معاشیات اسلام کے چنددرخشاں پہلو

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

انسان اپنی بہترین فطرت پر اس وقت ہوتا ہے جب وہ ماں کے پیٹ سے جنم لیتا ہے،اس وقت وہ ہرتصنع،بناوٹ،ملمع کاری اور کسی بھی طرح کی آمیزش سے پاک ہوتا ہے۔بچہ پیدا ہوتے ہی سب سے پہلے اپنے معاشی مسئلہ کا اظہار کرتا ،وہ روتا ہے، چلاتا ہے،اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے اور باربار تقاضاکرتا ہے کہ اسکا پیٹ بھرا جائے۔پیٹ بھر جانے پر وہ گردونواح سے بالکل بے خبر سکون کی نیند سوجاتا ہے یہاں تک کہ معاشی مسئلہ ہی اسے دوبارہ اسے نیند کی آغوش سے بیدار کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جوانبیاء علیھم السلام کی وساطت سے بنی نوع انسان کو عطا کیا گیاہے۔اسلامی نظام حیات نے انسان کی اس فطری مجبوری اور جبلی کمزوری کا شدت سے ادراک کیا ہے اور شریعت نے ہر خوشی غمی کے مواقع کومعاش سے یعنی بھوکے کا پیٹ بھرنے سے جوڑ دیا ہے ۔بچے کی پیدائش پر عقیقہ کا حکم دیا ہے ،نکاح کے موقع پر ولیمہ کا حکم دیا ہے اور اموات کے مواقع پر بھی حکم دیا ہے کہ پسماندگان کی اس طرح تالیف قلب کرو کہ تین دن تک انکے ہاں کھانا بھیجو۔مسلمانوں کے ہاں سال بھر میں دو عیدیں منائی جاتی ہیں،ایک عید کو فطرانہ کے ساتھ اوردوسری کو قربانی کے ساتھ اس طرح منسلک کردیا کہ انسان کا معاشی مسئلہ حل ہوتا رہے۔کفارے جتنے بھی شریعت نے مقررکیے ہیں وہ روزہ توڑنے کاکفارہ ہو،قسم توڑنے کا یاظہارکرنیکا وغیرہ سب کی ادائگی معاش سے مشروط کردی گئی ہے یعنی کفارے کے طورپر اتنے اور اتنے بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔

قرآن مجید معاش سے بھراپڑاہے۔نماز کے ہر حکم کے ساتھ زکوۃ کا حکم صادر کیا،یہ عمل پورے قرآن مجیدمیں اس قدر تکرار کے ساتھ وارد ہواہے کہ بعض اوقات اندازہ ہوتا ہے کہ شاید زکوۃ کے لیے ہی نماز فرض کی گئی ہے ۔اورزکوۃ وعشرو خمس تواسلامی معاشی نظام کے عظیم الشان مینارے ہیں۔حج کی فرضیت میں بھی معاش کا بہت بڑا عنصر یوں موجود ہے کہ دنیابھرکے لاکھوں امیرلوگ ہرسال اپنی تجوریوں کو حج کی خاطر حرکت میں لاتے ہیں اور صرف حج کی عبادت کے موقع پر دنیا میں گردش دولت کا اتنا بڑا انتظام ہوتا ہے کہ لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کا روزگار محض اس عبادت سے وابسطہ ہے اور عمرہ تو سارا سال جاری رہتاہی ہے جس سے چھوٹے ایجنٹس سے لے کر بڑی بڑی ہوائی کمپنیاں تک اپنے معاشی مفاد کا حصول کرتی ہیں۔جہادجیسی عبادت کے معاشی پہلوکے بارے میں خود ختمی مرتبتﷺ نے فرمادیا کہ میری امت کا رزق نیزے کی انی کے نیچے رکھ دیا گیاہے۔

محسن انسانیت ﷺنے اپنی آمد سعادت کے بعد جتنی پیشین گوئیاں فرمائیں وہ سب معاشی خوشحالی سے تعلق رکھتی ہیں،مکہ مکرمہ میں جب آپ ﷺ کعبۃ اﷲسے ٹیک لگائے تشریف رکھتے تھے تو ایک مسلمان نے کفار کے تشدد کی شکایت کی اور عرض کیا کہ ان کے لیے بددعافرمائیں آپ ﷺ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایاکہ خدا کی قسم ایک وقت آئے گا کہ صنعا سے حضرموت تک(عر ب کے دو کونے)ایک نوجوان عورت سونے سے لدی پھندی تن تنہا سفرکرے گی اور اسے سوائے خدا کے کسی کا خوف نہ ہوگا۔ہجرت کے دوران آپ نے سراقہ بن مالک سے کہا کہ کیا وقت ہوگا جب تجھے قیصروقصری کے کنگن پہنائے جائیں گے اورخندق کی کھدائی کے دوران آپ نے ایک چٹان پر کدال کی ضرب لگائی اور فرمایا ایران فتح ہو گیا،پھر ضرب لگائی اور فرمایاروم فتح ہو گیا اور پھر ضرب لگائی اور سچ فرمایا کہ خدا کی قسم بحرین کے سرخ محلات میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔

قرآن مجیدمیں اﷲ تعالی نے اپنی محبت کا واسطہ دے کر فرمایا کہ میری محبت میں یتیم،مسکین اور گرفتارکوکھانا کھلاتے ہیں،نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کاپڑوسی بھوکا سو گیاوہ ہم میں سے نہیں،اورمزید فرمایا کہ جس بستی میں کوئی بھوکا سوگیا وہاں سے اﷲ تعالی کی ذمہ داری ختم ہو گئی،اس میزبان کو مردہ کہا جس کا مہمان کچھ کھائے پئے بغیر چلا جائے اور کتنی ہی روایات میں کھانا کھلانے اور صدقہ و خیرات کرنے پر مغفرت کے وعدے کئے گئے اور مثال کے طور پر انبیاء علیھم السلام کی سیرت کو پیش کیا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے۔

معاشیات اسلام میں حلال و حرام کا اختیار صرف اﷲ تعالی کوحاصل ہے،جس کو اﷲ تعالی نے حلال قرار دے دیا وہ تا قیامت حلال ہے اسے کوئی حرام قرار نہیں دے سکتا اور جس کو حرام قراردے دیا اسے کوئی حلال نہیں کرسکتا۔اﷲ تعالی نے کسب حلال کو پسند فرمایا ہے اور اسے اپنے انبیاء علیھم السلام کی سنتوں میں جاری فرمایا ہے،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاتھ سے کمانے والا اﷲ تعالی کا دوست ہے۔معاشیات اسلام کا ایک سنہری پہلو یہ ہے کہ اس میں بخل،اکتناز اور اسراف سے منع فرمایا ہے۔بخیل اور کنجوس اپنی دولت سمیت دوزخ میں جائے گا،اکتناز یعنی خزانے جمع کرنے والے کو دوزخ میں جب سانپ اور بچھو ڈسنا چاہیں گے تو وہ دور بھاگے گا،وہ سانپ اور بچھو کہیں گے کہ ہم دور کیوں بھاگتا ہے ہم وہی سونا چاندی اوربنک بینلس ہیں جو دنیا میں سینت سینت کر رکھتا تھااور اسراف یعنی ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے والے کو شیطان کا دوست کہا گیا ہے۔

معاشیات اسلا م کا ایک اور درخشاں پہلو انفاق فی سبیل اﷲ ہے،یعنی اﷲ تعالی کے راستے میں خرچ کرنا۔قرآن مجید نے مسلمانوں کی یہ عمدہ صفت بیان کی ہے کہ وہ لوگوں پر خرچ کرتے ہیں اور پھر نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ ہی اسکے بعد انہیں کوئی تکلیف دیتے ہیں یہاں تک کہ ان سے شکریے کے خواستگار بھی نہیں ہوتے اور اپنے انفاق کا بدلہ صرف اﷲ تعالی سے ہی چاہتے ہیں اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جو مخلوق خدا پر اس طرح خرچ کرتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی،خود محسن انسانیت ﷺ نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے خرچ کرو تو بائیں کو بھی آگاہی نہ ہو۔عزت نفس کے تحفظ کا اس سے بڑھ کر کوئی درس ممکن ہو سکتا ہے؟؟اور یہ تعلیمات اس نیلی چھت کے نیچے صرف اسلامی نظام معیشیت کے ہاں ہی موجود ہیں،مغربی تہذیب نے تو درس شہرت سے دامن انسانیت کو داغدارترکردیاہے ۔

اسلامی نظم معیشیت میں بہت سے معاشی اعمال رزیلہ سے ممانعت بھی کی گئی ہے،ان میں سرفہرست سودہے۔سود کو اﷲ تعالی اور اسکے رسول ﷺسے جبگ قرار دیا گیاہے،سودخورانہ ذہنیت اور اسلامی فکر کے درمیان بعد الشرقین واقع ہوا ہے،سوداور ایمان کا ایک سینے میں جمع ہونا اسی طرح غیرممکن ہے جس طرح آگ اور پانی باہم جمع نہیں ہوسکتے۔اسلام دین انسانیت ہے اور سود خلاف انسانیت ہے۔قرآن نے سود خود کے بارے میں کہا ہے کہ شیطان نے اسے چھو کر خبطی بنادیاہے،سودخورکرداردشمن انسانیت اور دشمن دین کردار ہے،سودخور سے کسی بھلائی کی توقع یا کسی خیر کی امید اس لیے نہیں کی جاسکتی کہ اسکا خدا پیسہ ہوتاہے اگرچہ اسکے چہرے پر سنت رسولﷺ آویزاں ہو اور پانچ وقت کی حاضری کا پابند ہواور حج و عمرے بھی بکثرت کرتا ہو۔پس ہر وہ عمل جو انسان کو اسلامیت سے شائلا کیت کی طرف لے جائے اسکو شریعت نے حرام قرار دے دیا ہے جیسے رشوت،جوا،پانسہ،سٹہ بازی،ذخیرہ اندوزی،خیانت اور ملاوٹ وغیرہ ہے،کیونکہ یہ اعمال اسلامی نظم معیشیت کے بنیادی تصورات سے ہی ٹکراتے ہیں اور انہیں اسلامی معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

گردش دولت اسلامی نظام معیشیت کا ایک اور شاندار پہلو ہے۔زکوۃکے عنوان سے جمع شدہ دولت وزرپرایک شرح سے گردش میں لانے کا حکم،عشر کے نام سے حاصل شدہ فصل پر ایک خاص مقدارکی تقسیم اور خمس کے احکامات، دولت کے ایک جگہ جمع ہونے میں مانع ہیں۔سرمایادارانہ نظام میں دولت ،دولت مند کی طرف کھنچتی چلی جاتی ہے اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا چلاتاہے جبکہ اسلامی نظام میں گردش دولت کے ذریعے امیروں سے دولت کا بہاؤ غریبوں کی طرف ہوتا ہے۔قانون وراثت گردش دولت کا ایک اور اہم ذریعہ ہے جس میں مرنے والے کاترکہ ایک قانون کے تحت اسکے ورثا میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔اوراگر مرنے والا چاہے تو ایک تہائی تک کی وصیت غیر وارث کے حق میں بھی کرسکتا ہے گویا دولت کی تقسیم کا دائرہ مزید وسیع ہوگیااور چند ہاتھوں کی بجائے پورامعاشرہ اس سے مستفید ہوا۔

اسلامی نظام معیشیت میں عورت کو معاشی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ پوری یکسوئی سے آنے والی نسل کی پرورش کر سکے۔اس طرح اسلام نے عورت کو تحفظ دے کر معاشرے کواخلاقی گراوٹ سے بچا لیاہے۔دنیابھرکے اخلاقی معیارات اور معاشی اخلاق جداجدا ہیں جبکہ اسلام نے معاشی و اخلاقی اقدارمیں ہم آہنگی کا درس دیا ہے اور اسی درس کا ایک پہلوخواتین کو عمل معاش سے دور رکھنا ہے۔فطرت نے عورت کی گود میں بچہ دے کراسکے الگ دائرہ کارکی تحدیدکر دی ہے، جو اسکے گھر،اسکے خاندان اور اسکی نسل پر محیط ہے اوراسلام نے نسوانی فطرت کواسکی حقیقت کے ساتھ تسلیم کیا ہے اور اپنے معاشی نظام میں اسکو باقی رکھا ہے۔اور تجربہ و مشاہدہ یہی ہے کہ اگر عورت اپنی فطری ذمہ داریاں بحسن و خوبی سنبھال لے تو مرد کی معاشی کارکردگی دس گنا بڑھ جاتی ہے اور اس طرح خاندان کو ایک مضبوط معاشی حصارمیسر آتاہے۔

اسلامی نظام معیشیت کے یہ نتائج ہیں کہ اس نظام میں طبقاتی استحصال کی بجائے طبقاتی تعاون جنم لیتا ہے اور پروان چڑھتا ہے۔معاشی آزادی سب لوگوں کو میسر آتی ہے اورمارکیٹ میں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔معاشی و اخلاقی اقدار وروایات میں ہم آہنگی کے باعث عمل معاش انسانیت سے خالی نہیں ہو پاتا اور معاشی نظام میں بھی احسان و انفاق کا رویہ باقی رہتاہے۔حق ملکیت اور حق وراثت کے باعث شخصی دلچسپی کا بہت بڑا عنصر کارکردگی کا حصہ بن جاتا ہے اور زکوۃ و عشر اور خمس کے نظام سے وہ وقت آتا ہے رات گئے حضرت عمر بن عبدالعزیزکا دروازہ بجا،باہر نکلے تو ایک شخص ہاتھ میں نقد کی تھیلی لیے کھڑا کہ رہاتھا یہ مال زکوۃ ہے اورمیں اتنے سومیل دور سے لے کر آیاہوں،امیرالمومنین نے کہا کہ میرے پاس لانے کی بجائے راستے میں تقسیم کر دیا ہوتا،جواب ملا خدا کی قسم سارے راستے آواز لگاتا آیا ہوں کہ لوگو یہ زکوۃ کا مال ہے کوئی تو آکر اسے لے لے لیکن اتنے سو میلوں میں کوئی مستحق زکوۃ نہیں ملا۔

Dr Sajid Khakwani
About the Author: Dr Sajid Khakwani Read More Articles by Dr Sajid Khakwani: 470 Articles with 605908 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.