مفت رہائش، مفت بجلی اور خاموشی کا کھیل ، سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا ریونیو کون کھا رہا ہے؟

خیبرپختونخوا سپورٹس ڈائریکٹریٹ گزشتہ کئی برسوں سے مالی مشکلات، بجٹ کی کمی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے وسائل کی قلت کا رونا روتا رہا ہے۔ ہر سال یہ موقف سامنے آتا ہے کہ نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرنے، گراونڈز کی بحالی، کوچز کی بھرتی اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں۔ لیکن اگر حقیقت کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادارے کے اندر موجود ریونیو کے ذرائع کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے؟

سب سے پہلے پشاور سپورٹس کمپلیکس کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ یہاں سرکاری رہائشی یونٹس موجود ہیں جہاں مختلف ملازمین رہائش پذیر ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کتنے ملازمین سے ہاوس رینٹ وصول کیا جا رہا ہے اور کتنے ایسے ہیں جو سرکاری رہائش استعمال کرنے کے باوجود کرایہ ادا نہیں کر رہے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کتنے رہائشی یونٹس میں ائیرکنڈیشنرز استعمال ہو رہے ہیں اور بجلی کے کتنے میٹر نصب ہیں؟

ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر نہ صرف ائیرکنڈیشنرز استعمال کیے جا رہے ہیں بلکہ بجلی کی متبادل لائنوں کا انتظام بھی موجود ہے تاکہ لوڈشیڈنگ کے دوران بھی بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ان سہولیات کا خرچ کون برداشت کر رہا ہے؟ متعلقہ افراد یا قومی خزانہ؟یہ معاملہ صرف پشاور سپورٹس کمپلیکس تک محدود نہیں۔ شاہ طہماس فٹ بال گراونڈ کے سرکاری کوارٹرز بھی کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ یہاں کتنے ملازمین یا افسران رہائش پذیر ہیں؟ ان سے ماہانہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے یا نہیں؟ بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی سہولیات کی ادائیگی کون کر رہا ہے؟ کیا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟

سرکاری اداروں میں رہائشی سہولیات دینا غیر معمولی بات نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان سہولیات کا کوئی حساب نہ ہو اور قواعد و ضوابط پس پشت ڈال دیے جائیں۔ اگر کوئی ملازم قانونی طور پر رہائش حاصل کرتا ہے اور مقررہ کرایہ ادا کرتا ہے تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اگر رہائش مفت ہو، بجلی مفت ہو اور احتساب بھی نہ ہو تو پھر سوال ضرور اٹھیں گے۔سب سے زیادہ دلچسپ صورتحال صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے وی آئی پی ہاسٹل کی بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی ایسے افراد برسوں سے یہاں مقیم ہیں جن کا تعلق ڈائریکٹریٹ سے بھی نہیں۔ بعض افراد دوسرے اداروں سے وابستہ ہونے کے باوجود سرکاری کمروں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ ان افراد کو رہائش کس قانون کے تحت فراہم کی گئی؟ کیا ان کے لیے کوئی منظوری موجود ہے؟ کیا انہوں نے کوئی کرایہ ادا کیا؟ اگر ادا کیا تو کتنا؟ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ڈائریکٹر جنرل تاشفین حیدر نے وی آئی پی ہاسٹل میں رہائش پذیر افراد سے تیس ہزار روپے ماہانہ وصول کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اگر یہ ہدایت موجود تھی تو پھر اس پر عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ کیا کسی نے حکم روک دیا؟ کیا انتظامیہ نے نظر انداز کیا؟ یا پھر معاملہ صرف کاغذوں تک محدود رہا؟

اس سوال کا جواب انتہائی اہم ہے کیونکہ اگر ایک فرد سے تیس ہزار روپے ماہانہ وصول ہونے تھے اور درجنوں کمرے برسوں سے استعمال ہو رہے ہیں تو ممکنہ طور پر لاکھوں روپے ماہانہ اور کروڑوں روپے سالانہ کا ریونیو ضائع ہوا ہوگا۔ یہی صورتحال مردان سپورٹس کمپلیکس میں بھی زیر بحث ہے۔ وہاں موجود رہائشی یونٹس میں کتنے افسران اور ملازمین مقیم ہیں؟ ان کے کرایے کی وصولی کا نظام کیا ہے؟ کیا بجلی کے بل ادا کیے جا رہے ہیں یا قومی خزانہ ان اخراجات کو برداشت کر رہا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسری جانب پاکستان سپورٹس بورڈ کا نظام اس حوالے سے کافی سخت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں رہائشی سہولت حاصل کرنے والے افراد سے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے اور مقررہ قواعد کی خلاف ورزی آسان نہیں۔ اگر وفاقی سطح پر ایسا ممکن ہے تو صوبائی سطح پر ایسا کیوں نہیں؟اصل مسئلہ صرف چند کمروں یا چند بلوں کا نہیں۔ اصل مسئلہ گورننس کا ہے۔ جب ادارے اپنے دستیاب وسائل سے آمدنی حاصل نہیں کرتے تو پھر وہ بجٹ کی کمی کا جواز پیش کرتے ہیں۔ جب ریونیو کے ذرائع خود تباہ کیے جائیں تو بعد میں فنڈز کی قلت پر احتجاج کرنا بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

اگر سپورٹس ڈائریکٹریٹ واقعی مالی مشکلات کا شکار ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے اندر موجود لیکجز بند کرنا ہوں گے۔ تمام رہائشی یونٹس، سرکاری کوارٹرز اور وی آئی پی کمروں کا مکمل آڈٹ ہونا چاہیے۔ یہ ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے کہ کون کہاں رہ رہا ہے، کس حیثیت میں رہ رہا ہے اور کتنی رقم ادا کر رہا ہے۔مزید برآں صوبائی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹی، محکمہ کھیل اور آڈیٹر جنرل کو بھی اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر سرکاری اثاثے بغیر کرایے کے استعمال ہو رہے ہیں تو ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔ اگر قواعد موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا تو اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے۔

کھیلوں کی ترقی صرف نئے منصوبوں، تقریبات اور اعلانات سے نہیں ہوتی۔ اچھی گورننس، شفافیت اور وسائل کے درست استعمال سے ہوتی ہے۔ جب ادارے اپنے ہی اثاثوں سے آمدنی حاصل نہ کر سکیں تو پھر نوجوانوں کے لیے نئی سہولیات کی امید بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔یہ سوال آج بھی جواب مانگتا ہے کہ آخر سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے رہائشی یونٹس، وی آئی پی ہاسٹل اور سرکاری کوارٹرز سے حاصل ہونے والا ممکنہ ریونیو کہاں جا رہا ہے؟ اور اگر وصول ہی نہیں ہو رہا تو اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ جب تک ان سوالات کے جواب سامنے نہیں آتے، مفت رہائش اور مفت بجلی کا یہ کھیل جاری رہے گا جبکہ نقصان عوامی خزانے کو ہوتا رہے گا۔

#KPSports #SportsDirectorate #PeshawarSportsComplex #ShahThamas #MardanSportsComplex #PublicMoney #Transparency #Accountability #GoodGovernance #InvestigativeJournalism #Kikxnow #SportsGovernance #KPNews #PakistanSports
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1012 Articles with 783674 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More