عالمی ایام کے تناظرمیں یوم ولادت رسولﷺ کی اہمیت

یوم ولادت رسول ﷺکااہتمام کرنابیک وقت تمام ایّام کا منانا ہوگا

آج دنیابھر میں ایک سال میں کم وبیش 218؍ایام منائے جاتے ہیں۔ہر دن کی اہمیت جدااور مقصد مختلف ہوتاہے۔عیدمیلادالنبیﷺکے پُربہار موقع پر حضور مفکراسلام علامہ قمرالزماں خاں اعظمی صاحب (سرپرست سنّی دعوت اسلامی)کی فکر سے استفادہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر منائے جانے والے ایّام کے تناظرمیں یوم ولادت رسولﷺکی اہمیت وافادیت کو اجاگرکرنامقصود ہے تاکہ سال بھر مختلف ایام مناکر ولادت رسولﷺکے موقع پر حرزہ سرائی کرنے والوں کوہوش آئے اور وہ بھی جانے کہ چیدہ چیدہ ایام منانے کارواج آج عام ہورہاہے مگر اس کی اساس اور بنیادرسول پاکﷺکی ذات اطہرہے۔اس لیے کیاہی بہترہوتاکہ 218؍دنوں کا اہتمام کرنے کی بجائے جشن ولادت رسولﷺکا اہتمام کیاجاتا۔

٭یوم قرارداد:مختلف ممالک مختلف دنوں میں یوم قرارداد کا جشن مناتے ہیں۔ہندوستان میں ۲۶؍جنوری کو یوم قراردادمنایاجاتاہے۔ اس دن 1935ء سے رائج حکومت ہند کا ایکٹ منسوخ کیا گیا اور دستور ہند کی عمل آوری شروع ہوئی۔ دستور ساز اسمبلی نے دستور ہند کو مکمل طور سے26 نومبر1949ء کو مرتب کیا اور 26 جنوری 1950ء کو عمل آوری کے لیے پاس کردیا ۔ آج دنیاوقت اور حالات کے ساتھ بدلنے والے نظام کی یاد مناتی ہے۔رسول اعظم ﷺنے صبح قیامت تک باقی رہنے والاآئین،دستور اور نظام زندگی ہمیں عطافرمایا۔آپﷺنے ایک دو قراردادنہیں بلکہ ہمیشہ اورہردور میں کام آنے والی روشن قراردادوں کا مجموعہ قرآنِ عظیم عطافرمایا ۔

٭عالمی یوم خواتین:عالمی یوم خواتین بین الاقوامی سطح پر 8؍ مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہے ۔ اس ضمن میں دیکھاجائے تو عورتوں کو ان کے حقوق دلانے والوں میں سرفہرست اور واحدذات پیغمبراسلامﷺکی ہے جنہوں نے عورت کے مقام ومرتبہ کو حددرجہ بلند فرمایا۔پیغمبراسلامﷺکی ولادت سے پہلے سہماسہماوجود اور دبی کچلی ذات کانام’ ’عورت‘ ‘ تھا،ظلم وزیادتی سہناجس کامقدر اور مردوں کے لیے سامانِ نشاط بنناجس کانصیبہ،کبھی وہ گروی رکھی جاتی تھی،کبھی جوئے میں ہاری جاتی تھی اور کبھی بازار میں بیچی جاتی تھی۔کائنات کی سب سے بدترین چیزکانام عورت تھا۔نہ اس کی کوئی مرضی تھی اور نہ وہ کسی چیز کی مالک۔سماج میں نہ کوئی اس کی عزت تھی اور نہ ہی کوئی مقام۔شقاوت وبدبختی اس عروج پر تھی کہ لڑکی کی نگہداشت وکفالت باعث ندامت وشرمندگی تھی۔لڑکی کاوجود نحوست کی علامت اور قباحت کانشان تھا۔مگرپیغمبراسلامﷺنے سماج میں پنپتے ہوئے لڑکے اور لڑکی کے مابین بھید بھاؤ کوختم کیا ۔ دونوں کومساوی حقوق عطافرمائے۔جو لڑکی کل تک باپ کی آنکھوں کاکنکر تھی اسے دل کانگینہ بنادیا،جس کی جگہ مردوں کی جوتیوں میں تھی اس کے مقام کواتنابلند کیاکہ سرکاتاج بنادیا ، کل تک جو ذلت کی علامت تھی اسے عزت وعفت اور عظمت کانمونہ بنادیا۔غرضیکہ فرش کی پستی سے اٹھاکر عرش کی بلندی تک پہنچادیا۔ان کی پرورش وصالح تربیت پر والدین کوجنت جیسی لازوال نعمت کا مژدۂ جانفزا عطافرمایااور فضیلت میں اتنابڑھادیاکہ ہادیٔ اعظمﷺنے ارشاد فرمایا:اپنی اولاد کوبرابردو ،اگرمیں کسی کوکسی پرفضیلت دیتاتولڑکیوں کوفضیلت دیتا۔(طبرانی)

٭انٹرنیشنل ڈے آف فاریسٹ:۲۱؍مارچ کو انٹرنیشنل فاریسٹ ڈے منانے کی قرار داد۲۸؍نومبر۲۰۱۲ء کو یونائیٹیڈ نیشن جنرل اسمبلی میں پاس ہوئی۔ اس کے تحت ہر قسم کے جنگلات ،درختوں اور شجرکاری کی اہمیت وافادیت سے آگاہی کرانا مقصودہے۔شجرکاری کے متعلق حضورﷺفرماتے ہیں کہ اگر مرنے سے پہلے تمہارے پاس اتناوقت ہوکہ ایک درخت لگاسکوتو ایک درخت ضرور لگاؤ۔مزیدفرمایااگر انسان کو معلوم ہوجائے کہ بنجرزمین کو آباد کرنے کاکتناثواب ہے تو زمین کا کوئی چپہ بنجرنہ رہے۔غرضیکہ شجرکاری کی اہمیت سے دنیاآج آگاہ ہورہی ہے اور پیغمبر اسلامﷺنے اس کے متعلق ساڑھے چودہ صدیوں قبل واضح ارشادات عطافرمائے ہیں۔

٭عالمی یوم آب: پانی کا بین الاقوامی دن ہر سال 22؍ مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں میں پانی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔پیغمبر اسلامﷺنے پانی کی حفاظت کے حوالے سے جابجاارشاد فرمایا ہے۔ اسلام تو وضومیں بھی زائدپانی بہانے کو اسراف قرار دیتاہے ، دنیاآج عالمی یوم آب منارہی ہے جبکہ حضور ﷺنے پانی کی محافظت کا نظریہ ساڑھے چودہ سوسال پہلے پیش فرمایاہے۔

٭ورلڈ ہیلتھ ڈے:۱۹۵۰ء کو WHOنے ہر سال ۷؍اپریل کو ورلڈ ہیلتھ ڈے منانے کا اعلان کیا۔اس دن ہر سال عالمی پیمانے پر لوگوں کو صحت کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے ۔ اﷲ پاک قرآن مقدس میں فرماتاہے۔ترجمہ:اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو(البقرہ،پارہ 2،آیت 195)پیغمبراسلام ﷺکے فرمان کامفہوم ہے کہ وقت اور صحت کے جانے کے بعد ہی انسان کواس کی قدروقیمت کا اندازہ ہوتاہے۔پیغمبراسلام ﷺنے ایسی چیزوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے جو انسان کی ہلاکت کا باعث ہو۔ شریعت اسلامیہ میں ان چیزوں کا کھانا ،پینا حرام یا کم از کم مکروہ ہے جو انسان کی صحت یا عقل کے لئے نقصان دہ ہو۔مصطفی جان رحمت ﷺنے وحی ربانی کے ذریعے ہمیں جوہدایات دی ہیں ان سے بجاطور پر یہ ثابت ہوتاہے کہ انسان کی اپنی ذات اور اعضااس کی اپنی ملک نہیں بلکہ یہ سب خالق کائنات کی ملک ہیں جوحضرت انسان کے پاس اﷲ کی امانت ہیں ۔ اس لیے کوئی بھی انسان اپنی ذات یااعضا کے تعلق سے ایسا کوئی تصرف نہیں کرسکتاجسے عقل سلیم امانت میں خیانت تصور کرے۔گویاکہ صحت انسانی کے متعلق حضورﷺنے بہت پہلے آگاہ فرمایادیاتھاجس کا انکشاف دنیاآج کررہی ہے۔

٭یوم ارض:22؍اپریل کوہرسال1970؍سے یومِ ارض یا زمین کا دن (ارتھ ڈے) منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کے لیے تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔دنیاکو زمین کے حقوق کا آج خیال آرہاہے مگر حضورﷺنے زمین کے حوالے سے چودہ سوسال قبل واضح احکامات صادر فرمائے ہیں۔یہاں تک کہ زمین پر اکڑکرچلنے سے بھی منع فرمایا۔

٭ورلڈ بُک ڈے:۲۳؍اپریل کویونیسکوکی جانب سے ہر سال ورلڈ بُک ڈے منایاجاتا ہے جس کے زیر اہتمام لوگوں کی توجہ کو مطالعہ،نشرواشاعت اور کاپی رائٹ کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے۔جہالت ووحشت کی تاریکی میں ڈوبی قوم آج ورلڈ بک ڈے منارہی ہے جبکہ حضورﷺنے دور جہالت میں لوگوں کو قرآن جیسی عظیم کتاب کی جانب توجہ دلائی اور انہیں آسمان ہدایت کے تارے بنادیا۔عرب میں گنتی کے لوگ لکھناپڑھناجانتے تھے مگر جب آپﷺنے پردہ فرمایاتو ایک لاکھ چوبیس ہزارلوگوں کے ہاتھوں میں قلم تھمادیااور علم وعمل کی دولت سے آراستہ فرمادیا۔

٭یوم مزدور : یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد امریکہ کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کویاد کرنا ہے۔یوم مئی کا آغاز 1886ء میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا۔ ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر سوشلسٹک اداروں نے کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا۔دنیاکو ایک صدی قبل مزدروں کاخیال آیامگر پیغمبراسلامﷺنے کئی صدیوں پہلے فرمایادیاکہ مزدوروں کوان کاحق ان کے جسم کا پسینہ سوکھنے سے پہلے دے دیاجائے۔مزید فرمایاکہ ہاتھ سے محنت کرنے والامزدور اﷲ کا محبوب ہے۔

٭انٹرنیشنل ڈے آف فیملی:۱۵؍مئی کو ہر سال یواین جنرل اسمبلی نے۱۹۹۳ء میں ’’ انٹرنیشنل ڈے آف فیملی‘‘ منانے کا اعلان کیا۔اس دن فیملی لائف کی اہمیت اور رشتوں کے حقوق بیان کئے جاتے ہیں تاکہ معاشرہ پُرامن اور خوشحال رہے۔جب فیملی لائف ٹوٹ کرتباہ ہوگئی اس وقت ارباب سیاست واقتدارکو فیملی بچانے کاخیال آیا،اس ضمن میں پیغمبراسلامﷺکی تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ انہوں نے کس طرح آپسی رشتوں کے حقوق کو نہ صرف بیان فرمایابلکہ عملی نمونہ بھی پیش فرمایا۔ حضورﷺ نے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے نیز ان کاخیال رکھنے کو اپنی رضا مندی کا ذریعہ بتایا اور قطع رحمی کو اپنی ناراضگی نیز روئے زمین پر ناکامی کا سبب بتا یا ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نسبوں کو یا درکھو جس سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہو کیونکہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا خاندان میں محبت، مال میں کثرت، اور عمر میں برکت عطا کرتا ہے۔ ( ترمذی شریف)

٭عطیۂ خون کا عالمی دن:ہر سال 14 جون کو خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔خون کی اہمیت کا احساس شدت سے اس وقت ہوتا ہے جب کسی بیماری یا حادثے کی صورت میں ہمارے کسی پیارے کو اچانک خون کی ضرورت پڑ جائے۔ ایسے میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والے افراد کا کردار کسی فرشتے سے کم نہیں جو کسی نفع ،نقصان اور رشتے کے بغیر اپنا خون دے کر ایک انسانی زندگی کو بچاتے ہیں۔ اس سلسلے میں شعور اور آگاہی کے لیے 14؍جون کو خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہاں بھی پیغمبراسلامﷺکی ہدایات اظہر من الشمس و اجل من القمر کی طرح روشن ہے۔آپ ﷺنے فرمایاجس نے ایک جا ن بچائی گویااس نے پوری انسانیت کو زندگی دی ہے۔

٭یوم آزادی:آج دنیاکے مختلف ممالک مختلف تاریخوں میں اپنے ملک کی آزادی کا دن مناتے ہیں۔رسول اکرمﷺنے سیکڑوں معبودان باطل کی پرستش سے ہماری پیشانیوں کوآزاد کیاہے۔روح،شعور،فکراورمذاقِ بندگی کوآزادکیاہے،جہنم کے دہکتے ہوئے شعلوں سے آزاد کرایاہے اورصراط مستقیم پر گامزن فرمایاہے۔دنیاا ٓزادی کا دن مناتی ہے ہمیں اس عظیم محسن کا دن مناناچاہیے جس نے حریت انسانیت کا نعرہ بلند کیا۔

٭وومینس اکوالیٹی ڈے:۲۶؍اگست کو عورتوں کے یکساں حقوق کا دن منایاجاتا ہے۔یہاں مزیدکسی وضاحت کی ضرورت نہیں،معاشرے میں رہنے والی ہر عورت جانتی ہے کہ حضورﷺنے ان کے حقوق کی کس طرح محافظت کی اور نھیں کتنابلند مقام عطافرمایا۔آقاعلیہ السلام نے فرمایا:تم میں بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی بچوں کے لیے بہترہے۔اسلام نے مساوات کا درس دیاہے۔ ماں بہن بیوی بیٹی غرضیکہ عورت چاہے کسی روپ میں ہو اسلام نے انہیں مردوں کے برابرحقوق عطافرمائے ہیں۔

٭عالمی یوم اساتذہ:اساتذہ کا عالمی دن" یا "ورلڈ ٹیچرزڈے" ہرسال 5؍ستمبرکومنایا جاتا ہے۔ یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگرکرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں کئی سیمینارز، کانفرنسیں اورتقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔حضورﷺفرماتے ہیں کہ معلم انسانیت بناکرمبعوث کیاگیاہوں۔حضورﷺکو استاداعظم بناکربھیجاگیاہے۔دنیامیں پیغمبراسلامﷺ کی واحد ایسی ذات ہے جنہوں نے براہ راست مبدائے فیاض سے فیض حاصل کیاہے،جن کا معلم اﷲ ہے اور وہ ساری کائنات کے معلم ہے۔

٭ورلڈ سوسائڈ پریوینشن ڈے:انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فورسوسائڈ پِری وینشن کی جانب سے عالمی سطح پر ۲۰۱۱ء سے ہر سال دنیامیں ہونے والی خودکشی کی روک تھام کے لیے ’’ورلڈ سوسائڈ پریوینشن ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ حضورﷺنے نہ صرف خودکشی کے تمام اسباب وعوامل کا خاتمہ فرمایاہے بلکہ ہمت،جواں مردی،عزم واستقلال کی تعلیم بھی دی ہے اور خودکشی کرنے پر طرح طرح کی وعیدیں بھی بیان فرمائی ہے ۔اب اہل دانش ہی فیصلہ کریں کہ جس رسول نے ڈپریشن کاشکار تمام انسانوں کو مرنے سے محفوظ کرایاہوں اور جینے کاحوصلہ بخشاہواس رسول کی ولادت پرجشن کا اہتمام کیوں نہ کریں؟

٭عالمی یوم امن:۲۱؍ستمبرکوعالمی یوم امن ہر سال منایا جاتا ہے ۔اس کا مقصد لوگوں میں امن کی اہمیت اور امن کی ضرورت بتانا ہے۔ پیغمبرامن ﷺنے چودہ صدیوں قبل امن کی اہمیت وافادیت بیان فرمادی تھی۔پتھرکھاکر دعائیں دی،طائف میں لہولہان ہوکر دعائیں دی، دندان شہیدہونے کے بعد بھی امن قائم رکھا،شعب ابی طالب میں تین سالہ بائیکاٹ کے بعد بھی امن کی تعلیم دیتے رہے، مدینۂ منورہ میں بھرپور توانائی ،اثرورسوخ اور طاقت وقوت کے باوجود امن کی پیامبربنے رہے۔تمام غزوات کے مطالعے کے بعد اس حقیقت کا انکشاف ہوتاہے کہ تمام جنگیں پیغمبرامن پر مسلط کی گئی تھی آپ نے تو بس دفاع فرمایاتھااور دفاع بھی اس قدر پُرامن طریقے سے کہ کبھی قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کرنے کا حکم صادر فرمایا اور کبھی معمولی فدیہ پر اور کبھی بغیرفدیہ کے یونہی قیدیوں کوآزاد کردیا جبکہ اس دور میں قیدیوں کے ساتھ کیساوحشیانہ سلوک کیاجاتا تھااس سے اہل علم واقف ہے۔

٭لڑکیوں کا بین الاقوامی دن:۱۱؍اکتوبرکولڑکیوں کا بین الاقوامی دن ہر سال دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ لڑکی پر ظلم و زیادتی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ لڑکی پیداہوتے ہی زندہ درگور کرنا ، بیٹی اور بیٹے میں بھید بھاؤ رکھنا، انہیں تعلیم سے دور رکھنا اور دیگر کئی زیادتیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے لڑکیوں کے حقوق اور لڑکیوں کو درپیش مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے گیارہ اکتوبر کو لڑکیوں کا بین الاقوامی دن قرار دیا۔وہ قوم جو ہر شئے کی خریدوفروخت کے لیے عورت کو عریاں کرکے پیش کررہی ہے اب جاکہ انہیں عورتوں کے حقوق کا خیال آیاہے مگر بچیوں کے حقوق کے متعلق سب سے پہلی آوازحضورﷺنے بلندکی ہے اور انھیں ان کا حق دلایاہے۔دور رسالت میں رات کی تاریکی میں صحابہ کرام کوکسی گھر میں روشنی نظرآئی، حضورﷺنے فرمایا یقینااس گھر میں بچی کی ولادت ہوئی ہوگی۔بچیوں کی اچھی تعلیم وتربیت اور دیندار گھرانے میں شادی کرنے پر رحمۃ اللعالمین ﷺنے جنت کا مژدۂ جانفزاسنایاہے۔کل تک جولوگ اپنی سگی بچیوں کو زندہ درگور کرتے تھے ،آقاعلیہ السلام نے ان کی ایسی زہن سازی کی کہ نہ صرف اپنی بچی کی پرورش کی بلکہ یتیم بچیوں کی کفالت کے لیے بھی کمربستہ ہوگئے۔

٭بین الاقوامی یوم مرد حضرات: 19؍ نومبر کومرد حضرات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہ دن پہلی بار 19؍ نومبر 1999ء کو منایا گیا۔ صنفِ نازک کے حقوق کے لیے تو ہرسال خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ، اخبارات میں عورتوں کی مظلومیت کی داستانیں لکھی جاتی ہیں مگر مرد حضرات کے عالمی دن کو عموماً نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد مردوں کے حقوق کی بات کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد مردوں کے صحت کے حقوق کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اسلام عدل و مساوات کا مذہب ہے، اسلام نے جس طرح عورتوں پر ان کے شوہروں کے حقوق رکھے ہیں اسی طرح شوہروں پر بھی عورتوں کے حقوق رکھے ہیں۔پیغمبراسلامﷺنے نہ صرف عورتوں کے حقوق بیان فرمائے بلکہ مردوں کے بھی حقوق کی نشاندہی فرمائی ہے۔یہاں تک فرمایاکہ اگر غیرخداکوسجدہ جائزہوتاتو میں عورت کوحکم دیتاکہ وہ اپنے شوہر کوسجدہ کرے۔

٭یوم اطفال:یوم اطفال (چلڈرن ڈے) عالمی سطح پر اور دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف تاریخ کو منایا جانا والا ایک تہوار اور تعطیل ہے۔ اس دن کا مقصد بچوں کی عزت افزائی اور حقوق کی پاسداری ہے۔ 1925 کو بچوں کی فلاح و بہبود کی عالمی کانفرنس میں اس کا اعلان کیا گیا اور 1954 میں عالمی سطح پر ایک تاریخ مقرر کی گئی۔ عالمی یوم تحفظ اطفال 1 جون کو 1950ء سے کئی ممالک میں منایا جانے لگا ہے۔ اور اس کا قیام 22 نومبر 1949 کو ویمینس انٹرنیشنل ڈیموکریٹک فیڈیریشن نے اپنے اجلاس ماسکو میں کیا۔ اقوام متحدہ نے 20 نومبر کو اسے رائج کیا۔ اولاد کی تربیت پر بڑا اجرو ثواب ہے اس کے بڑے فضائل ہیں چنانچہ رسول اﷲ ﷺ نے اس کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:کسی والد کا اپنے لڑکے کو بہترین ادب سکھا دیناہی سب سے بڑا عطیہ ہے (ترمذی)ایک جگہ اور فرمایا’’کوئی آدمی اپنے بچے کو ادب سکھائے یہ روزانہ آدھا صاع مساکین پر صدقہ کرنے سے افضل ہے‘ ‘ (ترمذی عن جابر بن سمرۃ)

٭ہیومن رائٹس ڈے:انسانی حقوق کا دن دنیا بھر میں ۱۰؍ دسمبر کو منایا جاتا ہے۔اس تاریخ کے انتخاب کا مقصد ۱۰؍ دسمبر 1949ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے توثیق کردہ انسانی حقوق کا آفاقی منشور کی یاد تازہ کرانا اور دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروانا ہے۔اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کی آواز آج سے چھ دہائی پیشتر بلند کی مگر انسانی حقوق کوپیغمبراسلامﷺنے چودہ صدیوں قبل باضابطہ پیش بھی کیااور عملی نمونہ بھی بتایا۔خطبۂ حجۃ الوداع بلاشبہ انسانی حقوق کااوّلین اورمثالی منشوراعظم ہے۔اسے تاریخی حقائق کی روشنی میں انسانیت کاسب سے پہلامنشورانسانی حقوق ہونے کا اعزاز ہے۔اس منشورمیں کسی گروہ کی حمایت کوئی نسلی،قومی مفادکسی قسم کی ذاتی غرض وغیرہ کاکوئی شائبہ نہیں۔ ذی قعدہ ۱۰؍ہجری میں آقاﷺنے اپنے پہلے اورآخری حج کے موقع پرایک لاکھ چوبیس ہزاریاایک لاکھ چوالیس ہزارصحابۂ کرام کے سامنے نوع انسانی کے جملہ حقوق کی نشاندہی فرمائی۔

٭یوم ولادت رسولﷺ:آج دنیامیں جتنے بھی انقلابات رونما ہوں گے،جتنی بھی خوبیاں جنم لے گی سب رحمت اللعالمین ﷺکاصدقہ ہے کیوں کہ شعور انسانی کو ان تمام اوصاف حمیدہ اور خوبیوں سے سب سے پہلے پیغمبراسلامﷺنے آگاہ فرمایاہے۔ہر دن کو الگ الگ منانے سے بہتر ہے کہ دنیاکوصبح قیامت تک لیے جس رسول نے عظیم فکروخیالات سے واقف کرایااس محسن انسانیت کایوم ولادت منایاجائے تاکہ بیک وقت تمام ایام کا مناناہوجائے۔دنیاا ٓزادی کا دن مناتی ہے ہمیں اس عظیم محسن کا دن مناناچاہیے جس نے حریت انسانیت کا نعرہ بلند کیا۔اگر آقا علیہ السلام کادن منایاجائے تو بیک وقت دنیا میں منائے جانے والے جملہ دنوں کامنایا جانا ہوگا ۔ دنیا جتنے بھی دن مناتی ہے وہ سب رسول اکرم ﷺکی تعلیمات کا ثمرہ ہے۔رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات اور اخلاق و کردارسے دنیاکو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرایا ، عورتوں پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ فرمایا ، مزدوروں کا اکرام سکھایا، ہردور میں کام آنے والی روشن قراردادوں کا مجموعہ قرآنِ عظیم عطافرمایا ، زمین کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک و صاف رکھنے کا سلیقہ سکھایا، شجر کاری کا قرینہ بتایا اور اپنے آپ کو معلم اخلاق فرما کر اپنے صحابہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ قرآن کامکمل عملی نمونہ تھے ۔ لہٰذااگر آقاے کائنات کا دن منایا جائے تو یہ تمام ایام کا منانا ہوگا۔
Ataurrahman Noori
About the Author: Ataurrahman Noori Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 674988 views M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More