ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔؟

(Faraz Tanvir, Lahore)
ٓآج ہم جس دور میں زندہ ہیں اب سے قبل صدیوں کی معاشرت کے ساتھ آج کی طرز معاشرت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کی اقدار اور آج کی اقدار میں تہذیب و تمدن میں واضح فرق دکھائی دے گا اگرچہ یورپی ممالک میں مخلوط ثقافت یعنی مرد و خواتین کا ایکدوسرے کے شانہ بشانہ ہر شعبہ زندگی میں کام کرنے کا رواج بہت پہلے سے ہے جبکہ مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی یہ رواج اب بہت عام ہو چکا ہے کہ یہ دور جدید کا تقاضہ بھی ہے اور ضرورت بھی-

انسان کےطرز حیات میں بہ نسبت پہلے کے سی بہت تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں پہلے کی طرح ہمارے معاشرے میں اب مخلوط پیشہ ورانہ نظام کو معیوب نہیں سمجھا جاتا آج کے دور میں ہمارے معاشرے کی خواتین مختف شعبوں میں نہ صرف مردوں کے شانہ بشانہاپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں بلکہ بعض خواتین تو بیشتر شعبہ ھائے زندگی میں مردوں سے زیادہ مہارت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں اور کامیاب زندگی گزار رہی ہیں-

لیکن اس سب کے باوجود بھی آج کی عورت کے لئے ہمارے معاشرے کے چند تنگ نظر افراد کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور خواتین کو اس ضمن میں جن مسائل و مشکلات کا سامنا پہلے تھا اب بھی ہے -

مخلوط اداروں میں آج بھی ایسا ہے کہ خواتین کو اپنے سے بہتر کام کرتا دیکھ کر مرد حضرات ﴿لیکن چند ایک سب نہیں﴾ جو بظاہر تو خود کو روشن خیال گردانتے ہیں لیکن اصل میں ہوتے نہیں -

خاص کر مخلوط اداروں میں خواتین کو ادارے سے وابستگی کے ساتھ ہی باور کروا دیا جاتا ہے کہ خواتین کام کے معاملے میں خود کو صنف نازک سمجھتے ہوئے رعایت کی امید لے کر کام نہ کریں چونکہ اخلاص، دیانت اور محنت ہی ملازمت کا پہلا تقاضہ ہے مردوں کے ساتھ مرد بن کر ہی کام کرنا ہے کام کہ معاملے میں تو ایسا سوچتے ہیں لیکن دیگر صورتوں میں خواتین کو خواتین ہی سمجھتے ہیں-

جب خواتین مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں تو ظاہری بات ہے کہ اپنے ہم پیشہ افراد سے بات چیت بھی ہوتی ہے ہم مزاج ہم پیشہ افراد سے اچھی کمپنی بھی بن جاتی کیونکہ انسان جہاں کام کرتا ہے دن کا آدھے سے زیادہ وقت گزارتا ہے اور انسان کوئی روبوٹ مشین نہیں کہ بت بن کر خاموشی سے صرف کام ہی کرتا چلا جائے کسی دوسرے فرد سے لاتعلق ہو کرایک ساتھ کام کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کام کے علاوہ بھی دیگر زندگی کے دیگر معاملات و مسائل پر ایک دوسرے سے تھوڑی بہت بات چیت کر لینا بھی انسانی فطرت کا خاصہ ہے اور یہ کوئی ایسی معیوب یا غیر فطری بات بھی نہیں ہےجب ایک ادارے میں رہتے ہوئے ساتھ کام کرتے ہیں تو بات چیت بھی کر سکتے ہیں ساتھ کھانا بھی کھا سکتے ہیں - خواندہ یا ناخواندہ اور خاص کر پڑھے لکھے افراد کو خواہ مرد ہوں یا خواتین ہر انسان کو اپنی حدود کا علم ہوتا ہے لیکن لوگوں کی تنگ نظری بعض اوقات اس قسم کی بعض چھوٹی چھوٹی سی باتوں کو لیکر کہ فلاں کی آپس میں بہت دوستی ہے فلاں نے فلاں کے ساتھ کھانا کھایا فلاں نے فلاں کو کھانا کھلا دیا ہے وغیرہ وغیرہ یہ محض تنگ نظر ذہنوں کی پراگندگی ہوتی ہے ایسی معمولی باتوں کو لیکر چند شرانگیز اور پست ذہنیت کے لوگ بلاوجہ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے ہیں دوسروں کو منفی تندید کا نشانہ بناتے ہیں عام بات چیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے دوسروں کے لئے ذہنی انتشار و پریشانی کا باعث بنتے ہیں-

کوئی وجہ ہو نہ ہو چھوٹی سی بات کو لیکر بلاوجہ کی باتیں بنا کر خوامخواہ سکینڈل مشہور کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے یا تو ایسی خواتین کو ادارے کو چھوڑنا پڑتا ہے یا پھر ڈھیٹ بن کر خود پر جبر کر کے لوگوں کی ناحق تنقید کو برداشت کرنا پڑتا ہے -دور جدید میں انسانی ضروریات و اخراجات اس قدر بڑھ گئے ہیں کے گھر کا ہر فرد ملازمت سے وابستہ ہو تو گھر کی گاڑی چلتی ہے اسی لئے اب خواتین میں ملازمت کا رجحان تیزی سے عام ہو رہا ہے-

شریفوں کو شریف غنڈوں کو غنڈے ایمانداروروں کو ایماندار اور چوروں کو چور پہچانتے ہیں اور ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ساتھی بن جاتے ہیں کہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ باہمی ہم آہنگی نظریاتی مطابقت عادات و اطورمیں یکسانیت دو اجنبی انسانوں کو ایکدوسرے کے قریب ٓلے آتی ہے دنیا میں اسی طرح باہمی دوستیاں اور محبتیں پروان چڑھتی ہیں- یہ انسان کی فطرت ہے وہ کہیں بھی ہو کیسا بھی ہو کچھ بھی کرتا ہو اسے روحانی آسودگی کے لئے کسی نہ کسی ایسے ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے سمجھ سکتا ہو جس کے ساتھ وہ اپنے دل کی بات کر سکتا ہو اس کے دل کی بات سن سکتا ہو اپنے دکھ سکھ غم خوشی آپس میں بانٹ سکتا ہو﴿اور یہ منحصر ہے کسی بھی انسانی کی ذاتی زندگی اور زندگی میں در پیش حالات و واقعات پر﴾ یہ بات پہلے بھی عرض کی جا چکی ہے کہ انسان کوئی روبوٹ یا مشین نہیں کہ ہر وقت سپاٹ چہرہ بنائے کام میں ہی جتا رہے کام کے دوران بھی ایک انسان کو کسی ایسے ساتھی کی ضرورت درپیش رہتی ہے جس کے ساتھ دوگھڑی بات کر کے انسان پرسکون بلکہ تازہ دم ہو کر اپنے حصے کے فرائض و ذمہ داریاں زیادہ بہتر طور پر زیادہ خوش اسلوبی کے ساتھ احسن طریقے سے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ﴿ممکن ہے بہت سے افراد میری اس بات سے متفق نہ ہوں لیکن صاحبان کرام یہ تحری راقم کے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے ممکن ہے آپ کے تجربے میں یہ بات نہ آئی ہو﴾-

سخت محنت کرنے والے بھی اپنے ہم مزاج دوست یا ساتھی کی کمپنی میں کچھ وقت گزارنے کے بعد خود کو ہلکہ پھلکا محسوس کرتے ہیں کہ انہیں سخت محنت کے باوجود بھی تھکن کا احساس نہیں ہو پاتا-

سمجھا جائے تو یہ انسانی معاشرت کی ایسی ضرورت ہے کہ جس کی وجہ سے ہر انسان اپنے اپنے شعبے میں رہتے ہوئے اپنا اپنا کام خوشگوار موڈ میں کر سکتا ہے انسان جس ماحول میں گھر سے دور رہ کر کام کرتا ہے زیادہ وقت گزارتا ہے یہ ممکن نہیں کہ محض اپنے آپ سے یا اپنے کام سے ہی واسطہ رکھے کوئی بھی انسان کہیں بھی اکیلے وقت نہیں گزار سکتا انسانوں میں رہتے ہوئے انسانوں سے انجان بن کر زندگی نہیں گزاری جاتی انسان کا انسان سے بہرحال کوئی نہ کوئی رشتہ یا تعلق قائم رہتا ہے اسی طرح انسان خوشگوار ماحول میں پرسکون رہ کر اپنے امور سرانجام دیتا ہے-

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر انسان کی سوچ دوسرے انسانوں سے مختلف بھی ہوتی ہے اوربعض معاملات میں قدرے مطابقت بھی رکھتی ہے انسانی تعلقات کی بنیاد دوستی ہے اور دوستی وہاں ہوتی ہے جہاں تھوڑی بہت یا قدرے زیادہ ذہنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ویسے بھی انسانوں سے محبت کا جذبہ، ہمدردی ایثار و خلوص، قربانی یہ جذبے ہی دوستی کی بنیاد بنتے ہیں کسی کے ساتھ مخلص ہونا کسی کے دکھ درد میں شریک ہونا کسی سے اپنے خوشی غم کہ سکتا ہو یہ بھی ہے کہ ہر ایک سے ہر بات نہیں کی جاتی کوئی ایک یا دو لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے مزاج آشنا ہوتے ہیں انہی سے انسان بات چیت کر سکتا ہے سب سے نہیں کہ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے-

لیکن اسی بات کو لیکر بعض فتنہ پرداز اور فسادی ذہنیت کے افراد بھی ہوتے ہیں جو انتہائی تنگ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے خلوص پر استوار روابط کو غلط رنگ دیتے ہوئے اچھے بھلے افراد کے شخصیت کو 'سکینڈلائز' کر کے حظ اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو ذہنی اذیت سے دو چار کرنے کا سبب بنتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود کو بظاہر روشن خیال کہتے مگر ذہنی اعبار سے انتہائی درجے کے تنگ نظر افراد ہوتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے گرد و پیش میںم رہنے بسنے والے افراد کی پرسکون زندگی کا سکون برباد کرنے والے ہوتے ہیں-

ایسے لوگوں سے جو ناحق دوسروں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کر کے، دوسروں کی زندگی کا سکوں برباد کر کے عارضی خوشی جو دراصل خوشی نہیں ان کی اپنی ذات کی ان کی اپنی شخصیت کی بربادی ہے ایسا کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟

اللہ تعالی ہر انسان کو اپنے معاملات آپ سدھارنے کی عقل سے کام لینے کی ہدایت عنایت فرمائ اللہ کی عنایت کردہ توفیق سے انسان کو اپنی زندگی روشن کرنا نصیب فرمائے دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے کی بجائے خوبیوں کی جستجو کا متمنی بنا دے (آمین)
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 479 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 241335 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

Language: