آبی جارحیت یا آبی بدانتظامی؟ اصل سوال بھارت نہیں، ہماری تیاری ہے


ہر بار جب بھارت اپنے ڈیموں کے سپل وے کھولتا ہے اور دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اچانک بڑھ جاتا ہے تو پاکستان میں ایک ہی نعرہ سنائی دیتا ہے کہ "بھارت نے آبی جارحیت کر دی۔" ٹی وی سکرینوں پر سرخ پٹیاں چلنے لگتی ہیں، سیاسی بیانات آتے ہیں اور سوشل میڈیا پر غصہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اس شور میں ایک بنیادی سوال دب جاتا ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہے کہ سیلابی پانی آئے گا تو ہم نے اسے محفوظ بنانے کے لیے کیا کیا؟

یہ حقیقت ہے کہ اگر کسی ڈیم میں پانی اپنی محفوظ حد سے بڑھ جائے تو سپل وے کھولنا انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق ضروری ہوتا ہے، ورنہ ڈیم خود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ البتہ اگر سندھ طاس معاہدے کے تحت پیشگی اطلاع دینا لازم ہو اور ایسا نہ کیا جائے تو یہ ایک الگ قانونی اور سفارتی مسئلہ ہے، جس پر پاکستان کو بھرپور احتجاج اور بین الاقوامی سطح پر کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ اگر اضافی پانی آ ہی گیا تو اسے ذخیرہ کرنے، سیلاب سے بچنے اور بعد میں زرعی ضروریات کے لیے استعمال کرنے کا بندوبست کیوں نہیں کیا گیا؟

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایک طرف بارشوں اور سیلاب کے دوران کروڑوں کیوسک پانی سمندر میں چلا جاتا ہے اور دوسری طرف چند ماہ بعد پانی کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ کسان پانی کے لیے احتجاج کرتے ہیں، نہریں خشک ہو جاتی ہیں اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعات کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ تضاد صرف قدرتی مسئلہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کی ناکامی بھی ہے۔

کئی دہائیوں سے نئے ڈیم، چھوٹے ذخائر، فلڈ چینلز اور جدید آبی نظام پر گفتگو تو ہوتی رہی، مگر عملی پیش رفت انتہائی محدود رہی۔ ہر حکومت نے منصوبوں کا اعلان کیا، مگر اکثر منصوبے سیاسی اختلافات، مالی مشکلات، قانونی تنازعات یا سست روی کا شکار ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ضرورت کے مطابق نہیں بڑھ سکی۔

دیامر بھاشا ڈیم اس کی ایک مثال ہے۔ اس منصوبے کو پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا جاتا رہا، مگر مختلف وجوہات کے باعث اس کی رفتار متاثر ہوئی۔ ایک مرحلے پر چینی انجینئرز پر دہشت گرد حملے نے بھی کام کو شدید نقصان پہنچایا۔ ایسے واقعات نہ صرف منصوبوں میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کا اعتماد بھی متاثر کرتے ہیں۔

پانی کا مسئلہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں بلکہ ملک کے اندر بھی حساس معاملہ ہے۔ سندھ کا مؤقف ہے کہ اسے اپنے حصے کا پانی نہیں ملتا، خاص طور پر فصلوں کی بوائی کے اہم موسم میں۔ دوسری طرف پنجاب کا مؤقف ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنی زرعی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم اور شفاف نگرانی کے بغیر یہ تنازع مزید بڑھتا رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پانی کے بہاؤ اور تقسیم کا نظام زیادہ شفاف اور قابل اعتماد بنایا جائے تاکہ شکوک و شبہات کم ہوں۔

ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ جب کبھی نئے ڈیم یا نہری منصوبوں کی بات ہوتی ہے تو مختلف صوبوں میں سیاسی مخالفت سامنے آ جاتی ہے۔ بعض حلقے اسے اپنے حصے کے پانی پر حملہ قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے اسے قومی ضرورت کہتے ہیں۔ اگر یہ اختلافات حل نہ کیے جائیں تو ہر منصوبہ سیاست کی نذر ہوتا رہے گا اور نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑے گا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں شہری منصوبہ بندی بھی آبی مسائل سے الگ نہیں رہی۔ کئی شہروں میں قدرتی ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں اور دریا کے کناروں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم ہو گئیں۔ ایسے علاقوں میں بارش یا سیلاب کے دوران پانی کے قدرتی راستے بند ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ شہری سیلاب اور بڑے مالی نقصانات کی صورت میں نکلتا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف نئی کالونیاں بنانا نہیں بلکہ ماحول اور پانی کے قدرتی نظام کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔

ہر بڑے سیلاب کے بعد امدادی پیکجوں، اعلانات اور دوروں کی خبریں ضرور آتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ایسے اقدامات کیے جن سے اگلا سیلاب کم نقصان پہنچائے؟ اگر ہر سال ایک ہی بحران دہرایا جائے تو اسے قدرتی آفت نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی بھی کہا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت جذباتی نعروں سے زیادہ سائنسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ملک کو بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ذخائر، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے، فلڈ ڈائیورژن چینلز، جدید آبپاشی، نہروں کی بہتری اور پانی کے ضیاع کو کم کرنے والی ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ صوبوں کے درمیان اعتماد، شفاف ڈیٹا شیئرنگ اور مستقل آبی پالیسی بھی ناگزیر ہے۔

بھارت اگر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پاکستان کو قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز پر مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔ لیکن صرف بھارت کو مورد الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ قوم کو یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پانی ذخیرہ کرنے، سیلابی پانی کو کارآمد بنانے اور مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہماری اپنی حکومتوں نے کیا عملی اقدامات کیے۔

اصل سوال یہی ہے کہ ہر سال سیلاب کے بعد ہم صرف نقصان کا حساب لگائیں گے یا کبھی ایسا بھی ہوگا کہ اضافی پانی ہمارے لیے مصیبت نہیں بلکہ ایک قیمتی قومی اثاثہ بن جائے؟ اگر آج بھی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو آنے والی نسلیں بھی یہی سوال پوچھیں گی کہ پانی تو آتا رہا، مگر اسے سنبھالنے کی تیاری کب ہوئی؟
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1033 Articles with 797775 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More