سترہ کروڑ کی واپسی: جب بجٹ نے بھی کہا، "میں چلتا ہوں!"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
اگر کبھی دنیا میں "واپس جانے" کے عالمی مقابلے منعقد ہوئے تو یقین جانیے خیبرپختونخوا کے کھیلوں کا بجٹ طلائی تمغہ جیت کر آئے گا۔ آخر ہر کسی کے نصیب میں ایسا اعزاز کہاں کہ 17 کروڑ 45 لاکھ 99 ہزار 750 روپے پورا مالی سال گزارنے کے بعد یہ کہہ کر رخصت ہو جائیں کہ "معذرت، ہمیں کسی نے استعمال ہی نہیں کیا۔"یہ خبر پڑھتے ہی ایک کھلاڑی نے اپنے پھٹے ہوئے جوتوں کو دیکھا، ایک کوچ نے اپنی بیس سال پرانی سیٹی کو صاف کیا، ایک ضلعی سپورٹس ایسوسی ایشن نے اپنی دسویں یاددہانی لکھنا شروع کی، اور بجٹ نے خاموشی سے اپنا سامان باندھ لیا۔ کھیل شاید ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا، مگر فنڈز پہلے ہی پویلین لوٹ چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواہ کی وزارت کھیل کیلئے سال2025.26 میں 80 کروڑ روپے مختص ہوئے۔ ان میں سے 42 کروڑ 54 لاکھ روپے خرچ ہوئے، 20 کروڑ روپے ایک مد سے دوسری مد میں منتقل کر دیے گئے، جبکہ 17 کروڑ روپے سے زائد واپس چلے گئے۔ حساب کتاب بالکل درست ہے، مگر کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں حساب ختم ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اعداد ملتے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ جب کھلاڑی وسائل مانگ رہے تھے تو وسائل واپس کیوں جا رہے تھے؟یہ منظر کچھ ایسا لگتا ہے جیسے ایک شادی میں 500 مہمانوں کا کھانا تیار ہو، سب لوگ بھوکے بیٹھے ہوں، مگر آخر میں اعلان ہو جائے کہ "کھانا وقت پر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔" بھوکے لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے رہ جائیں اور باورچی خوشی سے دیگیں گاڑی میں رکھ کر واپس لے جائے۔
سرکاری مو¿قف یہ ہے کہ اکثر فنڈز مالی سال کے آخری دنوں میں جاری ہوتے ہیں، اس لیے قواعد کے مطابق انہیں خرچ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر بجٹ نہیں، کیلنڈر سب سے طاقتور سرکاری افسر ہے۔ جنوری میں منصوبہ بندی، فروری میں فائل، مارچ میں منظوری، اپریل میں یاددہانی، مئی میں انتظار، جون کے آخری ہفتے میں فنڈ جاری، اور جولائی میں رقم واپس۔ اگر یہی کھیل اولمپکس میں شامل ہو جائے تو یقیناً ہمارے دفتری نظام کو سونے کا تمغہ ملے۔
ہم نے تصور کیا کہ اگر یہ 17 کروڑ روپے بول سکتے تو شاید کہتے، "ہمیں کسی ضلع میں ہاکی ٹورنامنٹ کروانا تھا، کسی لڑکی کو باکسنگ گلوز دلوانے تھے، کسی پہاڑی علاقے میں والی بال کورٹ بنانا تھا، کسی ایتھلیٹ کے لیے رننگ ٹریک تیار کرنا تھا، مگر قسمت میں واپسی لکھی تھی۔"ایک نوجوان ایتھلیٹ صبح چار بجے اٹھ کر دوڑ لگاتا ہے۔ اس کے جوتے گھس چکے ہیں، ٹریک ٹوٹا ہوا ہے، کوچ کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہے، اور پانی وہ اپنے گھر سے بوتل میں بھر کر لاتا ہے۔ شام کو وہ خبر پڑھتا ہے کہ 17 کروڑ روپے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس چلے گئے۔ وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور شاید دل میں سوچتا ہے، "سر، اگر پیسے نہیں چل سکتے تھے تو کم از کم میرے جوتے ہی چلوا دیتے۔"
اسی دوران ایک سپورٹس ایسوسی ایشن کئی سال سے درخواستیں دے رہی ہوتی ہے۔ کبھی کھیلوں کا سامان مانگتی ہے، کبھی کوچنگ پروگرام، کبھی ضلعی مقابلوں کے لیے فنڈ، کبھی خواتین کے لیے کیمپ۔ جواب تقریباً ہر بار ایک جیسا ہوتا ہے، "فنڈز دستیاب نہیں۔" پھر اچانک معلوم ہوتا ہے کہ کروڑوں روپے تو استعمال ہی نہیں ہوئے۔ اب ایسوسی ایشن سوچ میں پڑ جاتی ہے کہ شاید "فنڈز دستیاب نہیں" کا مطلب یہ تھا کہ "فنڈز موجود ہیں، مگر ان سے ہماری ملاقات نہیں ہو سکتی۔"
ذرا تصور کریں کہ ان 17 کروڑ روپے کی بھی ایک فیملی ہوگی۔ سال بھر وہ اپنے دوستوں کو بتاتے ہوں گے کہ اس بار ہم کسی اسٹیڈیم کی تعمیر میں جائیں گے، کسی نوجوان کھلاڑی کے خواب پورے کریں گے، کسی ضلعی مقابلے کا حصہ بنیں گے۔ مگر جون کے آخر میں اطلاع ملتی ہے کہ "بیگ پیک کر لیں، واپسی کی فلائٹ بک ہو گئی ہے۔" پشاور ایئرپورٹ پر ایک فرضی اعلان ہوتا ہے، "تمام غیر استعمال شدہ فنڈز سے گزارش ہے کہ گیٹ نمبر 17 پر تشریف لائیں۔ بورڈنگ شروع ہو چکی ہے۔" ادھر ضلع کے ایک کوچ کو ابھی تک سفر کے لیے ٹی اے ڈی اے بھی نہیں ملا۔
اگر بیوروکریسی بھی کھیل ہوتی تو اس کے مقابلے کچھ اس طرح ہوتے۔ ایک ایونٹ ہوتا "100 میٹر فائل دوڑ" جس میں فائل ایک میز سے دوسری میز تک پہنچنے میں چھ ماہ لیتی۔ دوسرا مقابلہ "ہائی جمپ" ہوتا جس میں ضابطوں کے اوپر سے فیصلہ کیے بغیر چھلانگ لگائی جاتی۔ تیسرا "ریلَے ریس" جس میں ہر افسر اگلے افسر کو صرف ایک جملہ لکھتا، "براہ کرم ضروری کارروائی کریں۔" اور آخری مقابلہ "میراتھن" جس میں ایک نوٹنگ مالی سال ختم ہونے تک دوڑتی رہتی۔
20 کروڑ روپے ری اپروپریشن کے ذریعے دوسری مدات میں منتقل کیے گئے۔ عام آدمی کے لیے یہ لفظ اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنا کسی بچے کے لیے کوانٹم فزکس۔ سادہ زبان میں شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ پیسوں نے کہا، "یہاں مزہ نہیں آ رہا، ہم دوسرے کمرے میں جا رہے ہیں۔" لیکن اصل سوال اب بھی باقی ہے کہ وہ کس کمرے میں گئے، کیوں گئے، کس کی منظوری سے گئے، اور وہاں جا کر کیا کیا؟ایک کوچ نے خواب دیکھا کہ اس کے پاس جدید جم، نئے میٹ، باکسنگ رنگ، کرکٹ نیٹ، ہاکی اسٹکس اور ایتھلیٹکس کا سامان موجود ہے۔ اچانک الارم بج گیا۔ وہ دفتر پہنچا تو جواب ملا، "اس سال بجٹ نہیں۔" شام کو خبر آئی کہ 17 کروڑ روپے واپس ہو گئے۔ کوچ نے سر پکڑ لیا اور کہا، "لگتا ہے میرے خواب بھی پی سی ون کے انتظار میں ہیں۔"
ایک ضلع میں نوجوان کھلاڑیوں نے خود چندہ جمع کر کے والی بال ٹورنامنٹ کروا لیا۔ دوسری طرف سرکاری بجٹ خاموشی سے واپس چلا گیا۔ اگر یہ صورتحال کسی مزاحیہ فلم میں دکھائی جاتی تو لوگ کہتے، "اتنی بھی مبالغہ آرائی نہ کریں۔" لیکن حقیقت اکثر مزاح نگاروں سے زیادہ تخلیقی ثابت ہوتی ہے۔پھر آتا ہے وہ لازمی جملہ، "فنڈز واپس جانا بدعنوانی کا ثبوت نہیں۔" بالکل درست بات ہے۔ کوئی ذمہ دار صحافت بھی یہی کہے گی۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ جب ایک طرف فعال سپورٹس ایسوسی ایشنز برسوں سے فنڈز، کوچنگ، سامان اور مقابلوں کی کمی کی شکایت کر رہی ہوں، اور دوسری طرف کروڑوں روپے خرچ ہی نہ ہو سکیں، تو سوال ضرور بنتا ہے۔ سوال پوچھنا الزام نہیں، احتساب کا آغاز ہے۔
اصل میچ شاید ہاکی گراو¿نڈ، فٹبال میدان یا کرکٹ پچ پر نہیں ہورہا۔ اصل میچ دفتر میں ہورہا ہے جہاں ایک ٹیم کا نام "وقت" ہے، دوسری کا "فائل"، تیسری کا "منظوری"، چوتھی کا "ضابطے"، اور پانچویں کا "مالی سال کا اختتام"۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میچ میں سب سے زیادہ نقصان اس کھلاڑی کا ہوتا ہے جسے اس مقابلے کا شیڈول بھی معلوم نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں اکثر کہا جاتا ہے کہ "کھیل قوموں کو بناتے ہیں۔" شاید اب اس جملے میں ایک نئی سطر کا اضافہ کرنا چاہیے، "بشرطیکہ بجٹ بھی میدان تک پہنچ جائے۔"
کھیلوں میں ٹائمنگ سب کچھ ہوتی ہے۔ بیٹسمین ایک لمحہ دیر کرے تو بولڈ، اسپرنٹر ایک سیکنڈ پیچھے رہ جائے تو تمغہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مالیاتی نظام بھی اگر وقت پر فیصلہ نہ کرے تو نقصان صرف رقم کا نہیں ہوتا بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کے خوابوں کا ہوتا ہے جو کسی کوچ، کسی گراو¿نڈ، کسی ٹورنامنٹ یا صرف ایک موقع کے منتظر ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگلی بار جب کوئی کہے کہ "17 کروڑ روپے واپس چلے گئے"، تو اسے صرف ایک مالیاتی خبر نہ سمجھیں۔ ہوسکتا ہے اس کے ساتھ کئی خواب، کئی مقابلے، کئی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، کئی خواتین کیمپ، کئی جونیئر اکیڈمیاں اور کئی ممکنہ قومی کھلاڑی بھی خاموشی سے "واپس" چلے گئے ہوں۔
#KPSports #SportsBudget #Satire #ComedyFeature #PublicFunds #Transparency #Accountability #SportsDevelopment #InvestigativeJournalism #BudgetAnalysis #GoodGovernance #PakistanSports #SportsManagement #HumorWithPurpose
|