کھیلوں کے میدان آباد کیے جائیں!

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
ایک قول ہیـ’’جن قوموں کے کھیل کے میدان آباد ہوں اُن کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں‘‘مطلب یہ کہ جن لوگوں کے کھیل کے میدان ویران ہو جائیں ان کے ہسپتال آباد ہو جاتے ہیں ،وہ اس لیے کہ کھیل ایک مکمل ورزش ہے اور ورزش انسانی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے ۔وطن عزیز کے میدان ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ویران کیے گئے ،اس سازش میں دشمن پڑوسی ملک کے سا تھ ساتھ ہمارے اپنوں کا بھی حصہ رہا ہے ہم لوگ طبعی لحاظ سے شروع سے ہی بڑے’’ٹھنڈے مزاج ‘‘کے ہیں تبھی تو جب پانی سر سے گزر جائے تو تب ہوش کرتے ہیں ،چاہے وہ سانحہ پشاور ہو،سانحہ کراچی یا سانحہ یوحنا آباد۔
بقول شاعرؔ:
ـ’’تیری بڑی یاد آئی ، کچھ تیرے آنے سے پہلے کچھ تیرے جانے کے بعد‘‘۔

ویسے تو ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے مگر کرکٹ سے تو لوگ جنون کی حد تک محبت رکھتے ہیں اور اگر یوں کہیں تو غلط نہیں ہو گا کہ کرکٹ واحد کھیل ہے جو پورے ملک کو یکجان اور یکجہت کر دیتا ہے ۔دہشت گردی کہاں نہیں ہوتی ؟اگر جنوبی ایشیا ہی کی مثال لے لیں تو سری لنکا ایک ایسا ملک تھا جو شدید طرح سے بغاوت، دہشت گردی اور خانہ جنگی کا شکار تھا مگر انہوں سے ثابت قدمی سے حالات کا سامنا کیا اور اپنے ملک سے اس لعنت کا صفایا کر کے اپنے میدانوں کو آباد کیا ۔پاکستان اور سری لنکا کا اگر مختلف شعبہ جات(مالی ‘دفاعی‘جفرافیائی لحاظ سے) میں موازنہ کریں تو ہم اپنے آپ کو بہتر پائیں گے مگر میرٹ کو ترجیح دینے کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہم ان سے بہت پیچھے ہیں،ہمارے ہاں دوسرے شعبوں کی طرح کرکٹ کے معاملات میں بھی میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ویسے یہ ہر ایک کی زبان ِزدوعام پر ہے ’’پاکستان میں جس کھلاڑی کو ذلیل کرکے نکالا جاتا ہے اگر اسے دوبارہ ٹیم میں شامل کرنا پڑے تو بطور کپتان شامل کرتے ہیں ‘‘۔غلطی کرنا یا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں اور نہ ہی یہ برائی ہے مگرغلطی کرنا اور کرکے نہ ماننا اور اُس غلطی پر’’ پہرہ دینا‘‘یہ ایک عام آدمی سے لے کر وزیرومشیر تک کا ’’غیر متزلل شیوہ ‘‘رہا ہے اور بجائے ندامت وپشیمانی کے، جھوٹ پہ جھوٹ اور صفائیاں پیش کرتے ہیں اُ س آدمی کی طرح جس نے اس بات پر شرط لگا لی تھی کہ کوّے کا رنگ سفید ہوتا ہے ،جب اس آدمی کے دوستوں اور خیر خواہوں نے اسے ’یاد دہانی ‘کروائی کہ کوّے کا رنگ سفید نہیں کالا ہوتا ہے تم شرط ہار جاؤ گے وہ آدمی ہنسا اور بولا’’اوہ پاگلو! میں مانوں گا تو ہاروں گا نا‘‘۔

میری وزیراعظم پاکستان سے التماس ہے کہ ایک پُر امن پاکستان کے لیے دہشت گردوں کے خلاف بلا کسی امتیازی سلوک کے کاروائی کریں اور ایسے اقدامات کریں جن سے پاکستانی قوم کے مرجھائے ہوئے چہرے خوشیوں سے کِھل جائیں،ہمارے بھی کھیلوں کے میدان آباد ہوں تاکہ ہم بھی صحت مند قوموں کی طرح ابھریں اور نہ کہ ایسے کام کریں جن کی بدولت ہماری جگ ہنسائی ہو بلکہ اہل لوگوں کو صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر عہدے دئے جائیں نہ کہ ذاتی پسند و نا پسندیا کسی اورمفاد کی بنیاد پر۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 49318 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jun, 2016 Views: 744

Comments

آپ کی رائے