100 ملین روپے کی عمارت، 12 کمرے اور سرکاری جواب: وی آئی پی ہاسٹل موجود نہیں


خیبر پختونخوا اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے زیرانتظام اسپورٹس کمپلیکس میں موجود 12 کمروں پر مشتمل ایک عمارت کے حوالے سے تقریباً ایک سال قبل دائر کی گئی رائٹ ٹو انفارمیشن درخواست کے جواب نے معاملہ حل کرنے کے بجائے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔درخواست گزار کی جانب سے محکمہ سے مبینہ وی آئی پی ہاسٹل میں رہائش پذیر افراد، کمروں کی الاٹمنٹ، کرایہ وصولی کی پالیسی، گزشتہ پانچ سال کے دوران رہائش اختیار کرنے والے افراد، وصول شدہ رقم اور اس رقم کو سرکاری خزانے میں جمع کرانے سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

تاہم تقریباً ایک سال بعد موصول ہونے والے مختصر جواب میں پبلک انفارمیشن آفیسر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ **“وی آئی پی ہاسٹل موجود نہیں ہے۔”**۔محکمے کے اس جواب کے بعد بنیادی سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ اگر وی آئی پی ہاسٹل موجود نہیں تو اسپورٹس کمپلیکس میں موجود **12 کمروں پر مشتمل عمارت کی سرکاری حیثیت کیا ہے؟**موقع پر موجود عمارت اور دستیاب تصاویر کے مطابق عمارت میں 12 کمرے موجود ہیں جبکہ کمروں میں ایئرکنڈیشننگ کی سہولت بھی نصب ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 12 میں سے چار کمروں سے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ باقی آٹھ کمروں کے استعمال کے عوض گزشتہ تقریباً تین سال سے اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کو مبینہ طور پر کوئی کرایہ ادا نہیں کیا گیا۔

یہ صورتحال محکمہ کھیل کے لیے کئی بنیادی سوالات سامنے لاتی ہے۔اگر عمارت وی آئی پی ہاسٹل نہیں تو چار کمروں سے کرایہ کس پالیسی یا قانونی اختیار کے تحت وصول کیا جا رہا ہے؟ اگر یہ سرکاری رہائشی سہولت ہے تو پھر اسے RTI جواب میں “وی آئی پی ہاسٹل موجود نہیں” کیوں قرار دیا گیا؟ اور اگر یہ کسی اور سرکاری سہولت کا حصہ ہے تو اس کا سرکاری نام اور منظور شدہ مقصد کیا ہے؟اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مذکورہ سہولت کو سابق وزیراعلیٰ محمود خان کے دور حکومت میں کھیلوں کے شعبے کے ایک تقریباً **100 ملین روپے کے منصوبے** سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

عوامی فنڈز سے تعمیر ہونے والے کسی بھی اثاثے کے بارے میں یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے تعمیر ہوا، اس کا موجودہ استعمال کیا ہے، کس کے قبضے یا استعمال میں ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کس سرکاری اکاو¿نٹ میں جمع ہو رہی ہے۔ اگر آٹھ کمرے واقعی تقریباً تین سال سے بغیر کرائے استعمال ہو رہے ہیں تو محکمہ سے یہ بھی پوچھا جانا ضروری ہے کہ ان کمروں کے لیے کوئی تحریری اجازت موجود ہے یا نہیں۔اگر اجازت موجود ہے تو کس مجاز افسر یا اتھارٹی نے دی؟ کیا مفت رہائش یا استعمال کسی منظور شدہ حکومتی پالیسی کے تحت دیا گیا؟ اگر کرایہ معاف کیا گیا تو اس کی قانونی بنیاد کیا ہے؟ ان کمروں میں کون رہائش پذیر رہا؟ کیا ان افراد کا تعلق محکمہ کھیل سے تھا یا کسی دوسرے ادارے سے؟ کیا رہائش عارضی تھی یا مستقل؟ اور سب سے اہم، اگر آٹھ کمروں کا کرایہ وصول نہیں کیا گیا تو اس سے سرکاری خزانے کو ممکنہ طور پر کتنی آمدنی سے محروم ہونا پڑا؟ یہ سوالات کسی فرد کو قصوروار قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ سرکاری اثاثے کے استعمال اور مالی انتظام کی شفافیت جانچنے کے لیے اہم ہیں۔

محکمہ کے RTI جواب میں اگر وی آئی پی ہاسٹل کے وجود سے ہی انکار کیا گیا ہے تو چار کمروں سے مبینہ طور پر وصول ہونے والے کرائے کی قانونی حیثیت بھی واضح ہونی چاہیے۔ محکمہ کو بتانا چاہیے کہ کرایہ کس عمارت یا سہولت کے استعمال کے عوض وصول کیا جا رہا ہے، ماہانہ کرایہ کتنا مقرر ہے، کس پالیسی کے تحت مقرر کیا گیا اور گزشتہ پانچ سال میں مجموعی طور پر کتنی رقم وصول ہوئی۔اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وصول شدہ رقم محکمہ کے کس اکاو¿نٹ میں جمع ہوئی اور اس کی رسیدیں اور متعلقہ مالی ریکارڈ کہاں موجود ہیں۔ اگر عمارت سرکاری اثاثہ ہے تو اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مکمل ریکارڈ بھی سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے۔

RTI درخواست کا بنیادی مقصد سرکاری معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا، لیکن تقریباً ایک سال کے انتظار کے بعد ملنے والے جواب نے معاملہ مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ گر محکمہ کا موقف درست ہے کہ **“وی آئی پی ہاسٹل موجود نہیں”** تو پھر محکمہ کو اس عمارت کا اصل نام، اس کی تعمیر کا مقصد، تعمیر پر خرچ ہونے والی رقم، موجودہ استعمال اور کمروں کی الاٹمنٹ کی مکمل تفصیل فراہم کرنی چاہیے۔اس سے یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ درخواست گزار کی جانب سے جسے وی آئی پی ہاسٹل سمجھا جا رہا تھا، وہ سرکاری ریکارڈ میں حقیقتاً کیا ہے۔

معاملے کی شفاف وضاحت کے لیے متعلقہ ریکارڈ سامنے لانا ضروری ہوگا، جس میں عمارت کی تعمیر سے متعلق PC-I اور ADP دستاویزات، انتظامی منظوری، ٹیکنیکل منظوری، ورک آرڈر، تکمیلی سرٹیفکیٹ، اثاثہ رجسٹر، کمرہ الاٹمنٹ آرڈرز، کرایہ رجسٹر، کرایہ وصولی کی رسیدیں اور بجلی و دیگر یوٹیلیٹی اخراجات کا ریکارڈ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اگر آٹھ کمروں کو مفت استعمال کی اجازت دی گئی تھی تو متعلقہ تحریری منظوری بھی سامنے آنی چاہیے۔ اگر تمام معاملات قواعد کے مطابق ہوئے ہیں تو ریکارڈ سامنے آنے سے سوالات کا جواب مل جائے گا اور محکمہ اپنا موقف واضح طور پر ثابت کرسکے گا۔ تاہم اگر سرکاری ریکارڈ اور زمینی صورتحال میں فرق پایا جاتا ہے تو پھر اس کی وضاحت بھی ضروری ہوگی۔

اس معاملے میں اصل بحث صرف یہ نہیں کہ عمارت کو “VIP Hostel” کہا جائے یا کوئی دوسرا نام دیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ **12 کمروں پر مشتمل سرکاری عمارت کیا ہے، کس مقصد کے لیے استعمال ہورہی ہے، کس کے استعمال میں ہے اور اس کے مالی معاملات کیا ہیں؟** اگر یہ عمارت واقعی 100 ملین روپے کے عوامی منصوبے کا حصہ ہے تو اس کے استعمال اور موجودہ حیثیت کا ریکارڈ عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ سرکاری ادارے کے لیے سب سے آسان راستہ یہی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات فراہم کرے اور واضح کرے کہ: **12 کمرے کس عمارت کے ہیں؟** **چار کمروں سے کرایہ کیوں لیا جارہا ہے؟** **آٹھ کمروں کے لیے تقریباً تین سال سے کرایہ کیوں نہیں لیا گیا؟** **ان کمروں کو استعمال کرنے والے افراد کون تھے؟****الاٹمنٹ کس اختیار کے تحت ہوئی؟** **اور اگر یہ VIP Hostel نہیں ہے تو پھر سرکاری ریکارڈ میں اس عمارت کا اصل نام اور مقصد کیا ہے؟**ایک سرکاری جواب میں “وی آئی پی ہاسٹل موجود نہیں” لکھ دینے سے 12 کمروں کی عمارت ختم نہیں ہوجاتی۔ اگر عمارت موجود ہے، سرکاری وسائل سے بنی ہے اور اس کے کمروں کا استعمال ہورہا ہے تو اس کا ریکارڈ بھی موجود ہونا چاہیے۔

**عوامی اثاثے کے بارے میں سوال پوچھنا کسی فرد کے خلاف الزام نہیں بلکہ شہری کا قانونی حق ہے، اور RTI کا مقصد بھی یہی ہے کہ سرکاری ریکارڈ اور زمینی حقیقت کے درمیان کوئی ابہام باقی نہ رہے۔**

#KP #KhyberPakhtunkhwa #SportsDirectorate #SportsDirectorateKP #RTI #RightToInformation #PublicAssets #PublicMoney #GovernmentProperty #Accountability #Transparency #GoodGovernance #SportsComplex #VIPHostel #KPNews #InvestigativeJournalism #PublicInterest #TaxpayersMoney #GovernmentAccountability #PublicFunds #Audit #TransparencyMatters #Pakistan #KhyberPakhtunkhwaNews


Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1047 Articles with 806221 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More