمائندوں نے واضح طور پر کہا کہ صرف چند کھیلوں پر توجہ دی جا رہی ہے جبکہ دیگر کھیل پیچھے رہ گئے ہیں۔یہ شکایت بھی درست ہے۔ پاکستان میں کرکٹ اور چند بڑے کھیلوں کے علاوہ اکثر کھیل مسلسل وسائل کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر نرسری لیول پر توجہ نہیں دی جائے گی، کوچنگ انفراسٹرکچر بہتر نہیں ہوگا اور ضلعی سطح پر مقابلے نہیں ہوں گے تو پھر قومی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں محض اتفاق رہ جائیں گی۔
گراونڈز بن رہے ہیں، لیکن منصوبہ بندی کہاں ہے؟ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر ظاہرشاہ نے ایک نہایت اہم تجویز دی کہ کسی بھی کھیل کا گراونڈ بنانے سے پہلے متعلقہ ایسوسی ایشن سے مشاورت کی جائے۔یہ تجویز نہ صرف منطقی ہے بلکہ مالی لحاظ سے بھی ضروری ہے۔کئی جگہوں پر ایسے گراونڈز بن چکے ہیں جو استعمال نہیں ہو رہے جبکہ کئی کھیلوں کے لیے بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں۔مسئلہ فنڈز کی کمی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کی کمزوری ہے۔
اجلاس میں ایک خاتون سکواش کھلاڑی نے واش روم اور آرام کی جگہ نہ ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اربوں روپے کے منصوبوں اور بڑی بڑی پالیسیوں کے درمیان خواتین کھلاڑی ابھی تک بنیادی سہولیات مانگ رہی ہیں۔ اگر ایک خاتون کھلاڑی کے لیے واش روم اور آرام گاہ تک مناسب نہ ہو تو پھر ہم خواتین کھیلوں کے فروغ کے دعوے کیسے کر سکتے ہیں؟
اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ بیس منٹ جاری رہا۔ دلچسپ اتفاق یہ رہا کہ اجلاس ختم ہونے کے دو منٹ بعد زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ لیکن شاید کھیلوں کے شعبے میں اصل زلزلہ اس اجلاس کے دوران محسوس ہوا۔ ایک طرف کروڑوں روپے کے اعلانات تھے، دوسری طرف خاموش افسران۔ ایک طرف نئی پالیسی کی باتیں تھیں، دوسری طرف پرانی شکایات۔ ایک طرف کھیلوں کے فروغ کے دعوے تھے، دوسری طرف بنیادی سہولیات کی کمی۔ ایک طرف اتحاد کی اپیل تھی، دوسری طرف متضاد تنظیمیں۔ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا اعتراف کہ بعض لوگ کھیلوں کی رینکنگ اور سیاسی دباو کو مالی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اگر خیبرپختونخوا واقعی کھیلوں کا مرکز بننا چاہتا ہے تو پھر صرف زوم اجلاس کافی نہیں ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ متوازی ایسوسی ایشنز کا مستقل حل نکالا جائے۔ فنڈنگ کا مکمل آڈٹ اور شفاف نظام بنایا جائے۔ضلعی سطح پر کھیلوں کی نرسری کو فعال کیا جائے۔ کھلاڑیوں کی آن لائن رجسٹریشن مکمل کی جائے۔ گراونڈز اور انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی مشاورت سے کی جائے۔ کھیلوں میں سیاسی سفارش اور غیر ضروری دباو کا خاتمہ کیا جائے۔ افسران اور ایسوسی ایشنز دونوں کی جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔بصورت دیگر، ہر سال نئی پالیسی، نئے اعلانات اور نئی زوم میٹنگز ہوں گی، لیکن سوال وہی رہے گا: کیا ہم واقعی کھیلوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، یا صرف کھیلوں کے نام پر ایک ایسے نظام کو چلا رہے ہیں جو اپنی خامیوں کو تسلیم کرنے سے اب بھی ہچکچا رہا ہے؟
#KhyberPakhtunkhwaSports #SportsGovernance #KP_Sports #SportsAssociations #SportsPolicy #SportsReforms #ZoomMeeting #SportsDevelopment #PakistanSports #Kikxnow
|