صحرا میں گلزار: آفاقی انقلاب کی نور فشانی

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
نظام قدرت ہے کہ جب بھی انسانیت بے راہ روی کا شکار ہوئی اور ظلم و ستم عروج پر پہنچا تو اﷲ کریم نے کسی نبی کو بھیجا۔ نجات دہندہ کو بھیجا۔ جن کے وجودِ مسعود سے انسانی عظمتوں کو تحفظ ملا۔ اخلاق و کردار کو روشنی ملی۔ معبودِ حقیقی کا عرفان حاصل ہوا۔ یہ سلسلہ جاری رہا تا آں کہ انسانی تاریخ کا وہ بدترین دور آیا جب عالمی طور پر انسانیت مجروح و زخم خوردہ ہوگئی۔ کردار ابتر؛ اخلاق بدتر ہو چکے تھے۔ حیا عنقا اور فطرتیں مسخ ہو چکی تھیں۔ پھر وہ آئے جن کے لیے کائنات کا عظیم نظام تشکیل دیا گیا تھا۔ نعمتوں کو جن کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم؛ جنھیں آخری نبی بنا کر بھیجا گیا۔ ہدایت کا آفتاب، نبوت کا ماہ تاب، انبیا کا تاج دار اور رسولوں کا امام بنایا گیا۔ تمام کمالات و اختیارات سے رب نے انھیں آراستہ کر کے جلوہ گر فرمایا۔

تمام انبیا کی آمد کسی خاص علاقے یا قوم کے لیے ہوئی۔ انبیائے کرام کو فلسطین کی سرزمین پر بھیجا گیا۔ شام و فارس کی زمیں پر بھیجا گیا۔ مصروعراق کی زمیں پر بھیجا گیا۔ ان علاقوں میں چشمے بہتے تھے۔ دریا رواں دواں تھے۔ موجیں اُٹھتی تھیں۔ اَشجار کی قطاریں تھیں۔ باغ و گلشن اور نکہتیں تھیں۔ کھیت کھلیان اور جھیلیں تھیں۔ آسودگی کے ذرائع تھے۔لیکن! حیرت و استعجاب کا مقام ہے کہ سب سے عظیم محبوب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جس زمین پر بھیجا گیا وہ صحراکی زمیں تھیں، چٹانی علاقہ تھا، پتھریلی وادیاں تھیں، پانی کا نام و نشاں نہ تھا، سنگ دلی تھی، طبیعتیں بھی آلودہ تھیں، معبود بھی پتھر کے، اصنام کی پرستش ہوتی تھی، بچیوں کو ریگ زار میں زندہ ہی دفن کر دیتے، حقوق کی پامالی عام تھی۔ ؂
وہ دورِ ظلم و جہالت کے دل نما پتھر
نبی سے ملتے رہے آئینوں میں ڈھلتے رہے

ظلم کی ناکامی-
نبی آخرالزماں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا مطالعہ کیجئے۔ ۴۰؍ سالہ عملی زندگی کی عظمتیں، اعلانِ نبوت کے بعد کے ابتدائی احوال کا تجزیہ ہے کہ ہر پل احسان کرنے والے آقا کی دعوتِ حق کو کن کن طریقوں سے ٹھکرانے کی کوشش کی گئی۔ ستایا گیا، ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، شعب ابی طالب میں محصور کیا گیا، سماجی بائی کاٹ کیا گیا، غذا پانی بند کیا گیا، پتھر برسائے گئے، زمیں تنگ کی گئی۔ بے دردی کے مظاہرے ہوئے۔ صرف اس لیے کہ اصنامِ باطل کے خلاف اُٹھنے والی آواز بند ہوجائے۔ حق کا آوازہ دم توڑ دے۔ پیغمبر اعظم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان مصائب و آلام کو باوجود اختیارات کے اس لیے جھیل رہے تھے کہ مستقبل کے احوال ان کے لیے مثلِ آئینہ تھے۔ سردارانِ قریش گرچہ ایمان نہ لائیں گے لیکن ان کی نسلیں نبوی فضل و کمال کا اعتراف کریں گی اور ایمان کی دولت سے شادکام ہوں گی۔ ظلم کے طوفاں چھٹنے کے بعد صبح ایمان وایقان کے اُجالوں کے ساتھ نمودار ہوگی۔ رسول رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان وعظمت کا نغمہ بلند ہوگا۔ نسلیں ایمان لائیں گی۔ ناموسِ رسالت پر جان قربان کی جائے گی۔ ؂
حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں تِرے نام پہ مردانِ عرب
[اعلیٰ حضرت]

سفرِ شوق:
اﷲ نے کرم کیا۔ رسول کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عطا ہوئی۔ جود کے دریا بہے۔ ۱۸؍ جون کی صبح راقم مدینہ منورہ حاضر ہوا۔ صحرائے عرب سبحان اﷲ! ہزاروں گلستاں قربان۔ بہاریں اور چمن زار قربان۔ نبی رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ارض مقدس کی شان بڑی نرالی ہے۔ ہر ذرّہ جگمگاتا محسوس ہوتا ہے۔ سچ ہے جہاں سے ایمان کی تابندگی ملی ہو۔ جہاں سے حق کا عرفان حاصل ہوا ہو، وہ جگہ تابشوں، سعادتوں اور برکتوں کی آماج گاہ ہوگی۔

ابھی مدینہ امینہ کئی منزل باقی تھا۔ عرب کے ریگ زار کی دمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی تھی۔ آفتاب نصف النہار پر تھا۔ کرنیں دل کش معلوم ہورہی تھیں۔ عزم ویقیں کا سورج چمک رہا تھا۔ ایمان لذت پا رہے تھے۔ فکر نہال ہو رہی تھی۔ خیالات کی وادیاں سیراب ہو رہی تھیں۔ افکار مہک رہے تھے۔ اصحابِ رسول کے انفاس کی خوش بو عالم تخیل میں محسوس کی جا رہی تھی۔ پہاڑوں کی آغوش میں کھجوروں کے باغ دل کش معلوم ہو رہے تھے۔ جیسے باغِ ایماں کی بہاریں ہوں۔ شہرِ جاناں قریب تھا، نگاہیں منتظر تھیں، روح مچل رہی تھی۔ شہر محبت کی خوش بو محسوس ہو رہی تھی کہ وہ مینار نظر آنے لگے جن کی بلندیاں اسلامی وقار کا استعارہ معلوم ہوتی ہیں۔

سازشوں کی بساط-
روئے زمیں پر گنبد خضرا تسکینِ قلب و نگاہ ہے۔ جس سے مسلمانوں کا روح کا رشتہ ہے۔ اس سے نگاہوں کو سرور اور دل کو نور ملتا ہے۔دُشمنانِ اسلام صدیوں سے گنبدِ خضرا سے بغض و حسد میں مبتلا ہیں اور اس کی توہین و بے ادبی کے لیے تُلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ساری دُنیا میں جتنی باطل قوتیں ہیں سبھی کا نشانہ ناموسِ رسالت و بارگاہِ رسالت ہے۔ اس ضمن میں ان کی ریشہ دوانیاں شباب پر ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک، اسرائیلی ایجنٹ، مشرکین سبھی کی جرأت و جسارت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کبھی نصابِ تعلیم میں توہینِ رسالت،کبھی توہین آمیز خاکے، کبھی سیرت کے پہلوؤں پر رکیک حملے، فلموں کے ذریعے توہین۔ الغرض! ایک ذاتِ رسالت ہے جو انھیں کھٹکتی ہے، جن کی انقلاب آفریں تعلیمات نے مردہ دلوں میں ایمان کی حرارت دوڑا دی۔ مذاہبِ باطلہ کی شکست ہوئی۔ اسلام غالب آیا۔ ہر باطل مغلوب ہوا۔ظلم و ستم کی زمیں امن و اخوت کا محور بن گئی۔

خطۂ عرب کے جغرافیائی ماحول، صحرائی طرزِ حیات، تپتے ریگ زار ایسے حالات میں دین کی اشاعت، حق کی تعلیم، دلوں کی تبدیلی، انقلابِ تازہ کے ہمہ گیر اثرات اور پھر ساری دُنیا میں اسلام کا فروغ بے مثل و مثال ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 149684 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2016 Views: 475

Comments

آپ کی رائے