جھوٹ ایک بد ترین گناہ کبیرہ

(Pir Muhammad Tabassum Bashir Owaisi, Narowal)
ہمارے دین کامل اسلام میں جھوٹ بہت بڑا عیب اور بد ترین گناہ کبیرہ ہے ۔جھوٹ کا مطلب ہے ”وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہو“ یعنی اصل میں وہ بات اس طرح نہیں ہوتی ۔جس طرح بولنے والا اسے بیان کرتا ہے ۔اس طرح وہ دوسروں کو فریب دیتا ہے ۔جو اللہ اور بندوں کے نزدیک بہت برا فعل ہے ۔جھوٹ خواہ زبان سے بولا جائے یا عمل سے ظاہر کیا جائے ۔مذاق کے طور پر ہو یا بچوں کو ڈرانے یا بہلانے کےلئے ہر طرح سے گناہ کبیرہ اور حرام ہے ۔

جھوٹ ام الخبائث (برائیوں کی جڑ)ہے ۔کیونکہ اس سے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لیتی ہیں ۔جھوٹ بولنے والا ہر جگہ ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔ہر مجلس میں اور ہر انسان کے سامنے بے اعتبار و بے وقار ہو جاتا ہے ۔جھوٹ بولنے سے دنیا و آخرت کا نقصان ،عذاب جہنم اور قبر کی قسم قسم کی سزاﺅں میں مبتلا ہوتا ہے ۔جھوٹ بولنے سے آدمی ،اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں ،نبیوں اور ولیوں کی رحمت و عنایت سے دور ہوجاتا ہے ۔جھوٹے آدمی پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے ۔جھوٹ بولنے والے کا دل سیاہ اور چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے ۔رزق میں برکت ختم ہو جاتی ہیں ۔جھوٹ غم و فکر پیدا کرتا ہے کیونکہ ایسا آدمی وقتی طور پر مطمئن ہوجاتا ہے ۔لیکن بعد میں اس کا ضمیر اسے ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے ۔جس کے نتیجے میں وہ اطمینان قلب کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے ۔

جھوٹ گناہوں کا دروازہ ہے کیونکہ ایک جھوٹ بول کر اسے چھپانے کےلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ۔قرآن و حدیث اس میں قبیح عادت کو چھوڑنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔
قرآن حکیم میں جھوٹ کی مذمت:ارشاد خدا وندی ہے۔

فی قلوبھم مرض فزادھم اللّٰہ مرضا۔ ولھم عذاب الیم بما کانوا یکذبون”ان کے دلوں میں مرض ہے تو اللہ نے ان کے مرض میں اضافہ کر دیا ۔اور ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔“
ایک مقام پر فرمایا:
ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھٰذا حلال و ھذا حرام لتفتروا علی اللّٰہ الکذب ط ان الذین یفترون علی اللّٰہ الکذب لا یفلحون ، متاع قلیل ولھم عذاب الیم۔”اور یونہی جھوٹ تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہااللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے ۔فائدہ تو تھوڑا ہے مگر ان کے لئے عذاب الیم ہے۔“

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:فاجتنبو الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور۔”بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے ۔جھوٹ اتنا خطر ناک گناہ ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے اس کا ذکر شرک کے ساتھ کیا ہے اور مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جھوٹ سے مکمل طور پر بچیں ”زور“میں ہر قسم کا جھوٹ اور جھوٹی گواہی آجاتی ہیں ۔زندگی کا اصل مقصد ہی ہدایت یافتہ ہونا ہے ،مگر جھوٹ ایسی چیز ہے جس سے ہدایت حاصل نہیں ہو سکتی ۔کیونکہ جھوٹ میں اصل پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے ،اس لئے جھوٹ سے حقیقت کیسے حاصل ہو سکتی ہے ۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بھی جھوٹے کو ہدایت نہ ملنے کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے :ان اللّٰہ لایھدی من مسرف کذاب۔”بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا ۔جو حد سے بڑھنے والا جھوٹا ہو۔“

قیامت کے دن جھوٹوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ،اس بارے میں ارشاد فرمایا:ویوم القیامة تری الذین کذبوا علی اللّٰہ ، وجوھھم مسودة ۔الیس جھنم مثوی لِّلمتکبرین۔”اور قیامت کے دن جنہوں نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے ۔ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔کیا متکبرین کے لئے جہنم کا ٹھکانا کافی نہیں ہے؟“

جھوٹ کی مذمت میں احادیث کریمہ:رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ صدق کو لازم کر لو! کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے ۔آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے ۔آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ اسے اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔

ایک فرمان نبوی ﷺ ہے کہ جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑدے اور وہ (جھوٹ)باطل ہے تو اس کے لئے جنت کے کنارے میں مکان بنایا جائے گا ۔جس نے جھگڑا کرنا چھوڑ دیا اور وہ حق پر ہے ،یعنی حق پر پہنچے کے باوجود جھگڑا نہیں کرتا ،اس کے لئے جنت کے وسط میں مکان بنایا جائے گا اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کیے ، اس کے لئے جنت کے اعلیٰ درجہ میں مکان بنایا جائے گا۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتہ ایک میل دور ہو جاتا ہے ۔مزید فرمایا کہ بڑی خیانت کی بات یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس میں سچا جان رہا ہے اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے ۔

آپ ﷺ کا فرمان عالی ہے کہ مومن کی طبع میں تمام خصلتیں ہوسکتی ہیں مگر خیانت اور جھوٹ یعنی دونوں چیزیں ایمان کے خلاف ہیں ۔مومن کو ان سے دور رہنا بہت ضروری ہے ۔

ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟!
فرمایا :ہاں پھر عرض کیا گیا :کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟ فرمایا ہاں۔ پھر پوچھا گیا :کیا مومن کذاب (جھوٹا) ہو سکتا ہے ؟ فرمایا: نہیں ۔

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بندہ پورا مومن نہیں ہو تا ،جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولنا نہ چھوڑ دے اور جھگڑا کرنا نہ چھوڑدے، اگر چہ سچا ہو ۔

ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ ہلاکت ہے اس کے لئے جو بات کرتا ہے اور لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے ۔اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے ۔

آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا کہ بندہ بات کرتا ہے اور محض اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے ،اس کی وجہ سے جہنم کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جو آسمان و زمین کے درمیان کے فاصلہ سے بھی زیادہ ہے اور زبان کی وجہ سے جتنی لغزش ہوتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے ،جتنی قدم سے لغزش ہوتی ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرماتھے کہ میری والدہ نے مجھے بلایا کہ میرے پاس آﺅ تمہیں کچھ دو ں گی۔ آ پ نے فرمایا کیا چیز دینے کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا کجھوروں گی تو آپ نے ارشاد فرمایا اگر تو کچھ نہ دیتی تو یہ تیرے ذمہ جھوٹ لکھا جاتا ۔

آپ کا فرمان عالی شان ہے کہ جھوٹ سے منہ کالا ہوتا ہے اور چغلی سے قبر کا عذاب ہے ۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ جھوٹ بولنے سے روزی میں کمی آجاتی ہے ۔

ایک حدیث پاک میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تجارت کرنے والے فاجر ہوتے ہیں ۔مراد یہ کہ عموما ًایسے ہوتے ہیں ۔لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ کیا بیع حرام ہے ؟ فرمایا :

نہیں حرام تو نہیں ،بلکہ حلال ہے لیکن یہ لوگ جھوٹ قسمیں کھاتے ہیں اور گنہگار ہوتے چلے جاتے ہیں اور بات بات پر غلط بیانی سے کام لیتے ہیں ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا ،تو آپ نے فرمایا کہ وہ کوئی چیز نہیں ہیں ۔لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ !بعض اوقات وہ ایسی بات بتاتے ہیں جو درست ثابت ہوتی ہے تو آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ درست بات جنات کی طرف سے ہوتی ہے جسے وہ کاہن کے کان میں ڈال دیتے ہیں ۔جیسے ایک مرغ دوسرے مرغ کے کان میں آواز پہنچادیتا ہے اور پھر کاہن اس میں سوسے زیادہ جھوٹ ملالیا کرتا ہے ۔

فرمان نبویﷺ ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام کرے گا ،نہ ان کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا ،بلکہ انہیں درد ناک عذاب دے گا۔ وہ تین آدمی بوڑھا زانی ،جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر ہیں ۔

ایک بار رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کیا میں تمہیں بہت بڑے کبیرہ گناہ کے بارے میں نہ بتاﺅں ؟ تین مرتبہ یونہی فرمایا ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا :ہاں ،کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ! آپ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا ۔آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے ،اٹھ بیٹھے اور فرمایا سنو! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی ،آپ مسلسل فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ خاموش ہو جائیں۔

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
میں بیوقوف لوگوں کی سرداری سے تمہیں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتا ہوں ۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ میرے کچھ عرصے بعد حکام ہوں گے جو جھوٹ پر بھی ان کی تصدیق کرے اور ظلم پر بھی ان کی مدد کرے وہ مجھ سے نہیں اور میں ان سے نہیں وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہیں آسکیں گے ۔جو ان کے پاس نہ جائے ،جھوٹ پر ان کی تصدیق نہ کرے اور ظلم پر ان کی مدد نہ کرے تو ایسے لو گ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور یہی لوگ ہیں جو حوض کو ثر پر میرے پاس آئیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی ایک سچائی کا لفظ منہ سے نکالتا ہے اور اس کی قدر و قیمت نہیں جانتا تو اس کے باعث اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت تک کی رضا مندی لکھ دیتا ہے ۔ایک آدمی جھوٹ لفظ منہ سے نکالتا ہے اور اس کی حقیقت کو نہیں جانتا تو اس کے باعث اللہ تعالیٰ اس کے لئے ملاقات کے دن تک کے لئے ناراضگی لکھ دیتا ہے ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ کو یوں دعا کرتے ہوئے دیکھا کہ اے اللہ ! میرے دل کو نفاق اور نفس کو برائی سے اور زبان کو کو جھوٹ سے محفوظ رکھ ۔نبی مکرم ﷺ کا ارشاد عالی ہے :اگر تم میری چھ باتوں پر عمل کر لو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا:ایک یہ کہ جب بات کرو تو جھوٹ نہ بولو۔دوسری یہ کہ وعدہ کرو تووعدہ خلافی نہ کرو۔تیسری یہ کہ امانت میں خیانت نہ کرو ۔چوتھی یہ کہ بری نگاہ سے کسی کو نہ دیکھو ۔پانچویں یہ کہ کسی کو تکلیف نہ دو ۔چھٹی یہ کہ شرمگاہ کی حفاظت کرو۔
تین صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے:
1۔ جنگ کی صورت میں ،کیونکہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے ۔اسی طرح ظالم ظلم کرنا چاہتا ہو تو اس کے ظلم سے بچنے کے لئے بھی جائز ہے ۔
2۔ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اختلاف ہے اور یہ ان میں صلح کرانا چاہتا ہے ۔مثلاً ایک کے سامنے یہ کہہ دے کہ وہ تمہیں اچھا جانتا ہے اور تمہاری تعریف کرتا تھا یا اس نے تمہیں سلام کہلا بھیجا ہے اور دوسرے کے سامنے بھی اسی قسم کی باتیں کرے تاکہ دونوں میں عداوت کم ہو جائے اور صلح ہو جائے ۔
3۔ یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خلاف واقع کہہ دے۔
کتاب و سنت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بہت برا گناہ ہے ،جو انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺسے بہت دور کردیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دین و دنیا کے لئے جھوٹ سراسر نقصان اور خسارے کا سودا ہے ۔لہٰذا ہمیں سوچنا چاہئے کہ یہ زندگی چند روزہ ہے ،آخر ایک نہ ایک دن یہاں سے جانا پڑے گا ،پھر ہمارے بولے ہوئے جھوٹ ہمارے کسی کام نہ آئیں گے ۔اس لئے آپ زندگی کے جس شعبے میں بھی ہیں ،اسے جھوٹ کی آمیزش سے پاک کر لیں اور آئندہ جھوٹ بولنے سے توبہ کر لیں اور اللہ تعالیٰ سے پکا وعدہ کر لیں کہ زندگی بھر جھوٹ کی راہ اختیار نہیں کریں گے ۔اللہ تعالیٰ سچ کو فتح عطا فرماکر ہمیں اپنی زبان و کلام جھوٹ سے پاک رکھنے کی توفیق دے ۔آمین۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 5043 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Muhammad Tabassum Bashir Owaisi

Read More Articles by Pir Muhammad Tabassum Bashir Owaisi: 198 Articles with 325104 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
حدیثوں کا حوالہ کیوں نہیں دیا گیا ہے۔
بغیر حوالہ کے کوئی بھی حدیث ارسال نہ کریں۔
By: Naomam basheer, MLG on Sep, 11 2019
Reply Reply
0 Like
Asians zeada joot boltey hain ,Is barey koye Tehqiqe ho to passe karein.Pakistan main to Jhoot bolna koye burrae hi nahi samji jati balka syesat kehtey hain.
By: ghulam ahmed daud, Islamabad on May, 18 2012
Reply Reply
0 Like
Language: