کبڈی ، گولڈ میڈل، آدھا میٹ اور پورے وعدے


اگر دنیا میں وعدوں کے بھی اولمپکس ہوتے تو ہمارا سپورٹس سسٹم ہر سال گولڈ میڈل جیت کر آتا۔ اگر فائلیں دوڑ لگاتیں تو شاید ورلڈ ریکارڈ بھی ہمارے نام ہوتا۔ اگر اجلاس کھیل ہوتے تو پورا پوڈیم ہمارے حصے میں آتا۔ مسئلہ صرف ایک ہے۔ اصل کھیل شروع ہوتا ہے تو کھلاڑی کے پاس نہ گراو¿نڈ ہوتا ہے، نہ سامان، نہ روزگار اور نہ وہ سہولت جس کا ذکر ہر پریس ریلیز میں بڑے فخر سے کیا جاتا ہے۔کبڈی کا حال تو اس سے بھی دلچسپ ہے۔

یہ وہ کھیل ہے جس میں کھلاڑی سانس روک کر مخالف کو پکڑتا ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں لگتا ہے پوری ایسوسی ایشن گزشتہ کئی برسوں سے سانس روک کر فنڈز کا انتظار کر رہی ہے۔سلطان بری کی بات سن کر ایک لمحے کے لیے ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔وہ کہتے ہیں کہ ہماری خواتین نے نیشنل گیمز میں برانز میڈل جیت لیا، مردوں نے قائداعظم گیمز میں گولڈ میڈل جیت لیا، لیکن ہمارے پاس کھیلنے کے لیے مکمل میٹ نہیں۔

ذرا تصور کیجیے۔ ایک طرف قومی مقابلوں میں میڈل جیتنے والی ٹیم۔ دوسری طرف پریکٹس کے لیے آدھا میٹ۔ اب اگر کبھی بین الاقوامی مقابلہ آ گیا تو شاید کھلاڑیوں کو کہا جائے گا کہ آپ آدھے میٹ پر آدھا میچ کھیل لیں، باقی آدھا اگلے مالی سال میں ہوگا۔کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ایک سابق افسر نے وعدہ کیا کہ میٹ بھی ملے گا اور گراو¿نڈ بھی بنے گا۔پھر ان کا تبادلہ ہوگیا۔

پاکستان میں تبادلہ صرف افسر کا نہیں ہوتا، وعدوں کا بھی ہو جاتا ہے۔ نیا افسر آتا ہے تو پرانے وعدے بھی فائل سمیت ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی کمال ہے کہ ہمارے ہاں منصوبے انسانوں کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، اداروں کے ساتھ نہیں۔ اگر افسر موجود ہے تو منصوبہ زندہ ہے۔ اگر افسر چلا گیا تو منصوبہ بھی اس کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ کبڈی ایسوسی ایشن کہتی ہے کہ 2018 کے بعد سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔یہ جملہ سن کر شاید کسی کو حیرت نہ ہو، کیونکہ ہمارے ہاں اکثر کھیلوں کا بجٹ تصویروں میں زیادہ اور میدانوں میں کم نظر آتا ہے۔

فنڈز کی کمی کا رونا بھی عجیب ہے۔جس صوبے میں کروڑوں روپے کے منصوبے بن سکتے ہیں، وہاں ایک کبڈی میٹ نہیں آ سکتا۔ شاید میٹ کی فائل بہت بھاری ہوگی۔ یا شاید میٹ خریدنے کے لیے پہلے کمیٹی بنے گی، پھر سب کمیٹی، پھر ٹیکنیکل کمیٹی، پھر نگرانی کمیٹی، پھر انکوائری کمیٹی، اور آخر میں ایک اور کمیٹی یہ دیکھنے کے لیے کہ پہلی کمیٹیوں نے کام کیوں نہیں کیا۔ادھر کھلاڑی انتظار کرتے رہیں گے۔

کبڈی پورے خیبرپختونخوا میں کھیلی جاتی ہے۔لکی مروت، بنوں، کرک، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، مردان، پشاور... ہر جگہ نوجوان موجود ہیں۔ صلاحیت موجود ہے۔ جذبہ موجود ہے۔ غائب صرف سہولت ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ پنجاب کے کھلاڑی زیادہ مضبوط ہیں۔ اصل فرق طاقت کا نہیں، نظام کا ہے۔ وہاں کھلاڑی کو روزگار بھی ملتا ہے، ٹریننگ بھی، میٹ بھی، کوچ بھی، ادارے بھی۔یہاں کھلاڑی کو مشورہ ملتا ہے کہ "حوصلہ رکھو۔" حوصلہ بھی ایک عجیب چیز ہے۔ اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔ اس سے جوتے نہیں خریدے جاتے۔ اس سے میٹ نہیں آتا۔ اس سے قومی کیمپ نہیں لگتے۔

سلطان بری نے ایک اور دلچسپ واقعہ سنایا۔انہوں نے اپنی جیب سے پندرہ ہزار روپے دے کر کبڈی گراو¿نڈ بنوایا۔ بعد میں کسی نے اس گراو¿نڈ میں شیشے پھینک دیے۔ یعنی جس قوم کو میدان ملتا ہے، وہ کبھی کبھی میدان بھی زخمی کر دیتی ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں نوجوان کھیلوں سے دور جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نوجوان جائیں تو کہاں جائیں؟میدان نہیں۔ سہولت نہیں۔روزگار نہیں۔
اداروں میں ٹیمیں نہیں۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ نوجوان موبائل کیوں استعمال کرتے ہیں۔ آخر وہ کبڈی کی پریکٹس سڑک پر تو نہیں کریں گے۔ ایک اور دلچسپ بات بھی سامنے آئی۔ خواتین کبڈی ٹیموں کی کوچنگ مختلف کالجوں کی خواتین اساتذہ اپنے جذبے سے کر رہی ہیں۔ یعنی نظام سے زیادہ افراد کھیل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ اگر ایک دن تھک گئے تو شاید کئی ٹیمیں بھی ختم ہو جائیں۔ اصل سوال میٹ کا نہیں۔اصل سوال ترجیحات کا ہے۔

جب کوئی کھیل صرف میڈل جیتنے کے بعد یاد آئے تو سمجھ لیں منصوبہ بندی کہیں اور ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں اکثر کھلاڑی کامیابی کے بعد تصویروں میں نظر آتے ہیں، لیکن ناکامی یا مشکلات کے وقت وہ خود اپنی فائلیں اٹھائے دفاتر کے چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ یہ عجیب منطق ہے۔ جب میڈل آ جائے تو حکومت کی کامیابی۔ جب سہولت نہ ہو تو ایسوسی ایشن کی ذمہ داری۔ جب فنڈ نہ ملے تو خاموشی۔ جب سوال پوچھا جائے تو کمیٹی۔ اگر واقعی کھیلوں کی ترقی مطلوب ہے تو کبڈی سمیت تمام دیہی کھیلوں کو صرف ثقافتی ورثہ سمجھنے کے بجائے ایک باقاعدہ سپورٹس انڈسٹری کا حصہ بنانا ہوگا۔

روزگار دینا ہوگا۔ اداروں میں ٹیمیں بنانی ہوں گی۔ بجٹ کاغذ سے میدان تک پہنچانا ہوگا۔ ورنہ اگلے سال بھی کوئی کھلاڑی گولڈ میڈل لے کر آئے گا، تصویر کھنچوائے گا، تالیاں بجیں گی، اور پھر وہی سوال کرے گا... "سر... اس بار میٹ مل جائے گا؟" اور جواب شاید وہی ہوگا..."فائل چل رہی ہے۔"

#Kabaddi #KPKabaddi #PakistanSports #SportsDevelopment #GrassrootsSports #SportsInfrastructure #SupportAthletes #InvestInSports #KhyberPakhtunkhwa #NationalGames #QuaidEAzamGames #WomenInSports #SportsGovernance #InvestigativeJournalism #Kikxnow

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1013 Articles with 784092 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More