پاکستان میں کم عمر بچوں کی ایم ایم اے فائٹس: کیا نوجوان کھلاڑی محفوظ ہیں؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
حال ہی میں پشاور میں خیبر پختونخوا ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس میں منعقد ہونے والے ایک ایم ایم اے ایونٹ کی تصاویر منظر عام پر آئیں جن میں مبینہ طور پر تقریباً 10 سال عمر کے بچے بھی مقابلوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تصاویر کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اگرچہ صرف تصاویر کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، تاہم یہ ضرور جاننا ضروری ہے کہ آیا ایسے مقابلے بین الاقوامی حفاظتی اصولوں کے مطابق منعقد کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔
اس تحقیق کا مقصد ایم ایم اے کھیل کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ کم عمر بچوں کی حفاظت سے متعلق اہم سوالات اٹھانا ہے۔ مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) دنیا کے تیزی سے مقبول ہونے والے کھیلوں میں شامل ہے جس میں ریسلنگ، جوڈو، باکسنگ، کک باکسنگ، برازیلین جیو جٹسو اور دیگر مارشل آرٹس کی تکنیکیں استعمال ہوتی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں بچے بھی اس کھیل کی تربیت حاصل کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے بالغ کھلاڑیوں سے مختلف قوانین اور حفاظتی انتظامات مقرر کیے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے خصوصی حفاظتی اصول اختیار کیے جاتے ہیں، جن میں عام طور پر درج ذیل نکات شامل ہوتے ہیں۔ • عمر کے مطابق الگ الگ کیٹیگریاں` • بچوں کے لیے خصوصی رولز` • حفاظتی سامان کا لازمی استعمال` • تربیت یافتہ کوچز اور ریفریز` • مقابلے سے پہلے طبی معائنہ` • ایونٹ کے دوران ڈاکٹر اور ایمبولینس کی موجودگی` • والدین کی تحریری رضامندی` • بچوں کے تحفظ (Child Safeguarding) کے واضح انتظامات` ان اقدامات کا مقصد بچوں کی جسمانی اور ذہنی حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
حالیہ ایونٹ کے بعد چند اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔ کیا مقابلوں میں شریک بچوں کی عمریں باقاعدہ تصدیق شدہ تھیں؟ کیا یہ مقابلے نوجوانوں کے لیے مخصوص بین الاقوامی قوانین کے تحت ہوئے؟ کیا کم عمر بچوں کے لیے سر پر ضرب لگانے کی اجازت تھی یا نہیں؟ کیا ہر فائٹ کے دوران ڈاکٹر موجود تھا؟ کیا ایمبولینس اور ایمرجنسی میڈیکل سہولیات فراہم کی گئی تھیں؟ کیا والدین سے تحریری رضامندی حاصل کی گئی؟ کیا ریفریز اور کوچز مستند اور تربیت یافتہ تھے؟ بچوں کی حفاظت کی نگرانی کس ادارے نے کی؟
یہ تمام سوالات عوامی مفاد سے متعلق ہیں اور ان کے واضح جوابات سامنے آنا ضروری ہیں۔ اگر کسی کھیل کے مقابلے میں کم عمر بچے حصہ لیتے ہیں تو ان کی حفاظت کی ذمہ داری صرف والدین تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس میں منتظمین، متعلقہ فیڈریشن، کوچز، ریفریز، طبی عملہ اور اگر ایونٹ کسی سرکاری ادارے کی نگرانی یا سرپرستی میں ہو تو متعلقہ سرکاری ادارہ بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ ہر متعلقہ ادارہ واضح کرے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے کون سے اقدامات کیے گئے تھے۔
پاکستان میں نوجوانوں کے ایم ایم اے مقابلوں کے لیے ایک جامع قومی پالیسی، یکساں حفاظتی معیارات اور واضح ضابطوں کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ ہر ایونٹ ایک ہی معیار کے مطابق منعقد ہو۔ اس پالیسی میں کم از کم درج ذیل نکات شامل ہونے چاہئیں۔
ہر بچے کی عمر کی تصدیق` عمر کے مطابق الگ مقابلے` نوجوانوں کے لیے مخصوص رولز ` مناسب حفاظتی سامان` مقابلے سے پہلے اور بعد طبی معائنہ `ڈاکٹر اور ایمبولینس کی لازمی موجودگی` والدین کی تحریری اجازت` تربیت یافتہ کوچز اور ریفریز` بچوں کے تحفظ کے لیے الگ سیف گارڈنگ آفیسر` واضح ایمرجنسی پروٹوکول` تمام حفاظتی ضابطوں کو عوام کے لیے شائع کرنا
اس تحقیق کا مقصد یہ کہنا نہیں کہ حالیہ ایونٹ میں لازماً کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان میں جہاں بھی کم عمر بچوں کے ایم ایم اے مقابلے منعقد ہوں، وہاں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔کھیل بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کا اہم ذریعہ ہے، لیکن کسی بھی کھیل کی کامیابی کا اصل معیار صرف مقابلہ نہیں بلکہ کھلاڑیوں، خصوصاً بچوں، کی حفاظت بھی ہے۔اگر پاکستان میں ایم ایم اے کو فروغ دینا ہے تو اس کے ساتھ بین الاقوامی معیار کے حفاظتی اصول، شفاف قوانین اور مو¿ثر نگرانی بھی ناگزیر ہے۔
پشاور میں ہونے والے حالیہ ایونٹ نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے نوجوانوں کے ایم ایم اے مقابلوں کے لیے واضح پالیسی، حفاظتی ضابطے اور جوابدہی کا نظام متعارف کرائیں تاکہ مستقبل میں ہر بچہ محفوظ ماحول میں کھیل سکے۔ یہ معاملہ صرف ایک کھیل کا نہیں بلکہ بچوں کی صحت، تحفظ اور مستقبل کا بھی ہے۔
#YouthMMA #ChildSafety #ProtectYoungAthletes #SportsSafety #CombatSports #MMA #PakistanSports #KPSports #Peshawar #ChildProtection #SportsGovernance #YouthSports #SportsMedicine #InvestigativeJournalism #AthleteWelfare
|