تبرکاتِ انبیاء کرام باعثِ شفا ہیں

(Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi, Narowal)
 اﷲ تعالیٰ نے انبیائے کرام و اولیاء عظام اور بزرگان دین کو بڑی عظمت و بزرگی عطا فرمائی ہے اور اپنی بارگاہ میں قبولیت کے عظیم شرف سے نوازا ہے ۔

حضور ﷺ کے تعلق کے حوالے سے ارشاد ربانی ہے :’’تو اے محبوب!(ﷺ)تمہارے رب کی قسم! وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں ،پھر جو کچھ تم حکم فرما دو ،اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔‘‘(پارہ 5رکوع6)

یعنی جب تک آپ ﷺ کے فیصلے اور حکم کو صدق دل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہو سکتے ۔اس آیت کریمہ کا شانِ نزول اس طرح ہے کہ پہاڑوں سے آنے والے پانی سے جو باغوں کو سیراب کیا جاتا ہے تو اس سیرابی کے معاملے میں ایک انصاری کا حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ سے جھگڑا ہوا، معاملہ سید عالم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا ! اے زبیر ! تم اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دینا ،یہ فیصلہ انصاری کو گراں گزر ا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر ! آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں ۔حالانکہ فیصلہ میں انصاری کیساتھ احسان کی تلقین کی گئی تھی ،پھر بھی انصاری نے اس کی قدر نہ کی ۔اس لئے حضور ﷺ نے حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کر کے پانی روک لو ۔انصاف کی رو سے قریب والا ہی پانی کا حقدار ہے ،تو اس واقعہ پر یہ آیت کریمہ نازل کی گئی ۔(تفسیر خزائن العرفان)

اولیاء عظام کے تعلق سے رب کائنات کا ارشاد پاک حدیث شریف میں اس طرح مذکور ہے :’’آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا ! اﷲ تعالیٰ فرماتاہے :’’کہ جو شخص میرے کسی ولی سے دشمنی کرے گا اس شخص کو میری طرف سے اعلانِ جنگ ہے اور میرا بندہ میری کسی محبوب چیز کے ذریعے میرا اتنا قرب حاصل نہیں کر سکتا اور ہمیشہ میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں ،پھر جب میں اپنے بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں ،تو میں اس کا کان ہو جاتا ہوں ،جس سے وہ سنتا ہے ،میں اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں ،جس سے وہ دیکھتا ہے ،میں اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں ، جس سے وہ پکڑتا ہے ،میں اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ،اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوالکرتا ہے تو میں ضرور ضرور اس کو عطا کرتا ہوں ،اگر وہ میری پناہ مانگتا ہے تو میں ضرور ضرور اس کو پناہ دیتا ہوں اور جو مجھے کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی میں تردد نہیں کرتا ،جیسے کہ میں اس مومن کی جان نکالنے میں توقف کرتا ہوں ،جو موت سے گھبراتا ہے اور میں اسے ناخوش کرنا پسند نہیں کرتا اور ادھر موت بھی اس کے لئے ضروری ہے ۔‘‘(مشکوٰۃ صفحہ197)

اس حدیث قدسی کا مفہوم یہ ہے کہ جو میرے ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کوتیار ہو جائے ،یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے ۔صرف دو گناہوں پر بندے کو رب تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ دیا گیا ہے ۔ایک سود خوری کرنے پر ،دوسرے اولیاء سے عداوت رکھنے پر ۔اولیاء سے عداوت رکھنے پر اعلانِ جنگ تو اس حدیث پاک میں ہے ۔لیکن سود خوری کرنے پر اعلان جنگ اس آیت کریمہ سے کیا گیا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے : فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ۔’’سودی لین دین کرنیوالو!تم یقین کر لو، اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول سے لڑائی کا ۔‘‘(پارہ 3رکوع 6)

اورفرمایا مجھ تک پہنچنے کے بہت سارے ذرائع ہیں مگر ان سب میں سب سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائض ہے ۔(اسلئے صوفیاء فرماتے ہیں کہ فرائض کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے ۔وہ اسی حدیث پاک کو ماخذ بناتے ہیں ۔)اور مسلمان بندہ فرائض کیساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے ۔حتیٰ کہ وہ میرا پیارا ہو جاتا ہے ،کیونکہ وہ فرائض و نوافل کا جامع ہوتا ہے ،پھر جب وہ میرا پیارا ہو جاتا ہے تو اس کے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ،ہمیشہ ان سے نیک کام ہی صادر ہوتے ہیں ،اس پر عبادت آسان ہو جاتی ہے ، گویا ساری عبادتیں اس سے میں کر ا رہا ہوں ،یا مطلب یہ ہے کہ بندہ فنافی اﷲ کے مقام پر فائزہو جاتا ہے تو رب تعالیٰ اپنی قدرت و طاقت کا جلوہ اس بندہ کو عطا فرما دیتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ ایسا کام کرلیتا ہے جو عقل میں نہیں آتا ۔جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے مصر سے چلی ہوئی قمیض یوسفی کی خوشبو سونگھ لی ۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل کی دوری سے چیونٹی کی آواز سن لی ۔تو جب بندہ اس منزل تک رسائی پاجاتا ہے تو پھر وہ مستجاب الدعاء بن جاتا ہے ۔تو وہ مجھ سے خیر مانگے یا شر سے پناہ ،میں اس کی ضرور سنتا ہوں۔

معلوم ہوا کہ اولیاء رب تعالیٰ کی پناہ میں رہتے ہیں ۔تو جو شخص ان سے دعا کرائے ،اس کی دعا قبول ہو گی ،اور جو ان کی پناہ میں آئے وہ رب تعالیٰ کی پناہ میں آجائے گا۔

اس حدیث قدسی میں اﷲ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ :’’ میں رب ہوں ،اپنے کسی فیصلے میں کبھی بھی توقف و تامل نہیں کرتا ہوں ،جو چاہوں حکم کروں ،مگر ایک موقع پر میں تو قف و تامل فرماتا ہوں اور وہ موقع یہ ہے کہ کسی ولی کی موت کا وقت آجائے اور وہ ولی ابھی مرنانہ چاہے، تو میں اسے فوراً نہیں مار دیتا ،بلکہ اسے اولاً موت کی طرف مائل کرتا ہوں جنت اور اس کی نعمتیں دیکھا تا ہوں ،بیماریاں اور پریشانیاں اس پر نازل کرتا ہوں ،جس سے اس کا دل دنیا سے نفرت کر نے لگتا ہے اور وہ آخرت کا مشتاق بن جاتا ہے ،پھر وہ خود آنا چاہتا ہے اور خوشی خوشی میرے پاس ہنستا ہواآجاتا ہے ۔‘‘(مرأۃ المناجیح)

تو جب اولیائے عظام اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس قدر قبولیت رکھتے ہیں اور ان کا رتبہ اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے ،اسی وجہ سے جن اشیاء کو ان مقدس ہستیوں سے تعلق اور نسبت ہو جاتی ہے ،ان میں بھی بزرگی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بھی صاحب کمالات بن جاتی ہیں ۔اسی لئے تو مصائب و آلام و آفات و بلیات کو دور کرنے میں متبرک چیزیں اہم سبب بن جاتی ہیں ۔

اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک طالوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے ،اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی ،اُٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے۔‘‘(پارہ2رکوع 16)

اس آیت کریمہ میں تابوت کی زیارت کو دلوں کے چین وسکون کا سبب قرار دیا گیا ہے اور تابوت میں اس خوبی کے پیدا ہونے کا راز ’’وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسیٰ وَ اٰلُ ہَارُوْن۔سے بیان کیا گیا ہے ۔کہ تابوت میں ان بزرگوں کے تبرکات رکھے گئے ہیں ۔اس لئے تابوت شرف و کمال والا بن گیا اور اس کی برکتوں سے مشکلیں ٹلنے لگیں اور اس کی زیارت قلبی سکون کا سبب قرار پایا ۔

اﷲ تعالیٰ نے تابوت کو سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا ، اس میں انبیاء کرام اور ان کے مکانات کی تصویریں تھیں ۔آخر میں حضور ﷺ اور آپ کے دولت کدہ کی تصویریں ایک سرخ یا قوت میں تھیں ،آپ بحالت نماز قیام میں آپ کے ارد گرد صحابہ کرام تھے اور یہ تصویریں کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں،بلکہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئی تھیں ،اسلئے ان تصویروں پر اعتراض واقع نہ ہو گا۔

یہ تابوت منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا۔ اس میں آپ کی توریت کی تختیوں کے کچھ ٹکڑے ،اپنا عصا ،کچھ کپڑے ،نعلین شریف اور ہارون علیہ السلام کا عمامہ ،ان کا عصا تھوڑا ’’من‘‘ رکھتے تھے جو بنی اسرائیل پر اُترا کرتا تھا ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے اور اس کی برکت سے فتح حاصل کرتے تھے ۔اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو سکون بھی حاصل ہوتا تھا ۔آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں منتقل ہوتا چلا آیا ۔جب انہیں کوئی مشکل پیش ہوتی تو اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعائیں کرتے اور کامیاب ہوتے اور اس کی برکت سے دشمنوں کے مقابلہ میں فتح حاصل کرتے ۔‘‘(تفسیر خزائن العرفان ،تفسیر نعیمی)

مذکورہ بیانات سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو بزرگوں سے نسبت ہو جائے وہ متبرک ہو جاتی ہے اور اس سے فیض پہنچتا ہے ۔کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عمامہ اور نعلین شریف وغیرہ کو کچھ مدت ان بزرگوں کیساتھ رہنے کی نسبت حاصل ہوئی ،جس سے ان چیزوں میں سکون قلب بخشنے کی تاثیر پیدا ہوگئی ،اور ان کی برکتوں سے بلائیں ٹلنے لگیں ۔

معزز قارئین!برادران یوسف علیہ السلام نے جب مصر جاکر حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات کی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اُن سے والد ماجد کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا ! آپ کے فراق میں روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہو گئی ہیں اور بینائی کمزور پڑگئی ہے ۔اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ انہیں مصر لے آئیں ،یہاں بڑے بڑے حکیم اور طبیب ہیں ،اچھی طرح سے ان کا علاج کرادیا جائے گا ۔بلکہ قربان جائیے تبرکات کی عظمت و اہمیت پر کہ آپ نے فرمایا ۔اِذْھَبُوْ بِقَمِیْصِیْ ھٰذَا فَاَلْقُوْہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیْ یَأْتِ بَصِیْرًا۔’’میرا کرتا لے جاؤ ،اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو، ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔‘‘(پارہ 13رکوع 4)

پھر جب برادران یوسف علیہ السلام واپس ہوئے تو سب سے آگے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہودا تھے ۔انہوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس خون آلود کپڑا لے کر میں ہی گیا تھا ۔میں نے ہی کہا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور میں نے ہی انہیں غمگین کیا تھا ۔اس لئے آج کرتا لے کر بھی میں ہی جاؤں گا اور حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کی فرحت انگیز خبر بھی میں ہی سناؤں گا۔ تو یہودا ننگے سر اور ننگے پاؤں کرتالے کر دوڑتے ہوئے آئے اور وہ کرتا حضرت یعقوب علیہ السلام کے منہ پر ڈالا ،اس وقت ان کی آنکھیں پھر آئیں ،پھر آپ نے پوچھا !یوسف علیہ السلام کیسے ہیں ؟ یہودا نے عرض کیا ! ابا حضور ! وہ بادشاہ ہیں ۔فرمایا !میں بادشاہی کو کیا کروں ، یہ بتاؤ کس دین پر ہیں؟ عرض کیا ! دین اسلام پر ،فرمایا! الحمد ﷲ ! اﷲ کی نعمت پوری ہوئی ۔‘‘(تفسیر خزائن العرفان)

دیکھا آپ نے! جب قمیض آپ نے اپنے والد گرامی کیلئے بھیجی تو اس کی برکت سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی بحال ہو گئی ۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات مفید و نفع بخش ہوتے ہیں اور رنج و بلا دور کرنے میں زبردست تاثیر رکھتے ہیں ،حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت لانے کیلئے جب کوہ طور پر گئے تھے ۔اسی درمیان سامری نے آپ کی قوم کو گمراہ کرنے کیلئے ایک بچھڑا بنایا اور اس میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی گھوڑی کے نشان قدم کی خاک ڈال دی ،تو اس خاک کی برکت سے اس بچھڑے میں اتنا کامل پیدا ہو گیا کہ وہ زندہ ہو کر بچھڑے کی طرح بولنے لگا ۔(جلالین شریف پارہ16)

قرآن کریم میں گھوڑی کے نشان قدم کی خاک ڈالنے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :’’تو ایک مٹھی بھرلی فرشتے کے نشان سے پھر اسے ڈال دیا ۔‘‘

وہ خاک وہی تو تھی جسے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے نسبت حاصل ہو گئی تھی اور اس نسبت کا ٹھوس اور پختہ اثر سامنے آیا کہ اس میں بے جان چیزوں کے اندر زندگی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل ہو گئی ۔

اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات اپنے اندر حیران کن اور زبردست تاثیر کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

حضرت ایوب علیہ السلام کو جب اﷲ تعالیٰ نے آزمائش میں ڈالا تو آپ کی تمام اولاد ،تمام جانور جن میں ہزار ہا اونٹ ،ہزار ہا بکریاں تھیں سب مر گئے اور جب آپ کو ان چیزوں کے ضائع ہونے کی خبر دی جاتی تھی تو حمد الہٰی بجالاتے اور فرماتے تھے میرا کیا ہے جس کا تھا اس نے لے لیا ،جب تک مجھے دیا اور میرے پاس رکھا اس کا تو شکر ہی میں ادا نہیں کر سکتا اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔پھر آپ کے تمام جسم شریف میں آبلے پڑ گئے ۔بدن مبارک سب کا سب زخموں سے بھر گیا ۔سب لوگوں نے آپ سے جدائیگی اختیار کر لی ۔سوائے آپ کی زوجہ محترمہ کے کہ وہ آپ کی خدمت بڑی محبت سے کرتی رہیں ۔یہ تکلیف آپ کو کئی سال رہی ۔آخر کار کوئی ایسا سبب پیش آیا کہ آپ نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی ۔اے رب کائنات !بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے تو اﷲ تعالیٰ نے آپکی دعا قبول فرمائی ۔
اور ارشاد فرمایا:
’’آپ زمین میں پاؤں مارئیے ،آپ نے پاؤں مارا تو ایک چشمہ ظاہر ہوا ۔حکم ہوا کہ اس سے غسل کیجئے ،آپ نے غسل کیا تو ظاہر بدن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں ۔اسکے بعد چالیس قدم چلے تو پھر زمین میں قدم مارنے کا حکم ہوا آپ نے پاؤں مارا تو اس سے بھی ایک چشمہ ظاہر ہوا جس کا پانی نہایت سرد تھا آپ نے بحکم الہٰی پیا تو اس سے باطن کی تمام بیماریاں دور ہو گئیں اور آپ کو اعلیٰ درجہ کی صحت حاصل ہو گئی ۔یہاں تک کہ آپ کی تمام اولاد کو اﷲ تعالیٰ نے زندہ فرما دیا اور اتنی ہی اولاد اور بھی عطا فرما ئی ،اور آپ کی بیوی کو دوبارہ جوانی دے دی گئی ۔(تفسیر خزائن العرفان ،سورۃانبیاء)

قرآن کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام کا ابتلاء میں رہنے اور اس سے نجات پانے کا واقعہ اس طرح مذکور ہے :’’ اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی اور تو سب مہربانوں سے بڑھ کر رحم والا ہے تو ہم نے ا س کی دعا سن لی ،تو ہم نے دور کر دی جو تکلیف اسے تھی اور ہم نے اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور عطا کئے اپنے پاس سے رحمت فرما کر اور بندگی والوں کے لئے نصیحت۔(پارہ 17رکوع6)

حضرت ایوب علیہ السلام کے قدم نازکی ٹھوکرسے نکلنے والا پانی کیا تھا ؟حضرت ایوب علیہ السلام کا تبرک ہی تو تھا جس سے آپ کے ظاہر و باطن دونوں کی بیماریاں ختم ہو گئیں اور آپ اعلیٰ قسم کی صحت پاگئے ۔جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بزرگوں کے تبرکات سے ایسے ایسے عظیم کارنامے وجود میں آتے ہیں جسے دیکھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔

معزز قارئین! یہ آب زم زم کیا ہے؟ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے قدموں کے برکت سے نکلنے والا چشمہ ہی تو ہے ۔جس پانی میں شفا بھی ہے اور غذا بھی ۔ زم زم کسی اور پانی میں ڈال دیا جائے تو اُس کی تاثیر بھی آبِ زم زم جیسی ہو جاتی ہے ۔یہ خراب نہیں ہوتا ۔ہو بھی کیسے ؟سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا تبرک جو ہوا ۔ معلوم ہوا ! تبرکات انبیاء و اولیاء باعثِ شفا ،روحانی جسمانی غذا اور دافع بلا ہیں ۔لہٰذا ان تبرکات سے نفع حاصل کرنا چاہئے تاکہ ملتِ اسلامیہ ظاہر و باطنی امراض سے نجات پا سکے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi

Read More Articles by Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi: 85 Articles with 89028 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 914

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ