چین میں کھیل زندگی کا لازمی حصہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں کھیل زندگی کا لازمی حصہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
کھیل کا میدان اگر گھر کے قریب ہو، ورزش کی سہولت آسانی سے دستیاب ہو اور خالی پڑی جگہ کو صحت مند سرگرمیوں کے لیے استعمال کر لیا جائے تو روزمرہ زندگی کا انداز بدل سکتا ہے۔ چین میں کھیلوں کے فروغ کی نئی حکمت عملی اسی سوچ کو عملی شکل دے رہی ہے۔ اب مقصد صرف بڑے اسٹیڈیم تعمیر کرنا نہیں بلکہ گلی، محلے، رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کے قریب ایسی سہولیات پیدا کرنا ہے جہاں عام لوگ روزانہ ورزش کر سکیں۔
چین نے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران، یعنی 2026 سے 2030 تک، ملک کو کھیلوں کے حوالے سے ایک مضبوط اور نمایاں ملک بنانے کا منصوبہ جاری کیا ہے۔ یہ اس موضوع پر چین کا پہلا قومی سطح کا خصوصی منصوبہ ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ 2030 تک ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی باقاعدگی سے جسمانی ورزش میں حصہ لے اور کھیلوں کی مجموعی صنعت کی مالیت 7 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر جائے۔
اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ کھیلوں کو صرف پیشہ ور کھلاڑیوں یا بڑے مقابلوں تک محدود رکھنے کے بجائے عام شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی سے جوڑنے پر زور دیا گیا ہے۔ عوامی ورزش کی سہولیات میں اضافہ، موجودہ کھیلوں کے مقامات کا بہتر استعمال، صحت اور کھیلوں کے درمیان زیادہ گہرا تعلق اور کھیلوں کو طبی خدمات کے ساتھ مربوط کرنا اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
چین کے مختلف علاقوں میں اس سوچ کے عملی نمونے پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ مقامات پر ایسے کھیلوں کے پارک قائم کیے گئے ہیں جہاں روایتی کھیلوں کے میدانوں کے ساتھ جدید اور ذہین ورزش کی مشینیں بھی نصب ہیں۔ اسمارٹ روئنگ مشینیں اور ورزش کی سائیکلیں لوگوں کو روزانہ ورزش کے ساتھ ساتھ بڑی اسکرینوں کے ذریعے دوسروں کے ساتھ مقابلے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔
اس طرح کی سہولیات خاص طور پر نوجوانوں اور خاندانوں میں مقبول ہو رہی ہیں۔ کھیلوں کے پارکس میں مختلف سرگرمیوں کی تعداد 30 سے زیادہ ہے اور وہاں آنے والوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ورزش کو آسان، دلچسپ اور قریب تر بنا دیا جائے تو لوگوں کی شرکت خود بخود بڑھنے لگتی ہے۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے صرف بڑے پارک ہی استعمال نہیں کیے جا رہے بلکہ رہائشی علاقوں میں موجود چھوٹی اور نظر انداز شدہ جگہوں کو بھی نئی زندگی دی جا رہی ہے۔ کئی دہائیوں پرانے بعض رہائشی علاقوں میں خاموش پڑے باغات کو ازسرنو تعمیر کرکے بزرگوں کے لیے آرام دہ نشستیں، ورزش کا سامان اور پیدل چلنے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ جو جگہیں پہلے تقریباً غیر استعمال شدہ تھیں، وہاں اب روزانہ لوگ چہل قدمی اور ورزش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی تصور چین کے بعض علاقوں میں ’’سنہری گوشہ اور چاندی کا کنارہ‘‘ کے نام سے اختیار کیا جا رہا ہے، یعنی نئی زمین حاصل کرنے کے بجائے موجودہ چھوٹی، خالی یا کم استعمال ہونے والی جگہوں کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا۔ اس طریقے سے کم رقبے اور نسبتاً کم لاگت میں کھیلوں کی نئی سہولیات تیار کی جا رہی ہیں۔
کچھ مقامات پر تقریباً 11 ہزار مربع میٹر کی ایسی زمین، جو کبھی ملبے اور جھاڑیوں سے بھری ہوئی تھی، کو کھیلوں کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں میدان بنائے گئے اور پیشہ ورانہ انتظام کا نظام متعارف کرایا گیا۔ کھیلوں کی تربیت، مطالعاتی دوروں اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے یہ جگہ خود اپنے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اردگرد کے کاروبار کے لیے بھی نئی سرگرمی پیدا کر رہی ہے۔
کھیلوں کا یہ ماڈل اس بات کی مثال ہے کہ شہری سہولت صرف ورزش تک محدود نہیں رہتی بلکہ مقامی معیشت کو بھی متحرک کر سکتی ہے۔ جہاں کھیلوں کے میدان بنتے ہیں، وہاں کیفے، کیمپنگ، کھانے پینے اور دیگر خدمات کی طلب بھی بڑھ سکتی ہے۔ یوں ایک نظر انداز شدہ زمین صحت، تفریح اور مقامی کاروبار کا مرکز بن جاتی ہے۔
اسی طرح بعض علاقوں میں برسوں سے بند یا غیر فعال سوئمنگ پولز اور دیگر پرانی کھیلوں کی سہولیات کو نئے کھیلوں کے پارکوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کہیں فٹبال کے میدان، تماشائیوں کے لیے نشستیں اور مشترکہ پارکنگ بنائی گئی ہے تاکہ ایک ہی جگہ مختلف عمر کے افراد اپنی ضرورت کے مطابق کھیل اور ورزش کر سکیں۔
اس منصوبے میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کھیلوں کی سہولیات بنانا ہی کافی نہیں بلکہ ان کا مناسب استعمال اور دیکھ بھال بھی ضروری ہے۔ چین کی نئی حکمت عملی میں مقامی سطح پر کھیلوں کی سہولیات کی سائنسی تقسیم، موجودہ میدانوں کے استعمال میں بہتری اور تعمیر کے بعد ان کی دیکھ بھال پر خاص زور دیا گیا ہے۔
یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دنیا کے کئی معاشروں میں کھیلوں کے لیے عمارتیں اور میدان تو بن جاتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کی دیکھ بھال اور استعمال کا نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ چین کی موجودہ حکمت عملی اس مسئلے کو ابتدا ہی میں پالیسی کا حصہ بنا رہی ہے۔
بزرگوں، بچوں اور معذور افراد کے لیے سہولیات کو زیادہ قابل رسائی بنانا بھی اسی سوچ کا حصہ ہے۔ آئندہ پانچ برسوں کے دوران مختلف رہائشی علاقوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کے قریب مزید چھوٹے کھیلوں کے پارک قائم کرنے اور موجودہ سہولیات کو بزرگوں اور بچوں کے لیے زیادہ موزوں بنانے کا منصوبہ ہے۔
چین کے بعض علاقوں میں ’’سنہری گوشہ اور چاندی کا کنارہ‘‘ منصوبوں کے تحت اب تک 53 ہزار سے زیادہ کھیلوں کی سہولیات قائم کی جا چکی ہیں جبکہ 2026 میں رہائشی علاقوں کے قریب مزید 10 ہزار کھیلوں کی سہولیات تعمیر یا ازسرنو تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اس پوری حکمت عملی کو دیکھا جائے تو چین میں کھیلوں کے شعبے کی سمت واضح طور پر بدل رہی ہے۔ پہلے کھیلوں کا تصور زیادہ تر اسٹیڈیم، مقابلوں اور پیشہ ور کھلاڑیوں کے گرد گھومتا تھا، لیکن اب توجہ عام شہری، صحت، روزمرہ ورزش اور مقامی کمیونٹی پر مرکوز ہو رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اس عمل کو مزید آسان بنا رہی ہے جبکہ چھوٹی خالی جگہوں کا استعمال اس کی لاگت کم کر رہا ہے۔
چین کے تناظر میں یہ سوچ اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ صرف اسپتالوں اور ادویات سے نہیں بنتا۔ اگر شہریوں کو اپنے گھروں کے قریب چلنے، دوڑنے، کھیلنے اور ورزش کرنے کی سہولت ملے تو بیماریوں سے بچاؤ، ذہنی سکون اور معیار زندگی میں بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے کھیلوں کو صحت عامہ کے ساتھ جوڑنا محض ایک کھیلوں کی پالیسی نہیں بلکہ طویل المدت سماجی ترقی کا حصہ بن سکتا ہے۔
چین کی موجودہ کوششوں سے ایک سادہ سبق سامنے آتا ہے کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر جگہ بڑے اور مہنگے منصوبوں کی ضرورت نہیں۔ کبھی ایک خالی قطعہ زمین، ایک چھوٹا پارک، چند معیاری آلات یا ایک پرانا سوئمنگ پول بھی لوگوں کو فعال بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے درست منصوبہ بندی، مسلسل دیکھ بھال اور عوامی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے۔
اگر کھیل کو روزمرہ زندگی کے قریب لایا جائے تو میدان صرف کھیلنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ صحت، تفریح، سماجی میل جول اور مقامی معیشت کا مرکز بن جاتا ہے۔ چین کی نئی پالیسی اسی تصور کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھا رہی ہے، جہاں کھیل کسی خاص طبقے کی سرگرمی نہیں بلکہ عام زندگی کا ایک لازمی اور خوشگوار حصہ بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ |
|