ایک بات بتاؤں !!

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, Karachi)
جی کر رہاتھا ااپ کو ایک بات بتاؤں ۔ہے وہ ایک بات لیکن !!خیرکامیابی کا انحصار ،رویوں کا اعتبار اور تسکین کا سامان سوچ پر ہے ۔سوچ ہی سوچ میں رشتے بکھر جاتے ہیں ۔کامیابیاں چھن جاتی ہیں ۔اپنے بیگانے ہوجاتے ہیں ۔ناکامی منہ چڑھانے لگتی ہے ۔نفرتیں گھر کے آنگن میں بسیرا کرلیتی ہے ۔

یہی سوچ ہے کہ جھونپڑی میں رہنے والا پرسکون اور مطمئن ہوتاہے ۔ہزار طعن و تشنیع کے باوجود اطمینان بخش زندگی گزار رہا ہوتاہے ۔یہ سوچ ہی ہے کہ پرائے اپنے ہوجاتے ہیں ۔بکھرے رشتے سمٹ جاتے ہیں ۔ایک ہی بات اور انداز مختلف ،ایک ہی مؤقف اور پیرائے مختلف اور اس کے ثمرات بھی جد ا جدا ۔

میں کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ کتنی ایسی باتیں ہیں کہ اس پیچھے لمحہ بھر کی منفی سوچ کی وجہ سے وہ معاملہ اس قدر بگڑجاتاہے کہ اس کی درستگی کے لیے گھنٹوں کیا کئی دن بیت جاتے ہیں لیکن اس منفی سوچ کے اتنے گہرے اثرات ہوتے ہیں ۔حالات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

یہ منفی سوچ ہی ہوتی ہے کہ بندہ فرضی خدشات و حالات کو دماغ پر سوار کرکے گھُلتا چلاجاتاہے ۔ مشاہد ہ اور دوسروں کے تجربات سننے اور پڑھنے سے معلوم ہوا ہے کہ زندگی کے اکثر اندیشے محض فرضی ہوتے ہیں ۔گذشتہ پچھتاووں اور ناخوشگوار یادوں میں جینے والا شخص ایک قنوطی، مایوس اور نفسیاتی مریض کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اسی طرح مستقبل کی حد سے زیادہ فکر کرنے والا فرد ایک وہمی اور خوف زدہ اور مخبوط الحواس شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔سوچ کا ایک بہت بڑا المیہ اب میں آپ کے سامنے پیش کرنے لگاہوں جس سے آپ اتفاق کریں گئے ۔وہ اس لیے کہ یہ فکر و اندیشے بہت عام ہیں بلکہ اکثر اس سوچ کو زبان بھی مل جاتی ہے اور ہم اپنے سامنے مرجھائے ہوئے پریشان حال چہروں کو بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دماغ پر سوار ان مفروضوں کی وجہ سے حقیقی زندگی کی لذات سے محروم ہوکر نفسیاتی ہوچکے ہوتے ہیں ۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ بہت حساس ہوتے ہیں ان کی سوچ کچھ اس طرح گردش کررہی ہوتی ہے ۔ اگر اس کی بیٹی بن بیاہی رہ گئی تو کیا ہوگا؟، اگر نوکری نہ ملی تو گذارا کیسے ہوگا؟، بچے نافرمان نکل گئے تو کیا کریں گے ، بڑھاپا آگیا تو صحت کیونکر برقرا ر رہے گی وغیرہ وغیرہ ۔ ان اندیشوں سے نبٹنے کے لئے عام طور پر لوگ یا تو لا پرواہی کا رویہ اختیار کرتے یا پھر نیند کی گولیوں سے احساس کو فنا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔لیکن یہ اس کا حل نہیں ۔

ہر پریشانی اور ہر مسئلہ کا حل ہے ۔ان فکروں کا بھی حل ہے۔دیکھیں میں اس بات کا بالکل بھی منکر نہیں کہ مستقبل کی فکر ہونے چاہیے لیکن یہ سوچیں اسقدر لامتناہی اندیشوں اور مفروضوں کا لامتناہی جال نہ بن جائیں کہ انسان کو خود سے کوفت ہونے لگے ۔ایک بات سوچنے والی ہے کہ آپ جس انداز میں زندگی کو سوچ رہے ہیں ضروری تو نہیں جو آپ زندگی کے لیے سوچ رہے ہوں جس کے پانے آپ کا دل کررہاہے ۔وہ آپ کو مل بھی جائے ۔مثلاًآپ چاہتے ہیں کہ آپ ایک اچھے گھر میں رہیں آسائش آپ کا مقدر بن جائے ۔شوہرت آپ کے گھر کی باندی بن جائے تو ان کے لیے ااپ ایک حد تک کوشش کرسکتے ہیں جتنا آپ کے بس میں ہے اپنے بس اور طاقت سے بڑھ کر بھلا آپ کربھی کیا سکتے ہیں ۔چنانچہ جہاں آپ کی بس ہوجاتی ہے وہاں سے ربّ پر توکل کا آغاز ہوتا ہے اپنے رب پر توکل کیجیے !!

محترم قارئین :قابل غور باتیں! اکثراندیشے غلط ثابت ہوتے ہیں۔ہماری زندگی گواہ ہے کہ ذہن پہ چھائے وہم کے ساتھ ایک دن بھی زندہ نہیں رہاجاسکتا۔ مثال کے طورایک دفتر جانے والا شخص باہر نکلتا ہے تو اسے سڑک پر ایکسیڈنٹ ، اندھی گولی ، ڈاکو، زلزلہ ،ہارٹ اٹیک غرض کسی بھی برے حادثے کا سامنا ہو سکتاہے ۔

لیکن وہ شخص اس یقین سے باہر نکلتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔چنانچہ وہ اطمینان سے نوکری پر جاتارہتا ہے۔امید ہے کہ جو بات میں سمجھانا چارہاہوں سمجھ گئے ہوں گے۔ایک ہی طرح کی باتیں سوچ سوچ کر جی بھر چکا ہوتا ہے ۔تھک جاتے ہیں ۔مطالعہ سے یہ بات منکشف ہوئی ہے کہ تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ نیااور مختلف ماحول اس حالت سے چھٹکارا دلانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مثلاً اگر مطالعہ کرتے کرتے آپ کاذہن کسی نقطے پر رُک جاتا ہے اور آپ اسے حل کرنے سے قاصر ہیں۔ تو ذہن پر بوجھ ڈالنے کے بجائے کوئی اور کام شروع کردیں یا کسی تفریح کے کام کی جانب پلٹ جائیں ۔ ماحول کی تبدیلی آپ کے ذہن سے بوجھ ہٹا دے گی اور آپ پھر دوبارہ تازہ دم ہوکر نئے سرے سے پڑھائی شروع کردیں۔ یہ عمل یقینا آپ کا مسئلہ حل کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا کیونکہ تازہ دم ہونے کے بعد آپ کا دماغ مسئلے کے حل کیلئے نئی جہتوں پر کام شروع کردے گا اور یہی جہتیں آپ کی ممد و معاون ثابت ہوں گی۔خود کو توانائی سے بھر پور رکھیں۔

محترم قارئین:سب کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ تھکن اور بھوک انسان کو خوشی کے احساسات سے دور کردیتی ہے مگر بھوک اور تھکن کے اثرات اس سے کہیں زیادہ مضر ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ آپ کے نروس سسٹم پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو آپ کی صحت کیلئے زہر قاتل ہے۔ اگر آپ نیند پوری نہیں کرتے تو آپ ذہنی الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ نیند کی کمی آپ کی قوت فیصلہ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی یعنی منفی اثرات پیدا کرتی ہے۔ مگر اگر آپ نے نیند پوری لی ہے اور سیر شکم ہیں تو آپ کی سوچنے سمجھنے اور جانچنے پرکھنے کی صلاحیت پوری طرح بیدار ہوتی ہے جو ایک مثبت پہلو ہے ۔ آپ میں سے کسی کا عدالتوں سے پالا پڑا ہو۔آپ نے دیکھاہوگا کہ بہت سے کیسز اپنی نوعیت کے اعتبار کسے اور نتائج کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن جج کے مزاج اور رویہ کی وجہ سے یکسر نتائج بدل جاتے ہیں ۔ایک تحقیق مطالعہ سے گزری جس کے مطابق عدالتوں کے جج صاحبان لنچ سے پہلے صرف 20% لوگوں کو پیرول یا ضمانت پر رہائی دیتے ہیں جبکہ لنچ کے بعد وہ سیر شکم ہوتے ہیں تو یہی تناسب 20 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہوجاتا ہے۔ آپ بھی اپنے کھانے اور سونے کی عادت کو درست نہج پر ڈال کر مثبت رویے کا حصول ممکن بناسکتے ہیں۔کیا خیال ہے میری بات سے اتفاق کرتے ہیں ۔آپ کے چہرے پر پھیلانی مسکان میرے موقف کی تائید کررہی ہے ۔تھوڑا سا مسکرائیے ۔۔جی ہاں ایسے ۔

محترم قارئین کرام :ایک بات تو ہم سب میں commonہے ۔پوچھیں وہ کیا؟جناب وہ یہ کہ ہم زیادہ تر اپنے مسئلے اپنے عزیزوں دوستوں سنگی بیلیوں سے ہی بیان کررہے ہوتے ہیں۔لیکن جب جب بات ہوتی ہے ہمیں ان سب کی جانب سے ایک طرز کے مایوسی سے بھرپور جملے سننے کو ملتے ہیں جو رہی سہی ہمت کو بھی توڑ دیتے ہیں ۔میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ اب کی بار آزما کر دیکھیں کہ کسی ایسے بندے سے بات کریں جس سے اس سے قبل مشورہ نہ کیا ہو۔یہاں یہ بات ذہن میں ضرور رکھیے گاکہ اس مقصد کیلئے آپ اپنے سے کمر عمر، زائد العمر، اپنی پروفیشنل فیلڈ اور اسٹیٹس سے کم یا زیادہ حیثیت کے حامل لوگوں سے گفتگو کرسکتے ہیں۔ آپ کو یقینا ایسے کئی نکات سے آشنائی حاصل ہوگی کہ جن سے آپ پہلے نابلد تھے۔ یہ نئی معلومات یقینا آپ کیلئے ممدو معاون ثابت ہوں گی۔اسی نئی فکر اور انداز فکر سے ایک نیا راستہ اور ایک راہ میسر آئے گی ۔

محترم قارئین !ہم اکثرذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں ۔کچھ سمجھ نہیں آرہاہوتا۔یہ تناؤ اس قدر مہلک ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ایسے میں آپ اور مجھے کو ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مثبت سوچ کی طرف مائل ہونے اور کرنے کی حاجت ہے ۔ ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ جو لوگ خود کو یہ سکھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ سردرد، کمر درد اور دیگر کئی قسم کے عارضوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ دباؤ یا پریشانی کی بنیادی وجہ تلاش کریں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ظاہری طور پر آپ جس چیز کیلئے پریشان ہیں۔ باطنی طور پر مسئلہ وہ نہ ہو، مثلاً اگر آپ نے کوئی پریڈینٹیشن دینی ہے اور آپ دباؤ میں ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ کا مسئلہ پریزینٹیشن نہ ہو بلکہ آپ اس لیے پریشان ہوں کہ آپ کا باس آپ سے مطمئن ہوگا یا نہیں۔اس طرح اگر آپ پریشانی کی بنیادی وجہ تلاش کرلیں تو اس کا حل ڈھونڈنا آسان ہوجائے گا ۔

ماہرین نفسیات کے مطابق مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ہے ۔جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہونے والی مشہور کتاب سیکرٹ کی مصنفہ نے کشش کا قانون بیان کیا ہے جب کہ ان کا کہنا ہے کہ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے اور اس طرح سوچ سے عمل جنم لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی مقابلے میں جیت کی سوچ کھلاڑی کو جیت سے ہمکنار کرسکتی ہے کیونکہ مثبت سوچ، حوصلہ اور اعتماد پیدا کرتی ہے جس کے لیے ماہرین قیمتی مشورے بھی دیتے ہیں۔

محترم قارئین:ہم بہت دکھی اور اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں ۔میں بھی چونکہ اس معاشرے کا حصّہ ہوں اچھی طرح مجھے ادراک ہے ۔عجیب بے چینی ،ہیجانی کیفیت ۔ہر شخص مشکوک دکھائی دیتی ہے ۔کسی کی لمحہ بھر کی خطا مجھے بھیانک غلطی نظر آتی ہے چہار سو تعفن ہی تعفن ہے ۔لیکن دوستوں ،محسنو!اس میں میرا بھی قصور ہے میں بھی تو پھول کلیوں میں گندی تلاش کرنے کا عادی ہوگیاہوں ہر چیز میں مجھے منفی اور مضرات ہی نظر آتے ہیں ۔

ایک بات ذہن نشین کرلیں یہ منفی اور فرسودہ فکر ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی الجھ کر رہ جائیں گے ۔بکھر کر رہا جائیں گے ۔گھُٹ گھُٹ کر مرجائیں گے ۔

ماہرین نفسیات کے مطابق مثبت سوچ اچھے خیالات کی وجہ بنتی ہے ۔جس کے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے۔ سوچ سے انسانی جذبات بنتے ہیں اور اس سے عمل وجود میں آتا ہے اور اس طرح سوچ سے عمل جنم لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی مقابلے میں جیت کی سوچ کھلاڑی کو جیت سے ہمکنار کرسکتی ہے کیونکہ مثبت سوچ، حوصلہ اور اعتماد پیدا کرتی ہے جس کے لیے ماہرین قیمتی مشورے بھی دیتے ہیں۔

مشن مضبوط نظر!!
آپ آئندہ زندگی میں کیا کیا کامیابیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس معاملہ میں خود کلامی کریں ۔اپنے آپ سے سوال کریں اور ملنے والے جواب کے مطابق اپنے مقاصد کی واضح تصویر ذہن میں بنائیں اورنہایت ہی قابل تحسین ہوگا کہ ان قلم و قرطاس کی مدد سے قلمبندکرلیں۔

مشکور رہنے والے تابندے ستارے بنتے ہیں!!!
اسلام میں شکر کی اہمیت سے ہم سب واقف ہیں اور یہ سنہرا اصول زندگی میں ہرجگہ کام آتا ہے۔ احساسِ تشکر ایسے جذبات کو جنم دیتا ہے ۔جو ایک چھلنی سے گزر کر آتے ہیں اور آپ کے لیے کامیابی اور خوشی لے کر آتے ہیں۔جو اپنے محسنوں کے مشکور ہوتے ہیں۔ ان پر کامیابیوں کے راستہ کھلتے چلے جاتے ہیں ۔اپنی زندگی میں شکر کا عنصر شامل کرلیں مطمئن بھی رہیں گے اور منزل کی جانب بڑھنا بھی آسان سے آسان تر ہوتاچلاجائے گا۔

خودکلامی نیک نامی کی ضامن !!!
اس دنیا میں آپ کو آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔لہذا اس جاننے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ۔اپنے آپ سے اپنے متعلق بات چیت ضرور کریں کیونکہ کہ آپ اسے خود سن رہے ہوتے ہیں۔ صبح نیند سے بیدار ہوکر خود کی تعریف کریں اور اپنے آپ میں آگے بڑھنے کی لگن پیدا کریں۔ اس طرح کا عمل روزانہ کی بنیاد پر کریں اور اپنے الفاظ میں خود اپنا حوصلہ بڑھائیں۔اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو جانچیں اور عمدہ خیالات سے انھیں مزید تعبیر کا رنگ دینے کے لیے پلاننگ کریں ۔بہت جلد آپ اس کے قابل تحسین ثمرات پائیں گے ۔

اپنے دل و دماغ میں پنپنے والے خیالات کو تعبیر کرنے کے لیے مثبت روش پر گامزن منزل !!

آپ گھر میں ہوں، دفتر میں یا پھر کسی اور جگہ ہوں۔ ہمیشہ اچھی چیزوں پر نظر رکھیں۔ اس سے آپ صرف چند منٹ میں ایک خیالی بصری بورڈ بناسکتے ہیں۔ جس پر آپ اپنے مقاصد اور کامیابیوں کی تصاویر لگا سکتے ہیں لیکن پہلے اسے ذہن میں بنائیں، اس کی مشق کریں اور پھر اس کا لطف اٹھائیں۔ اس طرح ایک تصوراتی دنیا دھیرے دھیرے حقیقت میں بدل سکتی ہے۔اس میں اپنے مقاصد کو سرِ فہرست رکھیں، ذہنی تصاویر ہمیں یاد اپنے کاموں کی دلاتی رہتی ہیں۔ جس سے ہمیں کام کرنے میں توانائی ملتی رہتی ہے۔

مصروفیت منفی سوچ کے خاتمہ کا مجرب نسخہ ہے :!!!
ذہنی تصاویر اور منصوبے بنانے کے بعد خود سے بات کریں اور جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس پر عمل کریں، یہ عمل آپ کو منزل سے قریب لائے گا۔ ہر روز ایک ایسے کام کا عزم کریں۔ جو آپ کو آپ کی منزل سے قریب کردے۔ اگر آپ کی دنیا نہیں بدل رہی تو آپ خود کو اسے بدلنے کے قابل بنائیں اور مواقع کو اپنے لیے ہموارکریں ۔لیکن اس کی پہلی منزل یہ ہے کہ منفی رکاوٹوں کو دور کریں اور اس کے لیے منفی سوچ کو سب سے پہلے ترک کرنا ہوگا۔مثبت انداز فکر سے اپنے سسکتے بلکتے حوصلوں کو آکسیجن دیں ۔ذہن پر چھائے منفی گھٹاؤں کو ہٹائیں اور مثبت سوچ کی بارونق فضاؤں کو جگہ دیں۔تو دیکھئے گا کہ آپ کس قدر نشاط ،تازگی اور بہتری محسوس کریں گے یہ وہی بتاسکتاہے ۔جو یہ سب کرگزرے الفاظ میں اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ایک بات بتاؤں یہ جو میں نے آپ کو مثبت سوچ کے بارے میں بتایا۔بہت کام کی بات ہے ۔امید ہے آپ پھر کہیں گئے کہ ڈاکٹر صاحب ایک اور بات بتاؤ!!!

محترم قارئین !!!میں مثبت بات کو مثبت فکر اور مثبت روش کو کس حد تک آپ تک پہنچانے میں کامیاب ہوایہ آپ کے اندر ہونے والی فکری تبدیلی ہی سے جانچا جاسکتا ہے ۔اپنی آراء سے ضرور نوازئیے گا۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 879 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219648 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

aksar andedhey ghalat sabit hotey hyn ........Great Thinking ....Dr Sahab Tusi great o
By: Muhammad Farhan Rafique, Karachi on Feb, 23 2016
Reply Reply
1 Like
ZAHOOR BHAI POSITIVE BANDAY KI POSITIVE BAATAIN BOHOT ASAR RAKHTI HAIN. YE SAB PARH KAR MUJHAY BARA SUKOON AUR HOSLA MILA. ALLAH AAP KO AUR TOFEEQ DAY....AAMEEN...!!!
By: MUHAMMAD MUSHTAQ, Rawalpindi on Feb, 06 2016
Reply Reply
1 Like
DEAR DANISH SB,

ASSALAM O ALAIKUM,

HOPE YOU WILL FINE.

ARTICLE IS VERY NICE. EVERY PERSON SHOULD BE WITH POSITIVE THINKING AND KEEP STRONG BELIEVE AND TRUST ON ALLAH PAK ONLY.

ALLAH HAFIZ.
By: SAQLAIN AHMED, KARACHI on Jan, 25 2016
Reply Reply
1 Like
Danish sb apne a boht danishmandi se mozu ko qalamband kiya ha. log chahein to khatir khwah fyda utha sakte hein. Waise aik muft mashwara mera bhi ha ke hafte mein do 2 Din TV bilkul na dekhein., masbat sochein ana lag jain gi.......
By: Muhammad Saleem, Rawalpindi on Jan, 21 2016
Reply Reply
1 Like
DR G WELLDONE
By: MUSTAFA SHAAD, KARACHI on Jan, 19 2016
Reply Reply
1 Like
Language: