امام ،امامت ،امت(لغات واصطلاحات)

(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi)
سوال: شیخ صاحب لفظِ امام ، امامت اور امت کی تحقیق درکار ہے(سلیمان خان ،جہانگیر روڈ،کراچی)۔
جواب:لفظِ (امام) عربی زبان سےماخوذ ہے، اس کا معنی قائد،رئیس ،رہبر اور رہنما ہے۔ (جو مذکر و مونث دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے) اس کی جمع ائمہ اورایمہ ہے.یہ اسلام میں رہنمائی کا عہدہ ہے ،جو اکثر مسلمانوں کی جماعت کے رہنما اور مسجد میں پیش امام کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اسلامی عبادت و تعلیمات کا عالم ورہنماہوتا ہے۔اس کے استعمالات مندرجہ ذیل ہیں:رہبر ،رہنما، پیشوا،افعال واقوال میں جس کی اقتداء کی جائے، کتاب،نمونہ، واضح راستہ، قرآن، خلیفہ، امیرِ لشکر،قرآن،حاکم، اعمال نامہ، دلیل، سبق،شاہراہ،مثال،مدبّر،حُدی خوانے کرنے والا،مصلح و منتظم، ڈوری جس سے معمار عمارت کی سیدھ قائم کرتے ہیں.،سرغنہ، سردار، تسبیح کا بڑا دانہ نیز دیگر استعمالات،قرآنِ کریم میں کفار کے بڑوں کو بھی( ائمۃ الکفر) کہاگیاہے،گویا امام کا اطلاق خیر وشر دونوں میں رہبری کرنے والوں کے لئے استعمال ہوتاہے۔

لغوی معنی:اَمَّ یَأُمُّ اِمَامَۃً واَمّاً:قصد کرنا،امامت کرانا،خلیفۃ المسلمین یا امیر المؤمنین بننا،جیش کی قیادت کرنا،باب افتعال ایتِمام کا معنی اقتداء کرنا،مأموم،مقتدی۔اِستَأِمَّ (باب استفعال): کسی کوماں بنادینا،ماں کہدینا،ماں کا مقام دینا۔الإِمَّۃ: امام کا طرز، اس کی ہیئت،امامت،نعمت۔إِمامیۃ: اہل تشیع کا ایک فرقہ۔الإمام الاعظم: امام ابوحنیفہ کا لقب، الامام الاکبر:شیخ الازہر کا لقب۔إمام الہند: حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا لقب،بعض لوگ ابوالکلام آزاد کو بھی اسی لقب سے یاد کرتے ہیں۔إمام الحئ ،محلے کی مسجد کا امام۔امامتِ کبری: خلافت وحکمرانی،امامتِ صغری: مسجد کی امامت۔اثنی عشری: بارہ اماموں کو ماننے والے۔
اصطلاحی معنی :کسی بھی فن کا معروف عالم۔ جیسے:فن حدیث میں امام بخاری ، فن فقہ میں امام ابو حنیفہ۔(أُمامہ):اسی مذکورہ اصل سے مأخوذ مؤنث نام۔(أَمَامَ)اسم ظرف:سامنے،آگے،بالمقابل،وراءَ کی ضد،اَمَامَکَ اسم فعل امر:،ہوشیار،آگے چلیں۔اَمَامَ القانون: قانون کی نظر میں۔(الاَمَۃُ ،ج:اِماء،آم،اِموان،اُموان): باندی،خادمہ،بندی،مملوکہ ،امَۃ اللہ :اللہ کی بندی، جیسے عبد اللہ : اللہ کابندہ۔بچیوں کا نام بھی رکھا جاتاہے امۃ اللہ،(الاُمَّۃ ،ج اُمم:جَمَاعَةٌ مِنَ النَّاسِ تَجْمَعُهُمْ رَوَابِطُ تَارِيخِيَّةٌ مُشْتَرَكَةٌ ، قَدْ يَكُونُ فِيهَا مَا هُوَ لُغَوِيٌّ أوْ دِينِيٌّ أوِ اقْتِصَادِيٌّ وَلَهُمْ أهْدَافٌ مُشْتَرَكَةٌ فِي العَقِيدَةِ أَوِ السِّيَاسَةِ أَوِ الاقْتِصَادِ کالأُمَّةُ العَرَبِيَّةُ والأُمَّةُ الإسْلاَمِيَّةُ:): امت،ملت،قوم،گروہ،جماعت،ماں ،طبقہ،وہ بڑا آدمی جو اپنی ذات میں انجمن ہو،دین،طریقہ۔امہ: ایک ملک یا ایک زبان یا ایک دین کو ماننے والے مشترکہ مفادات،عادات،جغرافیا،تہذیب وتمدن،اہداف ومقاصد اور تقالید واقدار پر قائم لوگ۔(الاُمّۃ المسلمہ):مسلم امہ،وہ لوگ جو جنابِ محمد رسول اللہﷺ کوٓاخری رسول ونبی مانتے ہیں،ان کی لائی ہوئی تمام تعلیمات پر ان کا ایمان ہے۔(الاُمّ،ج :امّات،امّہات):والدہ،ماں،دادی،ہر چیز کی اصل اور بنیاد،جڑ،(اُمّ البشر):حضرتِ حواء،(ام القُریٰ): مکہ مکرمہ،(اُم الکتاب):سورۂ فاتحہ،قرآن، لوحِ محفوظ،(اللُغۃ الاُم): مادری زبان،وہ زبان جس سے دیگر زبانیں متفرع ہوکر نکلی ہوں،مثلاً: عربی زبان،(اُ مُّ العَینین): آنکھوں دیکھا،(اُم الخبائث،اُم الآثام ،اُم الکبائر): شراب،(اُم الرأس): دماغ،(اُمہاتُ الصُحُف): مرکزی اور بڑے اخبار،(اُمہات الُکتُب): اصل مراجع،بنیادی مآخذ برائے حوالہ جات،(اُم النجوم): کہکشاں، (المَصرَفُ الاُم): مرکزی بینک۔(المدرسۃ الام): مادرِ علمی، مرکزی مدرسہ،( لا اُمَّ لک): اوتیری ماں مرجائے، مدح، ذم،خوشی،تعجب اور بددعاء کے وقت بولاجاتاہے،(الاِمامیۃ): امام کی طرف منسوب ایک شیعہ فرقہ،(اُمُّ اربع واربعین:چوالیس کی ماں):حیوانات میں سب سے زیادہ پَیر رکھنے کے باوجود پیٹ پررینگنے والا ایک چھوٹا سا زہریلا جانور،جس کواردو میں کنکچورا یا کنکجوراکہاجاتا ہے۔(اُم الخلول):بحر ابیض متوسظ کی ایک خاص قسم کی مچھلی جس کے پکانے کے بھی ماہرین الگ الگ ہیں،(الاُم الحنون):نہایت شفیق ماں،دماغ سے منسلک ایک پردہ۔

امام :عُرفِ عام میں نماز میں امامت کرانے والےکو کہا جاتا ہے،اسلام میں سب سے پہلے امام حضورﷺ تھے،پھر خلفائے راشدینؓ۔

فقہی اعتبار سے جمہور مسلمین چار اماموں کی تقلید کرتے ہیں:امام ابوحنیفہ،امام احمد بن حنبل،امام شافعی،امام مالک،اہل تشیع امام جعفر کی فقہ مانتے ہیں،اسی لئے وہ جعفری کہلاتے ہیں۔ نیز دیگر علوم وفنون میں مختلف حضرات کو بھی یہ مقام ملا ہے،جیسے:
تفسیر میں مجاهد،حسن بصري،سعيد بن جبيروغیرہ.

علم القراءات میں جیسے: نافع، ابن كثير، أبو عمرو، ابن عامر، عاصم، حمزة، الكسائي، أبو جعفر، يعقوب، خلف.
أهل الجرح والتعديل میں ،جیسےعلي بن المديني ،يحيى بن معين وغیرہ.
حدیث میںأئمۂ ستہ، صحاح ستہ کے مؤلفین،جیسے: بخاري، مسلم، أبو داود، ترمذي، نسائي، ابن ماجه.یا بعض کے یہاں ابن ماجہ کے بجائے امام مالک اور کچھ کے یہاں امام دارمی۔
عربی ادب میں جاحظ،ابوعلی القالی،مبرداور ابن قتیبہ۔
علمِ کلام میں أشعري اور ماتريدي کو امام مانا جاتاہے۔
اہل تشیع کے یہاں امامت آلِ بیت رسولﷺ میں منحصر ہے،عقیدۂ امامت والوں کو اِمامیہ کہتے ہیں۔
اسلام میں بطور لقب مندرجہ ذیل کے لئے لفظِ امام مستعمل ہوتاہے:رسول،نبی،امیرالمومنین،امیر،بیگ،خلیفہ،داعی،درویش،امام مسجد،والی ،شیخ،سید،شاہ،سلطان ،مولوی،مولانا،استاذ،چودھری،خان،لیڈر۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 481671 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
21 Jul, 2016 Views: 1193

Comments

آپ کی رائے