ای کھلی کچہری یا شکایات کی فہرست؟ خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے محکمہ کھیل کے سامنے برسوں کا درد رکھ دیا

محکمہ کھیل و امور نوجوانان خیبرپختونخوا کی 48 منٹ پر مشتمل ای کھلی کچہری کا مقصد عوام کے سوالات سننا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے براہ راست رابطہ قائم کرنا تھا۔ اس نشست میں سیکرٹری سپورٹس، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ لیکن اگر اس ای کھلی کچہری میں آنے والے سوالات اور تبصروں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر کسی ایک ضلع یا ایک کھیل کے مسئلے کی نہیں بلکہ پورے صوبے میں کھیلوں کے شعبے کو درپیش مشترکہ چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔

کسی نے ٹوٹے ہوئے سپورٹس کمپلیکس کی بات کی، کسی نے کوچز کی کمی پر سوال اٹھایا، کسی نے برسوں سے بند کھیلوں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا، تو کسی نے فنڈز کے استعمال اور نوجوانوں کے لیے مواقع نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف اضلاع سے آنے والی شکایات کا بنیادی موضوع تقریباً ایک جیسا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسائل انفرادی نہیں بلکہ نظامی نوعیت کے ہیں۔

ہنگو سے تعلق رکھنے والے شہری نے شکایت کی کہ سپورٹس کمپلیکس کئی برسوں سے تباہ حالی کا شکار ہے۔ نہ مناسب صفائی ہے، نہ حفاظتی انتظامات، نہ کھیلوں کا سامان، اور نہ ہی کوئی بڑا سرکاری ایونٹ منعقد ہوا۔ سوال یہ اٹھایا گیا کہ اگر فنڈز جاری ہوتے ہیں تو آخر وہ خرچ کہاں ہوتے ہیں؟مرجڈ اضلاع سے بھی تقریباً یہی آواز سنائی دی۔ حسن خیل کے نمائندوں نے کہا کہ سپورٹس کمپلیکس موجود ہونے کے باوجود وہاں مستقل عملہ تعینات نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018 سے 2026 تک ایک بھی سرکاری کھیلوں کی سرگرمی منعقد نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے علاقے کے نوجوان مسلسل محرومی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت سے کوئی خصوصی رعایت نہیں بلکہ صرف مساوی حقوق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح لینڈی کوتل اور دیگر مرجڈ علاقوں سے یہ شکایت سامنے آئی کہ کھلاڑیوں کو متعلقہ دفاتر سے مناسب رہنمائی اور سہولیات نہیں ملتیں، جبکہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ذمہ داری ایک دفتر سے دوسرے دفتر منتقل کی جاتی ہے۔سوات سے فٹبال گراو¿نڈ کی تعمیر میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا گیا جبکہ جمرود، دیر اپر اور لکی مروت سے کھیلوں کی بنیادی سہولیات مکمل کرنے اور فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ بعض علاقوں میں کئی سال گزرنے کے باوجود ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہو سکے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کو کھیلنے کے لیے مناسب میدان بھی دستیاب نہیں۔

ہاکی سے وابستہ افراد نے بھی متعدد اہم مسائل اجاگر کیے۔ باجوڑ اور بونیر سے مطالبہ کیا گیا کہ ہاکی گراونڈز کے لیے سولر سسٹم، لائٹ سسٹم اور اسپرنکلرز نصب کیے جائیں تاکہ مصنوعی ٹرف محفوظ رہے اور شام کے اوقات میں بھی کھیل جاری رہ سکے۔ باجوڑ کے نمائندے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مسلسل کوششوں کے باوجود ضلع میں باقاعدہ ہاکی ایسوسی ایشن قائم نہیں ہو سکی، جس سے نوجوان کھلاڑی انتظامی سطح پر بھی مشکلات کا شکار ہیں۔خواتین کے کھیل بھی اس بحث کا حصہ بنے۔ ایک کھلاڑی نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے لیے انڈور ٹارٹن ٹریک اور محفوظ کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ خیبرپختونخوا میں خواتین کی کھیلوں میں شرکت مزید بہتر ہو سکے۔

ای کھلی کچہری کے دوران سب سے اہم سوالات میں سے ایک کوچز کی بھرتی سے متعلق تھا۔ سوال اٹھایا گیا کہ 2016 کے بعد مستقل کوچز کیوں بھرتی نہیں کیے گئے؟ خاص طور پر کرکٹ کوچز کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ بیشتر نظام ڈیلی ویجز پر چل رہا ہے، جو طویل المدتی کھیلوں کی ترقی کے لیے موثر حکمت عملی نہیں سمجھی جا سکتی۔

صرف کھیل ہی نہیں بلکہ محکمہ یوتھ افیئرز سے متعلق بھی کئی سوالات سامنے آئے۔ ایک جانب ضلع یوتھ افسران نے اپنے سروس اسٹرکچر اور ترقیوں کا مسئلہ اٹھایا، تو دوسری جانب عوام نے سوال کیا کہ ہر سال یوتھ افیئرز کے بجٹ کا کتنا حصہ واقعی نوجوانوں اور ان کے کلبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ لکی مروت سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ماضی میں ہونے والی ثقافتی، ادبی اور روایتی کھیلوں کی سرگرمیاں اب کیوں بند ہو چکی ہیں۔ ہنگو سے اقلیتی نوجوانوں کے سرکاری ٹورز کے حوالے سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی سامنے آیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض شہری صرف سہولیات ہی نہیں بلکہ انتظامی شفافیت کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اگر ان تمام سوالات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ عوام نے نئی اسپورٹس پالیسی، بڑے منصوبوں یا بین الاقوامی کامیابیوں سے زیادہ بنیادی ضروریات پر زور دیا۔ ان کے مطالبات میں کھیلنے کے قابل گراونڈز، مستقل کوچز، فعال سپورٹس کمپلیکس، بروقت فنڈز، شفافیت، نوجوانوں کے لیے عملی سرگرمیاں اور مرجڈ اضلاع کے لیے مساوی سہولیات شامل تھیں۔

یہ ای کھلی کچہری اس لحاظ سے اہم ضرور تھی کہ لوگوں کو اپنی آواز براہ راست اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا موقع ملا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کتنے لوگوں نے شکایت کی، بلکہ یہ ہے کہ ان شکایات میں سے کتنی پر عملی پیش رفت ہوگی۔ اگر آئندہ چند ماہ میں انہی مسائل پر دوبارہ سوالات اٹھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ ای کھلی کچہری صرف ایک رسمی کارروائی تھی۔ لیکن اگر ان شکایات کے نتیجے میں سپورٹس کمپلیکس آباد ہوتے ہیں، کوچز بھرتی ہوتے ہیں، فنڈز شفاف انداز میں خرچ ہوتے ہیں اور نوجوانوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوتی ہیں، تب ہی اس اقدام کو حقیقی معنوں میں کامیاب قرار دیا جا سکے گا۔

فی الحال ایک بات واضح ہے۔ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے آنے والی آوازیں مختلف ضرور تھیں، لیکن ان کا پیغام ایک ہی تھا۔ نوجوان کھیلنا چاہتے ہیں، کھلاڑی سہولیات چاہتے ہیں، اور عوام چاہتے ہیں کہ محکمہ کھیل اپنے وعدوں کو صرف سنے نہیں بلکہ ان پر عمل بھی کرے۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1016 Articles with 785164 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More