برائے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخواجناب سہیل آفریدی صاحب
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
موضوع: محکمہ کھیل و امور نوجوانان میں اصلاحات، عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کے تحفظ اور نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے فوری توجہ کی درخواست
محترم وزیراعلیٰ صاحب!
السلام علیکم
محکمہ کھیل و امور نوجوانان براہ راست آپ کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ صرف ایک انتظامی محکمہ نہیں بلکہ صوبے کے لاکھوں نوجوانوں، کھلاڑیوں اور کوچز کے مستقبل سے جڑا ہوا شعبہ ہے۔ اسی لیے چند اہم معاملات آپ کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں، جن پر فوری توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔چند اہم نکات آپ کی خدمت میں پیش ہیں، جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
1۔ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم کا تحفظ
چند ماہ قبل عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک نجی تقریب منعقد کی گئی، جس کے دوران کرکٹ گراونڈ پر قالین، کرسیاں اور دیگر سامان رکھا گیا۔ کھیلوں کے ماہرین کے مطابق اس طرح کی سرگرمیوں سے آوٹ فیلڈ کو نقصان پہنچتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معاملے پر نہ کسی ذمہ دار کا تعین کیا گیا اور نہ ہی عوام کو آگاہ کیا گیا کہ اگر گراونڈ کو نقصان پہنچا تو اس کا ازالہ کس نے کیا اور آیا متعلقہ فیس یا نقصانات کی وصولی ہوئی یا نہیں۔یہ اسٹیڈیم عوام کے ٹیکس کے اربوں روپے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ ایسے قومی اثاثوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
2۔ سیاسی جلسوں کے لیے اسٹیڈیم کا استعمال
آپ کی جانب سے 5 اگست کو اسی اسٹیڈیم میں جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیاسی سرگرمی ہر جماعت کا آئینی حق ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک بین الاقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کو سیاسی اجتماعات کے لیے استعمال کرنا مناسب ہے؟اس سے گراونڈ کو نقصان پہنچنے، کھیلوں کی سرگرمیوں کی معطلی، جم خانہ اور شاہ طہماس گراونڈز تک رسائی میں مشکلات اور ٹریفک کے شدید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایک مرتبہ اسٹیڈیم سیاسی جلسوں کے لیے کھول دیا گیا تو مستقبل میں دیگر جماعتیں بھی یہی مطالبہ کریں گی، جس سے کھیلوں کی سرگرمیاں مستقل متاثر ہو سکتی ہیں۔یہ معاملہ صوبائی اسپورٹس پالیسی 2018 کے اس تصور سے بھی متصادم دکھائی دیتا ہے جس میں کھیلوں کی سہولیات کو کھیلوں کے فروغ کے لیے محفوظ رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
3۔ ڈیلی ویج کوچز کا مستقبل
محکمہ کھیل میں کئی کوچز گزشتہ آٹھ سے دس سال سے ڈیلی ویجز پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگیاں کھیلوں کے فروغ کے لیے وقف کیں، مگر آج بھی ان کے مستقل روزگار کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔اس کے برعکس نئی بھرتیوں کے لیے عمر کی حد 32 سال مقرر کی جا رہی ہے، جبکہ 2017 کی بھرتیوں میں یہی حد 40 سال تھی۔ اس فیصلے سے وہ تجربہ کار کوچز عملاً مقابلے سے باہر ہو جاتے ہیں جنہوں نے برسوں محکمہ کی خدمت کی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے تاکہ میرٹ، تجربے اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔
4۔ بھرتیوں کا طریقہ کار
یہ بھی تشویشناک ہے کہ بعض آسامیوں، حتیٰ کہ کلاس فور اور سوئمنگ گارڈ کی پوسٹوں کے لیے بھی روایتی طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے، جبکہ نوجوانوں کو جدید، شفاف اور آسان نظام کے ذریعے درخواست دینے کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
5۔ محکمہ کھیل کی قیادت
اگر بیوروکریسی سے افسران کی تعیناتی ناگزیر ہے تو کم از کم ایسے افسران کو محکمہ کھیل میں تعینات کیا جائے جو کھیلوں کی عملی سمجھ رکھتے ہوں، کھلاڑیوں، کوچز اور سپورٹس ایسوسی ایشنز سے رابطہ رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، نہ کہ ملاقات کو احسان یا بوجھ تصور کریں۔بدقسمتی سے کھلاڑی، کوچز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندے گھنٹوں دفاتر کے باہر انتظار کرتے ہیں، جبکہ اکثر انہیں صرف یہ جواب دیا جاتا ہے کہ "صاحب میٹنگ میں ہیں"۔ عوامی اداروں میں یہ طرز عمل اصلاح کا متقاضی ہے۔
6۔ کارکردگی کی بنیاد پر احتساب
محترم وزیراعلیٰ صاحب، صرف ایمانداری کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا۔ اصل معیار نتائج ہوتے ہیں۔ براہ کرم محکمہ کھیل کے اعلیٰ افسران سے گزشتہ دو سال کی کارکردگی طلب کی جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ کتنے نئے کھلاڑی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچے؟ کتنی نئی اکیڈمیاں یا تربیتی پروگرام شروع کیے گئے؟ کتنے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام منعقد ہوئے؟ کھیلوں کے فروغ کے لیے کون سے قابل پیمائش نتائج حاصل کیے گئے؟ صوبائی اسپورٹس پالیسی 2018 کے کتنے اہداف پر عمل درآمد ہوا؟
آخر میں گزارش ہے کہ محکمہ کھیل کو صرف ایک انتظامی دفتر نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کا ادارہ سمجھا جائے۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو نقصان صرف ایک محکمے کا نہیں بلکہ پورے صوبے کے کھیلوں اور ہزاروں نوجوان کھلاڑیوں کا ہوگا۔امید ہے کہ آپ ذاتی دلچسپی لے کر ان معاملات کا نوٹس لیں گے اور متعلقہ حکام کو شفاف تحقیقات، پالیسی اصلاحات اور عملی اقدامات کی ہدایت جاری کریں گے۔
والسلام
#KhyberPakhtunkhwa #KP #SportsReform #ProtectSportsFacilities #SaveImranKhanCricketStadium #YouthDevelopment #SportsGovernance #MeritBasedAppointments #AthleteDevelopment #SportsPolicy2018 #GoodGovernance #PublicAssets #Transparency #Accountability #GrassrootsSports #SupportCoaches |