راہِ فرار

(Kiran Aziz Kashmiri, )

دہشت گردی کا راج ،سڑکیں سنسان ،اور ان سنسان سڑکوں پر ایک خوف کا عالم ہے۔ہر شخص بے خبر ہے کہ کب ٹولہ نما ڈاکوؤں کا شکار بن جائے۔زندگی بھر کی جمع پونجی اسکا موبائل یا پھر اسکی اپنی زندگی ! اور معشیت جہاں تباہ ہے۔تو جعلی عاملوں نجومیوں کا کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی پا رہا ہے۔اشتہارات پڑھتے ہی خواتین وحضرات انکی منزل کی جانب یوں رواں دواں ہو جاتے ہیں جیسے نمازی اذان کی آواز سنتے ہی مسجد کی طرف چل پڑے ۔لا تعداد مسائل کا شکار بد حواس لوگ ان نام نہاد عاملوں کے شکنجے میں جکڑ جاتے ہیں ۔انہیں یہ تک خبر نہیں کہ وہ ان لوگوں کی کمائی کا ایک بہترین ذریعہ بن رہے ہیں ۔یہ وہ ٹولہ ہے جو اپنی تقدیر کو سنوارنے کیلئے کمزور عقیدے کے حامل افراد کو اپنا کاروبار چلانے کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔میری تحریر کا مقصد مسائل کا شکار ان خواتین و حضرات کے دل و دماغ پہ دستک دینا ہے۔جو آئے دن جعلی عاملوں نام نہاد نجومیوں کا شکار بن کر بھی اپنی سوچ تبدیل نہ کر سکے ۔اگر کہیں کسی عامل نجومی وغیرہ سے دھوکہ کھا بھی جائیں تو اگلے ہی لمحے ٹھکانہ بدل دیتے ہیں بندہ بدل دیتے ہیں ۔مسائل میں الجھے ہوئے یہ لوگ ایک نئی امید کے ساتھ کیسے ان عاملوں نجومیوں سے رابطہ کرتے ہیں ۔خواتین بہت جلد ان کی شاطرانہ سوچ کا شکار بن جاتی ہیں ۔سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ ایک ایسی وباء ہے۔جو پورے معاشرے کو نفسیاتی طور پہ اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔دین سے دوری اختیار کرنے والے در اصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔اپنا راستہ اپنی منزل بھول کر ایسے نام نہاد ٹولے کو شکار بن جاتے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ جو اﷲ سے دور ہے وہی مجبور ہے۔ایمان کی پختگی کبھی خرافات کی جانب بھٹکنے ہی نہیں دیتی ۔خوفزدہ وہی ہوتا ہے جوخود کو قصور وار سمجھتا ہے۔اور قصور یہی ہوتا ہے جو وہ اپنا مقصد حیات بھول جاتا ہے۔طے یہ ہے کہ جب ہمارے مسائل کا تمام حل قرآن پاک میں موجود ہے تو عقل انسانی ورطہ حیرت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔کہ ہم کسی انسان کی بناوٹی دنیا کا حصہ کیوں بن جاتے ہیں وہ بناوٹی دنیا جہاں ہمارا ماضی ، حال اور مستقبل بتایا جاتا ہے۔جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بھلا حقیقت کی خبر پروردگار کے سوا کسی انسان کو کیسے ہو سکتی ہے۔اور جسے خود اپنے اگلے پل کی خبر نہ ہو وہ کیسے کسی دوسرے شخص کے مستقبل کا حال یا مسائل کا حل کیسے بتا سکتا ہے۔چوہے بلی سے ڈرنے والے ایسے موقعے پہ خود شیر بن جاتے ہیں ۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب صداقت اور صاف گوئی سے اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں تو بخوبی اندازہ ہو جائے گاکہ مسائل کا حل ہمارے بہت ہی قریب ہے۔پنج وقت نماز کی پابندی کرنیوالا جب بار بار اپنے ــرب سے رجوع کرے گا تو اسکی بے سکونی خود بخود کم ہو جائے گی ۔اپنے رب کو پکارنے والا نفسیاتی طور پہ مضبوط ارادے کا مالک ہوتا ہے۔وہ تعلیمات نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے بڑی بڑی مشکل سے بھی چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے ۔دقیانوسی خیالات رکھنے والا کبھی بھی سمجھ نہیں پاتاکہ اسکے خیالات اسکے جسم وجاں پر بھی حاوی ہیں۔یہ دل کیوں دھڑکتا ہے،آنکھ کیوں پھڑکتی ہے کا جواب طلب کرنے کے لئیے جعلی پیروں فقیروں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔پھر اپنی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا جاتا ہے۔موجودہ دور میں روزگار کمانے کے نت نئے ذرائع میں عاملوں کا کاروبار خوب ترقی پاتا جارہا ہے۔تعلیم کی کمی اس طرح کے رجحان کو مزید تقویت دے رہی ہے۔علماء حضرات اور دینی مفکرین اپنا کردار ادا کریں!

تا کہ معاشرے میں پھیلی اس بے چینی اس رجحان کا خاتمہ کیا جا سکے۔ہمارا عقیدہ اتنا کمزور نہیں ہونا چا ہیے کہ ہم خود انسانی ہاتھوں کا کھلونا بن جائیں ۔اور یہ بھی نہ سمجھ پائیں کے اﷲ رب العزت حق اور سچے راستے پہ چلنے والوں کی مدد خوب کرتا ہے ۔ان جعلی عاملوں نجومیوں کو خود اپنی خبر نہیں بھلا وہ کسی دوسرے کو کیا فائدہ پہنچاسکتے ہیں ۔کوئی شخص کتنا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو غیب کے علم تک رسائی نہیں کر سکتا ۔اسی نقطے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارا بھی یہ فرض ہے کہ ہم جہاں کہیں اسی طرح کے افرا د کو بیوقوف بنتا دیکھ رہے ہوں انہیں حقیقت سے آگاہ کریں ۔ہر شخص اپنا ذاتی مفاد مد نظر رکھتا ہے ۔تو تبھی ایسی برائیاں با آسانی پروان چڑھتی ہیں ۔اور یہی انسانی خود غرضی ہے۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔سچا مومن جب کوئی نیکی کرتا ہے تو خود کو بھول جاتا ہے۔تب نہ تو کوئی ذات دیکھتا ہے نہ مفادکچھ یاد رہتا ہے تو بس خداکی رضاء۔فرقہ پرستی گروہ بندی اور طبقاتی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے اس معاشرے کو اسلا م کے آفاقی و فلاحی تصور کو پہچاننا ہو گا۔

تو جاگئیے اس نیند سے دین کی وحدانیت اور حقانیت آپکے جھوٹے خوابوں کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔اپنے مسائل کو اس قدر مت الجھائیے کہ راہ فراراختیار کرنا پڑے ۔

جعلی پیروں کی طرف نام نہاد عاملوں کی طرف ۔ہر چند کہ آپ اپنے آپ سے بھا گ سکتے ہیں لیکن بھاگ نہیں سکتے پروردگار سے۔اسی کا بتایا ہوا راستہ مشکلات سے بچاؤ کی اصل پناہ گاہ ہے۔۔۔۔۔
﴿اے اﷲہم تیرے بندے ہیں اور تجھی سے پناہ مانگتے ہیں﴾
ہمیں ہدات دے اٰمین۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 416 Print Article Print
About the Author: kiran aziz

Read More Articles by kiran aziz: 13 Articles with 5256 views »
write truth is my passion.. View More

Reviews & Comments

Aslamo,Alaikum.
Aap aacha likhti hain mai nay 1st time parha hai.
Or please apnay article,s mai always aisay hi Islami touch rakhiye ga jis say insaniat ki falah hoti rahay.
Regards.
Imran
By: Imran., lahore on Nov, 12 2013
Reply Reply
0 Like
Language: