کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات منصوبہ ، اربوں روپے کا منصوبہ مکمل، مگر سوالات اب بھی زندہ

خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے فروغ کے لیے گزشتہ چند برسوں میں کئی بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں منصوبہ "Development of Various Playing Facilities and Repair of Existing Sports Facilities" تھا، جسے عام طور پر 1000 اسپورٹس فیسلٹیز منصوبہ کہا جاتا ہے۔اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ صوبے کے دور دراز اضلاع تک کھیلوں کی بنیادی سہولیات پہنچائی جائیں، نئے گراونڈز تعمیر کیے جائیں، موجودہ میدانوں کی مرمت کی جائے اور نوجوانوں کو مقامی سطح پر کھیلنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ حکومت نے اسے کھیلوں کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ منصوبہ جون 2026 میں مکمل ہونے کے بعد بند (Closed) کر دیا گیا۔ لیکن منصوبے کے اختتام کے باوجود اس کے گرد اٹھنے والے سوالات ختم نہیں ہوئے۔ ان سوالات کی بنیاد حکومت کی اپنی Provincial Inspection Team (PIT) کی تحقیقاتی رپورٹ اور بعد ازاں سامنے آنے والی خبریں ہیں، جنہیں روزنامہ ڈان نے نمایاں طور پر رپورٹ کیا۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی طور پر 2019 میں تقریباً 5.5 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں اس کی لاگت پر نظرثانی بھی کی گئی۔ منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں کھیلوں کے میدان تعمیر کرنے، موجودہ اسپورٹس فیسلٹیز کی بحالی اور بنیادی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس منصوبے کو نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ، صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اور ضلعی سطح پر کھیلوں کی سہولیات بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

کسی بھی ترقیاتی منصوبے میں سوالات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب شکایات سامنے آئیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے اور یونین کونسل سطح پر کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر سے متعلق مختلف شکایات حکومت تک پہنچیں۔ ان شکایات میں منصوبوں کے معیار، اخراجات، ادائیگیوں اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے۔ ان شکایات کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے 18 نومبر 2025 کو ایک Provincial Inspection Team (PIT) تشکیل دی تاکہ دونوں منصوبوں کی جامع تحقیقات کی جا سکیں۔ یہ خود ایک اہم پیش رفت تھی، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے شکایات کو محض نظر انداز کرنے کے بجائے اپنی تحقیقاتی مشینری کو متحرک کیا۔

ڈان نے 16 جنوری 2026 کو اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے بھی ان دونوں منصوبوں سے متعلق معلومات اور ریکارڈ طلب کیا۔ رپورٹ کے مطابق نیب نے محکمہ کھیل سے مختلف دستاویزات مانگیں، جن میں ،اصل PC-I، ،ٹینڈرنگ کا ریکارڈ، ، فنڈز کے اجرا کی تفصیلات، ادائیگیوں کا ریکارڈ، منصوبوں کی تکمیل سے متعلق دستاویزات، دیگر مالی اور انتظامی ریکارڈشامل تھے۔ڈان کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ نیب نے کسی شخص کے خلاف ریفرنس دائر کیا یا نہیں، بلکہ خبر میں صرف یہ بتایا گیا کہ تحقیقات کے لیے ریکارڈ طلب کیا گیا۔

اس معاملے میں سب سے اہم پیش رفت 5 فروری 2026 کو سامنے آئی، جب ڈان نے رپورٹر منظور علی کی خبر شائع کی۔ اس خبر کے مطابق وزیراعلیٰ کی قائم کردہ صوبائی انسپکشن ٹیم نے 121 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ مکمل کر لی تھی۔ ڈان کے مطابق رپورٹ میں دونوں اسپورٹس منصوبوں میں 700 ملین روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ اعداد و شمار اور نتائج PIT رپورٹ کے مطابق تھے۔ یہ کسی عدالت یا احتسابی عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں تھے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق PIT نے متعدد پہلووں پر سوالات اٹھائے، جن میں مالیاتی قواعد پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا۔ بعض ادائیگیوں کے لیے مطلوبہ ریکارڈ میں خامیاں۔ منصوبوں کی نگرانی کے نظام میں کمزوریاں۔ بعض منصوبوں میں تکنیکی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی۔ متعلقہ افسران کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کی سفارش۔ رپورٹ میں مختلف افسران اور ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی اور دیگر قانونی اقدامات کی سفارشات بھی شامل تھیں۔جون 2026 میں منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔اگر حکومت کی اپنی تحقیقاتی ٹیم نے اتنے سنگین اعتراضات اٹھائے تھے تو پھر ان سفارشات کا کیا بنا؟ کیا محکمانہ کارروائی مکمل ہوئی؟ کسی افسر کے خلاف سزا سنائی گئی؟ کسی نقصان کی ریکوری ہوئی؟ کسی ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی ہوئی؟ یا سفارشات صرف رپورٹ تک محدود رہ گئیں؟ ڈان کی دستیاب رپورٹس ان سوالات کے حتمی جواب فراہم نہیں کرتیں۔

ڈان نے جنوری اور فروری 2026 میں ان دونوں منصوبوں پر مسلسل رپورٹنگ کی، لیکن بعد میں کوئی ایسی تفصیلی فالو اپ رپورٹ سامنے نہیں آئی جس میں بتایا گیا ہو کہ PIT رپورٹ کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد ہوا، کسی کو سزا ملی یا مالی نقصان کی وصولی ہوئی۔ یہ خاموشی خود ایک عوامی مفاد کا سوال ہے۔ عوام کیا جاننا چاہتے ہیں؟ یہ منصوبہ عوام کے ٹیکس سے مکمل ہوا۔ اس لیے عوام کے سوال بھی جائز ہیں۔ کتنے گراونڈ حقیقت میں مکمل ہوئے؟ کتنے آج بھی استعمال ہو رہے ہیں؟ کتنے منصوبوں کی آزادانہ جانچ ہوئی؟ PIT رپورٹ پر کیا پیش رفت ہوئی؟ کیا حکومت نے رپورٹ عوام کے سامنے جاری کی؟ کیا سفارشات پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی موجود ہے؟ احتساب صرف رپورٹ نہیں کسی بھی تحقیقاتی رپورٹ کا اصل مقصد صرف بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر رپورٹ درست تھی تو کارروائی کہاں تک پہنچی؟ اگر رپورٹ غلط تھی تو اسے رد کیوں نہیں کیا گیا؟ اور اگر سفارشات پر عمل ہوا تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں آئیں؟ یہ سوالات صرف اس منصوبے تک محدود نہیں بلکہ صوبے میں مستقبل کے تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

1000 اسپورٹس فیسلٹیز منصوبہ سرکاری طور پر مکمل ہو چکا ہے، لیکن اس کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ ایک طرف اربوں روپے خرچ ہوئے، سینکڑوں منصوبے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور منصوبہ جون 2026 میں بند کر دیا گیا۔ دوسری طرف حکومت کی اپنی تحقیقاتی ٹیم نے مختلف مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جبکہ نیب نے بھی منصوبے سے متعلق ریکارڈ طلب کیا۔ آج، اس منصوبے کے اختتام کے بعد، سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان تحقیقات کا منطقی انجام کیا ہوا؟ کیا ذمہ داروں کا تعین ہوا؟ کیا سفارشات پر عمل درآمد ہوا؟ یا پھر یہ رپورٹ بھی سرکاری فائلوں کا حصہ بن کر رہ گئی؟یہ سوال صرف ایک منصوبے کا نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد، حکومتی شفافیت اور کھیلوں کے مستقبل کا ہے۔ جب تک ان سوالات کے واضح اور دستاویزی جواب سامنے نہیں آتے، 1000 اسپورٹس فیسلٹیز منصوبہ صرف ایک مکمل ہونے والا ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ رہے گا جس پر مزید جواب طلبی ہوتی رہے گی۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1031 Articles with 796993 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More