پاراچنار ہاکی ٹرف منصوبہ: کروڑوں روپے خرچ، معیار قربان، احتساب کہاں؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
|
حقیقاتی رپورٹ |
|
پاراچنار کے نوجوان برسوں سے ایک ایسے بین الاقوامی معیار کے ہاکی گراونڈ کے منتظر تھے جہاں وہ جدید سہولیات کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کے فروغ کے دعووں کے تحت شروع ہونے والا پاراچنار ہاکی ٹرف منصوبہ اسی امید کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ لیکن اب ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ نے اس منصوبے کو کامیاب ترقیاتی منصوبے کے بجائے مبینہ بے ضابطگیوں، ناقص منصوبہ بندی، معاہدے کی خلاف ورزی اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی مثال بنا دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات محض ایک ناقص ٹرف تک محدود نہیں بلکہ پورے سرکاری نظام پر سوالیہ نشان ہیں۔ اگر رپورٹ کے نتائج درست ہیں تو یہ صرف ایک تعمیراتی خامی نہیں بلکہ منصوبہ بندی، نگرانی، ادائیگی، معیار کی جانچ اور سرکاری ذمہ داری کے ہر مرحلے میں ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق منصوبے کے معاہدے میں واضح طور پر درج تھا کہ گراو¿نڈ میں یورپی نڑاد اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مصنوعی ہاکی ٹرف نصب کیا جائے گا۔ اس شرط کا مقصد یہ تھا کہ کھلاڑیوں کو ایسا میدان فراہم کیا جائے جو عالمی معیار کے مقابلوں کے لیے موزوں ہو اور کئی سال تک پائیدار رہے۔
لیکن تحقیقات کے مطابق گراونڈ میں چین کی کمپنی CC-Grass کا تیار کردہ ٹرف نصب کیا گیا۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ٹرف کہاں تیار ہوا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر معاہدے میں ایک مخصوص معیار اور تکنیکی شرائط درج تھیں تو پھر ان سے انحراف کیوں کیا گیا؟ اگر معاہدہ تبدیل کیا گیا تو اس کی منظوری کس نے دی؟ اگر منظوری نہیں دی گئی تو غیر مطابقت رکھنے والا سامان کس بنیاد پر قبول کیا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف ٹھیکیدار نہیں بلکہ متعلقہ سرکاری حکام کو بھی دینا ہوگا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں درج مشاہدات انتہائی تشویشناک ہیں۔ کمیٹی کے مطابق نصب شدہ ٹرف نہ صرف منظور شدہ نمونے سے مختلف تھا بلکہ اس کے فائبر کا معیار، کھچاو برداشت کرنے کی صلاحیت اور لچک بھی مطلوبہ معیار سے کم تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹرف کو ایک مربوط سطح کے طور پر بچھانے کے بجائے مختلف حصوں کو جوڑ کر نصب کیا گیا، جس کے باعث میدان میں جگہ جگہ سوراخ، بلبلے، جھریاں اور نمایاں جوڑ موجود ہیں۔ یہ خامیاں صرف دیکھنے میں خراب نہیں بلکہ کھیل کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی اور حفاظت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہاکی ایک تیز رفتار کھیل ہے جہاں گیند کی رفتار، کھلاڑیوں کی دوڑ اور اچانک موڑ لینا معمول کی بات ہے۔ غیر ہموار سطح نہ صرف کھیل کے معیار کو متاثر کرتی ہے بلکہ زخمی ہونے کے امکانات بھی بڑھا دیتی ہے۔ اگر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود کھلاڑی محفوظ ماحول میں کھیل ہی نہ سکیں تو ایسے منصوبے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کا سب سے حیران کن پہلو فلڈ لائٹس سے متعلق ہے۔ کمیٹی کے مطابق گراو¿نڈ میں فلڈ لائٹس نصب ہی نہیں کی گئیں، لیکن اس کے باوجود 40.542 ملین روپے کی ادائیگی کر دی گئی۔ یہ انکشاف صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ سرکاری مالیاتی نظام پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ سرکاری منصوبوں میں کسی بھی ادائیگی سے پہلے تکنیکی عملہ، نگرانی کرنے والے افسران اور متعلقہ حکام کام کی تکمیل کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگر فلڈ لائٹس موجود ہی نہیں تھیں تو پھر ادائیگی کس بنیاد پر کی گئی؟ کیا کسی نے جعلی تکمیل رپورٹ جاری کی؟ کیا معائنہ کیے بغیر بل منظور کیے گئے؟ یا پھر نگرانی کا پورا نظام ہی غیر مو¿ثر تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات عوام جاننا چاہتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہاکی کمپلیکس کا ہاسٹل بھی مکمل نہیں ہو سکا اور طویل عرصے سے اس پر کام رکا ہوا ہے۔ ایک جدید سپورٹس کمپلیکس صرف کھیل کے میدان کا نام نہیں ہوتا بلکہ رہائش، تربیت، فٹنس، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر بھی مشتمل ہوتا ہے۔جب ہاسٹل ہی مکمل نہ ہو تو دور دراز علاقوں سے آنے والے کھلاڑی کیسے تربیت حاصل کریں گے؟ اس کا براہ راست اثر نوجوانوں کی ترقی اور کھیلوں کے فروغ پر پڑتا ہے۔
عام طور پر ایسے معاملات میں تمام تر ذمہ داری ٹھیکیدار پر ڈال دی جاتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ سرکاری منصوبوں میں ڈیزائن، ٹینڈر، نگرانی، معائنہ، پیمائش، ادائیگی اور تکمیل کے ہر مرحلے پر مختلف افسران کی ذمہ داریاں متعین ہوتی ہیں۔ اگر ناقص ٹرف نصب ہوا تو اسے منظور کس نے کیا؟ اگر کام ناقص تھا تو اعتراض کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ اگر فلڈ لائٹس موجود نہیں تھیں تو ادائیگی کس نے منظور کی؟ اگر منصوبہ تاخیر کا شکار تھا تو کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ یہ تمام سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ احتساب صرف ایک ٹھیکیدار تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پورے انتظامی سلسلے کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں متعدد اہم سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی، بلیک لسٹنگ، ناقص کام کی مد میں ادا کی گئی رقم کی ریکوری، منصوبے کا دوبارہ ٹینڈر، متعلقہ محکمے سے وضاحت طلب کرنا اور فلڈ لائٹس کی فوری تنصیب شامل ہے۔ یہ سفارشات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان پر عمل بھی ہوگا؟ پاکستان میں متعدد تحقیقاتی رپورٹس تیار ہوتی ہیں، لیکن اکثر وہ فائلوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ اگر اس رپورٹ کے ساتھ بھی یہی ہوا تو یہ صرف ایک اور سرکاری دستاویز بن کر رہ جائے گی۔
ضم شدہ اضلاع کے نوجوان کئی دہائیوں تک بنیادی سہولیات سے محروم رہے۔ کھیل ان کے لیے صرف تفریح نہیں بلکہ مثبت سرگرمی، روزگار، قومی نمائندگی اور امن کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ جب ایسے علاقوں کے لیے مختص ترقیاتی منصوبوں میں بھی معیار پر سمجھوتہ کیا جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی نوجوانوں کو ہوتا ہے جن کے نام پر یہ منصوبے شروع کیے جاتے ہیں۔ ہر ناقص منصوبہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اب ذمہ داری حکومت، محکمہ کھیل، متعلقہ انجینئرنگ حکام اور احتسابی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر واقعی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ناقص ٹرف نصب کیا گیا ہے، فلڈ لائٹس کے بغیر ادائیگیاں ہوئی ہیں اور نگرانی میں غفلت برتی گئی ہے تو پھر صرف وضاحتیں کافی نہیں ہوں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے، عوامی خزانے سے ادا ہونے والی رقم کی ریکوری کی جائے، ناقص کام کو درست کیا جائے اور آئندہ ایسے منصوبوں کے لیے نگرانی کا موثر نظام وضع کیا جائے۔
پاراچنار ہاکی ٹرف منصوبہ اب صرف ایک کھیل کے میدان کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ اس بات کا امتحان بن چکا ہے کہ کیا پاکستان میں عوامی فنڈز سے مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، معیار اور احتساب کو واقعی اہمیت دی جاتی ہے یا پھر تحقیقات صرف رپورٹس تک محدود رہتی ہیں۔ اگر اس رپورٹ کے باوجود موثر کارروائی نہ ہوئی تو نقصان صرف ایک گراو¿نڈ کا نہیں ہوگا بلکہ عوام کے اعتماد، نوجوانوں کے مستقبل اور سرکاری اداروں کی ساکھ کا بھی ہوگا۔ لیکن اگر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی، عوامی رقم واپس وصول کی گئی اور منصوبے کو اصل معیار کے مطابق مکمل کیا گیا تو یہ نہ صرف پاراچنار بلکہ پورے صوبے میں سرکاری منصوبوں کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔
#Parachinar #ParachinarHockeyTurf #Kurram #KhyberPakhtunkhwa #SportsInfrastructure #PakistanHockey #SportsCorruption #PublicFunds #TaxpayersMoney #Procurement #PublicProcurement #Infrastructure #Transparency #Accountability #GoodGovernance #Audit #ConstructionQuality #SyntheticTurf #Floodlights #InvestigativeJournalism #PakistanNews #RuleOfLaw #Governance #DevelopmentProjects #MergedDistricts
|