اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی بائیومیٹرک مشین اور انگوٹھے کی آزادی کی جنگ

کہتے ہیں ہر سرکاری ادارے کی اپنی ایک روایت ہوتی ہے۔ کہیں فائلیں چلتی نہیں، کہیں اجلاس ختم نہیں ہوتے، اور کہیں وقت پر آنے کی روایت صرف دیوار پر لگی گھڑی تک محدود رہتی ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں ایک نئی روایت نے جنم لیا، جس کا نام ہے "بائیومیٹرک مشین"۔یہ مشین عام مشین نہیں۔ یہ نہ کسی کا عہدہ دیکھتی ہے، نہ سروس کا دورانیہ، نہ سفارش، نہ تعلقات۔ اسے صرف ایک چیز چاہیے، انگوٹھا۔

سننے میں آیا کہ ڈائریکٹوریٹ میں ملازمین کو ہدایت دی گئی کہ اب بائیومیٹرک حاضری لازمی ہوگی، ورنہ تنخواہ رک بھی سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کچھ لوگوں کو محسوس ہوا کہ اصل آزادی شاید اب خطرے میں ہے۔اب اگر ایک مشین آپ سے صرف اتنا کہے کہ "براہ کرم اپنی حاضری درج کریں"، تو یہ کوئی مشکل مطالبہ نہیں لگتا۔ لیکن سرکاری دفتر میں یہ جملہ بعض اوقات آئینی ترمیم سے بھی زیادہ حساس بن جاتا ہے۔

چند روز پہلے اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے ڈی جی آفس کے سامنے نصب بائیومیٹرک مشین کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی خبر سامنے آئی۔ یاد رہے، اس واقعے کی ذمہ داری ابھی تک کسی پر ثابت نہیں ہوئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ بھی مکمل ہونا باقی ہے۔ اس لیے فیصلہ تحقیق پر چھوڑ دینا چاہیے، لیکن طنز تو بہرحال بنتا ہے۔اگر واقعی کسی نے یہ سوچا کہ "مشین نہیں رہے گی تو حاضری بھی نہیں رہے گی"، تو یہ ویسا ہی فلسفہ ہے جیسے کوئی طالب علم امتحان سے بچنے کے لیے اسکول کی گھنٹی ہی اتار لے۔

بائیومیٹرک مشین شاید دل ہی دل میں سوچ رہی ہوگی کہ "میں نے نہ کسی کا تبادلہ کیا، نہ انکریمنٹ روکی، نہ شوکاز جاری کیا۔ میں نے تو صرف انگوٹھا مانگا تھا۔"سرکاری دفاتر میں عجیب منطق چلتی ہے۔ تنخواہ پہلی تاریخ کو چاہیے، الاو¿نس وقت پر چاہیے، میڈیکل بل فوراً پاس ہونا چاہیے، لیکن دفتر وقت پر پہنچنے کی شرط بعض لوگوں کو ذاتی آزادی پر حملہ محسوس ہوتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی لوگ کھیلوں میں ڈسپلن، وقت کی پابندی اور فٹنس پر لمبی تقاریر بھی کر سکتے ہیں۔ کھلاڑی اگر پانچ منٹ لیٹ ہو تو نظم و ضبط یاد آ جاتا ہے، لیکن جب بات اپنی باری کی آئے تو گھڑی بھی شاید سازش کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اگر اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ واقعی کھیلوں کا مرکز ہے تو پھر یہاں سب سے پہلے نظم و ضبط کی مثال قائم ہونی چاہیے۔ کیونکہ جو ادارہ کھلاڑیوں کو وقت کی قدر سکھاتا ہے، وہاں ملازمین کی حاضری بھی اسی معیار پر ہونی چاہیے۔

اصل مسئلہ مشین نہیں، عادت ہے۔ برسوں سے جو نظام اندازوں پر چلتا رہا ہو، وہاں ایک ایسی مشین آ جائے جو ہر سیکنڈ کا حساب رکھے، تو یقیناً کچھ لوگوں کو بے چینی ہوگی۔ویسے اگر بائیومیٹرک مشین کو بھی پریس کانفرنس کرنے کی اجازت مل جائے تو شاید وہ صرف اتنا کہے:"میں کسی کی دشمن نہیں، مجھے صرف انگوٹھا چاہیے۔"

آخر میں ایک گزارش۔ اگر واقعی مشین کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی ہے تو اس کی غیرجانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں، سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں۔ اور اگر خبر غلط ثابت ہوتی ہے تو وہ بھی عوام کو بتایا جائے۔ کیونکہ احتساب صرف ملازمین کا نہیں، معلومات کا بھی ہونا چاہیے۔ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ میں اصل مقابلہ ہاکی، فٹبال یا کرکٹ کا نہیں، بلکہ اب وقت اور انگوٹھے کا دکھائی دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخرکار جیت کس کی ہوتی ہے۔
#SportsDirectorate #KPSports #BiometricSystem #OfficeCulture #Satire #GovernmentOffices #PublicSector #Accountability #WorkplaceDiscipline #GoodGovernance #Opinion #Humor #Pakistan #InvestigativeJournalism
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1026 Articles with 792828 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More