سرکاری کھیل، سرکاری خیال... باقی سب اللہ مالک!"
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کبھی آپ نے کسی سرکاری سپورٹس کمپلیکس کو غور سے دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو ایک بار ضرور جائیے۔ آپ کو محسوس ہوگا جیسے عمارت نہیں بلکہ ایک ایسا کردار آپ کے سامنے کھڑا ہو جو خاموشی سے اپنی بربادی کی داستان سنا رہا ہو۔ دیواریں کچھ اور کہتی ہیں، میدان کچھ اور، اور فائلیں کچھ اور۔
چارسدہ کا عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس بھی شاید انہی کرداروں میں شامل ہو چکا ہے۔ کروڑوں روپے خرچ ہوئے، منصوبے بنے، تصویریں کھنچوائیں گئیں، فیتے کاٹے گئے، تقریریں ہوئیں، دعوے کیے گئے کہ اب علاقے کے نوجوان عالمی معیار کی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ لیکن آج اگر کوئی کھلاڑی وہاں پہنچ جائے تو اسے پہلے کھیلنے سے زیادہ یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں میدان ہی اس کے خلاف احتجاج نہ شروع کر دے۔
ہاکی ٹرف کی حالت ایسی ہے جیسے اس نے خود فیصلہ کر لیا ہو کہ اب مزید ظلم برداشت نہیں کرنا۔ جگہ جگہ ابھار، بلبلے اور اکھڑے ہوئے حصے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پانی صرف تقریروں میں بہایا گیا، ٹرف پر نہیں۔ شاید ٹرف بھی سوچتا ہوگا کہ اگر انسانوں کو بنیادی توجہ نہیں ملتی تو میں کس کھیت کی مولی ہوں۔ہمارے ہاں ایک دلچسپ روایت ہے۔ منصوبہ بنانا کامیابی، افتتاح کرنا تاریخی کارنامہ، تصویر بنوانا قومی خدمت، اور اس کے بعد منصوبے کو اللہ کے سپرد کرنا بہترین انتظامی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ گویا سرکاری اثاثہ بھی یتیم خانے میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ جب تک افتتاحی ربن موجود ہوتا ہے، سب اس کے وارث ہوتے ہیں۔ ربن کٹتے ہی سب رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔
سب سے دلچسپ کردار وہ افسر ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری ان اثاثوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ ان کے دفتر میں جائیں تو فائلوں کی ترتیب دیکھ کر لگتا ہے کہ نظم و ضبط کی دنیا یہیں ختم ہوتی ہے۔ لیکن اگر ان سے پوچھ لیا جائے کہ ہاکی ٹرف کیوں خراب ہوا، پانی کا نظام کیوں بند پڑا ہے، یا جنگلے زنگ آلود کیوں ہو گئے ہیں، تو جواب ایسا ملتا ہے کہ انسان سوال پوچھنے پر ہی شرمندہ ہو جائے۔"فنڈ نہیں تھا۔"یہ دو الفاظ شاید پاکستان کے سرکاری نظام کا قومی ترانہ بن چکے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر فنڈ نہیں تھا تو مینٹیننس پلان کہاں تھا؟ اگر آمدنی نہیں تھی تو سوئمنگ پول سے حاصل ہونے والی رقم کہاں گئی؟ اگر وسائل کم تھے تو متعلقہ حکام نے اعلیٰ حکام کو کتنی بار تحریری طور پر آگاہ کیا؟ اگر سب کچھ ناممکن تھا تو پھر تنخواہ کس بات کی لی جا رہی تھی؟سرکاری ملازمت کا مطلب صرف ہر مہینے بینک اکاونٹ میں تنخواہ آنا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ذمہ داری، جوابدہی اور عوام کے اثاثوں کی حفاظت بھی شامل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے کئی دفاتر میں صرف پہلا حصہ پوری ایمانداری سے ادا کیا جاتا ہے۔
ہمارے کھیلوں کے نظام میں ایک عجیب فلسفہ رائج ہے۔ جب نیا منصوبہ بنانا ہو تو ہر چیز "انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ" ہوتی ہے۔ جب اس کی دیکھ بھال کی بات آئے تو سب کچھ "لوکل حالات" کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایک ہاکی ٹرف کی روزانہ دیکھ بھال کیسے ہوتی ہے؟ اسے کتنی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے؟ کتنی بار صفائی ضروری ہے؟ اس کی عمر بڑھانے کے لیے کون سے حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں؟ شاید نہیں، کیونکہ اگر یہ سوالات پوچھے جانے لگیں تو کئی آرام دہ کرسیاں بے آرام ہو جائیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی صحافی یا شہری ایسے سوالات اٹھاتا ہے تو بعض لوگ اسے منفی صحافت قرار دیتے ہیں۔ گویا اگر سرکاری عمارت ٹوٹ رہی ہو تو اس کی تصویر کھینچنے والا قصوروار ہے، نہ کہ وہ جس نے اسے ٹوٹنے دیا۔اگر یہی صورتحال کسی نجی ادارے میں ہوتی تو شاید اگلے ہی دن ذمہ دار افسر سے جواب طلبی ہو جاتی۔ لیکن سرکاری نظام میں اکثر فائل پہلے سفر کرتی ہے، پھر کمیٹی بنتی ہے، پھر اجلاس ہوتا ہے، پھر رپورٹ تیار ہوتی ہے، پھر رپورٹ پر غور ہوتا ہے، پھر نئی کمیٹی بنتی ہے، اور آخر میں سب کو یاد ہی نہیں رہتا کہ مسئلہ کیا تھا۔
کھلاڑی بیچارے پھر بھی روز آتے ہیں۔ وہ امید لے کر میدان میں اترتے ہیں۔ ان کے خواب نہ بجٹ دیکھتے ہیں نہ فائلیں۔ لیکن خواب بھی کب تک ٹوٹے ہوئے ٹرف پر دوڑ سکتے ہیں؟اصل سوال صرف ایک کمپلیکس کا نہیں۔ سوال سوچ کا ہے۔ کیا ہم سرکاری اثاثے کو اپنی امانت سمجھتے ہیں یا بے وارث مال؟ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر ہر چند سال بعد نئے منصوبے بنیں گے، نئی تختیاں لگیں گی، نئی تصویریں بنیں گی، اور پرانی عمارتیں خاموشی سے کھنڈر بنتی رہیں گی۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ افتتاح سے زیادہ مینٹیننس کو خبر بنایا جائے۔ فیتہ کاٹنے سے زیادہ جوابدہی کو اہمیت دی جائے۔ کیونکہ عمارتیں تقریروں سے نہیں، دیکھ بھال سے زندہ رہتی ہیں۔آخر میں صرف ایک درخواست ہے۔ اگلی بار جب کسی سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کریں تو ربن کے ساتھ ایک پانی کی بالٹی بھی تحفے میں دے دیں۔ کم از کم ہاکی ٹرف کو یہ احساس تو ہوگا کہ کسی کو اس کی پیاس کا بھی خیال ہے۔
#SportsInfrastructure #KPSports #Charsadda #HockeyTurf #GovernmentAccountability #PublicFunds #SportsGovernance #PakistanSports #MaintenanceMatters #Opinion #UrduColumn #SportsJournalism
|