قندیل بجھ گئی لیکن یہ آخری ہونی چاہئے

(Iftikhar Chohdury, )
خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جب اس کی ماں اس کے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا کر دنیا کو بتا رہی تھی کہ یہ معصوم ہے تو میں رو پڑا۔کوئی بھائی اپنی بہن کو قتل نہیں کرتا یہ رسم رواج یہ معیار اسے مار دیتے ہیں۔میڈیا اس کے جنازے تک اس کے ساتھ تھا وہ مصروف ہے اسے کوئی اور قندیل کی تلاش ہے وہ اسی طرف نکل گیا ہے۔۵۰۲ کی بالکونی میں لیپ ٹاپ کھلا ہے لوہی بھیر کی منسلکہ آبا دی سے مساجد سے اذان مغرب کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں گھر میں بہو کی چھٹے روزے کی افطاری بھی ہے ۔کورنگ ندی کے اس شور میں ایک اندر کا شور بھی شامل ہے۔اس وطن عزیز میں ہر روز نئے سانحے ہو رہے ہیں۔وہ دور اچھا تھا معلومات تک رسائی دیر سے ہوتی تھی۔اب تو اس تیزی نے مار کے رکھ دیا ہے۔ادھر کوئی واقعہ ہوا ادھر دنیا کو خبریقین کیجئے اگر ہم اپنے ان چینیلز کو ہی کسی ضابطہ ء اخلاق میں لے آئیں تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔قندیل ایسے ہی نہیں مر گئی نیازی صاحب کا شعر ہے کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج سانوں مرن دا شوق وی سی۔اسے ایک میڈیا گروپ نے سوسائٹی گرل بنایا اسے اس کی بے باکیوں نے تو مارا ہی مگر کج تڑکا مصالحہ اس گروپ نے بھی لگایا۔اور تو اور اس چینیل کا گھٹیا پن اس طرح سے سامنے آیا کہ پہلے عمران خان کی شادی کی جھوٹی خبر چلائی اور بعد میں قندیل اور میرا کو لائن پے لیا ۔عمران خان کی تضحیک اس سے زیادہ کیا ہو سکتی تھی جس شخص نے دنیا کے امیر ترین شخص کی بیٹی کو اپنی سیاسی زندگی پر قربان کر دیا اس کے بعد اس کے ساتھ دوسرا حادثہ ریحام خان والا ہوا اس نے اس افسانے کو ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑ دیا۔شادی بیاہ بسنا اجڑنا خدائی سودے ہیں۔اب بھی اگر وہ گھر بسا لے تو کیا گناہ ہے۔بد قسمتی یہ ہے اس ملک میں ہزاروں بے نام بیگمات جنہیں عرف عام میں رکھیل کا نام دیا جاتا ہے ان سے ناجائز تعقات پر کوئی قدغن نہیں لیکن کوئی اگر نکاح کر لے تو اس کے پیچھے ڈھول بجایا جاتا ہے۔

قندیل بچ سکتی تھی اگر وہ اس مکار میڈیا کے ہتھے نہ چڑھتی۔دوسری بات جس پر کوئی بھی بات نہیں کرتا ہر وہ شخص دوسرے کی بیٹی کو قندیل کی صورت دیکھنا چاہتا ہے مگر اپنی کو سات پردوں میں رکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔اس معاشرے کو جس کو آئے روز گالیاں ملتی ہیں اس کی خوبیوں پر کوئی بات نہیں کرتا۔میں آج اس ملک کی مثال دوں گا جو ایک اسلامی ملک ہے ملائیشیا اس کا نام ہے ۲۰۰۴ میں انڈس موٹرز نے ہمیں وہ شہر دکھایا جس کا نام کوآلالامپور ہے۔میں نے اپنی بس کی گائیڈ لڑکی کو دیکھا وہ صبح سات بجے شہر دور کسی بستی سے آتی سارا دن کیا آدھی رات تک وہ ہمارے ساتھ رہتی۔ایک شام جب لدھا واپس آیا تو اس نے مجھ سے پوچھا سر یہ ساری شاپنگ آپ نے کس لئے کی ہے میں نے اسے بتایا میری بیگم اور پانچ بچے ہیں جن ایک بیٹی ہے اس کے لئے۔اس نے سامان دیکھنے کی خواہش کی۔دیکھنے کے بعد کہنے لگی سب سے زیادہ سامان آپ نے بیٹی اور بیگم کے لئے لیا ہے۔میرا جواب تھا بیٹا یہی تو ہماری کائنات کی ملکہ اور شہزادیاں ہیں۔سن وے ہوٹل کی لابی میں وہ دبلی پتلی سی لڑکی سسکیاں بھر کر رونے لگی۔اس نے کہا کہ میں بھی ایک بیٹی ہوں میری شادی ہو چکی ہے میرا خاوند سارا دن جواء کھیلتا ہے اور بچوں کے پاس ہوتا ہے۔مجھے آدھی رات کو ان کے لئے آج اور کل کا کھانا بنانا ہے یہ سب میرے مقدر میں کیوں نہیں ہے۔اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس خطے کی خواتین کو مردوں کے برابر نہیں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔میں نے سوچا ہو سکتا ہے ہمارے ہاں بھی ایسے کالے چہرے ہوں جو خواتین کی کمائی پر پلتے ہوں لیکن ملائیشیا انڈونیشیا فلپائن تھائی لینڈ جہاں بھی جانے کا موقع ملا خواتین سخت کام کرتی نظر آئیں۔ان معاشروں نے عورت کو حقوق تو بہت دیے مگر چھینے بھی بہت۔ہمارے وقار عزت اور غیرت کی علامتیں عورتیں ہیں-

میں دیسی لبرل لوگوں سے بس ایک سوال کرتا ہوں کہ قندیل جس موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی کیا آپ اس کو زندہ چھوڑتے ؟نہ صرف اسے کیا آپ اس فرد کی زندگی کا خاتمہ نہ کر دیتے جو اس کی عزت عصمت کا تماشہ بناتا رہا۔اس رسم کو آپ کبھی بھی نہیں ختم کر سکتے۔آپ یورپ امریکہ کی صورت حال کا موازنہ اس ملک سے نہیں کر سکتے جہاں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزت عصمت کی قسمیں کھائی جاتی ہوں۔ہو سکتا ہے وہ ماحول جس کا میں ذکر کر رہا ہوں صورت حال ایسی نہ ہو لیکن سچ پوچھیں دو روز پہلے ملینیئم کالج یونورسٹی کے طلباء سے ملنے کے بعد میرا ایمان پختہ ہو گیا ہے کہ نئی نسل اقبال کی نسل ہے۔میں بچیوں کے فیس بک ٹویٹر اکاؤنٹس کے مخالف نہیں ہوں لیکن ان پر کڑی نظر رکھنے کا حق بھی رکھتا ہوں اس لئے کہ میری بیٹی میری عزت ہے اور میری بہو میری غیرت بھی۔آزادی ء اظہار کا میں قائل ہوں مگر ایک حد تک اس لئے کہ مجھے بھی کسی المناک صورت حال سے بچنا ہے۔

یہی بات آج کا باپ کہنا چاہتا ہے اور اسی بات کو کوئی باپ نہیں کہہ رہا۔سارے قندیل قندیل کر رہے ہیں کسی کو احساس ہی نہیں کہ اس کا بھی ہماری طرح کوئی غیرت مند بھائی اور باپ بھی تھا۔اس کے بھائی نے اسے قتل کیا وہ اس کی سزا پا لے گا مگر بڑھوا،دلال کا لفظ تو اس کا پیچھا نہیں کرے گا۔

قندیلیں آج نہیں بجھی ہمارے باپ دادا کے زمانے سے عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا رہا ہے اور یہ آج بھی جاری ہے۔ان قتلوں سے بچنا ہے تو قندیلیں سنبھلیں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کی عزتوں کا نیلام نہ کریں۔خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جب اس کی ماں اس کے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا کر دنیا کو بتا رہی تھی کہ یہ معصوم ہے تو میں رو پڑا۔کوئی بھائی اپنی بہن کو قتل نہیں کرتا یہ رسم رواج یہ معیار اسے مار دیتے ہیں۔میڈیا اس کے جنازے تک اس کے ساتھ تھا وہ مصروف ہے اسے کوئی اور قندیل کی تلاش ہے وہ اسی طرف نکل گیا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 162935 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
20 Jul, 2016 Views: 889

Comments

آپ کی رائے
اتنا اچھا لکھنے والے نے اپنے اس اتنے اچھی طرح لکھے ہوئے مضمون میں سارا الزام قندیل کی بےراہروی اور میڈیا کی بےمہاری کے سر منڈھ دیا ہے ۔ اور اس بچی کے باپ بھائیوں کو صاف بچا لیا ہے ۔ ان لوگوں کی غیرت اس وقت کہاں تھی جب یہ سب مل کر اس کی کمائی کھا رہے تھے؟ پہلے زبر دستی اس کی شادی کی جب وہ اپنے جاہل چمار شوہر سے مار کھاتی تھی تب انہیں غیرت نہیں آتی تھی ۔ اسے طلاق دے کر اور اس کا بچہ چھین کر اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا گیا تو ان غیرت والوں سے اسکی دو وقت کی روٹی کی ذمہ داری نہ اٹھائی گئی ۔ وہ اپنا پیٹ خود پالنے نکل کھڑی ہوئی ۔ وہ بس کنڈکٹر بن گئی تب یہ باپ بھائی ڈوب کر نہیں مرے ۔ وہ ساؤتھ افریقہ میں دھکے کھا رہی تھی اور اسکے چھ غیرتمند سانڈ بھائی اس کی کمائی پر عیش کر رہے تھے ۔ وہ بھٹکتی پھری اندھی گلیوں کی مسافر بن گئی مگر اپنے کنگلے بہن بھائیوں کی زندگیوں میں مالی آسودگیوں اور خوشحالیوں کی روشنی بھرتی رہی ۔ کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ پھر وہ بد نصیب لڑکی ایک سازش کا نشانہ بنی اور خود اپنے بھائی کے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اتار دی گئی ۔ مصنف صاحب نے اسی بھٹکی بہکی ہوئی لڑکی کے طفیل شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے ایک مفتی کو بھی اس سارے قصے سے دور رکھا ہے ۔ جس کے بارے میں خبریں ہیں کہ اسے بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
اور اس تفتیش کا بھی وہی حال ہو گا جو کہ ممتاز قادری کیس میں مفتی حنیف قریشی کو شامل کئے جانے کا ہؤا تھا جو کہ سارے فساد کی اصل جڑ تھا ۔ اس جھوٹے مکار مفتی نے وڈیو ثبوت ہونے کے باوجود قادری سے قطعی لاعلمی اور لاتعلقی کے اظہار پر مبنی حلف نامہ داخل کرا دیا تھا حالانکہ قادری کے ساتھ ساتھ وہ بھی پھانسی چڑھائے جانے کے لائق تھا ۔ اب یہ ٹھرکی مفتی بھی دودھ کا دھلا بن کر سارا الزام قندیل کی بےراہروی کے سر دھر دے گا اور صاف بچ نکلے گا ۔ جب تک سوچ اور سماج میں اندھیرے پھیلانے والے اصل مکاروں اور عیاروں کا قلع قمع نہیں کیا جائے گا ایسی قندیلیں جنم لیتی رہیں گی اور بےدردی سے بجھائی جاتی رہیں گی ۔ یہ قندیل آخری نہیں تھی ابھی بہت اور پڑی ہیں نام نہاد غیرتیوں کے ہاتھوں قبر میں اترنے کے لئے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Jul, 20 2016
Reply Reply
2 Like
قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا ہے یہ معاشرہ کبھی بھی سدھر نہیں سکتا ہے جہاں مرد اپنے گناہ کر کے عزت دار بنے رہتے ہیں مگر عورت کو اُس کی ذرا سی غلطی اور گناہ پر قتل کر دیا جاتا ہے یا زندگی بھر عذاب بھگتنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مجرم کو سدھارنے کی بجائےہم لوگ خود ہی سزا دے کر مجرم بننے کی تمنا رکھتے ہیں۔بے غیرت لوگ غیرت کے نام پر قتل کر کے کبھی غیرت مند نہیں بن سکتے ہیں۔ہمیں اسلامی قوانین کے مطابق پہلے خود کو دیکھنا چاہیے کتنے پانی میں ہیں پھر کسی کو سزا دینا چاہیے۔
ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ہم برائی کی طرف مائل ہونے والے عوامل کا جب تک خاتمہ نہیں کریں گے، لوگ بے راہ روی کا شکار ہوتے رہیں گے اور کئی قندیل بلوچ منظر عام پر آتی رہیں گی۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Jul, 20 2016
Reply Reply
0 Like