اسلامی ہوم فنانسنگ کےمروجہ طریقے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، حمداً يليق بجلاله وكماله ؛ حمداً كما ينبغي لجلال وجهه وعظيم سلطانه، حمداً يوازي رحمته وعفوه وكرمه ونِعَمِه العظيمة ؛ حمداً على قدر حبه لعباده المؤمنين

گھر ہر ایک انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے پاس ایک عمدہ گھر ہو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں ہے-

وَاذْكُرُواْ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِى الأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا فَاذْكُرُواْ ءَالآءَ اللَّهِ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِى الاّرْضِ مُفْسِدِينَ

ترجمہ: اور یاد کرو اللہ تبارک و تعالی نے عاد کے بعد آباد کیا ، اور تم کو زمین پر رہنے کے لیے ٹھکانہ دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو ، اور پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بناتے ہو، سو تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کیا کرو، اور زمین پر فساد مت پھلایا کرو-

اور آقا علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا

( سعادة بن آدم ثلاثة ... والمسكن الواسع)

مندرجہ بالہ آیت اور حدیث سے یہ واضح پتہ چلتا ہے کہ گھر انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے- لوگ اس کو تعبیر دینے کے لیے عموماّّ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں اور بعض اوقات دوست رشتہ داروں سے قرض لے کراپنے گھر کا خواب پورا کرتے ہیں اور جن کے پاس یہ سہولت نہیں ہوتی وہ بنکوں اور ان فنانشل انسٹی ٹیوشنزسے رابطہ کرتے ہیں جوان کو تمویل فراہم کر سکیں- تمویل حاصل کرنے کے لیے دو طرح کے ادارے ہوتے ہیں ان میں سے ایک تو قسم ہے جو سود پر قرضہ دیتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسلامی طریقہ تمویل سے ان کو پیسے فراہم کرتے ہیں تاکہ اس خواب کو تعبیر میں بدلا جا سکے- تو ہم اس مضمون میں دونوں طریقوں کو زیر بحث لایں گے- سب سے پہلا طریقہ جو رایج بھی ہے وہ سود طریقہ ہے اس میں آدمی بنک کے پاس جاتا ہے اور بنک اس کو اس کی درخواست کی جانچ پڑتال کرتا ہے کہ کیا یہ آدمی ہمارا قرضہ واپس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ نہیں آیا کہ اس کی آمدن کتنی ہے وغیرہ وغیرہ اور پھر اس کو اس کی مطلوبہ رقم قرض کی شکل میں دیدی جاتی ہے اور اس پر ایک خاص شرح سے سود وصول کیا جاتا ہے- اور ضمانت کے طور پر اس کے گھر کے کاغذات وغیرہ رکھ لیے جاتے ہیں- اس نقطہ پر تو بحث کرنا ضروری نہیں ہے کہ سودی بنکاری کا طریقہ جایز ہے یا نہیں؟سود کے بارے میں تو قرآن و حدیث میں واضح احکام موجود ہیں- مگر دوسری طرف اسلامی ہوم فنانسگ کے جو طریقے رایج ہیں ان میں سب سے پہلے پاکستان میں شرکۃ المتناقصہ کو استعمال کیا جاتا ہے – ملایشیہ ، برونای دارالسلام اور انڈونیشایا میں مرابحہ یا بیع بثمن العاجل کو استعمال کیا جاتا ہے اور امریکہ، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں اجارہ کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو مرابحہ اور استصناع کی بنیاد پر بھی تمویل فراہم کرتے ہیں- مندرجہ ذیل میں ان تمام تمویل کے طریقوں کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے-

مرابحہ:

یہ ایک ایسا عقد ہے جس میں فروخت کندہ خریدار کو اپنی لاگت اور نفع دونوں واضح کردیتا ہے مرابحہ کے بارے میں شیخ الحدیث ابو ہریرہ شریعۃ کالج فضیلۃ الشیخ حافظ ذوالفقار حفظ اللہ نے اپنی کتاب دور حاضر کے مالی معاملات کا شرعی حکم میں علامہ موفق الدین ابی محمد عبداللہ بن احمد بن محمد قدامہ حنبلی مقدسی ؒ کا قول نقل فرمایا ہےکہ "مرابحہ کا معنی ہے اصل لاگت اور متعین نفع کے ساتھ فروخت کرنا اس میں ضرور ی ہے کہ فروخت کنندہ اور مشتری کو اصل لاگت معلوم ہو، چنانچہ بچنے والہ کہے کہ اس میں میرا اصل سو ہے یا یہ مجھے ایک سو کی پڑی ہے میں آپ کو دس نفع لے کر اتنے میں بیچتا ہوں" اس بیع کی قسم میں فروخت کنندہ کے لیے لازم ہے کہ وہ مشتری کو لاگت اور نفع سے متعلق بتا دے-پاکستان میں اور دوسرے ممالک میں اس طریقہ تمویل کا استعمال اسلامی بنکوں میں بہت زیادہ ہو رہا ہے- ہوم فنانسنگ کے لیے ملایشیہ میں اس کو بہت زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے- اس میں گاہک ٹھیکہ دار سے کچھ رقم کے عوض اپنا گھر بک کروا لیتا ہے جس کے بدلے میں گھر اس کے نام ہو جاتا ہے – گاہک بقیہ رقم کی ادایگی کے لیے بنک سے رابطہ کرتا ہے اور وہ گھر بنک کو نقد میں فروخت کر دیتا ہے اور اسی وقت ادہار میں اصل رقم جمع منافع کےخرید لیتا ہے- اب نقد میں فروخت کرنے سے جو رقم ملی وہ ٹھیکہ دار کو ادا کر دی اور بنک سے جو اسی وقت ادہار پر خریدا گیا تھا اسکی قسطیں کیی سالوں میں ادا کرنا ہونگی- اس کے بارے میں علماء عرب کہتے ہیں کہ اس میں اور سودی طریقہ میں کوی فرق نہیں ہے کچھ محققین کہتے ہیں کہ بیع العینہ اور بیع بثمن العاجل براے ہوم فنانسنگ میں کوی فرق نہیں ہے- کیونکہ جب بنک بیع بثمن العاجل کے ذریعے اپنے گاہک کو تمویل فراہم کرتا ہے تو یہ تمویل عموماّّ لمبے عرصے کے لیے ہوتی ہے جیسے 20 سال یا اس سے زیادہ –

مشارکۃ المتناقصۃ :
مشارکۃ متناقصہ ایک ایسا عقد ہے جو بنیادی طور پر تین عقود کا مجموعہ ہے ایک مشارکہ دوسرا اجارہ اور تیسرابیع ہے- پہلے ہم مشارکۃ متناقصہ کے عقد کو بیان کرتے ہیں- یہ عقد ایسا عقد ہے جس میں دو فریقین آپس میں شرکۃ الملک کی بنیاد پر اکٹھے ہوتےہیں اور ایک اثاثہ خریدتے ہیں- اور ایک فریق اس اثاثے کو استعمال کرتا ہے اور دوسرے فریق کو اس کے حصے کاکرایہ دیتا ہے اور ساتھ ساتھ دوسرے فریق کا حصہ خریدتا رہتا ہے-ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب وہ دوسرے فریق کے تمام حصے کا مالک بن جاتا ہے- اس کو آج کل فنانسنگ کے لیے جدید فنانشل انسٹی ٹیوشن اس کو استعمال کرتے ہیں- ہوم فنانسنگ کے لیےاس کو مختلف ممالک کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے- پاکستان اور بحرین وغیرہ میں ہوم فنانسنگ کے لیے اس کو ہی استعمال کیا جا رہا ہے-ایک آدمی جو گھر خریدناچاہتا ہے وہ فنانشل انسٹی ٹیوشن سے رابطہ کرتا ہے تو فنانشل انسٹی ٹیوشن اپنے کلاینٹ سے مل کر شرکۃ الملک کی بنیاد پرگھر خرید تا ہے- فنانشل انسٹی ٹیوشن عموما 80 فیصد اور کلاینٹ 20 فیصد انویسٹ کرتا ہے- اب دونوں فریقین اس گھر کے مالک بن جاتے ہیں- کلاینٹ اس گھر کو استعمال کرتا ہے اور فنانشل انسٹی ٹیوشن کے 80 فیصد حصے کا کرایہ فنانشل انسٹی ٹیوشن کو دیتا ہے اور ساتھ ساتھ فنانشل انسٹی ٹیوشن کے حصے کو خریدتا رہتاہے- مثال کے طور پر ماہ جنوری 2010 کی یکم تاریخ کو شرکۃ الملک کی بنیاد پر گھر خریدا تو کلاینٹ 80 فیصد حصہ کا کرایہ دیتا ہے اور ساتھ 10 فیصد حصہ خرید لیتا ہے- اب اگلے مہینے میں کلاینٹ 70 فیصد حصے کا کرایہ دے گا اور پھر 10 فیصد حصہ خرید لیتا ہے- اسی طرح ایک وقت آے گا کہ کلاینٹ پورے گھر کا مالک بن جاے گا-جس طرح کے اوپربیان کیا گیا کہ شرکۃ المتناقصہ میں تین عقود ہوتے ہیں ایک شرکۃ جب فنانشل انسٹی ٹیوشن اور کلاینٹ آپس میں ملے 20 اور 80 فیصد کے تناسب سے اور دونوں فریقیں کی شراکت ہوگی – دوسرا اجارۃ تو وہ ایسے کہ جب کلاینٹ نے گھر کرایہ پر لے لیااور بیع کا عقد اس طرح کہ جب کلاینٹ آہستہ آہستہ گھر کے حصے خریدتا رہتا ہے- اس تمام عمل میں اجتماع العقود ہے- یہ تمام عقود ایک دوسرے پر معلق نہیں ہیں –

اجارۃ/ اجارۃ منتھیۃ بالتملیک:
یہ عقد تیسرا عقد ہے جس کو ہوم فنانسنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے- یہ عقد زیادہ تر خلیجی ممالک ، امریکہ اور برطانیہ کے اسلامی فنانشل انسٹی ٹیوشن استعمال کرتے ہیں-اجارہ کے جایز ہونے میں تمام مکاتب کا اتفاق ہے جیسا کہ دیکھا گیا کہ مشارکۃ متناقصہ میں بھی اجارۃ کا تصور موجود ہے- لیکن کلی طور پر مشارکۃ متناقصہ اجارۃ پر مبنی نہیں ہے- اجارۃ ایک ایسا عقد ہے جس میں ایک فریق دوسرے فریق کو اپنا کوی اثاثہ یا چیز کا حق انتفاع با معاوضہ دے – اور اس عقد کی معیاد ختم ہونے پر اثاثہ مالک کے پاس واپس آ جاتا ہے جبکہ اجارۃ منتھیۃ بالتملیک جو کہ جدید دور کی اجتہادی تخلیق کہا جا سکتا ہے اس عقد کی معیاد ختم ہونے پر اجیر کو اثاثہ کا مالک بنا دیا جاتا ہے چاہے بیع کے ذریعے یا تحفہ کی شکل میں- اسلامی فنانشل انسٹی ٹیوشنز اس کو اسلامی ہوم فنانسنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں- اس کے طریقہ کا ر کے بارے میں شاہ فہد یونیورسٹی کے معروف استاد دکتور صلاح فہد الشہوب بڑی تفصیل سے لکھتے ہیں کہ کلاینٹ اسلامی فنانشل انسٹی ٹیوشن سے گھر کی خریداری کے سلسلے میں رابطہ کرتا ہے- اسلامی فنانشل انسٹی ٹیوشن اپنے کلاینٹ کے لیے گھر خرید لیتا ہے اور وہ گھر اپنے کلاینٹ کو کرایہ پر دے دیتا ہے- کلاینٹ اس گھر کو ایک مدت تک استعمال کرتا ہے اور اسلامی فنانشل انسٹی ٹیوشن کو متعین کرایہ دیتا رہتا ہے اور ایک خاص مدت کے بعد اسلامی فنانشل انسٹی ٹیوشن وہ گھر کلاینٹ کو معمولی قیمت کے بدلےفروخت کر دیتا ہے یا ہبہ کر دیتا ہے-

استصناع:
یہ ایک ایسا عقد ہے جس میں کسی چیز کو تیار کرنا مقصود ہوتا ہے- جیسے مکان کی تعمیر- اس کو ہم مثال کے زریعے سمجھتے ہیں کہ اگر ایک آدمی ایک بڑھی کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ مجھے ایک فلاں قسم کی میز بنا کر دو تو یہ استصناع کا عقد ہوگا-لیکن ایک بات بغور سمجھ لینی چاہیے کہ اگر تیار شدہ چیز کو خریدا جاے تو وہ بیع ہوگی استصناع ہرگز نہیں کیونکہ استصناع میں چیز کی تیاری مقصود ہے- استصناع کا استعمال ہوم فنانسنگ کے لیےبرطانیہ وغیرہ میں ہو رہا ہے- جس طرح کہ اجارۃ میں بیان ہوا کہ کلاینٹ بنک کے پاس جاتا ہے گھر کی سہولت لینے کے لیے تو بنک یا فنانشل انسٹی ٹیوشن اپنے کلاینٹ کے لیے گھر خرید لیتا ہے اور پھر اس کو اجارۃ پر دے دیتا ہے - اسی سے مشابہ استصناع میں جب کلاینٹ بنک کے پاس ہوم فنانسنگ کی غرض سے جاتا ہے تو بنک سے وہ کہتا ہے کہ مجھے اس قسم کا گھر یا اس نقشہ کے مطابق گھر چاہیےتو اس بارے میں شاہ فہد یونیورسٹی کے معروف استاددکتور صلاح فہد الشہوب لکھتے ہیں کہ بنک براہ راست اس کے لیے گھر کی تعمیر نہیں کرتا بلکہ استصناع الموازی کا عقد کرتا ہے- ایک طرف بنک اپنے کلاینٹ سے یہ عقد کرتا ہے کہ وہ اس کو اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق گھر بنا کر دے گا تو دوسری طرف بنک ایک معمار یا ٹھیکہ دار سے عقد استصناع کرتا ہے کہ تم میرے لیے ایک گھر تعمیر کرو گے - اور اس کا خرچہ بنک ادا کرتا ہے جب گھر کی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے تو بنک وہ گھر اپنے کلاینٹ کو دے دیتا ہے اور اس سے رقم قسطوں کی شکل میں لیتا رہتا ہے- اس کو استصناع الموازی کہتے ہیں- اس میں دونوں طرف استصناع کا عقد ہوا مگر دونوں ایک دوسرے پر معلق نہیں ہونے چاہیں-

مندرجہ بالہ میں ہم نے چار طرح سے اسلامی ہوم فنانسنگ کے طریقے بیان کیے مگر ان میں سےسکالرز کے نزدیک بہتر مشارکۃ متناقصہ ہی ہے- کیونکہ علماء عرب کے مطابق بیع بثمن العاجل یا مرابحہ فنانسنگ براے ہوم فنانسنگ میں اور سودی ہوم فنانسنگ میں کوی فرق نہیں ہے-اس کے علاوہ ملایشیہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے معروف سکالر ڈاکٹر احمد کمیل میرا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلامی ہوم فنانسنگ کے لیے جو بہتر طریقہ ہے وہ صرف مشارکۃ متناقصہ ہی ہے- کیونکہ مرابحہ میں ایک دفعہ رقم (لاگت اور نفع) طے ہو گیا تو اس میں تبدیلی جایز نہیں ہے- اب ہوم فنانسنگ کے لیے کوی ایک سال یا دو سال کے لیے تو فنانسنگ لیتا نہیں ہے اس کے لیے تو پندرہ سے بیس سال کے لیے فنانسنگ لینی ہو تی ہے اور اتنے لمبے عرصے کے لیےفنانسنگ بنک اور کلاینٹ دونوں کے لیے نقصان دہ ہے-کچھ سکالرز نے مشارکۃ متناقصہ پر بھی اعتراضات کیے ہیں ان میں ڈاکٹر سید طاہر حجازی اور حنیف صاحب کے مطابق مشارکۃ متناقصہ بیع بثمن العاجل کی طرح ناقابل عمل نہیں بلکہ یہ قابل عمل ہے مگر اس کی بنکوں کے اندر جو پریکٹس ہو رہی ہے وہ ٹھیک نہیں ہے- اور مشارکۃ متناقصہ کے میں جو شرح منافع رکھا جاتا ہے وہ سودی شرح رکھی جاتی ہے- کچھ سکالرز لکھتے ہیں کہ شرح منافع جو بنک لیتا ہے وہ علاقہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ شرح سود کی بنیاد پر- کیونکہ اگرایک بندہ اسلام آباد میں ہوم فنانسنگ لے رہا ہے اور ایک آدمی لاہور میں تو ان دونوں کے کرایہ میں بہت فرق ہوگا تو بنک ان دونوں سے ایک ہی کرایہ کی رقم کیسے لے سکتا ہے؟

لیکن پھر بھی مشارکۃ متناقصہ تمام دیگر طریقوں سے بہتر ہے- مشارکۃ متناقصہ نہ صرف اسلامی بلکہ غیر اسلامی ممالک میں بھی ہوم فنانسنگ کے لیے استعمال ہو رہا ہے- جیسے کہ امریکہ میں مسلمانوں نے ایک ادارہ قایم کیا ہے جسے لا ربا کہتےہیں- اس میں وہ اسلامی قوانین کے مطابق گھر کی سہولت مہیا کرتے ہیں- لیکن ایک مشہور بریلوی سکالر جناب علامہ طاہرالقادری نے06 اپریل 2003 کو کینڈا میں خطاب کیا اور ان سےسوال کیا گیا کہ کینڈا کے مسلمان کو ہوم فنانسنگ کے لیے یا Mortgage کے لیے سودی نظام کو اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے بارے میں ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ تو علامہ صاحب نےجو جواب دیا اس کا حاصل کلام یہ ہےکہ سود حرام ہے اس کا حکم چودہ سو سال پہلے آگیا- سود حرام ہے اس میں کوی گنجایش نہیں ہے جو سود کو حلال مانتا ہے وہ کافر ہے اور جو اس کو حرام نہیں مانتا وہ بھی کافر ہے- مگر جو لوگ کینڈا میں یا غیر اسلامی ریاست میں رہنے آے ہیں تو وہ اپنی حکومت سے کیی قسم کے فواید لیتے ہیں چایلڈ بینیفٹ اور دیگر طرح سے تو وہ بھی تو حرام ذرایع سے اکٹھا ہوتا ہے- اگر وہ رقوم لے لیتے ہیں تو سودی معاملہ کرنے میں کیا حرج ہے؟

مجھے ان کی بات سے بہت اختلاف ہےکہ جناب علامہ صاحب اگر کسی چیز کا حل نہیں نکال سکتے تو کم از کم اجتہاد فرما کر سودی نظام کو حلال تو نہ کرو- میں سے سمجھتا ہوں کہ غیر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کو مل کر کواپریٹو سوسایٹیز بنا کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوے اسلامی ہوم فنانسنگ کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے نہ کہ سودی نظام کی طرف چلے جائے-

Muhammad Asghar Shahzad
About the Author: Muhammad Asghar Shahzad Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.