انبیاء کی حیات برزخی یا دونیاوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمد و نصلی علی رسولہ الکریم
رب شرح لی صدری و یسرلی امری وحلل عقدةمن لسانی یفقوا قولی
الاقوال السلفیہ فی حیاة الانبیاء
محترم ساتھیو:۔ السلام علیکم:

ایک مسلمان کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ نے ایسے عظیم اشخاص کو پسند کیا جن کو اس نے انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا اور وہ عظیم اشخاص اللہ کے برگزیدہ انبیاء ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی لوگوں کو اللہ کی وحدانیت پر قائم رکھنے میں صرف کردی کیونکہ ہر نبی کی دعوت کا محور توحید باری تعالی ہے اور جس کا بیان قرآن میں موجود ہے

ولقد بعثنا فی کل امة رسولاان اعبدواللہ (سورہ النحل٣٦) ''اور ہم نے ہر قوم کی طرف ایک رسول بھیجا(جو کہتے کہ ) اللہ کی عبادت کرو''اور اس کی تکمیل امام الانبیاء رحمتہ للعلمینۖ نے کی ہے اور یہ نبی اکرمۖ کی تعلیمات ہی کے ثمرات ہے کہ آج تک مسلمان توحید باری تعالی پر قائم ہیں مگر بعض مسلمانوں نے نبی اکرمۖ کی تعلیمات کو صحابہ کرام اور سلف وصالحین کے طریقہ سے ہٹ کراپنی عقل پر سمجھنے کی کوشش کی اور اسی بنا پر غلط فہمی کا شکار ہو گئے اور انہوں نے بعض ایسی باتیں دین میں داخل کردیں جو نہ نبی اکرم ۖ کی تعلیمات کا حصہ ہے اور نہ صحابہ کرام اور سلف صالحین سے منقول ہیں ۔

غیر اللہ کو پکارنا انبیاء کرام علیہ السلام کو ندا دینا ان سے مدد طلب کرنا یہ وہ باتیں ہیں جو امام الانبیاء ۖ کی تعلیمات سے قطعی طور پر ثابت نہیں ہے اور اسی بنا پر یہ صحابہ کرام سے بھی منقول نہیں ہوسکتی ہیں مگر بعض مسلمان جنہوں نے نبی اکرمۖ کی احادیث کو فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم و سلف صالحین سے دور ہو کر سمجھا تو اس سے غلط استدلال کیا مگر ان میں جو مدعا بیان ہوا ہے اس کا ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ان احادیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور سلف و صالحین نے اس قسم کے مسائل اخذ ہی نہیں کیے ہیں اور ان ہی کے طریقہ پر ہم ان دلائل کو نقل کر کے اس کی غلطی واضح کریں گے (وتوفیق باللہ)

استدلال باطلہ کا رد
اس باب کے تحت ہم ان دلائل کو نقل کریں گے جو اس نظریہ کے حق میں دیئے جاتے ہیں ان دلائل کی بنیاد قرآن کی ایک آیت اور چند احادیث ہیں جن سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیہ السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں اور اس حیات کو وہ دنیاوی حیات پر قیاس کرتے ہیں اور اسی بنا پر وہ غیر اللہ کو پکارنا انبیاء علیہ السلام کو ندا اور ان سے مدد طلب کرنا جائز مانتے ہیں مگر یہ تمام امور نبی اکرمۖ کی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں نہ یہ باتیں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ثابت ہیں اور نہ تابعین سے ثابت ہیں اور نہ آئمہ محدثین نے ان احادیث سے اس قسم کا استدلال کیا ہے اب ہم ان دلائل کو آپ کے سامنے ترتیب وار بیان کریں گے۔
اس ضمن میںقرآن کی جس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے
'' ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون (البقرة ١٥٤) '' اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں مگر تم اس کا شعور نہیں رکھتے ''

اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے انبیاء علیہ السلام جو شہداء سے بھی افضل ہیں اس لئے وہ بھی حیات ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انبیاء علیہ السلام شہداء سے افضل ہیں اور امام الانبیاء ۖ تمام سے افضل ہیں مگر ہم اس آیت کو قرآن کے دوسرے مقام اور حدیث نبوی ۖ سے سمجھیں تو اس آیت سے جو استدلال کیا گیا ہے اس کا باطل ہونااز خود ثابت ہو جائے گا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے '' ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون'' (الِ عمران ١٦٩) '' اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے یہاں رزق دیئے جاتے ہیں تو شہید اللہ کے پاس ہیں اور وہی رزق پاتے ہیں جیسا حدیث میں منقول ہے

''عبداللہ بن مسعودفرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ ۖ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا آپ ۖ نے فرمایا'' ارواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقہ بالعرش تسرح من الجنة حیث شاء ت ثم تاوی الی تلک القنا دیل ''( صحیح مسلم کتاب امارات باب ان ارواح الشھداء فی الجنة)

'' (شہیدوں ) کی روحیں سبز چڑیوں کے قالب میں قندیلوں کے اندر ہیں جو عرش مبارک سے لٹک رہی ہیں اور جہاں چاہتی ہیں جنت میں کھاتی بھرتی ہیں پھر اپنی قنددیلوں میں آجاتی ہیں ''

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ شہید وں کی ارواح جنت میں حیات ہیں اور بے شک انبیاء علیہ السلام شہداء سے بھی افضل ہیں تو وہ ان سے اونچے مقام میں حیات ہیں اور یہ بات دیگر احادیث سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء علیہ السلام اپنے مقام میں حیات ہیں اور امام انبیاء بھی اپنے مقام اعلی میں حیات ہیں ۔
(1) ان عائشہ قالت کان رسول اللہ ۖ وھو صحیح یوقل انہ یقبض نبی قط حتی یری مقدہ من الجنة ثم یحیا او یخیر فلما اشتکی وحضرہ القبض و راسہ علی فخز عائشہ غشی علیہ فلما افاق شحص بصرہ نحو مقف البیت ثم قال اللھم فی الرفیق الاعلی فقلت اذا لا یضاورنا فعرفتُ انہ حدیثہ الذی کان یحدثنا وھو صحیح (صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیۖ و وفاتہ)
'' اماں عائشہ نے بیان کیا کہ تندرستی اور صحت کے زمانے میں رسول اللہ ۖ فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی ہے تو پہلے جنت میں اس کی قیام گاہ اسے ضرور دکھائی جاتی ہے پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے پھر نبیۖ بیمار پڑے اور وقت قریب آگیا تو سر مبارک اماںعائشہ کی گود میں تھا اور غشی طاری ہوگئی تھی جب افاقہ ہوا تو آپ ۖ کی آنکھیں گھر کی چھت کی طرف اُٹھ گئیں اور آپۖ نے فرمایا (الھم فی الرفیق الاعلی )(اے اللہ مجھے میرے اعلی رفیقوں سے ملادے) میں سمجھ گئی اب آپۖ نے ہمیں (یعنی دنیا میں رہنا) پسند نہیں کیا مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو آپۖ نے صحت کے زمانے میں بیان فرمائی تھی''
(2)عن انس قال لما ثقل النبیۖ جعل یتغشاہ فقالت فاطمہ و اکرب اباہ فقال لھا لیس علی ابیک کرب بعد الیوم فلما مات قالت یا ابتاہ اجاب رباََ دعاہ یا ابتاہ من جنة الفردوس ماواہ''(بخاری کتاب المغازی باب ایضاََ)'' انس نے بیان کیا کہ شد ت مرض کے زمانے میں نبیۖ کی بے چینی بڑھ گئی تھی فاطمہ نے فرمایا آہ اباجان کو کتنی بے چینی ہے نبیۖ نے فرمایا کہ تمہارے والد کو آج کے بعد یہ بے چینی نہیں رہے گی پھر جب آپ ۖ کی وفات ہو گئی تو فاطمہ کہتی تھیں اباجان آپۖ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے اباجان آپۖ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے ۔''
ان احادیث سے مکمل طور پر واضح ہوتا ہے کہ انبیاء علیہ السلام اپنے مقا م میں حیات ہیں اور جو روایت اس بارے میں موجود ہیں کہ انبیاء علیہ السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں یا قبر میں نبیۖ کی روح کا لوٹایا جانا '' یہ تمام برزخی معاملات ہیں اور یہ حیات برزخی ہے جس کو دونیاوی حیات پر ائمہ اور محدثین نے قیاس نہیں کیا ہے اور نہ اس بنا پر انہوں نے انبیاء کو نداد ینا جائز قرار دیا ہے اور ان تمام باتوں کی وضاحت ہم آگے کریں گے یہاں پر ہم ان ضعیف روایات کے بارے میں بیان کر رہے ہیں جو اس استدلال کو ثابت کرنے کے لئے بیان کی جاتیں ہیں ۔
استدلالِ باطلہ کے حق میں ضعیف روایات
(1) من زار قبری بعد موتی کان کمن زارنی فی حیاتی''جس نے میرے وصال کے بعد میری قبرکی زیارت کی گویااس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (طبرانی الکبیر رقم 13496،طبرانی الاوسط رقم 287، سنن الکبری للبیہقی 10274، شعب الایمان رقم 3858)
اس روایت میں حفص بن ابو داؤد ضعیف ہے (تھذیب التھذیب جلد ٢ ص ٣٦٥) اور اس کی دیگر اسناد میں درج ذیل روای ضعیف ہیں (١) لیث بن ابی سُلیم : ابو زرعہ فرماتے ہیں '' لیث لین الحدیث لا تعوم بہ الحجة عن اہل علم بالحدیث ''(تھذیب التھذیب جلد ٦ ص ٦١٣) '' لیث لین الحدیث ہے اور اہل علم نے اس سے حجت نہیں لی ہے '' (٢) احمد بن رشدین : ابو حاتم فرماتے ہیں ''
منکر الحدیث ویحدث بالمناکیر عن الثقات'' (تھذیب جلد ٣ ص ١٠٣)''منکر الحدیث ہے اور وہ ثقات کی جانب منسوب کرکے منکر روایات بیان کرتا ہے
''حیاتی خیر لکم تحدثون ویحدث لکم و فاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فما رایت من شر استغفرتُ اللہ لکم''
(مسند الحارث رقم 953،مسند البزار رقم 1925،المخلصیات رقم 2412، فضل الصلاۃ النبی ﷺ 25-26،الکامل الضعفاء ابن عدی ترجمہ عبداللہ بن خراش)
''میری زندگی میں تمہارے لئے خیر ہے کہ میں تم سے باتیں(دین کے احکام)بیان کرتا ہوں اور میری وفات میں بھی تمہارے لئے خیر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں پس اگر میں برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں"
اس روایت میں یہ الفاظ اضافی ہیں جس کو فقط عبدالمجید بن عبدالعزیز نے نقل کیا ہے اور اسے قبل جو الفاظ حدیث میں نقل ہوئے ہیں وہ یہ ہیں ، «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»" یقیناََ اللہ کے فرشتے زمین پر ہوتے ہیں اور میرے ہر امتی کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں،
یہ وہ الفاظ ہیں جو اس روایت سے قبل نقل ہوئے ہیں اور اس میں "حیاتی خیر لکم اخر تک" کے الفاظ کا جو اضافہ ہے وہ صرف عبدالمجید بن عبدالعزیز کی سند سے ہوا ہے اور اس کے بارے میں محدثین کی رائے درج ذیل ہے
اس روایت میں عبدالمجید ابن عبدالعزیز ضعیف ہے اس کو امام ذہبی نے الضعفاء المتروکین میں نقل کیا ہے (جلد ٢ ترجمہ ٣٦٠١)
ابن حبان فرماتے ہیں''
منکرالحدیث جدََا یقلب الاخبار و یروی المناکیر عن المشاھیر(میزان الاعتدال جلد ٢ترجمہ٥٦٠٦) '' منکرالحدیث ہے اس کی خبر میں ردوبدل ہوتا ہے اور وہ مشہور لوگوں کی جانب منسوب کرکے منکر روایات بیان کرتا تھا'' امام بخاری نے بھی اسے اپنی الضعفاء المتروکین میں نقل کیا ہے (ترجمہ٢٢٢) اگرچہ اس کی بعض نے ثقہ بھی قرار دیا ہے مگر اس وقت یہ روای اپنے سے ثقہ راویوں کی روایت میں اضافی الفاظ بیان کر رہا ہے زیادۃ ثقات کے بارے میں یہ اصول ہے کہ جس روایت میں راوی اضافہ کر رہا ہے تو اضافہ کرنے والے کا حافظہ کم از کم اسی پائے کا ہونا چاہئے تو اس کا یہ اضافہ قبول ہوگا وگرنہ وہ اضافہ شاذ مردود کے تحت رد کردیا جاتا ہے چنانچہ ''ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں '' انما تقبل اذاعان راویھا احفظ و اتقن ممن قصر او مثلہ فی الحفظ کانہ حدیث مستانف فان عانت من غیر حافظ ولا متقن فلا التفات الیھا،(النکت ٢/ ٦٩٠) '' یہ روایت اسی وقت مقبول ہوگی جب اس کا راوی حفظ و اتقان میں اس سے بڑھا ہوا ہو جس کی روایت میں اضافہ کیا ہے یا حفظ میں اس کے برابر ہو گویایہ نئی حدیث ہے اگر یہ اضافہ غیر حافظ و غیر متقن کی جانب سے ہو تو قابل التفات نہیں ہو گا'
تو یہ حدیث مسند البزار میں اس سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جو زیادۃ ثقات کی بنا پر ضعیف ہے
دیگر اسناد میں ابوبکر مزنی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں جو ہم ترتیب وار نقل کرتے ہیں۔
ابوبکر بن مزنی: ان سے تین طرق سے یہ روایت مسند الحارث اور فضل الصلاۃ النبی ﷺ میں منقول ہے جس میں درج ذیل راوۃ پر کلام ہے ۔
ابوبکر بن مزنی: یہ تابعی ہیں اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایات مرسل ہوتی ہیں(جامع تحصیل احکام مراسیل ترجمہ 65، تھذیب التھذیب جلد 1 ترجمہ 889)

تو تابعی جب براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرے وہ روایت مرسل ہوتی ہے اور مرسل ضعیف کی اقسام میں سے ایک ہے ۔
الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ: قلت بل هو هالك قال الدارقطني في رواية البرقاني متروك الحديث وقال أبو حاتم ضعيف وقال الأزدي واهي الحديث(لسان المیزان جلد 2 ترجمہ 1033) ابن جحر فرماتے ہیں " وہ ھالک ہے دارقطنی متروک الحدیث ہے ابو حاتم ضعیف ہے الازدی واہی الحدیث ہے ۔
جسر بن فرقد: ابن معین لیس بشئی ،بخاری لیس بقوی ، النسائی ضعیف ،( الکامل الضعفاء ابن عدی ترجمہ 356)
باقی دو اسناد جو فضل الصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نقل ہیں وہ مرسل ہیں
انس بن مالک رضی اللہ عنہ: ان سے دو اسناد سے یہ روایت نقل ہوئی ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ " ہرجمعرات کو مجھ پر تمہارے اعمال پیش کیے جاتے ہیں " اس کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں
ابو سلیمہ الانصاری: یہ راوی المخصیات کی روایت میں موجود ہے اس کی بابت محدثین فرماتے ہیں
العقيلي منكر الحديث،قال ابن حبان منكر الحديث جدا، ابن طاهر كذاب، الحاكم أبو عبد الله يروي أحاديث موضوعة (تھذیب التھذیب جلد 2 ترجمہ 424)
عبداللہ بن خراش: اس راوی سے یہ روایت ابن عدی نے الکامل الضعفاء میں نقل کی ہے اور اس کی بابت محدثین فرماتے ہیں
أبو زرعة ليس بشيء ضعيف وقال أبو حاتم منكر الحديث ذاهب الحديث ضعيف الحديث وقال البخاري منكر الحديث (تھذیب التھذیب جلد 5 ترجمہ 341)
اور اخر میں اس روایت کے بابت محدث العصر کا فیصلہ بھی پڑھ لیں
محدث عصر علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اس راوی کو ضعیف کہا ہے انہوں نے اپنی سلسلہ الضعیفہ میں اس روایت کے تمام طرق کو جمع کرنے کے بعد نقل کیا ہے '' وجملة القول ان الحدیث ضعیف بجمع طرقہ و خیرھا حدیث ابن عبداللہ المزنی وھو مرسل من اقسام الحدیث الضعیف عن المحدثٰین ثم ابن مسعود و ھو خطا و شرھا حدیث انس بطریقة''(سلسلہ الضعیفہ جلد٢رقم٩٧٥)''حصول بحث یہ ہے کہ اس روایت کے تمام طرق ضعیف ہے اور ان میں جو بہتر ہے وہ عبداللہ المزنی کی روایت ہے مگر وہ مرسل ہے جومحدثین کے نذدیک ضعیف کی اقسام میں سے ہے ابن مسعود کی روایت خطا ہے اور سب سے ضعیف سند انس کی روایت کی ہے۔
اس کی سند کے بعد اب یہ بات بھی نقل کرتے چلیں کہ یہ روایت حدیث صحیح کے بھی متضاد ہے
إذا أصيب أحدكم بمصيبة فليذكر مصيبته بي فإنها أعظم المصائب
سلسلہ الصحیحہ رقم1106)
جب تم میں سے کسی کو دکھ پہنچے (یعنی کوئی عزیر فوت ہو جائے) تو میرے دکھ(یعنی میری وفات ) کو یاد کرے یقینا (میری وفات مسلمان کے لئے) سب سے بڑا غم و دکھ ہے۔
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے لئے سب سے بڑا دکھ اور غم یہی بتایا ہے جبکہ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو خیر بتایا جارہا ہے تو یہ روایت متن کے اعتبار سے بھی اس صحیح حدیث کے خلاف ہے ۔
حرم علی الارض ان تاکل اجساد انبیاء فنبی اللہ حی یرزق''''اللہ نے زمین پر حرام کیاکہ انبیاء کے اجسام اطہر کو کھائے اللہ کے نبی زندہ اور رزق پاتے ہیں''
اس روایت کی سند میں انقطاع موجود ہے عبادہ بن نسی کی روایات ابودرداء سے مرسل بیان ہوئی ہیںامام العلائی نے عبادہ بن نسی کی ابودردء سے اکثر روایات کو مرسل قرار دیا ہے (جامع التحصیل فی احکام مراسیل ص٢٠٦ ترجمہ ٣٣٤) اور زید بن ا یمن نے عبادہ بن نسی سے فقط یہی روایت بیان کی ہے چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں ''رجالہ ثقات لکن قال البخاری زید بن ایمن عن عبادة بن نسی مرسل( تھذیب التھذیب جلد ٣ ترجمہ٢١٩٠) اس بنا پر یہ روایت ضعیف ہے یہ روایت دیگر اسناد سے بھی مروی ہے مگر اس میں ان الفاظ کا اضافہ( فنبی اللہ حی یرزق)نہیں ہے یہ الفاظ اسی سند سے نقل ہوئے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے وگرنہ باقی روایت صحیح سند سے ثابت ہے ایک اور روایت جس کو جلاء الافہام میں نقل کیا گیاہےاس روایت کو امام ابن قیم نے طبرانی الکبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہی روایت جب امام سخاوی نے نقل کی ہے تو اس میں بلغنی صلاتہ کے الفاظ ہیں مگر مجھے یہ روایت طبرانی الکبیر میں نہ مل سکی پھر میں نے اس کو طبرانی الاوسط میں "بلغتنی صلاتہ " کے الفاظ کے ساتھ ملی ہے تو اگر مان لیا جائے کہ یہ روایت "بلغنی صوتہ" کے الفاظ کے ساتھ ہےتو بھی یہ روایت ضعیف ہے چنانچہ اس روایت میں (مجھ تک اس کی آواز پہنچ جاتی ہے) کے الفاط آئے ہیں اس روایت میں سعید بن ابی مریم اورخالد بن یزیدکے درمیان انقطاع ہے سعید بن ابی مریم نے یہ حدیث خالد سے نہیں سنی ہے کیونکہ خالد بن یزید ١٣٩ ہجری میں فوت ہوئے ( تھذیب التھذیب جلد ٢ ترجمہ١٧٤٩) اور سعید بن ابی مریم کی پیدائش ١٤٤ ہجری میں ہوئی (تھذیب التھذیب جلد ٢ ترجمہ٢٣٦٠) تو جو ابھی پیدا نہیں ہوا وہ کس طرح اس سے روایت بیان کر سکتا ہے اس بنا پر یہ روایت ضعیف ہے مگر نبیۖ کو امت کادرود پہنچا دیا جاتا ہے جیسا دوسری روایت میں الفاظ آئے ہیں اور اس کی تائیدصحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کا درود پہنچا دیا جاتا ہے۔
والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم۔آخر(فتح الباری جلد ٧ رقم ٣٤٤٨، مسلم باب نزول عیسی رقم ٢٤٣،مسنداحمد رقم ٧٢٦٩ شرح مشکل الاثار رقم ١٠٣)اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری(یعنی نبیۖ)کی جان ہے عیسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان ضرور آئیں گے''
یہ روایت متعدد طرق و اسناد سے نقل ہوئی ہے مگر ہماری بحث کا محور وہ الفاظ ہیں جس کو مسند ابی یعلی رقم (6584) اور مستدرک حاکم رقم (4162)نے نقل کیا ہے '' ثم لئن قام علی قبری فقال یا محمد لاجبتہ'' ان الفاظ کا اضافہ مسند ابی یعلی میں فقط حمید بن زیاد نے سعید بن ابی سعید کی سند سے کیا ہے اور اس کے علاوہ کسی سند سے یہ الفاظ نقل نہیں ہوئے ہیں اور حمید بن زیاد اس اضافہ الفاظ کے ساتھ متفرد ہے اور یہاں وہ اپنے سے ثقہ رایوں کی روایت میں اضافہ کر رہا ہے جس کو اور کسی نے بھی نقل نہیں کیا ہے اور حمید بن زیاد کے بارے میں محدثین فرماتے ہیں '' قال النسائی :ضعیف وابن عدی : وانما انکرت ھذین الحدثین وسائر حدیثہ ارجو ان یکون مستقیما و حافظ فی تقریب صدوق یھم( تھذیب التھذیب جلد ٢ ترجمہ١٦٠٤، الکامل فی ضعفاء جلد ٣ ص ٧١ ترجمہ٤٣٤، التقریب التھذیب جلد ١ ترجمہ ١٦٠٤)امام نسائی نے اسے ضعیف کہا ہے ابن عدی فرماتے ہیں کہ میں اس کی دو حدیثوں سے انکار کرتا ہے اور امید کرتا ہوں کہ اس کی (حدیث ) صحیح ہے۔ابن حجر نے فرمایا ہے کہ سچا ہے مگر اس کو وہم ہوتا ہے اس کے علاوہ اسے کو امام لعجلی نے ثقہ کہا ہے اس کی روایت قابل قبول ہوتی ہے مگر اس مقام پر ایک تو یہ ان الفاظ کے ساتھ متفرد ہے اور اس کو وہم بھی ہوتے ہیں جیسا حافظ نے بیان کیا ہے اور اس کے مقابلہ پر سعید بن ابی سعید کے دوسرے شاگرد اللیث بن سعد ہیں جنہوں نے یہی روایت سعید بن ابی سعید سے نقل کی ہے مگر ان کی بیان کردہ روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں حتی کہ کسی نے بھی ان الفاظ کا اضافہ نہیں کیا ہے اور اضافی الفاظ کے بارے میں محدثین کا یہ اصول ہے''ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں '' انما تقبل اذاعان راویھا احفظ و اتقن ممن قصر او مثلہ فی الحفظ کانہ حدیث مستانف فان عانت من غیر حافظ ولا متقن فلا التفات الیھا،(النکت ٢/ ٦٩٠) '' یہ روایت اسی وقت مقبول ہوگی جب اس کا راوی حفظ و اتقان میں اس سے بڑھا ہوا ہو جس کی روایت میں اضافہ کیا ہے یا حفظ میں اس کے برابر ہو گویایہ نئی حدیث ہے اگر یہ اضافہ غیر حافظ و غیر متقن کی جانب سے ہو تو قابل التفات نہیں ہو گا''
اس اصول سے واضح ہے کہ حمید بن زیاد کا دیگر روایوں کے مقابلہ کا حفظ ہونا چائیے وگرنہ روایت قابل قبول نہ ہوگی اب ہم اللیث بن سعد کے بارے میں محدثین کی رائے بیان کیے دیتے ہیں '' قال حافظ فی تقریب ثقة فقیہ امام مشھور (تقریب جلد ٢ ترجمہ ٥٨٨٠)
قال الذہبی : الاعلام والائمة الاثبات ثقہ حجة بلا نزاع (میزان اعتدال جلد ٣ ترجمہ ٧٤٥٧)یہ وہ اقوال ہیں جو اللیث کے بارے میں محدثین نے نقل کیے ہیں اور اس کے مقابلہ پر حمید بن زیاد ہے جو متفرد ہے اور اضافی الفاظ بیان کر رہا ہے اور جس کے بارے میں اقوال ہم نے نقل کردیئے ہیں اوراصول کو مدنظر رکھتے ہوئے جو ہم بیان کر چکے اس کے مطابق حمید بن زیاد کو وہم ہوتا تھا اسی لئے اس کا حفظ اس پائے کا نہیں ہے جو اللیث بن سعد کا ہے اسی بناپر اس روایت کا اضافہ ناقابل قبول ہیں اور دوسری روایت جس کو حاکم نے روایت اس میں دو علتیں ہیں
محمد بن اسحاق : یہ روای مدلس ہے اور اس روایت میں اس نے تدلیس کی ہے اس کے بارے میں محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں :
حافظ یبن حجر فرماتے ہیں صدوق یدلس( تقریب تھذیب ترجمہ5725)اور انہوں نے طبقات مدلسین کے چوتھے طبقے میان نقل کیا ہے (طبقات المدلسین ترجمہ 125 المرتبہ الربعۃ) اور امام العلائی نے بھی جامع التحصیل میں یہی نقل کیا ہے (ترجمہ 42)
عطاء مولی ام صبیۃ : یہ راوی مجہول ہے اس روایت میں اس کا نام "عطاء مولی ام حبیبہ" سے درج ہے جو غلط ہے اس کا اصل نام یہی ہے چنانچہ امام ذہبی اس کے بارے میں فرماتے ہیں ،
عطاء، مولى أم صبية الجهنية عن أبي هريرة في السواك لا يعرف تفرد عنه المقبري. عطاء مولی امی صیبہ جانا نہیں جاتا ہے (میزان الاعتدال ترجمہ 5663)
اسی طرح امام بخاری نے اس سے روایت نقل کر کے یہی نقل کیا ہے کہ اس سے صرف المقبری نے روایت نقل کی ہے اس بنا پر یہ راوی مجہول ہے اور میر ی بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ شیخ شعیب الانورط نے مسند احمد کی ایک روایت کی تحقیق میں یہی بات نقل کی ہے کہ یہ راوی مجہول ہے (مسند احمد رقم 967)
اس روایت کے یہ اضافی الفاظ دونوں اسناد سے ضعیف ہے ایک میں حمید بن زیاد کو وہم ہوا ہےا ور دوسری روایت میں دو راوی ضعیف ہیں چنانچہ اس روایت کے یہ اضافی الفاظ قابل اعتبار نہیں ہےباقی روایت بالکل صحیح ہے۔

(٥) سعید بن عبدالعزیز قال لما کان ایام الحرة لم یوذن فی مسجد النبی ۖ ثلاثا ولم سعید بن المسیب من المسجد وکان لا یعرف وقت الصلاة الابھمة بیسمھا من قبرالنبیۖ ''ایام حرہ میں تین دن تک مسجد نبویۖ میں اذان نہی دی گئی اور سعید بن مسیب نماز کا وقت نبیۖ کی قبر مبارک سے آنے والی ایک آواز سے پہچانتے تھے''
اس روایت کی سند میں سعید بن عبدالعزیز ہے جو (٩٠) ہجری میں پیدا ہوا ہے اوروہ (٦٣) ہجری کا واقعہ بیان کر رہا ہے اور اسی طرح عمربن محمد نے بھی یہی واقعہ بیان کیا ہے اور اس کی ابن عمر سے ملاقات نہیں ہے اور ابن عمر کی وفات ٧٤ ہجری میں ہوئی ہے (تھذیب التھذیب جلد٤ ترجمہ ٣٥٨٠) اور ان دونوں روایات میں یہ تصریح موجود نہیں ہے کہ انہوں نے کس سے سنا ہے اگر مان لیا جائے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ سعید بن مسیب سے ان کے سماع کی کوئی تصریح موجود نہیں ہے اور نہ سعید بن مسیب سے روایت کرنے والے تلامذہ میں ان کا نام موجود ہے مگر یہ دونوں یہ واقعہ خود بیان کر رہے ہیں اور یہ واقعہ ٦٣ ہجری کا ہے اور اس میں یہ بات موجود نہیں ہے کہ ان دونوں نے یہ واقعہ کس سے سنا ہے کیونکہ یہ دونوں ٦٣ہجری کے تقربیا ١٠ سے ١٥ سال بعد پیدا ہوئے ہیں یہ روایت اسی بنا پر ضعیف ہے کہ ایک شخص ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ہے اور وہ اس دور کا واقعہ بیان کر رہا ہے اور جس روایت میں سعید بن مسیب سے سماع کی تصریح موجود ہے اس سندمیں عبدالحمید بن سلیمان ضعیف ہے اس کو ابن معین ،ابوداؤد، ابن ا لمدینی، حافظ ابن حجر نے ضعیف کہا ہے (تھذیب جلد ٥ص ٢٦ ترجمہ ٣٨٦٩) او ر ایک روایت محمد بن عمر الواقدی کی سند سے موجود ہے جو من گھڑت روایت بیان کرتا تھا(تھذیب التھذیب جلد٥ ص ١٣٥)ان روایات کی بنیادپر انبیاء سے مدد طلب کرنا ان کو ندا دینا جائز قرار دیا جاتا ہے مگر یہ تمام روایات ضعیف ہیں یہاں ایک بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض امام ابن تیمیہ کی کتاب القتضاء الی الصراط مستقیم کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں کہ امام ابن تیمیہ نے سعید بن مسیب والے واقعہ کو صحیح کہا ہے مگر وہ اس بات کو مکمل بیان نہیںکرتے ہیں امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں اس بات کو نقل کرنے سے قبل دو واقعے نقل کیے جس میں نبیۖ کی قبر پر دعا مانگنے کا ذکر ہے اس کے بعدوہ فرماتے ہیں ''فھذہ الاثار اذا ضمت الی ما قدمنامن الاثار علم کیف حال السلف فی ھذہ الباب وان ماعلیہ کثیرمن الخلف فی ذلک ھومن المنکرات عندھم، ولا یدخل فی ھذا الباب ما یروی من ان قوما سمعوا رد السلام من قبر النبی ۖ او قبور غیرہ من الصالحین و ان سعید بن المسیب کان یسمع الاذان من القبری لیالی الحرة ونحو فھذا کلہ حق لیس مما نحن فیہ والامر اجل من ذلک و اعظم کذلک ایضا ما یروی ان رجلا جاء الی قبر النبی ۖ فشکا الیہ الجدب عام الرمادہ فراہ وھو یامرہ ان یاتی عمر فیامرہ ان یخرج فیستسقی الناس فان ھذا لیس من ھذا الباب ومثلا ھذا یقع کثیرا(القتضاء الی صراط المستقیم ص ١٦٨) '' یہ آثار(جو امام ابن تیمیہ نے بیان کیے) اور جو آثار ہم آگے بیان کریں گے ان کو سلف میں سے(بعض)نے آپس میںضم کردیا جس کی وجہ سے خلف سے کثرت سے منقول ان(آثار)کا انہوں نے انکار کیا یہ (آثار) اس باب میں داخل نہیں ہوتے ہیں (یعنی نبی ۖ کی قبر پر جاکر مانگنا اور نبیۖ کی قبر کو سجدہ کی جگہ بنانا) جیسا کہ نبی ۖ اور صالحین کی قبر سے سلام کا جواب سننا اور سعید بن مسیب کا نبی ۖ کی قبر سے اذان کی آواز سننا یہ تمام حق ہےمگر ہم نے اس کی مدت بڑی نہیں دیکھی ہے (یعنی یہ وقوع پزیر ہوئے اور ختم ہو گئے) اور اسی طرح سے جو روایت ہوا ہے کہ نبی ۖ کی قبر پر ایک شخص آیا اور شکایت کی قحط سالی کی ۔۔۔آخر ۔ اس باب میں اور اسی طرح کے کثیر واقعات ہیںپس یہ اس باب کے تحت نہیں آتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے اس میں واضح کیا ہے کہ نبیۖ کی قبر انور پر جا کر مانگنا ان کی قبر کو سجدہ کی جگہ بنانا ان سب باتوں سے ان واقعات کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسی کتاب میں انہوں نے اس بات کی نفی کی ہے کہ نبی ۖ کی قبر انور پر جاکر دعا کی درخواست کی جائے چنانچہ امام ابن تیمیہ رقمطرازہیں '' امرلم یشرعہ اللہ ولا رسولہۖ ولا فعلہ احد من الصحابة ولا تابعین ولا ا ئمة من المسلمین ولا احدمن العلماء و الصالحین المقدمین''(القتضاء الی صراط المستقیم ص١٣٥) '' اس کام کا حکم (یعنی قبر پر دعا مانگنا) نہ اللہ نے دیا اور نہ اسکے رسول ۖ نے اور نہ اس کو صحابہ کرام ،تابعین ائمہ مسلمین اورعلماء وصالحین مقدمین میں سے کسی ایک نے بھی کیا ہے '' چنانچہ یہ عمل سلف و خلف میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے اور میری بات کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الوسیلہ میں غیر اللہ کو ندا دینا ان سے مدد طلب کرنے کو حرام قرار دیا ہے اس لئے ان کے حوالے سے یہ کہنا کہ انہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور اسی بنا پر انبیاء کو ندا دینا اور ان سے مدد طلب کرنا جائز ہے یہ بات کسی طرح بھی جائز نہیں ہے مگر ہم اس سے قبل ہی ان تمام روایات کی تحقیق آپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں کہ یہ سب ضعیف ہیں اس لئے ان روایات سے استدلال جائز نہیں ہے اب ہم چند ایسی صحیح روایات آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں جن سے اس استدلال کے بارے میں دلائل دیئے جاتے ہیں مگر ہم اس سے ماقبل بھی عرض کرچکے ہیں کہ صحابہ کرام اور تابعین و سلف اورمحدثین نے ان روایات سے اس قسم کا کوئی استدلال نہیں کیا ہے اور اس قسم کی باتیں ان سے قطعی طور پرکسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ نبی اکرم ۖ کے اقوال و افعال کو سب سے بہتر سمجھنے والے ہیں اور انہیں نے ان روایات سے جو اخذ کیا ہے یہ ہم ان روایات کی شرح میں بیان کریں گے جو ائمہ اور محدثین سے منقول ہے اب ہم وہ روایات آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔
روایتِ صحیحہ اور استدلال باطلہ
اس عنوان کے تحت ہم ان روایات کو بیان کریں گے جن میں'' انبیاء علیہ السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں یا قبر میں نبیۖ کی روح کا لوٹایا جانا '' یہ وہ روایات ہے جو صحابہ کرام اور تابعین سے ہوتی ہوئی ائمہ محدثین کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں مگر انہوں نے ان روایات سے ایسا کوئی استدلال نہیں کیا ہے جو آج بعض مسلمان کر رہے ہیں کیونکہ وہ سب نبی ۖ کے فرمودات کو ہم سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور ائمہ اور محدثین نے جو اس کی شرح کی ہے انہوں نے بھی فہم صحابہ کرام اور تابعین کے کی ہے اس لئے کہ ان سب سے ایسی کوئی بات کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے تو پھر آج یہ فہم کہاں سے معرض وجود میں آگیا ہے یہ یقینا ان کے فہم کی غلطی ہے جو اسلاف کے فہم سے ہٹ کر کی گئی ہے اس سلسلہ کی پہلی روایت یہ بیان کی جاتی ہے
الانبیاء احیاء فی قبر وھم یصلون '' ''انبیاء اپنی قبروںحیات ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ''(مسند ابی یعلی رقم
مسند البزار 6888،حیاۃ الانبیاءللبیہقی رقم 1) ,٣٤١٢
یہ روایت صحیح ہے مگر اس میں ہماری بحث کا محور وہ لفظ "احیاء" ہے جو صرف مسند ابی یعلی میں صحیح سند سے نقل ہوئے ہیں اس کے تمام رواۃ ثقہ ہیں صرف ابو جھم الارزق بن علی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں صدوق یغرب سچا ہے مگر غریب روایات نقل کرتا ہے اور اس کی متابعت میں جو روایت ملتی ہے ہے جس کو ابو نعیم نے تاریخ اصبہان میں نقل کیا ہے اس میں احیاء کے الفاظ موجود نہیں ہیں اور اس کے علاوہ جن روایات میں احیاء کے الفاظ موجود ہیں وہ سب ضعیف سند سے نقل ہوئی ہیں اس لئے میرے نذدیک لفظ "احیاء" غریب ہے جو الارزق بن علی سے نقل ہوا ہے جو کہ تاریخ اصبہان میں موجود نہیں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں "الانبیاء فی قبورھم یصلون " میرے اس موقف کی تائید ذیل میں دی گئی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو سلام کے لئے لوٹائے جانے کا ذکر ہے (یہ روایت اس کے بعد نقل کی گئی ہے) چنانچہ یہ احیاء کا لفظ صحیح حدیث کے بھی متضاد ہے اور روایت کی تائید میں موجود حدیث بھی اس کی نفی کرتی ہے بعض یہ اعتراض بھی کر سکتے ہیں کہ نماز زندگی کے بغیر کیسے ممکن ہے تو عرض یہی ہے کہ جس طرح برزخی حیات کو دونیاوی حیات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے بالکل اسی طرح اس نماز کو بھی عام نماز کی طرح نہ سمجھا جائے وہ کیا نماز ہے جو الانبیاء پڑہتے ہیں اس کا ادراک عقل نہیں کرسکتی ہے یہ تمام برزخی معاملات ہیں اس میں قیاس اور اندازے نہیں ہوتے صرف ایمان لانا ہوتا ہے واللہ اعلم
بعض اس روایت کو دونیاوی حیات پر قیاس کرنے کے باعث اس کو ضعیف ٹہراتے ہیں اور اس روایت کے ایک راوی حجاج کو غیر معروف مانتے ہیں جبکہ وہ حجاج بن الاسود ہےجیسا خود امام ذہبی نے میزان الاعتدال کے ترجمہ میں نقل کیا ہے ، بقول ان کے یہاں امام ذہبی کو غلطی ہوئی ہے اور وہ حجاج غیر معروف ہے ان کا یہ استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے
(1) امام ذہبی نے حجاج کے ترجمہ میں فرمایا ہے کہ" رواہ بیہقی " اور امام بیہقی نے اس میں دو روایات نقل کی ہے جس مین ایک حجاج کے نام سے ہے اور دوسری حجاج بن الاسود کے نام سے ہے مگر امام ذہبی نے ان دونوں روایات کو جاننے کے باوجود صرف ایک ہی حجاج نقل کیا ہے حجاج بن الاسود۔ اور جس کو حافظ ابن حجر نے بھی نقل کیا ہے ہے کہ یہ حجاج بن الاسود ہے جو ثقہ ہے (لسان المیزان)
(2) امام ذہبی جب حجاج سے واقف ہو گئے تو انہوں نے اس کا ذکر سیر اعلام النبلاء میں حجاج الاسود کے نام سے اس کے پورے تعارف کے ساتھ نقل کیا ہے اوریہ دونوں ایک ہی ہیں یعنی حجا ج الاسود اور حجاج بن الاسود چنانچہ ابن حبان فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ حجاج بن الاسود کو حجاج الاسود کہتے تھے (ثقات ابن حبان 7370) اورابونعیم نے حلیۃ الاولیاء جلد 2 ص 298 میں روایت نقل کی ہےجس میں حماد بن سلمہ حجاج الاسود کو ججاج بن الاسود کہا ہے جس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔
(3) میری تیسری دلیل یہ ہے کہ امام حاکم نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے حجاج بن الاسود سے روایت نقل کی ہے جس کو امام ذہبی نے صحیح کہا ہے(مستدرک حاکم رقم 7974) اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ حجاج بن الاسود نہیں بلکہ حجاج الاسود ہے تو اس کا یہ خیال باطل ہے کیونکہ ہم اوپر نقل کر چکے کہ حماد بن سلمہ نے حجاج الاسود ہی کو ایک روایت میں حجاج بن الاسود کہا ہے اور جب ہو اسے پہچان گئے تو اس کی روایت کو مستدرک میں صحیح کہا ہے اور البانی صاحب نے بھی یہی نقل کیا ہے (دیکھئے سلسلہ الصحیحۃ رقم 621) تو جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی حجاج غیر معروف ہے تو وہ اس کو جمہور محدثین کے اقوال سے ثابت کریں کیونکہ ان کے نذدیک جمہور کا قول رائج ہے۔
تو اس تمام بحث کا حصول یہی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے صرف اس میں احیاء کے الفاظ غریب ہیں واللہ اعلم۔
ما من احد یسلم علی الا رد اللہ علی روحی حتی ارد علیہ السلام(ابوداؤد رقم 2041)،مسند احمد رقم 10815،بیہقی شعب الایمان رقم3864))
یہ روایات مسند ابی یعلی اور مسند احمد وابوداؤد میں موجود ہیں اور سلسلہ احادیث صحیحہ میں بھی البانی صاحب نے نقل کی ہے مگر ان روایات سے جو فہم اخذ کیا گیا ہے وہ کسی طور بھی فہم صحابہ کرام اور تابعین و ائمہ محدثین نہیں ہے یہ روایات بیان کرنے کے باوجود بھی صحابہ کرام نے نہ کبھی نبی ۖ کی قبر انور پر جا کر ان سے دعا کی درخواست کی اور نہ کبھی نبیۖ کو ان کے وصال کے بعد ندا دی ہے اور نہ مدد کے لئے پکار اہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا اگر وہ ان احادیث سے وہی معنی اخذ کررہے ہوتے جو آج بعض مسلمان کررہے ہیں تو وہ بھی یہی کرتے جو آج یہ کررہے ہیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ان روایات سے وہ معنی اخذ ہی نہیں کیے ہیں جو آج بعض مسلمان کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ائمہ ومحدثین نے بھی ان روایات کو برزخی معاملات کے تحت لیا ہے جن پر فقط ایمان رکھنا ضروی ہے اور اس کی حقیقت اللہ تعالی ہی جانتا ہے آئیے اب ہم ائمہ محدثین کے اقوال بیان کیے دیتے ہیں جس میں انہوں نے ان روایات کو برزخی معاملات کے تحت لیا ہے ۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں '' اختلف فی حال الانبیاء عند لقی النبی ۖ ایاھم لیلة الاسراء ھل اسری باجسادھم ملاقاة النبی ۖ تلک اللیلة او ان ارواحھم مستقرة فی الاماکن التی لقیھم النبی ۖ و ارواحھم مشکلة بشکل اجسادھم کما جز بہ ابو الوفاء بن عقیل ، واختار الاول بعض شیوخنا واحتج بما ثبت فی مسلم عن ''انس ان النبیۖ قال رایتُ موسیٰ لیلة اسری بی قائما یصلی فی قبرہ '' فدل علی انہ اسری بہ لما مہر بہ ۔قلتُ : ولیس ذلک بلازم بل یجوز ان یکون لروحة اتصال بجسدہ فی الارض فلذلک یتمکن من الصلاة و روحہ فی مستقرہ فی السمائ( بخاری فتح باری جلد ٨ کتاب مناقب الانصار باب معراج تحت رقم ٣٨٨٨)'' اس بات میں اختلاف ہے کہ نبیۖ نے کس حال میں اسری کی رات انبیاء سے ملاقات کی تھی کیا وہ اپنے اجساد مبارکہ کے ساتھ نبیۖ سے ملے تھے یا ان کی ارواح نے ان کے اجساد مبارکہ کی شکل اختیار کی تھی جیسا کہ ابو وفاء بن عقیل نے بیان کیا ہے مگر پہلی بات کو ہمارے بعض شیوخ نے اختیار کیا ہے اور اس کی دلیل ہے ''انس سے روایت ہے نبی ۖ فرماتے ہیں کہ میں نے موسیٰ کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے '' میں کہتا ہیں : اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے بلکہ روح کا اتصال جسد کے ساتھ فقط نماز کے لئے ہو ا ہو کیونکہ(نیک) ارواح کا ٹھکانہ آسمان ہے ''
حافظ ابن حجر کی وضاحت سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ نیک ارواح علین میں ہوتی ہے اور یہ بات سلف و خلف سے منقول ہے جیسا کہ ابن قیم الجوزی نے نقل کیا ہے '' واما قول من ان ارواح فی علین فی السماء السبعة و ارواح الکفارفی الارض اسابعة فھذا قول قد قالہ جماعة من السلف و الخلف و یدل علی قول النبیۖ '' اللہم الرفیق الاعلی''(الروح ص ٢٧٩) '' یہ قول کہ (نیک) ارواح اعلی علین میں ساتویں آسمان پر ہوتی ہیں اور کفار کی ارواح ساتویں زمین میں ہوتی ہیں اور یہ سلف اور خلف جماعت کا قول ہے اور اس کی دلیل یہ ہے (اے اللہ مجھے میرے اعلی رفیقوں سے ملا دے)''اور امام ابن حزم نے بھی یہی بات بیان کی ہے '' انبیاء اور شہداء کی ارواح کا معاملہ مختلف ہے ان کو رزق دیا جاتا ہے اور وہ ہر طرح سے عیش و راحت میں ہیں ( المحلی ابن حزم مسائل توحید ص ٥٣) اور اس کے بعد معراج والی روایت نقل کر کے فرماتے ہیں کہ '' اس حدیث سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کی ارواح جنت میں تھیں۔
نبیۖ کے فرمان اور صحابہ کرام اور ائمہ سلف و خلف کے اقوال سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء کی ارواح جنت میں میں اپنے رب کی رحمتوں میں ہیں اور اس کے دلائل ہم نے احادیث اور صحابہ کرام اور ائمہ و محدثین سے نقل کیے ہیں اب وہ امور جن میں نبی ۖ کی روح مبارک کا لوٹایا جانا اور انبیاء کا قبروں میں حیات ہونا اور نماز پڑھنا یہ سب امور برزخی ہیں جن کو ائمہ محدثین نے بیان کیا ہے اب ہم آپ کے سامنے ائمہ اور محدثین کی تصریحات بیان کیے دیتے ہیں
'' قلت و اذاثبت انہم احیاء من حیث النقل فانہ یقویہ من حیث النظر کون الشھداء احیاء بنص القرآن والانبیاء افضلا من الشھداء ( (فتح الباری کتاب الاحادیث الانبیاء تحت رقم ٣٤٤٧ ص٤٠٦)میں کہتا ہوں کہ بے شک جو نقل ہوا ہے وہ یقیناََ قوی نظر ہے کہ شہداء کی حیات نص قرآنی سے ثابت ہے کہ انبیاء شہداء سے بھی افضل ہیں'' اس کے بعد انہوں نے''رد اللہ علی روحی'' والی روایت کو نقل کیا اور اس کے بعد فرماتے ہیں'' وراوتہ ثقات ووجہ الاشکال فیہ ان ظاھرہ ان عودالروح الی الجسد یقتضی انفصالھا عنہ وھو الموت وقد اجاب العلماء عن ذلک باجوبة''(حوالہ ایضاََ) '' اس کے رواة ثقہ ہیں اور اس کے اشکال کی جو وجہ ہے یہ کہ ظاہر طور پر یہ (کہاگیا ہے ) اس میں روح کو لوٹایا جائے گاجو یہ تقاضہ کرتا ہیں کہ یہ انفصا ل وصال کا ہے اور یقیناََ علماء نے اس کے جواب دیئے ہیں'' اس کے بعد پانچ جواب نقل کیے ہیں جو اس کے بارے میں دیئے گئے ہیں اور آخر میں وہ فرماتے ہیں کہ '' اجیب بان الامور الاخرة لا تدرک بالعقل و احوال البرزخ اشبہ باحوال الاخرة''میں مانتا ہوں کہ آخرت کے احوال کا ادراک عقل سے نہیں ہوسکتا ہے اوربرز خ کے احوال آخرت کے مشابہ ہیں''
اور اسی طرح امام سخاوی نے بھی بیان کیا ہے وہ فرماتے ہیں
''واجیب بان امور الاخرة لا تدرک بالعقل ، واحوال البرزخ اشبہ باحوال الاخرة (القول البدیع ص ١٧٤) میں مانتا ہوں کہ آخرت کے احوال کا ادراک عقل سے نہیں ہوسکتا ہے اوربرز خ کے احوال آخرت کے مشابہ ہیں''اور اسی طرح امام عبدالھادی نے صارم المنکی میں نقل کیا ہے ''رد الروح علی المیت فی البرزخ و ردالسلام علی من یسلم علیہ لا یستلزم الحیاة التی یظنہا بعض الغالطین ، و ان کانت نو ع حیاة برزخیہ و قول من زعم انہا نظیر الحیاة المھودة مخالف للمنقول والمعقول ،یلزم منہ مفارقة الروح لرفیق الاعلی وحصولھا تحت التراب قرنا بعد قرن والبدن حی مدرک سمیع بصیر تحت اطباق الترب و الحجارة و لوازم ھذا الباطلة مما لا یخفی علی العقلاء ۔(الصارم المنکی ص ٢١٦باب معنی قولہ رداللہ علی روحی)'' میت پر روح کا لوٹانا ہے برزخ میں ہے اور وہ سلام لوٹاتی ہے جب کوئی سلام کرتا ہے اس سے یہ لازم نہیں یہ حیاة (دنیاوی)ہے جیسا بعض مغالطہ پیدا کرنے والوں نے گمان کیا ہے ، اوریہ حیات برزخی ہے اور جو قول نقل کیا ہے وہ غلطی پر مبنی ہے اس کو جس حیات کی جانب لوٹایا گیا ہے وہ منقول کے قول کے مخالف ہے ، روح کا جسم سے علیحدہ ہو کر رفیق الاعلی کی طرف جانا لازم ہے اور جسم کا زمانہ در زمانہ قبر میں رہنا اور جسم (روح کے بغیر) مٹی، پتھر کے نیچے اندھیرے میں دیکھے اور سنے بھی اورزندہ بھی ہو اس قول کا باطل ہونا لازم ہے جو اہل عقل سے مخفی نہیں ہے ۔امام عبدالھادی بھی روح کے لوٹائے جانے کوبرزخی ہی مانتے ہیںاور اس کے بعد امام بیہقی کے رد میں فرماتے ہیں ''بھذا یعلم بطلان تاویل قولہ الارد اللہ علی روحی بان معناہ الاوقد رداللہ علی روحی وان ذلک الرد مستمر احیاہ اللہ قبل یوم النشور و اقرہ تحت التراب و اللبن فیا لیت شعری ھل فارقت روحہ الکریمةالرفیق الاعلی و اتخذت ببیت تحت الارض مع البدن ام فی الحال الواحد ھی فی المکانین؟ وھذا التاویل المنقول عن البیہقی فی ھذا الحدیث قد تلقاہ عنہ جماعة من المتاخرین والتزموا الاجل اعتقادم لہ اموراََ ظاہرہ البطلان واللہ الموفق للصواب(ایضاََ) '' اور اس باطل تاویل کی دلیل اس قول سے دی جاتی '' رداللہ علی روحی'' اور اس کا معنی کیا جاتا ہے کہ اللہ نے میری روح کو میرے جسم اطہر میں لوٹا دیا ہے (جسم) کو اللہ قیامت سے قبل یقینا زندہ کرے گا اور مٹی، اینٹوںکے نیچے اس کا ٹھکانہ بنادیا ہے اور نبی ۖ کی روح مبارک رفیق الاعلی میں بھی ہو اوروہ قبر میں بھی اپنے جسم اطہر کے ساتھ رہیںکیا نبی ۖ کی روح مبارک دو مقام پر ایک حال میںہے یہ تاویل امام بیہقی سے منقول ہے(کہ نبیۖ کی روح جسم اطہر میں لوٹادی گئی ہے) اور اس کو بعض متاخرین نے بھی لیا ہے اور اس کا باطلان کرنا لازم تھا '' اس کے علاوہ بعض حضرات امام شوکانی کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں کہ وہ نبیۖ کی قبر میں دونیاوی حیات کے قائل تھے یہ بات صریح غلط ہے امام شوکانی نے چند لوگوں کے استدلا ل پیش کیے ہیں جس کو ان کی جانب منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ اس بات پر قائل ہے چنانچہ رقمطراز ہیں ''ان نبینا حی بعد وفاتہ انتھی ۔ویوید ذلک ما ثبت ان الشھداء احیا یرزقون قبورھم والنبی منھم واذا ثبت انہ حی فی قبرہ کان المجیء الیہ بعد الموت کالمجیء الیہ قبلہ ولکنہ قد ورد ان الانبیاء لا یتروکون قبورھم فوق ثلاث و روی فوق اربعین فان صح ذلک قدح فی الاستدلال بالآیة : یعارض القول بدوام حیاتھم فی قبورھم ماسیاتی من انہ تردالیہ روحہ عند التسلم علیہ نعم حدیث '' من زارنی موتی فکانما زارنی فی حیاتی '' الذی سیاتی ان شاء اللہ تعالی ان صح فھو الحجة فی المقام،(کتاب المناسک باب تحلل المحصر عن العمرة جلد ٥ ص١٢٦)''بے شک ہمارے نبیۖ وفات کے بعد بھی حیات ہیں اور یہ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں اور اسی طرح انبیاء بھی رزق پاتے ہیں اور ثابت ہے کہ نبیۖ اپنی قبر مبارک میں اسی طرح حیات ہیں جیسا اپنی دونیاوی حیات میںتھے لیکن وارد ہوا ہے کہ الانبیاء اپنی قبروں کو تین دن سے زیادہ یا (بعض میںچالیس دن آیا ہے)نہیں چھوڑتے ہیں اگر یہ صحیح ہے تو پھر اس آیت(لوظلم انفسھم ) سے استدلال قادح ہے کیونکہ اس حدیث سے ہمیشگی کی زندگی پر تعرض واقع ہوتا ہے جو ہم بیان کررہے ہیں کہ '' میری روح کو لوٹایا جاتا ہے'' ہاںیہ حدیث '' جس نے میری زیارت میری وفات کے بعد کی وہ ایسا ہی ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی''اگر یہ صحیح ہے تو یہ اس مقام کے لئے حجت ہے ''مگر امام شوکانی نے یہ اور اس قسم کی تمام روایات جو زیارت روضہ رسولۖ کے وجوب پر دلیل ہے ان سب کو ضعیف قرار دیا ہے اور آخر میں فرماتے ہیں کہ یہ ایک مستحب عمل ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔اس تفصیل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ امام شوکانی اس بات کے قائل نہیں تھے کہ انبیاء اپنی قبروں میں دونیاوی حیات گزار رہے ہیں
یہ وہ تمام اقوال ہے جو ائمہ اور محدثین سے منقول ہیں جو انہوں نے ان روایات کی شرح میں بیان کیے ہیں یہ تمام اروا ح کا اعلی علین میں ہوناسلف و خلف سے مانتے ہیں اور دیگر روایات کو انھوں نے برزخی معاملات کے تحت لیا ہے جس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور امام عبدالھادی نے اس تاویل کا بھی رد بیان کیا ہے جو بعض متاخرین مثلا امام سبکی اور ان کے بعد امام جلال الدین سیوطی وغیر ہ نے کی ہے اور اس کا یہ جواب دیا ہے کہ نبی ۖ روح مبارک رفیق الاعلی اور اپنی قبر مبارک میں بیک وقت کس طرح موجود ہو سکتی ہے اس لئے ان تمام ائمہ نے ان روایات کو برزخی معاملات کے تحت لیا ہے ۔ اور ائمہ سلف میں سے کسی نے بھی یہ تاویل بیان نہیں کی ہے کہ میری روح کو مجھ پر لوٹادیا گیا ہے جیسا بعض متاخرین نے بیان کیا ہے بلکہ ائمہ مقدمین اور صحابہ کرام اور تابعین وصالحین سے اس طرح کی کوئی بات ثابت نہیں ہے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ پر جہاںسے بھی سلام بھیجا جائے گا تونبیۖ کی روح مبارک کو لوٹایا دیا گیاہے مگر یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ائمہ مقدمین سے ثابت نہیں ہے ائمہ مقدمین نے اس روایت کو نبی ۖ کی قبر انور کے قریب سلام پڑھنے کی دلیل بنایا ہے چنانچہ امام ابن تیمیہ بھی روح لوٹانے والی حدیث کو نبی ۖ کے روضہ مبارک پر جاکر سلام پڑھنے کی دلیل مانتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں'' ائمہ دین نبی ۖ کی قبر اطہر کے قریب آپۖ پر سلام بھیجنے کے بارے میں صرف اسی(یعنی اللہ میری روح لوٹا دیتا ہے) پر اعتماد کرتے ہیں(الوسیلہ ص ١٦٦) اور امام ابن تیمیہ کی بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ " ابن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر حاضر ہوتے تو ان کو سلم کر تے اور ابو بکر اور عمر کو بھی اور پھر ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہی روایت نقل کرتے تھے " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ"
تو یہ بات ثابت ہے کہ ائمہ مقدمین اس روایت کو نبی ۖ کی قبراطہرکے قریب کھڑے ہو کر سلام پڑھنے کی دلیل مانتے ہیں اور یہ روح کا لوٹانا برزخی معاملات سے تعلق رکھتا ہے جس پر فقط ایمان رکھنا چاہئے اور ائمہ و محدثین نے اسی طرح بیان کیا ہے کہ یہ سب برزخی معاملات ہیں اور انبیاء اپنی قبر میں برزخی زندگی میں حیات ہے اور اس حیات پر فقط ایمان لانا ضروری ہے اس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اس برزخی حیات سے صحابہ کرام سے اور تابعین و سلف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے انبیاء کو ندا دینا اور ان سے مدد طلب کرنے کو جائز قرار دیا ہے ہے چنانچہ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ''صحابہ کرام اور سلف صحالحین میں سے کسی نے بھی اپنی ذات کے لئے دعا کرتے وقت نبی ۖ کی قبر انور کی طرف رخ نہیں کیا چہ جائیکہ وہ نبی ۖ کی قبر اطہر کی طرف رخ کرکے آپۖ سے سفارش وشفاعت کی درخواست کرتے اور کہتے اے اللہ کے رسول میرے لیے شفاعت کریں میرے لئے دعا کریں ان میں سے کسی نے دین و دنیا کےمصائب کے بارے میںآپ ۖ سے فریاد نہیں کی نہ نبیۖ نہ کسی نبی اور بزرگ کی وفات کے بعد نہ ملائکہ سے سفارش کی درخواست کی ہے نہ ان سے مصائب وآلام کے خلاف فریاد کی ہے سابقون الاولون مہاجرین و انصار اور تابعین و صالحین میں سے کسی نے یہ کام نہیں کیا ہے نہ کسی امام نے اس کا حکم دیا ہے (الوسیلہ ص ١٦٦) اور آخر میں میں احناف کے حوالے سے نقل کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ اندازہ ہو جائے کہ اکابر احناف کا اس بارے میں کیا عقیدہ ہے چنانچہ شرح عقیدہ الطحاویہ میں نقل کیا ہے ''الارواح فی البرزخ ان الارواح فی البرزخ متفاوتہ اعظم تفاوت فمنھا: ارواح فی علی علین فی الملاء الاعلی وھی الاروح الانبیاء وھم متفاوتوں فی منازلھم ،ومنھاارواح فی حواصل طیر خضر وھی ارواح بعض الشھداء لاکلھم (شرح العقیدہ الطحاویہ باب بعذاب القبر و سوال منکر نکیر ص ٤٥٦-٤٥٤)''ارواح برزخ میں ہیں جہاں ان کے دو بڑی تقسیم ہے جو اعلی علین میں ہیں ان میں ایک الملاء اعلی میں انبیاء کی ارواح ہیں اور دوسرے جو ارواح سبز پرندوں کے سینوں میں ہیں وہ شہداء کی ارواح ہیں'' اس کے بعد آخر میں وہی روایت نقل کی ہے ''
حرم علی الارض ان تاکل اجساد انبیائ'' مگر اس کے بعد انبیاء کی قبر میں حیات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اکابراحناف بھی انبیاء کی اراوح کے جنت کے اعلی مقام میں ہونے کہ قائل ہیں نہ کہ انبیاء اپنی قبروں میں حیات دونیاوی کے ساتھ ہیںاور اکابر احناف نے بھی انبیاء سے مدد طلب کرنے یا ان کو ندا دینے کے قائل نہیں ہیںحتیٰ کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف تو اس بات کے بھی قائل نہیں تھے کہ اللہ کو مخلوق کے وسیلہ سے پکارا جائے چنانچہ پاکستان کی اکثریت حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہیں اسی وجہ سے میں ان کے یہ ا قوال نقل کررہا ہوں امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں لا ینبغی ِلاَحدِِ اَنْ یدعوا اللہ الا بہ(شرح الکرخی باب الکراہت) '' کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کا واسطہ دے کر اللہ کو پکارے'' امام ابو حنیفہ کا یہ قول متعدد ائمہ نے نقل کیا ہے جس فقہ کے بانی کسی وسیلہ سے اللہ کو پکارنا جائز نہیں سمجھتے وہ کس طرح اللہ کے علاوہ کسی کو ندا دینا یا مدد طلب کرنا جائز قرار دے سکتے ہیں اور ان کے ماننے والے آج ان ہی کی تعلیمات سے اس قدر ناآشنا ہیں کہ
وہ انبیاء کو ندادینا جائز سمجھتے ہیں جبکہ ان کے مسلک کے امام کا عقیدہ ہی کچھ اور ہے۔
اس تمام بحث کاحصول فقط یہی ہے ہر انسان کے لئے ایک حیات برزخی ہے اور مومن بھی اپنی حیات برزخی گزار رہے ہیں اور انبیاء مومنوں سے بھی اعلی ہیں اور نبی ۖ امام الانبیاء ہیں تو تمام انبیاء کی حیات برزخی ہے جس کو دنیاوی حیات پر قیاس کرنا صحابہ کرام ،تابعین سلف وصالحین ائمہ ومحدثین سے ثابت نہیں ہے اور اس کی بنا پر انبیاء کو ندا دینا ان سے مدد طلب کرنا قطعی طور پر صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے اور خصوصا ان روایات سے اس قسم کا کوئی عمل صحابہ کرام نے اخذ نہیں کیا ہے اور ہمارے لئے صحابہ کرام کے ایمان کی مثال دی گئی ہے کہ اگر ایمان لاناہے تو ان کی طرح لاؤ تو ہمارے لئے نبی ۖ کی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے صحابہ کرام سے بہتر اس روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے براہ راست نبی ۖ سے تعلیم حاصل کی ہے اور ان سے بہتر نبی ۖ کے ارشادات کو اور کون سمجھ سکتا ہے اللہ ہمیں نبی ۖ کی تعلیمات کو فہم صحابہ کرام کے طریقہ پر سمجھنے کی توفیق دے جو سب سے بہتر طریقہ ہے (آمین) جزاکم اللہ و احسن جزا
وماعلینا الابلاغ
 
tariq mehmood
About the Author: tariq mehmood Read More Articles by tariq mehmood: 13 Articles with 33228 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.