لاہور ماڈل ٹاؤن پارک
کہنے کو تو یہ ایک پبلک پلیس ہے اور یہاں لوگ جاگنگ وغیرہ کے لیے آتے ہیں
بہت سی فیملیز سیر و پکنک وغیرہ کے لیے بھی آتی ہیں یہ پارک بہت بڑا ہے اور
وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور بہت خوبصورت بنایا گیا ہے بےشمار درخت
پھولوں کے تختے اور چھوٹی سی نہر اور اس میں چلتی ہوئی موٹر بوٹ کشتیاں بہت
اچھی لگتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ باتیں اسی ہیں جو طبعیت کو ناگوار
گرزتی ہیں اور وہاں جاکر انسان شرمندگی محسوس کرنے لگ جاتا ہے کچھ لوگ ایسے
بھی ہیں جو پارک کی خوبصورتی کو گہنا رہے ہیں جگہ جگہ ایسے مناظر دیکھنے کو
ملتے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے بلکل باہر کا ملک لگتا
ہے ہر بنچ پر کوئی نہ کوئی جوڑا بیٹھا نظر آتا ہے اور وہ ایسی ایسی حرکات
میں مشغول ہوتے ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے
اور ایسے میں اگر کوئی اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ آیا ہو تو سوچیں کیسا
لگتا ہے میں پوچھتی ہوں کیا ان لڑکے و لڑکیوں کے والدین اتنے بےخبر ہیں
بچوں کے والدین خاص طور پر لڑکیوں کے والدین کو تو بہت ہی الرٹ ہونا چاہیے
آج اپنے بچوں کی ہر حرکت پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ فوراً ہی کوئی حفاظتی
اقدام کیا جاسکے موبائل فون٬ کیبل ٹی وی وغیرہ بھی برائی پھیلانے میں اہم
کردار ادا کر رہے ہیں |