کیا خیبر پختونخوا کے اسپورٹس کمپلیکس نجی شعبے کے حوالے ہوں گے

کھیل کے میدان صرف اینٹ، پتھر اور کنکریٹ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ کسی بھی معاشرے کی نوجوان نسل، صحت مند سرگرمیوں اور مستقبل کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کو عوامی اثاثہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے انتظام، استعمال اور تحفظ سے متعلق فیصلے انتہائی احتیاط سے کیے جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی حالیہ دنوں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ **پشاور اسپورٹس کمپلیکس** اور **حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس** سمیت بعض سرکاری اسپورٹس سہولیات کو آو¿ٹ سورس کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صوبے کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم انتظامی تبدیلی ہوگی، جس کے اثرات صرف سرکاری خزانے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہزاروں کھلاڑیوں، کوچز، ملازمین اور کھیلوں سے وابستہ اداروں پر بھی مرتب ہوں گے۔اس وقت سرکاری سطح پر مکمل پالیسی یا معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے موجود نہیں ہیں، تاہم مختلف حلقوں میں اس موضوع پر بحث جاری ہے۔

آو¿ٹ سورسنگ کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت کسی سرکاری اثاثے کی ملکیت فروخت کر دیتی ہے۔ عمومی طور پر اس سے مراد کسی ادارے، عمارت یا سہولت کا انتظام، دیکھ بھال یا تجارتی استعمال مخصوص شرائط کے تحت نجی ادارے کے سپرد کرنا ہوتا ہے جبکہ ملکیت حکومت کے پاس برقرار رہتی ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں اسپورٹس سینٹرز، جمنازیم، سوئمنگ پول، پارکنگ ایریاز، کیفے، ریسٹورنٹس اور بعض اسٹیڈیمز کی روزمرہ مینجمنٹ نجی اداروں کے ذریعے کرائی جاتی ہے، تاہم کھیل کے میدانوں تک عوام اور کھلاڑیوں کی رسائی کو برقرار رکھنے کے لیے سخت شرائط رکھی جاتی ہیں۔آو¿ٹ سورسنگ کے حامیوں کا مو¿قف ہے کہ حکومت کو ہر سال بڑی رقم صرف عمارتوں، بجلی، پانی، مرمت، گاڑیوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ کرنا پڑتی ہے۔

ان کے مطابق اگر نجی شعبہ انتظام سنبھالے تو حکومت پر مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ سرکاری عمارتوں سے کرایہ اور ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔ غیر استعمال شدہ عمارتوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔* ہوٹل، گیسٹ ہاوس یا دیگر سہولیات قائم کر کے آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ گاڑیوں، دیکھ بھال اور دیگر سہولیات کی ذمہ داری نجی ادارہ اٹھا سکتا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق اس سے مالی بے ضابطگیوں کے امکانات بھی کم کیے جا سکتے ہیں، اگرچہ اس کا انحصار شفاف معاہدوں، آزاد آڈٹ اور موثر نگرانی پر ہوگا۔ یہ تمام نکات ان افراد کی آرائ کی نمائندگی کرتے ہیں جو آوٹ سورسنگ کو بہتر انتظامی ماڈل سمجھتے ہیں۔ ان دعووں کی کامیابی کا انحصار معاہدے کی شرائط اور اس پر عمل درآمد پر ہوگا۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کسی اسپورٹس کمپلیکس میں موجود ریسٹورنٹ، کیفے، پارکنگ، ہاسٹل، دکانیں یا دیگر کمرشل عمارتیں نجی شعبے کے ذریعے چلائی جائیں تو اس سے آمدنی پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر اصل کھیل کے میدان، فٹبال گراونڈ، ایتھلیٹکس ٹریک یا دیگر بنیادی کھیلوں کی سہولیات بھی مکمل طور پر تجارتی بنیادوں پر منتقل کر دی جائیں تو اس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک میں کمرشل عمارتوں کا انتظام نجی اداروں کے سپرد کیا جاتا ہے، لیکن کھیل کے میدانوں تک عوامی رسائی برقرار رکھنے کے لیے واضح ضوابط مقرر کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ سوال اہم ہے کہ خیبر پختونخوا میں اگر آوٹ سورسنگ کی جاتی ہے تو کیا صرف عمارتیں شامل ہوں گی یا کھیل کے میدان بھی؟

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دنیا میں کہیں بھی اسپورٹس سہولیات کی آوٹ سورسنگ نہیں ہوئی۔ برطانیہ میں متعدد مقامی حکومتوں نے اسپورٹس سینٹرز اور لیڑر کمپلیکسز کی مینجمنٹ نجی یا غیر منافع بخش اداروں کو دی۔ آسٹریلیا میں بعض مقامی کونسلوں نے کمیونٹی اسپورٹس سہولیات کے انتظام کے لیے نجی اداروں سے معاہدے کیے۔ بھارت میں بھی کئی اسٹیڈیم اور اسپورٹس کمپلیکس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے گئے۔تاہم ان ممالک کے تجربات سے ایک اہم سبق سامنے آیا۔ جہاں شفاف نگرانی، واضح معاہدے اور عوامی مفاد کو ترجیح دی گئی، وہاں نتائج نسبتاً بہتر رہے۔ لیکن جہاں صرف تجارتی مفاد غالب آیا، وہاں کھلاڑیوں کی رسائی محدود ہونے، فیسوں میں اضافے اور کھیلوں کے فروغ پر منفی اثرات کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اسی لیے بین الاقوامی تجربات آوٹ سورسنگ کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتے بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ کامیابی کا انحصار طریقہ کار پر ہوتا ہے۔

کھیلوں سے وابستہ کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز کا کہنا ہے کہ کھیل کا میدان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت گاہ ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک اس کی حیثیت ایسی ہے جیسے خاندان میں ماں کی، جس کا بنیادی مقصد پرورش ہوتا ہے، کاروبار نہیں۔یہ ایک جذباتی مگر اہم نقطہ نظر ہے، کیونکہ کھیل کے میدانوں کی بنیادی ذمہ داری کھیلوں کا فروغ ہے، نہ کہ صرف مالی آمدنی پیدا کرنا۔ اسی لیے اگر کسی بھی قسم کی آوٹ سورسنگ کی جاتی ہے تو سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ کیا اس سے کھلاڑیوں کی رسائی، تربیت اور کھیلوں کی ترقی متاثر تو نہیں ہوگی؟

خیبر پختونخوا میں اگر پشاور اسپورٹس کمپلیکس اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی آوٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں ہوگا بلکہ اس کے دور رس اثرات صوبے کے کھیلوں کے نظام پر مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کو صرف ریونیو یا اخراجات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے کھیلوں کی ترقی، عوامی مفاد، شفافیت اور احتساب کے تناظر میں بھی جانچنا ضروری ہے۔سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ حکومت کا مقصد کیا ہے؟ کیا بنیادی ہدف کھیلوں کا فروغ ہے یا سرکاری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا؟ اگر مقصد صرف ریونیو بڑھانا ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو تجارتی بنیادوں پر چلانا مناسب ہوگا، یا اس کے لیے متبادل ذرائع اختیار کیے جا سکتے ہیں؟

خیبر پختونخوا اسپورٹس پالیسی 2018 کو صوبے میں کھیلوں کی ترقی کا ایک جامع روڈ میپ قرار دیا گیا تھا۔ اس پالیسی میں نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے، انفراسٹرکچر کی بہتری، نجی شعبے کی شمولیت، شفافیت، احتساب اور جدید انتظامی نظام متعارف کرانے پر زور دیا گیا تھا۔ اگر حکومت آوٹ سورسنگ کی جانب بڑھتی ہے تو ایک بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ اقدام اسپورٹس پالیسی 2018 کی روح سے مطابقت رکھتا ہے یا اس میں کسی نئی پالیسی یا ترمیم کی ضرورت ہوگی؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کسی بھی نئی انتظامی پالیسی کو پہلے سے موجود قانونی اور پالیسی فریم ورک کے مطابق ہونا چاہیے۔

اگر حکومت نے نئے مالی سال کے لیے کھیلوں کے فروغ، گراونڈز کی دیکھ بھال، مقابلوں کے انعقاد اور دیگر سرگرمیوں کے لیے بجٹ منظور کیا ہے تو پھر اسی وقت آوٹ سورسنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ انتظامی نظام ناکافی سمجھا جا رہا ہے؟ یا حکومت سمجھتی ہے کہ نجی شعبہ یہ ذمہ داریاں زیادہ موثر انداز میں انجام دے سکتا ہے؟ ان سوالات کے واضح جوابات پالیسی سازی میں شفافیت پیدا کریں گے۔

آوٹ سورسنگ کے مخالفین کا خدشہ ہے کہ نجی ادارے کا بنیادی مقصد منافع کمانا ہوتا ہے، جبکہ کھیلوں کا مقصد عوامی خدمت اور نوجوانوں کی تربیت ہے۔ اگر کسی نجی کمپنی کے سامنے ایک طرف قومی سطح کے کھلاڑیوں کی مفت ٹریننگ اور دوسری طرف زیادہ کرایہ دینے والی کمرشل سرگرمی ہو تو وہ کس کو ترجیح دے گی؟ یہ خدشہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی زیر بحث رہا ہے۔ اسی لیے کئی ممالک میں معاہدوں میں یہ شرط شامل کی جاتی ہے کہ مخصوص اوقات میں گراونڈ صرف کھلاڑیوں کے لیے مختص ہوں گے اور عوامی رسائی محدود نہیں کی جا سکتی۔ اگر خیبر پختونخوا میں بھی ایسا کوئی منصوبہ سامنے آتا ہے تو ان شرائط کو عوام کے سامنے لانا ضروری ہوگا۔

کسی بھی آوٹ سورسنگ پالیسی کا سب سے بڑا اثر ملازمین پر پڑتا ہے۔یہ واضح ہونا چاہیے کہ * موجودہ سرکاری ملازمین کہاں جائیں گے؟ * کیا ان کی ملازمتیں برقرار رہیں گی؟ * کیا انہیں دوسرے اداروں میں منتقل کیا جائے گا؟ * کیا نجی کمپنی انہیں اپنے نظام میں شامل کرے گی؟ * ان کی پنشن، سروس اسٹرکچر اور دیگر مراعات کا کیا ہوگا؟ اگر ان سوالات کے واضح جواب موجود نہ ہوں تو ملازمین میں بے یقینی پیدا ہونا فطری بات ہوگی۔

اسپورٹس کمپلیکسز کے ہاسٹلز بھی اس وقت بحث کا حصہ ہیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا بعض افراد برسوں سے ہاسٹلز میں مقیم ہیں، کیا وہاں بجلی اور دیگر سرکاری سہولیات استعمال ہو رہی ہیں، کیا رہائش قواعد کے مطابق ہے اور کیا تمام الاٹمنٹس ریکارڈ کا حصہ ہیں؟ان سوالات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ اگر واقعی کسی قسم کی بے ضابطگی موجود ہے تو اس کا حل آوٹ سورسنگ نہیں بلکہ شفاف آڈٹ، قواعد پر عمل درآمد اور احتساب بھی ہو سکتا ہے۔ بعض حلقے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ کچھ وی آئی پیز طویل عرصے سے سرکاری رہائش استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ اگر درست ہے تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔ کون رہ رہا ہے؟ کس اختیار کے تحت رہ رہا ہے؟ کیا کرایہ ادا کیا جا رہا ہے؟ * کیا قیام کی مدت قواعد کے مطابق ہے؟ یہ تمام سوالات عوامی مفاد سے متعلق ہیں اور ان کے جوابات سرکاری ریکارڈ سے دیے جا سکتے ہیں۔

کئی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر حکومت آمدنی بڑھانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے غیر کھیلوں سے متعلق عمارتوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً * کمرشل دکانیں* کیفے * ریسٹورنٹ * پارکنگ * گیسٹ ہاوس * کانفرنس ہال * آوٹ بلڈنگز ان سہولیات سے کرایہ اور ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ کھیل کے میدان عوام کے لیے محفوظ رہیں۔ یہ ماڈل دنیا کے کئی ممالک میں اختیار کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اگر کھیلوں کے کمپلیکس کی انتظامیہ نجی شعبے کے پاس چلی جاتی ہے تو پھر اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کا کردار کیا ہوگا؟ کیا وہ صرف نگران ادارہ ہوگا؟ کیا اس کا کام صرف معاہدوں کی نگرانی تک محدود رہ جائے گا؟ یا پھر وہ کھیلوں کے فروغ کی ذمہ داری پہلے کی طرح نبھاتا رہے گا؟ ان نکات کی وضاحت کسی بھی مجوزہ پالیسی کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اگر کسی اسپورٹس سہولت، جیسے ٹارٹن ٹریک، پر اربوں روپے کے سرکاری وسائل خرچ کیے گئے ہیں تو عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مستقبل میں ان کا انتظام کس کے پاس ہوگا۔

اگر نجی ادارہ انتظام سنبھالتا ہے تو * کیا کھلاڑی پہلے کی طرح مفت یا رعایتی بنیادوں پر استعمال کر سکیں گے؟ کیا نئے چارجز مقرر ہوں گے؟ کیا قومی اور صوبائی ٹیموں کو ترجیح حاصل ہوگی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب پہلے سے واضح ہونے چاہئیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران کھیلوں کے فروغ، نوجوانوں کی سرگرمیوں اور جدید اسپورٹس انفراسٹرکچر پر متعدد اعلانات اور منصوبے سامنے آئے تھے۔ اسی تناظر میں بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر وسیع پیمانے پر آوٹ سورسنگ کی جاتی ہے تو کیا یہ سابقہ وڑن کا تسلسل ہوگا یا اس سے مختلف حکمت عملی؟ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی اور پالیسی بحث ہے، جس کا جواب حکومت ہی دے سکتی ہے۔

1. کیا آوٹ سورسنگ کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے یا صرف تجویز زیر غور ہے؟ 2. کیا اس حوالے سے کوئی فزیبلٹی اسٹڈی کرائی گئی؟ 3. کیا اوپن ٹینڈر کے ذریعے نجی ادارے کا انتخاب ہوگا؟ 4. معاہدہ کتنے سال کے لیے ہوگا؟ 5. کھلاڑیوں کے حقوق کیسے محفوظ رکھے جائیں گے؟ 6. موجودہ ملازمین کا مستقبل کیا ہوگا؟ 7. ہاسٹل اور دیگر سرکاری رہائش گاہوں کا انتظام کیسے ہوگا؟ 8. حکومت کو متوقع سالانہ ریونیو کتنا ہوگا؟ 9. نگرانی اور آڈٹ کون کرے گا؟ 10. اگر نجی ادارہ معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو حکومت کے پاس کیا اختیارات ہوں گے؟ کسی بھی آوٹ سورسنگ منصوبے کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ اسے نجی شعبے کے حوالے کیا گیا، بلکہ اس بات پر ہوگا کہ کیا اس سے کھیلوں کا فروغ، عوامی رسائی، شفافیت اور احتساب واقعی بہتر ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر حکومت واقعی پشاور اسپورٹس کمپلیکس اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی آوٹ سورسنگ چاہتی ہے تو سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ: کیا آوٹ سورسنگ کھیلوں کے فروغ کے لیے ہوگی یا صرف آمدنی بڑھانے کے لیے؟ اگر مقصد صرف ریونیو ہے تو پھر یہ خدشہ پیدا ہوگا کہ کھیل کہیں ثانوی حیثیت اختیار نہ کر جائیں۔ کھیل اور کاروبار میں توازن کیسے ممکن ہے؟

ماہرین کے مطابق ایک متوازن ماڈل کچھ اس طرح ہو سکتا ہے: کھیل کے میدان، ٹریک، فٹبال گراونڈ، ہاکی گراونڈ، سوئمنگ پول اور تربیتی سہولیات حکومت کی سخت نگرانی میں رہیں۔ کمرشل عمارتیں، کیفے، ریسٹورنٹ، پارکنگ، دکانیں اور گیسٹ ہاوس شفاف ٹینڈر کے ذریعے نجی شعبے کو دیے جا سکتے ہیں۔ ہر معاہدہ عوامی دستاویز بنایا جائے۔ سالانہ آڈٹ لازمی ہو۔کھلاڑیوں کے لیے فیس اور رسائی کا تحفظ معاہدے کا حصہ ہو۔ کسی بھی نجی ادارے کی کارکردگی کا سالانہ جائزہ لیا جائے۔اگر آوٹ سورسنگ نہ ہو تو؟ وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے، عمارتیں غیر استعمال شدہ ہیں، غیر مجاز افراد سرکاری سہولیات استعمال کر رہے ہیں، ہاسٹلز قواعد کے مطابق نہیں چل رہے، ریونیو حاصل نہیں ہو رہا، تو حکومت کے پاس اصلاحات کا اختیار موجود ہے۔ لیکن اصلاحات کا مطلب صرف نجکاری یا آوٹ سورسنگ نہیں ہوتا۔ انتظامی اصلاحات، سخت احتساب، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، شفاف آڈٹ اور موثر نظم و نسق بھی موثر متبادل ہو سکتے ہیں۔

حکومت کو کن دستاویزات کو عوام کے سامنے لانا چاہیے؟ اگر منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو شفافیت کے لیے حکومت درج ذیل معلومات جاری کر سکتی ہے ،فزیبلٹی رپورٹ، لاگت اور فائدے کا تجزیہ، مجوزہ معاہدہ
متوقع سالانہ آمدنی، ٹینڈر کا طریقہ کار، ملازمین سے متعلق پالیسی ،کھلاڑیوں کے حقوق سے متعلق شقیں، نگرانی اور آڈٹ کا نظام، شکایات درج کرانے کا طریقہ کار،

پشاور اسپورٹس کمپلیکس اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کی ممکنہ آو¿ٹ سورسنگ ایک ایسا معاملہ ہے جسے صرف "حق" یا "غلط" کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ اگر شفافیت، احتساب، کھلاڑیوں کے حقوق، اوپن ٹینڈر، آزاد آڈٹ اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے تو بعض انتظامی ماڈلز بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر مقصد صرف کمرشل ریونیو بن جائے اور کھیلوں کا بنیادی مقصد پس منظر میں چلا جائے تو خدشہ پیدا ہوگا کہ عوامی اثاثے اپنی اصل روح کھو بیٹھیں گے۔کھیلوں کے میدان صرف عمارتیں نہیں ہوتے۔ وہ نوجوانوں کی تربیت، قومی صلاحیتوں کی نشوونما اور معاشرے کی صحت مند سمت کا استعارہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کامیاب ممالک نے ریونیو اور اسپورٹس پروموشن کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اگر اس سمت میں آگے بڑھتی ہے تو وہ کون سا ماڈل اختیار کرتی ہے، اور کیا اس عمل میں عوام، کھلاڑیوں، ماہرین اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے یا نہیں۔

#KPSports #SportsOutsourcing #SportsGovernance #SportsPolicy #PeshawarSportsComplex #HayatabadSportsComplex #PublicAssets #Transparency #Accountability #PakistanSports #GrassrootsSports #PublicInterest #InvestigativeJournalism #GoodGovernance #SportsInfrastructure

٠
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1031 Articles with 796992 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More